Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • رمضان شریف

    اہل اسلام کو ماہ صیام کی آمدمبارک۔ الحمدللہ کہ اس ذات کریم نے صرف اپنی رحمت سے اس ماہ مبارک کی ساعتیں نصیب فرمائیں۔ یہ ماہ مبارک اس بارش کی طرح ہے جو دکھوں سے تپتے صحرا کو چند لمحوں میں اللہ کے فضل سے مسرتوں اور شادمانیوں سے سیراب کردے۔ اس ماہ مقدس کا ایک ایک پل قیمتی ہے اور ہر پل کوشش یہ ہونی چاہئے کہ زبان اور قلب اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں۔ زمانہ نبویﷺ سے ہی اہل ایمان کو مختلف اذکار کی تعلیم دی جاتی رہی ہے تاکہ مسلمان "و الذکراسم ربک بکرۃ واصیلا" کے مصداق ہمہ وقت اپنے رحیم و کریم مالک کی یاد میں مشغول و مصروف رہیں۔  سُنن نبویﷺ کی پیروی میں سیدی و مرشدی حضور پیر ہارون الرشید صاحب مد ظلہُ تعالٰی نے ماہ رمضان کی بابرکت ساعتوں کے لئے اوراد شریف مرتب فرمائے ہیں تاکہ اہل اسلام اس ماہ مبارک کے ہر لمحہ سے کما حقہُ مستفید ہوسکیں۔  کوشش رہنی چاہئے کہ اس ماہ مقدس میں نماز اور دیگر عبادات کے علاوہ بچ رہنے والا وقت ان اوراد کے ذکر میں گزرے تاکہ مالک الملک کی رضا  حاصل ہو انشاء اللہ۔

    تاریخ اوراد شریف
    یکم تا پانچ رمضان المبارک بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
    چھ تا دس رمضان المبارک

    اَللٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدَنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ اَصحَابِہٖ صَلَوٰۃً تَکُونُ لَنَا اَمَانًا مِّن کُلِّ خَوفً (یا کوئی اور درود شریف)

    گیارہ تا پندرہ رمضان المبارک لَا اِلٰہَ اِلّاَ أَنتَ سُبحَانَکَ إِنِّی کُنتُ مِنَ الظَّالِمِینَ۝
    سولہ تا بیس رمضان المبارک اَستَغفِرُاللّٰہَ العَظِیمَ الَّذِی لَا اِلٰہَ اِلّاَ ھُوَالحَیُّ القَیُّومُ وَاَتُوبُ اِلَیہِ
    بیس تا آخر رمضان المبارک قُل ھُوَاللٰٓہُ اَحَدُ۝ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۝ لَم یَلِدُ۝ وَ لَم یُولَدُ۝ وَ لَم یَکُن لَّہٗ کُفُوًا اَحَدُ۝
    Wednesday, August 11, 2010 at 23:17
    129 مشاہدات
  • کیہہ جاناں میں کون

    منیر بھائی نے اپنے بلاگ پر ایک تحریر میں تصوف کے موضوع پر بات کی تھی۔

    بلھے شاہ کا کلام تھا جو پڑھا گیا تھا۔ جس بند پر اعتراض ہوا اس کے معنی اہل نظر کے لئے کچھ اور تھے اوروں کے لئے کچھ اور۔ تصوف کے بارے میں بات کرنے میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ سُنی سُنائی پر یقین کئے جاتے ہیں۔ جن احباب کو کچھ ذاتی تجربہ ہوتا بھی ہے تو ان میں سے بھی اکثر نقالوں کے عمل کو اصل کے رد کی دلیل سمجھتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی معاملات میں اس رویہ کو نامعقولیت گردانا جائے گا دینی معاملات میں یہ روئیے معمولی ہیں۔ آج کی پڑھی لکھی نسل نے تو علم دین بھی انگریز کی "مذہب پر تحقیق" سے حاصل کیا ہے سو تصوف کے بارے میں بھی وہی درست مانا جاتا ہے جو کسی صاحب کی تحریر سے سند پائے۔ جہاں تک بات رہی اہل تصوف کی، ان کے روزمرہ کے مشاغل و معمولات میں اس بات کی گنجائش کم ہوتی ہے کہ کج بحثیوں میں وقت ضائع کریں اور ویسے بھی پھول کی موجودی کی سب سے بڑی دلیل اس کی خوشبو ہی ہوتی ہے۔ آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ معلومات کی فراوانی ہے۔ غلط یا صحیح اس سے سروکار نہیں لیکن ایک سیلاب ہے جو اُمڈا پڑتا ہے۔ اس سب میں سے سچ کو کھنگالنا بہت مشکل ہے اورتصوف کو توہمیشہ سے ہی "تعلیم یافتہ" اور "مقتدر" طبقات کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرا پڑا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو برس کے بعد بھی تصوف ایک حقیقت ہے اور دلوں میں اتر جانےکی تاثیر کا حامل۔

    تصوف کی حقیقت کیا ہے، اس پر لوگ بہت کتابیں لکھتے ہیں لیکن اسی طرح جیسے میں انجنیئرنگ کی ڈگری رکھتے ہوئے علم طب پر ایک "مقالہ" لکھ ڈالوں۔ تصوف کیا ہے یہ تو کوئی وہ ہی جانے جو اس راہ کا مسافر ہو۔ جو صاحبان حال ہیں انہوں نے تو بات بتانے کی بہت کوشش کی لیکن بات کھُل کر ہی نہیں دیتی۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو روزمرہ میں رواج تو پا جاتی ہیں لیکن ان پر غور کرنے کی مہلت و فرصت نہیں ملتی۔ اقبال کا ایک شعر دوبارہ عرض کرتا ہوں

    کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

    یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

    ہم میں سے شائد ہی کوئی ہو جس نےجواب شکوہ کا یہ شعر پڑھا نہ ہو اور اسے سکول کالج کے کسی مضمون میں استعمال نہ کیا ہو۔ لیکن مقصد کیونکہ صرف نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے سو کبھی فرصت ہی نہیں ملتی کے اس کے معانی کو تلاشا جائےوگرنہ بات تو سامنے دھری ہے۔ مصرعہ اولٰی میں شرط ہے اور مصرعہ ثانی میں انعام۔ شرط کیا ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ سے مکمل وفا کی جائے۔ اطاعت اور حُب کامل ہو اسطرح کہ اپنا، جان، مال، رشتے ناتے، کوئی چیز نبی کریمﷺ سے زیادہ محبوب نہ ہو اور یہ نسبت زبانی نہ ہو بلکہ عملی ہو۔ حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی فرماتے ہیں کہ پیر کامل وہ کہ جس کی ایک سُنت بھی قضا نہ ہو۔ یہ شرط ہے مقرب بارگاہ ہونے کی اور اسی راہ پر چلنے کا نام ہے طریقت۔ جب انسان کی اطاعت نبی کریمﷺ سے اس قدر کامل ہوجائے کہ حُب نبیﷺ پر ہر چیز قربان ہو تو پھر بارگاہ الٰہی سے انعام عطا ہوتا ہے کہ "یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں"۔ اس مصرعہ پر دوبارہ غور کیجئے اور اس انعام کی ہمہ جہتی کا اندازہ کیجئے اور اس انعام کا وعدہ سچا ہے ۔

    نماز ہم آپ بھی پڑھتے ہیں، نماز حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی پڑھتے تھے۔ ہمیں مچھر کاٹ جائے تو یہ بھول جاتا ہے کہ کتنی رکعات باقی ہیں اور ان کا تیر کسی طرح نہ نکل سکا تو حکم ہوا کہ جب نماز میں سجدے میں جائیں تو نکال لیا جائے۔ تصوف یا طریقت کا مقصد ابوبکر و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نماز پیدا کرنا ہے ان حضرات کی ظاہری نہیں، باطنی متابعت سے۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ جب مجھے عشق کی نماز اور فرض کی نماز میں فرق پتہ چلا تو میں نے چالیس برس کی نماز قضا پڑھی۔ زکوٰۃ دینا فرض ہے لیکن جب حضرت بایزید بسطامی سے حضرت امام شافعی کے شاگرد نے زکوٰۃ کے متعلق استفسار کیا تو فرمایا"زکوٰۃ دینا حرام ہے"۔ مزید کُرید پر فرمایا  "اللہ کی مخلوق بھوک سے مرتی رہے اور تم سارا سال اتنا مال ذخیرہ کئے رکھو کہ اس پر زکوٰۃ فرض ہوجائے؟ " لیکن یہ باتیں ان اونچے مقامات والوں کے لئے ہیں جن کے یہ حوصلے ہیں۔ ہم آپ، اگر سیدھے سیدھے دین پر عمل ہی کرلیں، پانچ وقت ٹھونگے ہی لگا لیں تو اللہ کا بہت فضل ہےکہ گدھے پر ہاتھی کا بوجھ نہیں لادا جاتا۔

    اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ تصوف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں کہاں تھا؟ اس کا جواب بھی سامنے دھرا ہے۔ تصوف نام ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیروی کرتےہوئے حُب نبیﷺ میں وہ درجہ کمال حاصل کرنے کا ہے جو انہیں حاصل تھا۔ اب صحابہ کرام کے دور میں تصوف کھوجنے کی کوشش کرنا کج بحثی ہی کہلا سکتی ہے۔  بہت سے معاملات ہیں جن کے متعلق سوال کئے جاتے ہیں اور ان کے جوابات دئیے جانے چاہئیں۔ اللہ درجات بلند فرمائے اعلٰی حضرت پیر نظیر احمد صاحب  کے کہ جویان حق کے لئے  باتیں کھول کر بیان فرما گئے۔ انشاء اللہ ماہ رمضان میں کوشش رہے گی کہ اعلٰی حضرت کے فرامین کو بلاگ پر پیش کر سکوں۔ انشاء اللہ ان کے مطالعہ سے اذہان میں تصوف کے بارے میں عموماً اور دین کے بارے میں خصوصاَ جو شکوک و سوالات ہیں ان کا ازالہ اور حل ملے گا۔

    نوٹ:

    گزشتہ چند ماہ بلاگ سے غیر معمولی غیرحاضری رہی۔ پہلے بچیاں پاکستان تھیں تو ان کی جُدائی تھی پھر جب واپس آئیں تو ایک ماہ کے لئے تمام گھر والوں کو اپنے ساتھ مشی گن لے آیا۔ ایک ماہ پھر ان کے سوا کسی چیز پر توجہ نہ دی اور پھر ایک ماہ سے زائد کام کا زور کافی رہا۔ اللہ کریم جزا دے شگفتہ بہنا اور اسماء بہنا کو کہ فکرمندی سے احوال پُرسی کرتی رہیں۔ انشاءاللہ اب کوشش رہے گی کہ بلاگ پر حاضری باقاعدہ رہے۔

    Thursday, July 29, 2010 at 17:33
    185 مشاہدات
  • خصماں نوں کھاؤ

    گزشتہ قریباً ایک ماہ سے فیس بُک اور بلاگ سے غیر حاضری رہی۔ پہلے بچیوں کی آمد کی تیاریاں تھیں اور پھر ان کی آمد کے بعد کی مصروفیات۔ اس دوران کچھ خبر نہ رہی کہ کہاں کیا کچھ ہورہا ہے۔ یہ بے خبری اپنی ہمہ جہتی میں ابھی کافی حد تک قائم ہے ماسوائے ایک پہلو کے۔ پرسوں بیگم نے ہمیں فیس بک پر جاری معاملہ کے بارے میں آگاہ کیا او رہمارا اکاؤنٹ فیس بک پر معطل کردیا۔ کل کچھ وقت نکال کر کچھ اس معاملہ کے بارے میں پڑھا اور پھر الحمدللہ یہ فیصلہ کیا کہ "فیس بک خصماں نوں کھائے"۔ ارادہ یہ ہوا ہے کہ فیس بک سے مستقل قطع تعلق کرکے ٹویٹر سے رابطہ استوار کیا جائے۔ اگرچہ آج خبر ہے کہ فیس بک نے وہ صفحہ ہٹا لیا ہے لیکن یہ قطعاً نہ تو کافی ہے اور نہ اہم۔ اگر انہیں اپنے خودساختہ "آزادئی اظہار" کی اتنی فکر ہے تو ہمیں اپنے آقاﷺ سے محبت اس سے کہیں زیادہ اور شدید تر ہونی چاہئے یا کم ازکم ایسا دعوٰی تو رکھنا چاہئے۔ سو وہ اپنی آزادئی اظہار کا پاس کریں ہمارے لئے آقاﷺ کی محبت کافی ہے۔ جو احباب ٹویٹر پر رابطہ رکھنا چاہیں وہ taaoo75 پر بلاجھجک آواز دے سکتے ہیں۔

    کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

    یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

    Friday, May 21, 2010 at 11:22
    300 مشاہدات
  • مشرق و مغرب کا ملاپ

    استاد فتح علی خاں صاحب اور جین گربیرک کی یہ مشترکہ کاوش یقیناً انتہائی خوبصورت ہے اور کم از کم میرے دل کی حالت کو ضرور بیان کرتی ہے۔ آپ بھی لطف اندوز ہوں۔

    Friday, April 30, 2010 at 08:55
    179 مشاہدات
  • ایک سوال

    ایک سوال جو گزشتہ چند روز سے ذہن میں کلبلا رہا ہے سوچا کہ احباب کے سامنے رکھوں۔ شائد کچھ حل نکل آئے۔ ایک جگہ بہت سارے صفر اکٹھے ہیں۔۔۔۔۔ کروڑوں کے حساب سے۔ انہیں چار حصوں میں رکھ کر مختلف نام دے دئیے گئے۔ چند صفروں نے شور مچایا کہ انہیں اپنا نام نہیں پسند۔ ان کا نام بدل دیا گیا تو چند اور صفرے کودنے لگ پڑے کہ ہمیں بھی اور نام دو، ہمارا خانہ الگ کرو وغیرہ وغیرہ۔ میرا سوال یہ ہے کہ صفروں کا نام بدلنے سے یا انہیں مزید خانوں میں بانٹ دینے سے کیا ان کی قیمت بڑھ جائے گی؟ محمد علی بوگرہ کی روح آج بھی اپنے پیش کردہ استدلال کی سچائی پر ماتم کر رہی ہوگی کہ خوش ہورہی ہوگی؟

    Thursday, April 15, 2010 at 13:27
    278 مشاہدات
  • آسان حل

    آج کل برصغیر میں شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی کے چرچے ہیں۔ اس اطلاع کے منظر عام پر آنے کے بعد شعیب ملک کی مبینہ پہلی بیوی نے بھی میڈیا پر اپنے مبینہ حقوق کی جنگ شروع کردی ہے۔ اس سب میں میڈیا کی چاندی ہے اور دھڑا دھڑ خبریں چلائی اور چھاپی جارہی ہیں۔ ایسے میں اصلیت کا پتہ کیسے چلے؟ عزیزی صاحب اس کا نہایت آسان حل بیان کرتے ہیں جو قابل عمل بھی ہے اور بے خرچ بھی۔ آپ بھی دیکھئے۔

    نجانے کیوں یو ٹیوب نے یہ ویڈیو ہٹا لی ہے حالانکہ دنیا نیوز پر یہ لنک موجود ہے۔ جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوتا اس وقت تک آپ اس پروگرام کے پہلے حصے سے لطف اندوز ہوں۔

    اس کے ساتھ ہی "چوہدری شجاعت حسین" کا پر مغز تبصرہ اس تمام واقعہ پر

    Monday, April 5, 2010 at 11:08
    318 مشاہدات
  • علموں بس کریں او یار

    بلھے شاہ نے جب کہا  "علموں بس کریں او یار ۔۔۔۔۔ اکو الف تینوں درکار" تو اس وقت وہ ایک جاہل مطلق نہ تھے بلکہ اپنے دور کے علوم و فنون کا احاطہ کرنے کے بعد حقیقت کو پاچُکے تھے۔ سید شمس تبریز جب کتابیں سُکھاتے مولانا روم کے پاس سے گُزرے تو کتابوں کے ڈھیر کی بابت دریافت کیا۔ مولانا روم نے جب انہیں کہا کہ "یہ وہ ہے جس کی تمہیں خبر نہیں" تو اس جواب میں ان کے علم کا مان بول رہا تھا۔  پھرجب اکتساب فیض کیا تو کہا "مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روم ۔۔۔۔تا غلام شمس تبریزی نہ شُد"۔ حضرت ابن عباسؓ جنہیں تفسیر قرآن کی تعلیم خود سرکار دوعالم ﷺ نے فرمائی تھی،  فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا اونٹ صحرا میں گُم ہوجائے تو میں قرآن سے اس کا اونٹ ڈھونڈ نکالوں۔ فارس فتح ہوا تو امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے کتابوں کا ایک ڈھیر پیش کیا گیا۔ دریافت فرمایا کہ یہ کیا؟ جواب ملا کہ اہل فارس کے علم و دانش کا خزانہ۔ حکم دیا کہ ان سب کو آگ لگا دو۔ ہمارے پاس ان سب سے بہتر کتاب موجود ہے۔ یہ حکم کوئی متعصبانہ یا تنگ نظری والا حکم نہ تھا بلکہ مظہر تھا اس مقام کا جو معلم انسانیتﷺ سے اکتساب فیض کے بعد نصیب ہوا تھا کہ قرآن میں خالق کائنات خود فرماتا ہے

    وَلَا حَبَّۃٍ فِی ظُلُمٰتِ الاَرضِ وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلّاَ فِی کِتٰبٍ مُّبِینٍ  (الانعام:59)

    "زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی ایسی خشک و تر چیز ہے جس کا بیان کتابِ مبین میں نہ ہو۔"

    ہوا یہ کہ آج کے دور میں تعلیم ارزانی ہوگئی اور علم نایاب۔ حروف کو رٹا لگاکر امتحان پاس کرنے کا چلن دنیاوی مدارس میں ہی نہیں بلکہ دینی مدارس میں بھی جڑ پکڑ گیا۔ شائد اسے آپ انگریز کی سمجھ داری کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے دین کے علم میں بھی ڈگریاں و اسناد داخل کردیں یا کم ازکم اس سوچ کو ضرور داخل کردیا۔ سو فاضل ہونا یا سند یافتہ ہونا ہی دینی علوم پر حاوی ہونے کی سند مانا جانے لگا حالانکہ دین تو سراسر عمل ہے۔ عمل جو علم کی مطابقت میں ہو۔ پھر اس پر مستزاد یہ ہوا کہ عقیدت مندوں نے اولیاء کے فرامین و ارشادات دھڑا دھڑ شائع کرنا شروع کردیئے۔ خاصوں کی بات عاموں تک پہنچی تو مچھلی بازار بن گیا۔ جس کے ہاتھ جو لگا لے اُڑا۔ کسی نے آدھی بات سُن کر دین اور شریعت کی ہی نفی کرنا شروع کردی اور کسی نے اس سے بھی ایک قدم آگے جاکر پوری بات سُنے اور کہے بغیر بدعت اور کفر کے فتاوٰی جڑنا شروع کردیئے اور کچھ یہ سب دیکھ کر دین سے ہی باغی ہوگئے کہ جی سب ڈھکوسلا ہے۔ ایک بات جو ان تمام میں مشترک رہی وہ یہ تھی کہ اصل بات کی نہ کسی کو خبر تھی نہ کسی نے کھوج لگانے کی کوشش کی بس قیاس کے گھوڑے دوڑا دئیے نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر۔

    کتابوں کی بھی عجب کہانی ہے صاحبو۔ حروف در حروف بھرے ہوئے ہیں۔ ہر علم موجود، ہر نکتہ موجود لیکن اصل بات مفقود۔ اب آپ اگر اردو بازار لاہور چلے جائیں اور ایک موٹی سے کتاب اُٹھا لائیے طب کی۔ پھر اس کے حروف کو رٹا مار کر دوکان کھول لیجئے حکمت کی اور لوگوں کو دھڑا دھڑ پُڑیاں بنا کر دینا شروع کردیں۔ کیا اس سب سے آپ سکہ بند حکیم ہوجائیں گے یا طب کا علم ناقص قرار پائے گا؟ یہاں ہم سب کا جواب ہوگا "نہیں" لیکن جب اسی تمثیل کو دین پر لاگو کریں تو مجھ سمیت اکثر صاحبان "علم" کہیں گے "کیوں نہیں؟" اور یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر جاتے جس نے یوکرائین سے ڈگری لی ہو یا کسی فٹ پاتھئے کالج سے امتحان پاس کیا ہو لیکن دین کے معاملہ میں ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کی بات پر یقین کرلیں گے چاہے اس کی ڈگری یا سند کسی بھی ادارے کی ہو۔ اگر کسی میڈیکل کالج کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی واحد گواہی شہر کے گورکن ہوں تو کیا آپ اپنے بچوں کو وہاں اکتساب فیض کے لئے بھیجیں گے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کسی انجنئیرنگ یونیورسٹی کی فیکلٹی کی واحد خوبی یہی ہو کہ ان سے کبھی کوئی چیز بن کے نہ دی تو کیا اس کی ڈگری کو آپ قابل اعتبار سمجھیں گے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں ہم کیا کسی عالم، مولوی، پیر، شیخ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حضرت پہلے عمل دکھائیے پھر خطبہ ارشاد فرمائیے؟؟؟ نہ کبھی نہیں۔۔۔ لیکن ہاں یہ ضرور کہیں گے کہ جی دین میں استنجے پر ہی زور ہے۔ نہ جی قصور دین کا نہیں آپ کا اپنا ہے۔ کیا آپ نے کبھی دین کو کھوجنے کی کوشش ہی کی ہے؟ کسی سے اکتساب کیا؟ کسی کو کہا کہ جی مجھے بتاؤ صراط مستقیم پر چلوں کیسے؟

    اب پیروکار اگر ہم ایسے ہوں تو دین کا کیا قصور؟ حکم ہوا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ مسلمانوں کے کسی معاشرے میں چلے جاؤ یوں لگے جیسے نعوذباللہ حکم تھا کہ "غلاظت پورا ایمان ہے" حکم ہے کہ "مؤمن جھوٹ نہیں بول سکتا" ہمیں دیکھیں تو لگے ہے کہ "مؤمن سچ نہیں بول سکتا" حکم یہ کہ "مسلمان وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں" ہمیں دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ "مسلمان وہ جو ہر روز تین چار بندوں کا ناشتہ کرے" حکم ہے کہ "گواہی دو خواہ تمہارے اپنے قرابت داروں کے خلاف ہی ہو" ہمیں سمجھ آتا ہے کہ "گواہی دو جس سے تمہارے اپنے قرابت دار محفوظ رہیں" حکم ہے کہ "کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقوٰی کے سبب" ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ "سب سے اوپر عربی اور اس کے بعد تمہاری ذات۔ تقوٰی کا معاملہ اللہ کا ہے سو اللہ جانے اور اس کا کام"۔ اب ان بوالحواسیوں کی بنا پر اگر کوئی کہے کہ جی دین تو ہے ہی فساد یا لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام فساد کا نام ہے تو قصور اسلام کا نہیں آپ کا اور میرا ہے۔ آیتوں اور حدیثوں کو رٹا لگانے کا نام اسلام نہیں اور نہ ایسے کو دین کا "عالم" کہتے ہیں۔وہ تو جی بہروپیا ہے۔ 

    ایک وقت تھا کہ بہروپئے بھی کسی قدر کے مالک ہوتے تھے۔ اورنگزیب کے دربار میں ایک بہروپیا آیا۔ کہنے لگا کہ میرے فن کی معراج یہ ہے کہ جہاں پناہ کو بھی اپنے بہروپ سے دھوکا دے دوں۔ اورنگزیب نے کہا کہ اگر کردکھاؤ تو پانچ سو روپیہ انعام تمہارا ہوا۔ بہروپیا کورنش بجا کر رخصت ہوگیا اور ایک دور دراز علاقے میں اللہ والے کا بہروپ دھار کر بیٹھ گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ لوگ آہستہ آہستہ اس کے پاس آنے لگے۔ وہ دُعا کردیتا لوگوں کی مشکل حل ہوجاتی۔ بات بڑھتی گئی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ کو ایک جنگی مہم کے سلسلہ میں اس علاقہ سے گزرنا تھا۔ مصاحبین نے عرض کی کہ ایک اللہ والے یہاں مقیم ہیں ان سے دُعا کروالی جائے۔ بادشاہ نے مشورہ قبول کیا اور خدمت میں حاضر ہوگیا۔ صاحب نے دُعا کی اور بادشاہ جنگ کے لئے روانہ ہوگیا۔ جنگ میں فتح ہوئی تو واپسی پر آستانہ پر رُک کر بادشاہ نے جاگیریں اور وظائف بطور نذرانہ پیش کیے۔ بہروپئے نے کچھ بھی لینا منظور نہ کیا۔ بادشاہ سلام کرکے چلا آیا۔ کچھ عرصہ بعد بہروپیا دربار میں حاضرہوکر اپنے انعام کا طالب ہوا۔ بادشاہ نے کہا کہ ہمیں نہیں یاد کہ تم نے ہمیں دھوکا دیا ہو۔ بہروپئے نے ساری گفتگو دُہرا دی۔ بادشاہ نے پانچ صد روپیہ عطا کرنے کا حکم دیتے ہوئے پوچھا "جب ہم جاگیریں اور وظائف پیش کررہے تھے اس وقت کیوں نہ لیا؟" تو بہروپئے نے جو جواب دیا پڑھئے اور سر دُھنئے۔ بہروپئے نے کہا "حضور جن کا بہروپ دھارا تھا ان کے تقدس کو کیسے ٹھیس لگاتا؟" ہماری قسمت میں اصلی بہروپئے بھی نہ رہے اور ہم نقالوں کے دام میں اُلجھ کر اصلیت سے ہی انکاری ہوئے پھرتے ہیں۔

    اب بات کریں ان کی جو اولیاء کے ارشادات، فرامین، اشعار سُن کر انہیں سمجھے بغیر "افلاطونیاں" جھاڑتے پھرتے ہیں۔ بات پھر ایک تمثیل سے بتاتے ہیں۔ ایک حکیم کے پاس ایک مریض آیا جسے نمونیا تھا، حکیم نے علامات دیکھ کر کہا "دیسی مرغی کا شوربہ پیا کرو"۔ دوجا آیا جسے گرمی کی شکایت تھی تو اسے کہا کہ "شرب صندل ٹھنڈا کرکے پیا کرو" تیسرے کی آنتیں خشک تھیں تو اسے بتایا کہ صبح نہار منہ مکھن کھایا کرو۔ تینوں مریض ٹھیک ہوگئے۔ اب انہوں نے جب بات آگے سُنائی توایسے کہا "میں بیمار تھا۔ حکیم صاحب نے کہا کہ ۔۔۔۔۔ کھاؤ اور میں تندرست ہوگیا" سُننے والے نے بات بنائی کہ حکیم صاحب نے جو بات بتائی تھی وہ اکسیر ہے۔ سو گرمی کے علاج کے لئے دیسی مرغ کے شوربہ پر زور دیا جانے لگا اور سردی کا علاج صندل کے ٹھنڈے شربت سے قرار پایا۔ اور جب ان اوٹ پٹانگ حرکتوں کا نتیجہ نکلا تو الزام کیا نکلا؟ وہ جی حکیم ہی جعلی تھا۔۔۔ یا جی حکمت نامی کوئی چیز نہیں آپ گھاس اُبال کر پیا کریں۔ اب اس تمام ہڑبونگ میں قصور کس کا؟ لیکن اگر اتنی گہری باتیں سوچنے کا شعور ہوتا تو زرداری پاکستان کا صدر ہوتا اور آدھا پاکستان ایک صوبے کا نام بدلے جانے پر خوشیاں منا رہا اور آدھاا فسوس؟

    اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ انسان کو اس دنیا میں ترقی کے لئے جتنے بھی علوم و فنون کی ضرورت ہے وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے غور کرو۔ ہمارے پاس اس کے لئے وقت ہی نہیں۔ ہم اس حکم سے بھی سرسری گُزر جاتے ہیں۔ جب تمام دُنیا سورج چاند کو معبود مان رہی تھی قرآن کہہ رہا تھا "وسخرلکم مافی السمٰوات وما فی الارض"۔ اب مسلمان آج بھی یہ بحثیں کرتے پھرتے ہیں کہ جی چاند پر کیسے جاسکتا ہے جی کوئی؟ قرآن کہے کہ ہر چیز کا جوڑا ہے۔ ہم غور نہ کریں اور نیوٹن یہ بات دریافت کرلے تو اس میں قصور کس کا؟ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات قرآن میں موجود نہ تھی؟ علوم سب قرآن میں ہیں لیکن انہیں کھوج نکالنا آپ کا اپنا کام ہے۔ یہ اور بات کہ مشکل کام ذرا ہمیں پسند نہیں آتے سو کچھ آئیں، کچھ بائیں اور کچھ شائیں کرکے گزارا کرنے کوشش کرتے ہیں لیکن اس طرح کرنے سے حقیقت بدل تو نہیں جاتی نا؟؟؟ سو  آدھے جپنا شروع کردیتے ہیں کہ "علموں بس کریں او یار" یہ جانے بغیر کہ جس مقام والوں کے لئے یہ کہا گیا ہے وہاں ہر کس و ناکس کی رسائی نہیں اور باقی کے آدھے بدعت و شرک کے فتاوٰی جڑنے لگ پڑتے ہیں  اور جو باقی بچ رہتے ہیں وہ دین کو ہی فضولیات کہنے لگ پڑتے ہیں۔

    Friday, April 2, 2010 at 14:42
    321 مشاہدات
  • مورا تم بن جیارا اُداس رہے

    اللہ مغفرت کرے اُستاد امانت علی خان کی۔ نیپال جاتے ہوئے جہاز جب ہچکولے کھارہا تھا، وہ یہ ٹھمری سوچ رہے تھے۔ آج انہیں یہ ٹھمری گائے ہوئے بھی کئی دہائیاں بیت گئیں لیکن جب سے میری شہزادیاں مجھ سے دور ہیں میرا دل بھی ان کی سنگت میں یہی پکار رہا ہے۔

    Tuesday, March 30, 2010 at 16:08
    214 مشاہدات
  • سونا کر گئیو دیس

    وہ جو خیال رکھتے ہیں انہوں نے محسوس کیا ہوگا کہ ایک بار پھر بلاگ سے غیر حاضری کچھ لمبی ہوگئی ہے۔ وجہ اس کی کچھ یوں ہوئی کہ بچیوں کی اماں نے پاکستان جانے کا منشور بناڈالا اور حسب معمول دودھ میں سے مکھی باہر نکال پھینکی۔ وہ بھی حق بجانب تھیں کہ مکھی ملا دودھ پینے اور خاوند کے ساتھ میکے جانے کا کیا فائدہ بھلا؟  بات صرف بیگم کے میکے جانے تک رہتی تو قابل برداشت تھی، مسئلہ یہ تھا کہ بچیوں کو بھی ان کے ساتھ جانا تھا۔ یہ کڑوا گھونٹ پینا آسان نہ تھا لیکن اپنی اولاد سے دوری کی اذیت سے بچنے کے لئے اوروں کو ان کی اولاد سے دور کیسے رکھوں؟ اس سوال کا جواب میری ناقص عقل کے پاس نہ تھا سو خاموشی اختیار کرلی۔  خاموشی ملی رضامندی غنیمت جان کرفروری کے اواخر میں جہاز کی ٹکٹیں لی گئیں اور پھر اٹھارہ مارچ کو بچیوں کی روانگی تک میں نے ہر روز کوشش کی کہ ان کی معصوم حرکتیں اپنی نظروں میں بھر لوں۔

    وقت کہاں تھما ہے جو اب کچھ دیر کو ٹھہرتا سو پلک جھپکتے اٹھارہ مارچ کی تاریخ آپہنچی۔ صبح آرلینڈو سے نیویارک پہنچے اور دس بجے کے قریب وہ لمحہ جس کا انتظار کم از کم مجھے تو نہ تھا۔ بچیوں کو گلے لگا کر الوداع کہنے کی ہمت  نہ تھی سو ان کے سر پر سرسری سا ہاتھ پھیر ا اور رسم الوداع پوری کرڈالی۔ سچ کہتے ہیں بزرگ دوستو کہ جی لگانا ہو تو اللہ سے لگاؤ۔ مخلوق تو کبھی پاس آجاتی ہے، کبھی دور چلی جاتی ہے۔ ایک وہی ذات ہے جو ہمیشہ قریب ہے لیکن پھر لامکاں کا عشق آسان کہاں؟ مخلوق سے عشق میں تو کبھی وصل کے لمحہ کی آس ہوتی ہے، وراء الوراء کا وصل تو اس حیات میں ممکن ہی نہیں۔ سو اب حال یہ ہے کہ ایک ہفتہ بیت گیا اپنے جگر کے ٹکڑوں سے بچھڑے۔ پہلی دفعہ ہے زندگی میں کہ ان سے اتنی دور اور اتنی دیر کے لئے جُدا ہوا ہوں او رایسے میں مصروفیت یہی ہے کہ ان کی تصویریں دیکھ لیں، ان کی باتیں یاد کرلیں یا ان سے باتیں کرلیں۔ ان یادوں میں چند لمحے اس برس کے شروع میں محفوظ کئے تھے اپنے کیمرے میں جو آپ کی نذر ہیں۔

    Thursday, March 25, 2010 at 17:00
    319 مشاہدات
  • ہمارا مستقبل؟؟

    کیا بلاول  پاکستان کا مستقبل ہے؟

    نوجوانان نے جو بھی کہا ہو، پی پی کے وفادار حضرت نے اپنے "چیئرپرسن" صاحب کی وکالت خوب کی ہے۔ بالخصوص ان کا یہ طعنہ کہ پاکستان کے مقدر کا فیصلہ یہ "چند سو" لوگ نہیں بلکہ سترہ کروڑ عوام کریں گے اور ان کی یہ چتاونی کہ "بل" پاکستان کا لیڈر ضرور بنے گا قابل غور ہیں۔ مجھے ان کے نقطہ نظر سے جتنا بھی اختلاف ہو لیکن ہوگا تو شائد ایسا ہی۔ آخر "بل" کا ابا بھی تو پاکستان کا لیڈر بنا ہوا ہے۔

    Saturday, February 13, 2010 at 15:11
    395 مشاہدات

TOP