پانچ جولائی انیس سو ستتر کو یہ ملک نجانے کتنی ان دیکھی زنجیروں کا اسیر ہو گیا۔ ایک موقع پرست نے اپنی ذاتی عز و شان کے لئے جب تاریخ کو دُہرایا تو جبر کے ماروں نے تاریخ کوہی ماننے سے انکار کردیا۔ جب اپنی مرضی کے دیوتا حقائق کی دُنیا میں نہ ملے تو ایسی تخیلاتی دُنیا تراشی گئی جس کا وجود تو کہیں نہ تھا لیکن جو نآسودہ حالوں کو چند لمحے کے لئے حال سے بیگانہ ضرور کر دیتی تھی۔ پھر ہوا یہ کہ حقائق سے نظریں چُرانے کی یہ روش جڑ پکڑتی گئی اور آج نوبت یہ آن پہنچی کہ تمام قوم اماوس کے اندھیروں میں چودہویں کا چاند نہ صرف تلاش کرنے کا دعوٰی کرتی ہے بلکہ اس پر مصر بھی ہے کہ یہ وہی چاند ہے کہ جس کی روشنی منزل مقصود کے لئے ہماری راہنمائی کرے گی۔
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
کیا کیا کچھ نہ گنوا بیٹھے ہم اس روز؟ مجھے ذاتی طور پر بھٹو سے کوئی ہمدردی نہیں اور نہ ان کی حکومت کے کھوجانے کا کوئی قلق۔ جو وہ ایوب کے ساتھ کرتے رہے، وہی ضیاء نے ان کے ساتھ کر دیا۔ ڈیڈی کو باہر پھنکوانے والے کو قرآن پر حلف اٹھانے والے خوشامدی نے نکال باہر کیا۔ بھٹو کا قتل بھی حالات کا ایک جبر ہی تو تھا۔ میں ہمیشہ یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اگر ضیاء ایک انتہا درجے کا بزدل انسان نہ ہوتا تو بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی۔ خیر یہ تو اب لکیر پیٹنا ہی ٹھہرا کہ بہرحال ضیاء کو پاکستان پر مسلط کرنے کا گناہ بھی تو بھٹو سے ہی سرزد ہوا تھا۔ میں سوچا کرتا ہوں کہ اگر ضیاء کی جگہ مجید ملک پاکستان کا آرمی چیف ہوتا تو کیا پھر بھی ملک میں پانچ جولائی آتا؟ تاریخ تو ضرور آتی لیکن شائد اسی طرح گزر جاتی جیسے چار جولائی یا چھ جولائی ہمارے ذہنوں پر کوئی بھی نقش ڈالے بنا گزر جاتی ہیں چُپ چاپ۔ ایک کمزور و خوشامدی جرنل کو کہ جس کے پاس دو جنگوں میں لڑائی کا کوئی تجربہ نہ تھا فوج کی کمان دیتے وقت بھٹو یقیناً اسی طرح خوش ہوئے ہوں گے جیسا وہ آئین کی تیاری کے وقت اپوزیشن کو بزعم خود out wit کرنے کے بعد خوش ہوئے تھے۔ المیہ یہ ہوا کہ جب اسی بزدل و کم ہمت جرنیل نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا تو بھٹو کو وہ آئین بھی نہ بچا سکا جس کے تانے بانے انہوں نے اپنی ذات کے گرد بُنے تھے۔ حکمرانوں کے غلط فیصلوں کی قیمت قوم کو تو ادا کرنا ہی ہوتی ہے لیکن کبھی کبھار یہ سودا انہیں اپنی جان سے بھی چُکانا پڑتا ہے۔ جیسے بھٹو کو ضیاء لے بیٹھا، ان کی بیٹی کو نصیر اللہ بابر کے ظالمان لے بیٹھے۔ دونوں باپ بیٹی اپنے ہی پروردہ لوگوں کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے۔
نقصان اگر یہاں تک رہتا تو کوئی بات نہ تھی۔ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ کتنے بادشاہ آئے کتنے جہاں پناہ گزر گئے دُنیا کا نظام چلتا ہی رہا۔ المیہ یہ ہوا کہ بھٹو کے بعد اس کا خلا پُر کرنے کے لئے جو لوگ سامنے آئے ان میں اور بھٹو میں بس اتنی مماثلت تھی کہ وہ نسلی لحاظ سے بھٹو سے وابستہ تھے۔ اس سحر سے محروم جو بھٹو کا خاصہ تھا، بھٹو کے جانشینوں نے اس بھٹو کو جو پورے پاکستان کا بھٹو تھا، ایک صوبہ کا بھٹو بنا دیا۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں اپنا حصہ پانے کے لئے نفرتوں کے وہ بیج بوئے گئے کہ جن کے خارزار ثمر اب بارآور ہیں اور جنہیں چُننے کے خیال سے ہی جُھرجھری آجائے۔ لوگوں کو خیالی دُنیا کے افسانوں میں اس قدر خوبصورتی سے الجھا دیا گیا کہ اب اگر حقیقت کی بات کرو تو احباب اللہ رسول کی لعنتوں کا سزا وار ٹھہراتے ہیں۔ قصور ان کا نہیں ہے کہ خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے۔ لوگوں کو تو ایک دیو مالائی کردار کی تلاش ہوتی ہے۔ وہ سُپر مین ہو، سپائڈر مین ہو کہ آئرن مین ، اس سے انہیں غرض نہیں ہوتی۔ قصور تو ان کا ہوتا ہے جو لوگوں کو حقیقت کی کڑوی گولی کی بجائے خیالوں کی افیون کھلاتے ہیں۔
نپولین کہا کرتا تھا کہ اگر گیدڑوں کی فوج کا سربراہ ایک شیر کو بنا دو وہ شیر ان گیدڑوں کو فتح سے ہمکنار کر دے گا۔ اور اگر شیروں کی فوج کا سربراہ ایک گیدڑ کو بنا دو تو وہ گیدڑ ان شیروں کو گیدڑوں کی سے ذلت سے ہمکنار کر دے گا۔ اس قوم کے نصیب میں گیدڑ بھی نہیں بلکہ لگڑ بگڑ لیڈروں کے روپ میں آئے جو مُردوں کے لہو پر زندہ رہے یا کم از کم زندہ رہنے کی کوشش ضرور کرتے رہے۔ خیر اب تو ایک نمبرلگڑ بگڑ بھی نایاب ہوئے کہ لگڑبگڑوں میں شامل ہونے کے لئےنام بدلنے کا چلن چل پڑا ہے۔ ایسے معاشرہ، ایسے ملک کا مستقبل جاننے کے لئے کیا کسی نجومی کی ضرورت ہے؟
بلاگنگ کی دنیا میں خوش آمدید برادرم خرم، بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنا بلاگ لکھنا شروع کردیا ہے، امید ہے کہ باقاعدگی سے لکھتے رہیں گے اور اردو سیارہ پر اسکی شمولیت حاصل کرینگے کہ تا کہ سب تک آپ کی آواز پہنچتی رہے۔
والسلام
السلام علیکم خرم بھائی ، خوشی ہوئی آپ کو بلاگ دنیا میں دیکھ کر۔ اردو محفل کے ساتھ ساتھ آپ کے خیالات اور تحریروں سے یہاں بھی سیکھنے کو موقع ملے گا ۔ جلدی جلدی لکھا کریں گے ناں ۔
بلاگ دنیا میں خوش آمدید !
بھائی ہمارے ملک کے حالات مالائیشیا جتنے خراب نہیں ہیں ملائیشیا ملک کو عزیم لیڈر شپ نے بچایا اور ترقی کی اونچائینوں تک پہنچا دیا ۔
اللہ سے بس ایک اچھی لیڈر شپ کی ہر پل دعا ہے
آپ نے بہاہیت خوبصوعت بلاگ بنایا ہے ۔ آپ نے اس کو جس طرح اردو لوکلائیز کیا ہے وہ بہت تعریف کے قابل ہے ۔
وارث بھائی او رشگفتہ بہنا ،
بہت شکریہ آپ کی محبتوں کا۔ یہ سب انہی کا صدقہ تو ہے۔
وارث بھائی، اردو سیارہ پر شمولیت حاصل کرنے کا علم ہی نہیں تھا۔ اب انشاء اللہ دیکھتا ہوں کہ کیسے شامل ہوسکتا ہوں۔
شگفتہ بہنا،
بس مل جُل کر ایکدوسرے سے سیکھ کر انشاء اللہ اس وطن کو سنوارتے جائیں گے انشاء اللہ۔
ریحان بھائی،
لیڈر شپ تو روٹی ہوتی ہے نا۔ جیسا آٹا ہوگاویسے ہی روٹی پک جائے گی۔ ہے نا؟
آپ اس ربط پر جایئے اور فارم مکمل پُر کر دیں، ہاں انکی شرط دو ماہ کی ہے سو جب دو ماہ پورے ہو جائیں گے تو آپ کی تحاریر پر شائع ہونے شروع ہو جائیں گی۔
http://www.urduweb.org/planet/blog-submit.html
وارث بھیا یہ تو کل ہی کر دیا تھا۔ ویسے یہ دو ماہ کی شرط کچھ عجب سی ہے۔ لیکن اس کی بھی کوئی منطق تو ہوگی۔
بلاگ بہت خوبصورت ہے۔ مجھے تو تھیم بڑی زبردست لگ رہی ہے۔
امید ہے کہ مستقل تحاریر لکھا کریں گے۔
بہت شکریہ ثاقب بھائی۔ انشاء اللہ کوشش رہے گی باقاعدگی کی۔
خرم بھائی! میرا اصل نام ثاقب نہیں ہے ۔۔۔۔ آپ ابوشامل کہہ سکتے ہیں اگر زیادہ ہی پیار آئے
تو میرے اصل نام فہد سے پکار سکتے ہیں۔
اوہو، فہد بھائی سہو ہو گیا۔ زمین و آسمان کو ملا دیا غلطی میں
فہد کا مطلب ہے تیندوا اور ثاقب کا مطلب ستارہ