بلھے شاہ نے جب کہا "علموں بس کریں او یار ۔۔۔۔۔ اکو الف تینوں درکار" تو اس وقت وہ ایک جاہل مطلق نہ تھے بلکہ اپنے دور کے علوم و فنون کا احاطہ کرنے کے بعد حقیقت کو پاچُکے تھے۔ سید شمس تبریز جب کتابیں سُکھاتے مولانا روم کے پاس سے گُزرے تو کتابوں کے ڈھیر کی بابت دریافت کیا۔ مولانا روم نے جب انہیں کہا کہ "یہ وہ ہے جس کی تمہیں خبر نہیں" تو اس جواب میں ان کے علم کا مان بول رہا تھا۔ پھرجب اکتساب فیض کیا تو کہا "مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روم ۔۔۔۔تا غلام شمس تبریزی نہ شُد"۔ حضرت ابن عباسؓ جنہیں تفسیر قرآن کی تعلیم خود سرکار دوعالم ﷺ نے فرمائی تھی، فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا اونٹ صحرا میں گُم ہوجائے تو میں قرآن سے اس کا اونٹ ڈھونڈ نکالوں۔ فارس فتح ہوا تو امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے کتابوں کا ایک ڈھیر پیش کیا گیا۔ دریافت فرمایا کہ یہ کیا؟ جواب ملا کہ اہل فارس کے علم و دانش کا خزانہ۔ حکم دیا کہ ان سب کو آگ لگا دو۔ ہمارے پاس ان سب سے بہتر کتاب موجود ہے۔ یہ حکم کوئی متعصبانہ یا تنگ نظری والا حکم نہ تھا بلکہ مظہر تھا اس مقام کا جو معلم انسانیتﷺ سے اکتساب فیض کے بعد نصیب ہوا تھا کہ قرآن میں خالق کائنات خود فرماتا ہے
وَلَا حَبَّۃٍ فِی ظُلُمٰتِ الاَرضِ وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلّاَ فِی کِتٰبٍ مُّبِینٍ (الانعام:59)
"زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی ایسی خشک و تر چیز ہے جس کا بیان کتابِ مبین میں نہ ہو۔"
ہوا یہ کہ آج کے دور میں تعلیم ارزانی ہوگئی اور علم نایاب۔ حروف کو رٹا لگاکر امتحان پاس کرنے کا چلن دنیاوی مدارس میں ہی نہیں بلکہ دینی مدارس میں بھی جڑ پکڑ گیا۔ شائد اسے آپ انگریز کی سمجھ داری کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے دین کے علم میں بھی ڈگریاں و اسناد داخل کردیں یا کم ازکم اس سوچ کو ضرور داخل کردیا۔ سو فاضل ہونا یا سند یافتہ ہونا ہی دینی علوم پر حاوی ہونے کی سند مانا جانے لگا حالانکہ دین تو سراسر عمل ہے۔ عمل جو علم کی مطابقت میں ہو۔ پھر اس پر مستزاد یہ ہوا کہ عقیدت مندوں نے اولیاء کے فرامین و ارشادات دھڑا دھڑ شائع کرنا شروع کردیئے۔ خاصوں کی بات عاموں تک پہنچی تو مچھلی بازار بن گیا۔ جس کے ہاتھ جو لگا لے اُڑا۔ کسی نے آدھی بات سُن کر دین اور شریعت کی ہی نفی کرنا شروع کردی اور کسی نے اس سے بھی ایک قدم آگے جاکر پوری بات سُنے اور کہے بغیر بدعت اور کفر کے فتاوٰی جڑنا شروع کردیئے اور کچھ یہ سب دیکھ کر دین سے ہی باغی ہوگئے کہ جی سب ڈھکوسلا ہے۔ ایک بات جو ان تمام میں مشترک رہی وہ یہ تھی کہ اصل بات کی نہ کسی کو خبر تھی نہ کسی نے کھوج لگانے کی کوشش کی بس قیاس کے گھوڑے دوڑا دئیے نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر۔
کتابوں کی بھی عجب کہانی ہے صاحبو۔ حروف در حروف بھرے ہوئے ہیں۔ ہر علم موجود، ہر نکتہ موجود لیکن اصل بات مفقود۔ اب آپ اگر اردو بازار لاہور چلے جائیں اور ایک موٹی سے کتاب اُٹھا لائیے طب کی۔ پھر اس کے حروف کو رٹا مار کر دوکان کھول لیجئے حکمت کی اور لوگوں کو دھڑا دھڑ پُڑیاں بنا کر دینا شروع کردیں۔ کیا اس سب سے آپ سکہ بند حکیم ہوجائیں گے یا طب کا علم ناقص قرار پائے گا؟ یہاں ہم سب کا جواب ہوگا "نہیں" لیکن جب اسی تمثیل کو دین پر لاگو کریں تو مجھ سمیت اکثر صاحبان "علم" کہیں گے "کیوں نہیں؟" اور یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر جاتے جس نے یوکرائین سے ڈگری لی ہو یا کسی فٹ پاتھئے کالج سے امتحان پاس کیا ہو لیکن دین کے معاملہ میں ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کی بات پر یقین کرلیں گے چاہے اس کی ڈگری یا سند کسی بھی ادارے کی ہو۔ اگر کسی میڈیکل کالج کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی واحد گواہی شہر کے گورکن ہوں تو کیا آپ اپنے بچوں کو وہاں اکتساب فیض کے لئے بھیجیں گے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کسی انجنئیرنگ یونیورسٹی کی فیکلٹی کی واحد خوبی یہی ہو کہ ان سے کبھی کوئی چیز بن کے نہ دی تو کیا اس کی ڈگری کو آپ قابل اعتبار سمجھیں گے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں ہم کیا کسی عالم، مولوی، پیر، شیخ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حضرت پہلے عمل دکھائیے پھر خطبہ ارشاد فرمائیے؟؟؟ نہ کبھی نہیں۔۔۔ لیکن ہاں یہ ضرور کہیں گے کہ جی دین میں استنجے پر ہی زور ہے۔ نہ جی قصور دین کا نہیں آپ کا اپنا ہے۔ کیا آپ نے کبھی دین کو کھوجنے کی کوشش ہی کی ہے؟ کسی سے اکتساب کیا؟ کسی کو کہا کہ جی مجھے بتاؤ صراط مستقیم پر چلوں کیسے؟
اب پیروکار اگر ہم ایسے ہوں تو دین کا کیا قصور؟ حکم ہوا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ مسلمانوں کے کسی معاشرے میں چلے جاؤ یوں لگے جیسے نعوذباللہ حکم تھا کہ "غلاظت پورا ایمان ہے" حکم ہے کہ "مؤمن جھوٹ نہیں بول سکتا" ہمیں دیکھیں تو لگے ہے کہ "مؤمن سچ نہیں بول سکتا" حکم یہ کہ "مسلمان وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں" ہمیں دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ "مسلمان وہ جو ہر روز تین چار بندوں کا ناشتہ کرے" حکم ہے کہ "گواہی دو خواہ تمہارے اپنے قرابت داروں کے خلاف ہی ہو" ہمیں سمجھ آتا ہے کہ "گواہی دو جس سے تمہارے اپنے قرابت دار محفوظ رہیں" حکم ہے کہ "کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقوٰی کے سبب" ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ "سب سے اوپر عربی اور اس کے بعد تمہاری ذات۔ تقوٰی کا معاملہ اللہ کا ہے سو اللہ جانے اور اس کا کام"۔ اب ان بوالحواسیوں کی بنا پر اگر کوئی کہے کہ جی دین تو ہے ہی فساد یا لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام فساد کا نام ہے تو قصور اسلام کا نہیں آپ کا اور میرا ہے۔ آیتوں اور حدیثوں کو رٹا لگانے کا نام اسلام نہیں اور نہ ایسے کو دین کا "عالم" کہتے ہیں۔وہ تو جی بہروپیا ہے۔
ایک وقت تھا کہ بہروپئے بھی کسی قدر کے مالک ہوتے تھے۔ اورنگزیب کے دربار میں ایک بہروپیا آیا۔ کہنے لگا کہ میرے فن کی معراج یہ ہے کہ جہاں پناہ کو بھی اپنے بہروپ سے دھوکا دے دوں۔ اورنگزیب نے کہا کہ اگر کردکھاؤ تو پانچ سو روپیہ انعام تمہارا ہوا۔ بہروپیا کورنش بجا کر رخصت ہوگیا اور ایک دور دراز علاقے میں اللہ والے کا بہروپ دھار کر بیٹھ گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ لوگ آہستہ آہستہ اس کے پاس آنے لگے۔ وہ دُعا کردیتا لوگوں کی مشکل حل ہوجاتی۔ بات بڑھتی گئی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ کو ایک جنگی مہم کے سلسلہ میں اس علاقہ سے گزرنا تھا۔ مصاحبین نے عرض کی کہ ایک اللہ والے یہاں مقیم ہیں ان سے دُعا کروالی جائے۔ بادشاہ نے مشورہ قبول کیا اور خدمت میں حاضر ہوگیا۔ صاحب نے دُعا کی اور بادشاہ جنگ کے لئے روانہ ہوگیا۔ جنگ میں فتح ہوئی تو واپسی پر آستانہ پر رُک کر بادشاہ نے جاگیریں اور وظائف بطور نذرانہ پیش کیے۔ بہروپئے نے کچھ بھی لینا منظور نہ کیا۔ بادشاہ سلام کرکے چلا آیا۔ کچھ عرصہ بعد بہروپیا دربار میں حاضرہوکر اپنے انعام کا طالب ہوا۔ بادشاہ نے کہا کہ ہمیں نہیں یاد کہ تم نے ہمیں دھوکا دیا ہو۔ بہروپئے نے ساری گفتگو دُہرا دی۔ بادشاہ نے پانچ صد روپیہ عطا کرنے کا حکم دیتے ہوئے پوچھا "جب ہم جاگیریں اور وظائف پیش کررہے تھے اس وقت کیوں نہ لیا؟" تو بہروپئے نے جو جواب دیا پڑھئے اور سر دُھنئے۔ بہروپئے نے کہا "حضور جن کا بہروپ دھارا تھا ان کے تقدس کو کیسے ٹھیس لگاتا؟" ہماری قسمت میں اصلی بہروپئے بھی نہ رہے اور ہم نقالوں کے دام میں اُلجھ کر اصلیت سے ہی انکاری ہوئے پھرتے ہیں۔
اب بات کریں ان کی جو اولیاء کے ارشادات، فرامین، اشعار سُن کر انہیں سمجھے بغیر "افلاطونیاں" جھاڑتے پھرتے ہیں۔ بات پھر ایک تمثیل سے بتاتے ہیں۔ ایک حکیم کے پاس ایک مریض آیا جسے نمونیا تھا، حکیم نے علامات دیکھ کر کہا "دیسی مرغی کا شوربہ پیا کرو"۔ دوجا آیا جسے گرمی کی شکایت تھی تو اسے کہا کہ "شرب صندل ٹھنڈا کرکے پیا کرو" تیسرے کی آنتیں خشک تھیں تو اسے بتایا کہ صبح نہار منہ مکھن کھایا کرو۔ تینوں مریض ٹھیک ہوگئے۔ اب انہوں نے جب بات آگے سُنائی توایسے کہا "میں بیمار تھا۔ حکیم صاحب نے کہا کہ ۔۔۔۔۔ کھاؤ اور میں تندرست ہوگیا" سُننے والے نے بات بنائی کہ حکیم صاحب نے جو بات بتائی تھی وہ اکسیر ہے۔ سو گرمی کے علاج کے لئے دیسی مرغ کے شوربہ پر زور دیا جانے لگا اور سردی کا علاج صندل کے ٹھنڈے شربت سے قرار پایا۔ اور جب ان اوٹ پٹانگ حرکتوں کا نتیجہ نکلا تو الزام کیا نکلا؟ وہ جی حکیم ہی جعلی تھا۔۔۔ یا جی حکمت نامی کوئی چیز نہیں آپ گھاس اُبال کر پیا کریں۔ اب اس تمام ہڑبونگ میں قصور کس کا؟ لیکن اگر اتنی گہری باتیں سوچنے کا شعور ہوتا تو زرداری پاکستان کا صدر ہوتا اور آدھا پاکستان ایک صوبے کا نام بدلے جانے پر خوشیاں منا رہا اور آدھاا فسوس؟
اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ انسان کو اس دنیا میں ترقی کے لئے جتنے بھی علوم و فنون کی ضرورت ہے وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے غور کرو۔ ہمارے پاس اس کے لئے وقت ہی نہیں۔ ہم اس حکم سے بھی سرسری گُزر جاتے ہیں۔ جب تمام دُنیا سورج چاند کو معبود مان رہی تھی قرآن کہہ رہا تھا "وسخرلکم مافی السمٰوات وما فی الارض"۔ اب مسلمان آج بھی یہ بحثیں کرتے پھرتے ہیں کہ جی چاند پر کیسے جاسکتا ہے جی کوئی؟ قرآن کہے کہ ہر چیز کا جوڑا ہے۔ ہم غور نہ کریں اور نیوٹن یہ بات دریافت کرلے تو اس میں قصور کس کا؟ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات قرآن میں موجود نہ تھی؟ علوم سب قرآن میں ہیں لیکن انہیں کھوج نکالنا آپ کا اپنا کام ہے۔ یہ اور بات کہ مشکل کام ذرا ہمیں پسند نہیں آتے سو کچھ آئیں، کچھ بائیں اور کچھ شائیں کرکے گزارا کرنے کوشش کرتے ہیں لیکن اس طرح کرنے سے حقیقت بدل تو نہیں جاتی نا؟؟؟ سو آدھے جپنا شروع کردیتے ہیں کہ "علموں بس کریں او یار" یہ جانے بغیر کہ جس مقام والوں کے لئے یہ کہا گیا ہے وہاں ہر کس و ناکس کی رسائی نہیں اور باقی کے آدھے بدعت و شرک کے فتاوٰی جڑنے لگ پڑتے ہیں اور جو باقی بچ رہتے ہیں وہ دین کو ہی فضولیات کہنے لگ پڑتے ہیں۔