رشتہ۔ ایک چار حرفی لفظ لیکن تمام انسانیت کی تعریف اس میں موجود۔ آخر انسان و حیوان میں فرق ہی کیا ہے؟ کوئی کہتا ہے کہ ٹیکنالوجی تو کوئی کہتا ہے گویائی لیکن میں کہتا ہوں کہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کردینے کی صفت کو نکال کر انسانیت کا دامن تمامتر فصاحت و ترقی کے باوجود خالی ہوجائے گا۔ رشتہ نام ہے اس احساس کا جو ہمیں ایکدوسرے سے جوڑتا ہے۔ فرد کو معاشرہ، معاشرہ کو قوم اور اقوام کو ایک نسل میں پروتا ہے۔ اگر رشتوں کا احساس و پاس نہ ہو تو انسان ارنے بھینسوں کے اس ہجوم کی ہی مانند ہے جو ایکدوسرے کے نفع و نقصان سے قطع نظر صرف اپنا پیٹ بھرنے میں مشغول ہوتے ہیں۔ میری بلا سے کوئی جئے یا مرے، مجھے تو بس یہ چاہئے، میرا تو بس یہ مقصد ہے، میں تو ایسے ہی رہوں گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام انسانی نہیں حیوانی جبلیات ہیں کہ انسان تو جب بھی سوچے سب کے لئے سوچے گا۔ اپنی خوشی کو، اپنی انا کو، اپنی ضد کو اوروں کی خوشی پر قربان کردینا ہی تو انسانیت ہے کہ دنیا کے ہر اونچے آدرش، ہر آفاقی تعلیم کا بنیادی اصول تو یہی ٹھہرا۔
رشتہ اس بنیادی انسانی وصف کے لئے مہمیز کا کام دیتا ہے۔ رشتہ وہ زنجیر ہے جو پروتا ہے عبد کو معبود سے، والدین کو اولاد سے، فرد کو امت و ملت سے۔ سوچئے اگر رشتے نہ ہوں تو انسان کی زندگی کتنی بے کیف کتنی پھیکی ہوجائے؟ اللہ نے اپنی مہربانیوں میں سے ایک مہربانی یہ بھی بیان فرمائی کہ والدین کے دل میں اولاد کے لئے محبت ڈالی گویا رشتے کی پہچان ڈالی۔ انسانی جذبات کے جتنے بھی سوتے ہیں وہ ان رشتوں سے ہی تو پھوٹتے ہیں۔ ہماری تمام تشبیہات، تمام استعارے اپنی لطافت و معنویت کے لئے ان رشتوں کے ہی تو محتاج ہیں۔ لیکن افسوس کہ اب ہم ان رشتوں سے ان پہچانوں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ وہ رشتے جو کبھی بے لوث و بے غرض محبت کے استعارے ہوا کرتے تھے،جو ضرب الامثال کا موضوع ہوا کرتے تھے، انہوں نے اب انا پرستی و خودغرضی کے مکروہ لبادے اوڑھ لئے ہیں۔ جن سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنا سب کچھ لُٹا دیں گے آپ کی خوشی کے لئے، وہ رشتے اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لئے آپ کی خواہشات کو ذبح کرتے نظر آتے ہیں۔ جن سے توقع تھی کہ گرنے پر تھام لیں گے، وہ آپ کو اپنی انا کے بلڈوزروں تلے کُچلنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔
ایک وقت تھا ہمارا معاشرہ فخر کرتا تھا اپنے اس وصف پر کہ ہم رشتے بنا اور نبھا جانتے ہیں۔ کہ ہم میں پاسِ وفا ہے۔ کہ ہم سطحی آسودگی سے اوپر اُٹھ کر انسان کو اس کی اصل کی وجہ سے، اس کے وصٖف کی بنا پر چاہتے اور پہچانتے ہیں۔لیکن پھر یہ ہوا کہ ہم سے یہ سب کھو گیا۔ ہم جو دعوے کرتے تھے اقدارکی عظمت و پاسداری کے اپنی اقدار کو آگ لگانے لگ پڑے۔ اخوت کے سبق پڑھتے پڑھاتے رشتوں کو روپے پیسوں میں تولنے لگ پڑے۔ ہمارے قریبی وہ نہ ٹھہرے جو ہم سے متعلق تھے بلکہ وہ بنے جو ہم سے زیادہ یا ہم جتنے مالدار تھے۔ اولاد کی خوشی ہمارا مطمع نظر نہ ٹھہرا بلکہ اولاد کا مقصد یہ ہوا کہ وہ ہمیں ہماری خواہشات کے پورا کرنے میں مدد دے۔ بہن بھائی اگر غریب ہے تو اس کی مدد تو کی جاسکتی ہے لیکن اس سے بڑھ کر نہ تو رشتہ مانا جاسکتا ہے اور نہ جوڑا۔ ہمارا رشتہ وہیں سےٹھہرا جہاں ہمیں زیادہ ہری گھاس چرنے کو ملے۔ نفسا نفسی کی اس دوڑ میں جو ہمارے راستے میں آیا رزق خاک ہوا۔ اولاد اگر ہماری توقعات کے مطابق منافع نہیں دے سکتی تو بھلے مر جائے۔ بہن بھائی کو اپنانے سے اگر سٹیٹس میں کمی آتی ہے تو بھاڑ میں جائیں۔ اپنے ماضی سے شرمندہ مستقبل کے غیر حقیقی و غیر منصف خیالی پلاؤ بُنتے جب ہمیں اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے جو ہماری خواہشات کے برعکس ہوتی ہے تو اس حقیقت کو بدلنے کے لئے ہم ہر حربہ استعمال کرنے پر تُل جاتے ہیں خواہے کتنے ہی آدرش، کتنے ہی اصول، کتنی ہی خواہشات اس کی بھینٹ چڑھ جائیں، کتنی ہی خوشیاں پامال ہوجائیں ہمیں اس سے غرض نہیں کہ ہمیں توصرف اپنی خوشی، اپنی انا کی آسودگی چاہئے۔
بوالہواسی کے اس ننگے ناچ میں کبھی تو ہم بظاہر فاتح ہوجاتے ہیں اور کبھی متاع عمر مع سود لُٹا کر حیراں و سرگرداں پھرتے ہیں۔ نتیجہ دونوں صورتوں میں بہرحال ناآسودگی و بربادی ہی ہوتا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ تماشا روز و شب ہمارے سامنے ہوتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہی نہیں۔ کسی دوسرے پر بیت جانے والی بات کو سمجھتے ہیں کہ ہم اس انجام سے محفوظ رہیں گے۔ بھلا اگر دو راہی ایک ہی راہ کے مسافر ہوں تو منزل مختلف کیسے پائیں گے؟ ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ اگر ہمیں ایک خوشحال اور آسودہ مستقبل چاہئے تو ہمیں اس راہ کو، اس روش کو ترک کرنا ہوگا جس پر ہم چل رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کا یقین کرنا ہوگا کہ اوروں کی خوشیوں کا گلا گھونٹ کر ہم اپنےدامن میں خوشیاں نہیں بھرسکتے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اردگرد ہمیشہ خوشیاں رہیں، ہمیشہ سکون رہے، پیار رہے، محبتیں رہیں تو ہمیں یہ پیار، یہ محبتیں، یہ خوشیاں یہ سکون بانٹنا ہوگا اپنے اردگرد رہنے والے افراد کے ساتھ، اپنے سے وابستہ افراد کے ساتھ۔ ہمیں اپنے رشتوں کو پہچاننا ہوگا، اور ان کے حق کو ماننا ہوگا۔ ہمسائے کا حق، اولاد کا حق، والدین کا حق، بہن بھائی کا حق، مملکت کا حق، خالق کا حق، مخلوق کا حق علٰی ہٰذا القیاس۔ ان تمام رشتوں کو مانے بغیر، انہیں ان کا حق دئیے بغیر نہ ہم سکون پاسکتے ہیں اور نہ خوشی۔
اچھا موضوع ہے خرم صاحب، اور اچھی تحریر لکھی آپ نے، بہت شکریہ
السلام علیکم
درست کہا خرم بھائی ، خوشی بانٹنے سے تو خوشی بڑھتی ہے اور دوسروں کو خوشی پہنچانے سے سکون ملتا ہے ۔
آپ نے یہ بات بہت زیادہ درست کہی کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس انجام سے ہم دو چار نہ ہونگے۔ ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جنکے متعلق مجھے یہ لگتا ہے کہ ہم منہ سے کہتے تو ہیں لیکن ان پر یقین نہیں رکھتے جیسے موت۔ میرا خیال ہے بیشتر لوگ موت پر یقین نہیں رکھتے۔ بلکہ زیادہ صحیح یہ کہنا ہوگا کہ وہ اپنے مرنے پر یقین نہیں رکھتے۔
جانوروں میں بھی رشتے داریاں پائ جاتی ہیں۔ مثلآ ڈولفن۔ جن میں ایک سماجی نظام موجود ہوتا ہے۔ ایک ڈولفن کے بچے کی دوسری مادائیں ملکر دیکھ بھال کرتی ہیں۔ اور مشکل وقت میں ایکدوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ اور وہ قبیلے کی صورت رہنا پسند کرتی ہیں۔ ایسے ہی پینگوئن۔ ایک دفعہ پینگوئن جسے اپنا ساتھی چن لیتے ہیں پھر اسکے ساتھ رہتے ہیں۔ ایک انڈے کو نر اور مادہ دونوں ملکر سہتے ہیں۔ شیر بھی ایک قبیلہ بنا کر رہتے ہیں۔
شہد کی مکھیاں یا چیونٹیوں کے سماجی نظام سے کون واقف نہیں۔ یہ وہ مخلوقات ہیں جو اپنی ننھی منی جسامت کے باوجود ناقبل یقین ٹارگٹ کو تسخیر کر لیتے ہیں۔ اپنے اتحاد اور یقین کی قوت سے۔
اچھا لکھا ہے آپ نے۔
خرم صاحب عمدہ لکھا ہے۔۔
بہت خوب ۔ ہماری قوم کے تنزل کی وجہ مادھ پرستی کا رحجان ہے
ذرا سا مشکل وقت آ جائے تو آس پاس لوگوں کی تعداد دو چار ہی رہ جاتی ہے اور ان ميں بھي رشتہ دار اکا دکا ہی ہوتے ہيں آجکل کے رشتہ داروں سے تو دوست بھلے ہوتے ہيں آجکل تو ماں باپ بھی ايسے ہيں کہ بس – - – کچھ لکھوں گی تو توہين ميں شامل ہو جائے گا اور پھر اس سلسلے ميں ميرا ساتھ تو خاور صاحب کے علاوہ کسی نے نہيں دينا، جہاں تک اولاد کی بات ہے تو اس سلسلے ميں اپنا اصول ہے کہ انکی اس آخری حد تک مدد کرو جتنا آپ کر سکتے ہو ليکن بدلے کی اميد بالکل نہ رکھو تاکہ اميد ٹوٹنے کا دکھ نہ ہو ، بڑا ہونے پر انکے سامنے ہر وقت چوں چوں نہ کرتے رہو کہ ہم نے تمہيں پيدا کيا روٹی کھلائی نہلايا وغيرہ وغيرہ بندی نے تو ابھی سے اپنا ذہن مکمل تيار کر ليا ہے تيرہ سالہ بعد اولاد کی بے وفائيوں کے ليے بڑی بيٹی ابھی پانچ سال کی ہے ناں
سیروتفریح کے دوران اتنی سخت سنجیدہ تحریر۔۔۔۔
میرا ناقص علم اور رائے یہ ہے کہ انسان جو بوتا ہے ہے وہ ہی کاٹتا ہے رشتے داری بھی ایسی ہی ہے آپ جس سے جیسا تعلق رکھیں گے وہ آپ سے ویسا ہی چلے گا ۔ ہاں ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے اس لیے کوئی اچھے کا جواب برے میں دے تو یہ اس کی تربیت اور ماحول کا اثر ہو سکتا ہے ۔ باقی اسماء کی باتیں دور حاضر اور آنے والے دور کے عین مطابق ہیں ۔(Y)
یاسر بھائی، شگفتہ بہنا، راشد بھائی تحریر کی پسندیدگی کا بہت شکریہ۔ آپ بھائی بہنوں کی کرم نوازی سے ہی یہ ہمت ہوتی ہے کہ اپنے خیالاتِ پریشاں کو رقم کرسکوں۔

عنیقہ بہنا۔ بجا ارشاد کہ چند اور جانور بھی ایک معاشرتی سسٹم رکھتے ہیں لیکن جو پیچیدگی اور گہرائی انسانی رشتوں میں ہے وہ ان میںناپید ہے۔ سطحی طور پر ایک طبقاتی نظام تو ہر جانور میں ہوتا ہے جیسے ماںاور اولاد کے رشتہ کی محبت بھی ہر جاندار کو ہی عطا کی گئی ہے لیکن انسان ان احساسات کو منسوب کرسکتا ہے افراد سے اور اسے ہی رشتہ کہا جاتا ہے۔ یہ پہچان اور ادراک صرف انسان کو ہی عطا کیا گیا ہے۔
اسماء بہنا – اچھے بُرے تو ہر ماحول میں ہر روپ میںہوتے ہیں لیکن ایک مجموعی چلن ہوتا ہے معاشرہ کا جو اس کی پہچان ہوتا ہے۔ والدین کی ہی کیا اب تو خالص محبتوںاور سچائی کے رشتے ویسے ہی ناپید ہیں۔ والدین کو بھی وہی اولاد بھاتی ہے جو انہیں زیادہ آسائش سے رکھ سکے وجہ آمدنی خواہ کچھ بھی ہو۔ خدمت تو اولاد کی فرض اور ذمہ داری سمجھ کر کرنا چاہئے۔ اور آپ کی اولاد آپ کے بتائے ہوئے سے زیادہ آپ کے کئے ہوئے سے اثر لیتی ہے۔ سو اگر آپ کو رشتوں کا احساس کرتا پائے گی تو غالب امکان ہے کہ آپ سمیت دوسرے رشتوں کو بھی نبھا کر رکھے گی۔ آپ مایوس نہ ہوں، کوشش کیجئے انہیں ایک اچھا انسان بن کر دکھانے کی اور پھر انشاء اللہ وہ آپ سے بہتر بن کر دکھا دیں گی
اجمل انکل – آپ کی تشخیص بالکل درست ہے ہمیشہ کی طرح۔ویسے ہی یار لوگ مادہ پرستی میں لفظ مادہ تذکیر و تانیث کے حوالے سے لے لیتے ہیں شائد اس لئے اسی کو معیوب کہنے میں سارا زور لگا دیتےہیں۔
جعفر بھائی – وہ جو فیض صاحب نے کہا تھا
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے۔
کامران بھائی – بالکل درست فرمایا آپ نے۔ اگر آپ ایک اچھی روایت کی ابتداءیا احیاء کرتے ہیں تو اللہ کریم کی رحمت سے امید ہے کہ آپ اور آپ کے متعلقین اس کا فیض ضرور پائیں گے۔ یہی بات کسی بُرے چلن کے لئے بھی درست ہے۔
بہت فکر انگیز تحریر ہے۔ میں نے تو یہ سیکھا کہ ایثار دراصل وہ جذبہ ہے جو انسان اور حیوان کو ممتاز کرتا ہے۔ شاید کسی نے اس کو اس طرح شعر کے قالب میں ڈھالا ہے:
اپنے لیے تو جیتے ہیں سب اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
آپ کی تحاریر ماشآ اللہ بہت شاندار جارہی ہیں اللہ زور قلم اور زیادہ کرے۔
فہد بھائی آپ نے بالکل درست کہا اور ایثار کے سب سے زیادہ حقدار تو آپ کے قریبی ہوتے ہیں۔ لیکن نجانے کیوں چلن یہ ہوگیا ہے کہ ہم اوروں سے ایثار کی توقع تو کرتے ہیں لیکن خود اپنی انا کے حصار سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔
آپ کی محبت بھری دعاؤں کا شکریہ ادا کرنا بھی ناممکن ہے۔ بس یہی دُعا ہے کہ اللہ ڈھیروں خوشیاں اور عزتیں نصیب فرمائے۔
السلام علیکم خرم بھائی بہت خوب کیا خوب لکھا ہے
رشتوں سے ایک بات یاد آئی
کسی نے عورت سے کہا ہم تمہاری عزت کرتے ہیں۔
تو عورت نے کہا۔ تم اپنی ماں ، اپنی بہن ، اپنی بیوی اور اپنی بیٹی کی عزت کرتے ہو۔ عزت رشتوں کی کی جاتی ہے عورت کی نہیں۔
لیکن ہم تو رشتوں کی بھی عزت نہیں کرتے
خرم بھائی – بہت اچھی بات بتائی آپ نے۔ عزت واقعی رشتوں کی ہی کی جاتی ہے اور کی جانی چاہئے۔