Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • نظام تعلیم

    دیری تو اس موضوع پر لکھنے میں بھی ہوئی لیکن مصروفیات کچھ ایسی تھیں کہ لکھ نہ سکے اور پھر خیالات بھی کچھ ایسے پریشاں تھے کہ انہیں مجتمع کرنے کے لئے جس یکسوئی کی ضرورت تھی وہ میسر نہ تھی۔ خیر آج جب کچھ فرصت میسر ہے تو کوشش کرتا ہوں کہ اس سادہ ورق پر اپنے کچھ مشاہدات کے ذریعے پاکستان کے نظام تعلیم کے متعلق کچھ بیان کیا جائے۔ کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی ذمہ داری میں اپنے قارئین کی دید اور صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔

    ایک حادثہ کے نتیجہ میں جب ہماری تعلیم کا باقاعدہ آغاز ہوا تو ہمارا پہلا مکتب ایک پرائیویٹ سکول ٹھہرا جس کا نام مدرستہ البنات تھا۔ اگرچہ نام سے تو یہ خالصتاً نسوانی ادارہ ہونا چاہئے تھا لیکن اس دور میں (1979) یہاں مخلوط تعلیم تھی اور پنجم جماعت تک تعلیم دی جاتی تھی۔ زمرہ اساتذہ میں البتہ تمام تر خواتین ہی تھیں اور ماسوا ایک پی ٹی ماسٹر کے بقیہ معاملات کلیتاً خواتین کے سپرد تھے۔ اس سکول کا ماحول حسب توقع انتہائی مہذب تھا۔ اگرچہ چند استانیاں درشت مزاج تھیں لیکن بحیثیت مجموعی ایک انتہائی معتدل اور علم پرور ماحول تھا۔ تربیت پر توجہ اس لئے دی جاتی تھی کہ خواتین کی موجودی میں دشنام طرازی اور دیگر مکروہات کا گزر ممنوع تھا سو درجہ چہارم تک ہم نے جو کچھ کتابوں میں پڑھا، کافی حد تک اس پر عمل ہوتے بھی دیکھا اور ہمارے مزاج کا کھلنڈرا پن اس دور میں اپنے عروج پر رہا۔

    پھر ہمارے والدین نے طویل غور وخوض کے بعد ہمیں گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول صادق آباد میں داخل کروا دیا۔ وجہ اس کی یہ کہ اس دور میں اس سکول کا نتیجہ تمام ڈویژن میں بہترین آیا کرتا تھا اور بورڈ کے امتحانات میں پہلی تین میں سے کوئی ایک کا حامل ہونا اس مکتب کے لئے معمول کی بات تھی۔ ان سب باتوں سے قطع نظر اس سکول کا ماحول انتہائی درجہ تک عوامی تھا۔ سو جب ہم کرسی ڈیسک کے ماحول سے یکدم ٹاٹ پر اُتارے گئے تو ایک دھچکا لگا۔ ون ٹو کرتے جب ایک دو کے پہاڑے سُنانے کا تقاضا ہوا تو ہم صرف ہونقوں کی طرح مُنہ دیکھاکئے۔ والدین نے چار برس کی عمر میں سکول بھیجا تھا تو اس نئے سکول میں ہم اپنی جماعت کے سب سے کم عمر فرد ٹھہرے۔نہ ہمیں ساتھیوں کی بات سمجھ آتی نہ استادوں کہ ذریعہ تعلیم پنجابی تھا اور ہم اس وقت تک صرف اُردو بول سکتے تھے یا انگریزی اور کچھ کچھ عربی۔ جہاں گزشتہ سکول میں زیادہ سے زیادہ سزا ایک چپت یا مسطر سے چند معصوم سے ضربیں ہوا کرتی تھیں، نئے سکول میں مولا بخش ایک لازم ہتھیار تھا اور اساتذہ اس کا استعمال کافی فراخدلی سے کیا کرتے تھے۔قصہ مختصر یہ کہ جب ہم ایک خالصتاً نسوانہ ماحول سے یکدم ایک خالص مردانہ ماحول میں پہنچے تو  یوں لگا کہ ایک بپھرے ہوئے سمندر میں پھینک دئے گئے ہیں۔ قصور اس میں سکول کا نہ تھا بلکہ ان دو متوازی نظاموں کا تھا جن کا ہم شکار بنے۔ جہاں پہلے مکتب میں لوگ سچ بولتے، نستعلیق طریقے سے زندگی گزارتے تھے، نئے سکول میں دشنام طرازی، ذومعنی فقرہ بازی، جنگ و جدل، لڑائی مار کُٹائی عام تھی۔

    اس خالصتاً عوامی ماحول میں ہمیں جائے امان یہی نظر آئی کہ اپنے خول میں دُبک جائیں۔ آہستہ آہستہ ہم جماعتوں پر اس کا انکشاف ہوا تو ہمیں کچھ ستانا شروع کیا۔ ایک ایسی ہی واردات کے بعد ہمارا ٹھنڈا ٹھار راجپوتی خون گرمی کھا کر اُبلا تو اپنے سے دوگنے ڈیل ڈول والے ہم جماعت سے بھڑ پڑے۔ نتیجتاً خوب پھینٹی پڑی۔ ابھی ہماری درگت بن رہی تھی کہ ایک اور ہم جماعت کو جوش آیا اور وہ ہماری حمایت میں میدان میں آموجود ہوا۔ ہم دونوں اس معرکہ میں فاتح نہیں تو برابر تو چھوٹے لیکن اس روز جس دوستی کی بنیاد پڑی وہ آج چھبیس برس کے بعد بھی الحمدللہ قائم ہے۔ میرے اس دوست کا نام ہے محمد نائب جو اس جہان فانی میں میرا پہلا یار بنا۔ بہتیرے گرم و سرد دیکھے ہم نے اکٹھے لیکن الحمدللہ آج بھی یہ دوستی قائم ہے اگرچہ اس دوستی کے قیام اور بقا کا سارا سہرا نائب کے اس بے لوث جذبہ اور وفا کو جاتا ہے جس کا پہلا اظہار اس نے آج سے چھبیس برس قبل کیا تھا۔ نائب کی صورت میں ایک دوست ملا تو ہم نے بھی نئے سکول میں کچھ دلچسپی لینا شروع کی۔ یہ ساتھ پنجم تک رہا۔

    پنجم کے بعد دوسرے سکولوں سے طلباء ہمارے سکول میں داخل کئے گئے تو ایک جماعت کو کئی سیکشنوں میں بانٹ دیا گیا۔ ظلم یہ ہوا کہ نائب کو ہم سے الگ سیکشن میں بھیج دیا گیا۔نئے لڑکے تو گویا ایک نئی ہی مخلوق تھے۔ اتنا تنوع آیا ہمارے ماحول میں کہ بس الاماں۔ ہر روز نئے انکشافات۔ جسے دوست سمجھیں وہی اُلو بنا کر چلتا بنے۔ ہم سمجھتے تھے کہ جسے اچھی اقدار کا سبق اچھی طرح یاد ہے وہ ان اقدار پر عمل بھی سب سے زیادہ کرے گا۔ اس وقت تک یہ ادراک ہی نہ تھا کہ سبق یاد کرنا اور بات ہے اور اس پر عمل اور۔ سو خوب جی بھر کے ٹھوکریں کھائیں۔ بدقسمتی یہ رہی کہ ایک مثالی دُنیا کی تلاش ہم نے چھوڑ نہ دی بلکہ عمر عزیز کے اگلے پانچ برس کا عرصہ ہم نے اسی تلاش میں گُزار دیا۔ اللہ کا شُکر ہے کہ پڑھائی میں اچھے تھے تو گزارا چلتا رہا لیکن کتابوں سے جی اُچاٹ تھا۔ اساتذہ اور والدین کتابوں پر زور دیتے تھے اور ہم مشاہدہ کے شیدا تھے۔ سو اول الذکر افسوس کرتے رہے اور ہم اپنی دُنیا میں گُم حیراں و سرگرداں  بھٹکتے، ٹھوکریں کھاتے زندگی کے دن گُزارتے رہے۔ اس پر طُرہ یہ کہ ہمارے خالہ زاد پڑھائی میں ماشاء اللہ بہت اچھے تھے اور اپنی جماعت میں اول آیا کرتے تھے۔ سو ہمارے والدین کی دلی آرزو تھی کہ ہم “اُن” جیسے بن جائیں۔ ہم خود کیا ہیں اور کس تلاش میں سرگرداں ہیں اس پر کسی کو دھیان دینے کی نہ فرصت تھی نہ توجہ۔ سو ایک خلیج پیدا ہوتی چلی گئی۔ اسی سب کچھ کے دوران ہم نے میٹرک پاس کرلیا۔ نتیجہ آیا تو سب کی امیدوں کے برعکس ہم گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ کے اہل نہ ٹھہرے سو باامر مجبوری ہمیں ایف سی کالج داخل کروا دیا گیا۔

    ایف سی کالج کی دُنیا سکول سے بھی نرالی نکلی۔ ہم کیونکہ ہاسٹل میں رہتے تھے سو زندگی کا ایک نیا رُخ سامنے آیا۔ ایف سی کالج کے ہاسٹل کے اکثر ساتھی صاحب اقتدار حلقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ عوامی مزاج سے تو ہم سکول کے دنوں میں واقف ہوچُکے تھے، اب جب خواص سے تعارف ہوا تو ایک اور سمندر سامنے تھا۔  محو حیرت تمام تماشہ دیکھا کئے ۔ اس پر طُرہ یہ کہ ایف سی کالج پر جمیعت کا غلبہ تھا۔ سو دین کے نام پر سیاست کرنے والوں سے بھی واقفیت کا آغاز ہوا۔ ایک نئی دُنیا تھی اور نئے شب و روز۔ انہی شب وروز میں ہمیں ایک اور دوست مِلا ذیشان اعظم۔ ہم دونوں ہم جماعت نہ تھے اور ماسوا اس کے کہ اس کا تعلق بھی نارووال سے تھا ہمارے درمیان کوئی قدر مشترک بھی نہ تھی لیکن پھر بھی ہم ایسے قریب آئے کہ آج انیس برس بعد بھی الحمد للہ ہمارے دلوں کا تعلق برقرار ہے۔ ذیشان سے بہت کچھ سیکھا میں نے۔ سب سے بڑی بات جو سیکھی وہ یہ کہ کیسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے جنگل سے لاتعلق ہوا جاتا ہے۔ اپنے آدرشوں کو اپناتےہوئے زندگی میں اپنا راستہ کیسے بنایا جاتا ہے۔ اس حوصلہ کے لئے میں ہمیشہ ذیشان کی دوستی کا مقروض رہوں گا۔

    گرتے پڑتے ایف ایس سی پاس کی تو اگلا مرحلہ انجنیئرنگ یونیورسٹی کی تعلیم کا تھا سو ابتدء کی انجنیئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا سے۔ اس وقت تک میں لوگوں میں آدرش ڈھونڈنا چھوڑ چُکا تھا۔ ان دنوں یونیورسٹیوں میں سیاست ہوا کرتی تھی۔ کچھ اتفاقات ایسے ہوئے کہ ہم بھی ان معاملات میں تھوڑے تھوڑے سے شامل ہو گئے۔ اللہ کا کرم یہ تھا کہ روز اول سے ہی ہماری شمولیت ایک طالبعلم کی سی تھی۔ سو ہمارا زیادہ زور مشاہدہ پر تھا اور عملی سیاست میں شمولیت ماسوا ایک دو واقعات کے بہت کم تھی۔ ان دنوں میری شناسائی پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں سے ہوئی۔ وزراء ممبران اسمبلی وغیرہ سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ ان کے اصل خیالات اور ترجیحات کو دیکھا اور سمجھا۔ طبیعت مشاہداتی تھی سو خوب نتائج اخذ کئے۔  دو برس بعد میں نے اپنا تبادلہ لاہور انجنئیرنگ یونیورسٹی میں کروالیا لیکن ٹیکسلا کے برعکس یہاں میں نے سیاست سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کئے رکھی۔ اگلے دو برس تمام عمر کے مشاہدات کو جانچنے میں گزرے۔ اور پھر انجنئیرنگ کے بعد مزید تعلیم کے لئے امریکہ آگیا۔

    امریکہ آکر ایک خوشگوار احساس ہوا۔ وہ اس لئے نہیں کہ ارداگرد گوریاں پھرتی تھیں اور سہولیات میسر تھیں بلکہ اس لئے کہ زندگی میں پہلی دفعہ الفاظ اور آدرشوں کو کتابوں سے نکل کر انسانوں میں جیتا پایا۔ جہاں پاکستان میں ہر بندہ آپ کی بات کو جھوٹ سمجھتا ہے وہاں امریکہ میں ہر انسان کو دوسرے کو سچا سمجھتا پایا۔ یقین مانئے اسی بات پر کافی حیرت رہی کہ امریکہ میں کسی کو جھوٹا کہہ دینا اسے گالی دینے کے مترادف ہے اور کسی پر اگر جھوٹ ثابت ہوجائے تو اس کا تمام عمر کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے۔ معاملات میں ایمانداری، خوش اخلاقی، خدمت خلق، اور ایسی کئی اوصاف جن کے متعلق ہمیں یقین تھا کہ کسی معاشرہ میں بحیثیت مجموعی موجود نہیں ہوں گی، انہیں یہاں موجود پایا۔ وہ تمام اسباق جو ہم متروک سمجھ چُکے تھے، اس معاشرہ نے ان کے نہ صرف زندہ ہونے کا یقین دلایا بلکہ ان کی افادیت کا بھی احساس دلوایا۔ یہ ایک بہت بڑا مرحلہ تھا جس میں ہم نے علم و آدرش کو عمل میں ڈھلتے دیکھا۔ یہ جانا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان کتنا صائب ہے کہ “علم بغیر عمل ایک آزار ہے۔” یہ سمجھا کہ علم اگر عمل میں نہ ڈھلے تو بے فائدہ ہے اور یہ کہ اصل کامیابی رٹا لگانا یا لگوانا نہیں بلکہ اصل کامیابی سیکھے ہوئے پر عمل کرنا ہے۔ یہ کہ تعلیم کا مقصود ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بننا ہے اور جو قوم یا فرد اس بنیادی نکتہ کو ذہن میں نہیں رکھتے، وہ کبھی باعزت نہیں ہوسکتے۔ اگر مجھ سے پوچھیں تو اسی ایک جملے میں پاکستان کا ماضی ، حال اور مستقبل مقید ہیں۔


  • Monday, August 24, 2009 at 14:51 | #1

    کیونکہ آپ نے خاتمہ کرتے کرتے ہمارے معاشرے کی بات چھیڑ دی ہے تو ابکائیاں سی آنے لگی ہیں اور اگر کچھ لکھ دوں تو پھر وہی نا شکرا پن اور ہر بری بات اپنے ہی معاشرے میں نظر آنے والی بات
    لیکن میرے خیال میں ہمارا معاشرہہ تین لفظوں میں پوری طرح بیان کیا جا سکتا ہے
    جھوٹا ، دھوکے باز اور بے ایمان

  • Monday, August 24, 2009 at 15:07 | #2

    (میری اردو اچھی نہیں ہے۔ )

    ہم دو کشتی کے سوار ہے اور مزے کی بات کے دونوں میں ڈانڈی مارتے ہے قرآن پڑہتے ہے پر سمجھتے نہیں۔ اس ہی طرح دنیاوی تعلیم پڑہتے ہے پر وہ بھی پرانے زامانہ کی۔

  • محمد رضوان
    Monday, August 24, 2009 at 19:21 | #3

    بھائی آپکی تحریر کافی اچھی ہے اور سبق آموز بھی،اور آپ نے جو آخر میں اپنا تبصرہ فرمایا وہ بھی ٹھیک مگر مجھے ڈفر میاں کے تبصرے سے اختلاف ہے۔

  • اسماء
    Tuesday, August 25, 2009 at 04:02 | #4

    ميں تو ذرا سا پاکستانی معاشرے يا پاکستانيوں کو کچھ کہوں تو ہاتھ دھو کے سارے ميرے پيچھے پڑ جاتے ہيں اس ڈفر کو کوئی پوچھے گا يا نہيں؟
    مياں ڈفر اپنے اس بيان ميں مائنس ون فارمولا لگا لو ميں نہيں ہوں شامل ايسے پاکستانيوں ميں

  • Tuesday, August 25, 2009 at 04:25 | #5

    بہت عمدگی سے آپ نے پاکستان کے تعلیمی نظام کا پوسٹ مارٹم کیا ہے
    مغربی معاشرے پر آپ کے خیالات سے بھی سو فیصد متفق ہوں
    ڈفر کی بات پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ لوگ اپنے حکمرانوں کے رستے پر ہوتے ہیں
    آج وہ سدھر جائیں۔۔۔
    عوام خودبخود بندے دا پتر بن جائے گی

  • عبداللہ
    Tuesday, August 25, 2009 at 06:39 | #6

    خرم بھائی آپنے جس طرح پاکستان کے نظام تعلیم اور اس سے پیدا ہونے والی قوم کا نقشہ کھینچا ہے اس پر اک آہ سرد دل سے نکلی ،
    جعفر کی بات کی تصحیح کردوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بلکل الٹ فرمایا تھا آپ نے فرمایا کہ جیسے تم ہوگے تم پر حاکم بھی ویسے ہی مسلط کیئے جائیں گے،
    یعنی حاکموں کو سدھار نے کی دعا کرنا یا ان کو گالیاں دینا مسائل کا حل نہیں بلکہ خود سدھرنا حل ہے،

  • Wednesday, August 26, 2009 at 01:12 | #7

    میں تھوڑا لیٹ ہو گیا مگر میرا اصول ہے کہ سب کا لکھا پڑھوں اور کچھ سیکھوں مگر بعض دفعہ کوشش کے باوجود کچھ اچھے لوگ رہ جاتے ہیں آپ کو اپنے بلاگ پر پڑھ کر مجھے آپ کی تحریر کا پتا چلا ماشااللہ قلم پر قابو رکھتے ہیں اور اس کا حق ادا کرتے ہیں ۔جزاک اللہ

  • خرم
    Wednesday, August 26, 2009 at 10:24 | #8

    ڈفر بھیا – بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی :-(
    احمر بھیا – ناچیز کے بلاگ پر تشریف آوری کا بہت شکریہ۔ آپ نے بالکل درست نشاندہی کی ہے۔ ہم لوگ علم نہیں حاصل کرتے، بس خانہ پُری کرتے ہیں۔
    محمد رضوان بھائی – بلاگ پر تشریف آوری کا بہت بہت شکریہ۔ بھیا ڈفر نے جو بات کی وہ اگر آپ پاکستانی معاشرہ کا عمومی مزاج دیکھیں تو درست ہی معلوم پڑتی ہے۔ لیکن اگر ہم بیماری کا ادراک کر لیں تو پھر اس کا تدارک بھی کرسکتے ہیں اور اس بیماری کا تدارک تو مجھے، آپ کو، ہم سب کو مل کر کرنا ہے انشاء اللہ۔
    اسماء بہنا۔ مائنس ون فارمولا نہیں چلنے کااب۔ :-D بات صرف اپنا پہلو بچانے کی نہیں بلکہ معاشرے کا رویہ بدلنے کی ہے۔ سو جب تک تمام معاشرہ درست نہیں ہوتا، میری آپکی ذاتی خوبیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کہ صاف پانی جب گٹر میں پڑا تو گندا ہی گنا جاتا ہے۔ اگر صفائی کا دعوٰی کرنا ہے تو تمام پانی کو صاف کرنا ہوگا۔ :-D
    جعفر – میں عبداللہ بھائی کی بات پر صاد کرتا ہوں کہ حدیث شریف ہی مکمل سچ ہے۔ اگر عوام بندے دے پتر بن جائیں تو کوئی ان پر کھوتے دا پتر حاکم ہی نہ بنے کہ کھوتے کھوتوں‌پر ہی سواری کیا کرتے ہیں۔ :-D
    کامران بھائی – ماشاء اللہ آپ تشریف لائے۔ بہت شکریہ۔ آپ نے اس تحریر کو کسی لائق سمجھا یہ آپ کی وسیع ظرفی ہے۔

  • حجاب
    Wednesday, August 26, 2009 at 12:41 | #9

    پاکستانی معاشرے یا نظامِ تعلیم کے بارے میں کچھ کہنے کا فائدہ تو ہے نہیں کونسا کہہ کے سب کچھ ٹھیک ہو جانا ہے — مجھے آپ کے دوستوں والی باتیں اچھی لگیں ۔اللہ آپ دوستوں کی دوستی یونہی قائم رکھے آمین ۔۔

  • فری
    Thursday, August 27, 2009 at 00:33 | #10

    واہ جی واہ بھا ئی جان کیا کہنے۔ نہائت شا ئستگی سے آپ نے احوال بیان فرمایا۔ کچھ اس پانی پت کی لڑائی کے بارے میں بھی لکھیں۔ جو آپ کے راجپوتی خون کا ثبوت پیش کرے۔ واہ کیا منظر تھا۔ وہ گھمسان کا رن فریق مخالف جب پچھڑ کے بھا گا۔(بوبی :-D
    اور دوسرا معرکہ جس نے محمود غزنوی کی جنگی حکمت عملی کو پچھاڑ دیا واہ کیا شب خون مارا تھا اور بندہ ناچیز نےایک منجھے ھوٰئے جنرل کی طرح اپنے سامان حرب( نازک دندان
    کو استعمال کیا تھا اور دشمن کو ناکوں چنے چبوا دے۔(منا ;-) ;-)
    پرزور فرما ئش پر اپنے راجپوتی خون کی گرمائش کا احوال بھی کچھ سطور کی نظر فرما دیجے۔

  • خرم
    Thursday, August 27, 2009 at 12:03 | #11

    حجاب بہنا – اک عرض تمنا ہے سو کرتے رہیں گے والا ہی معاملہ ہے۔ ہمارے اور ہمارے دوستوں کے لئے آپکی نیک تمناؤں کا ڈھیر سارا شکریہ۔
    برادر خورد بُرد – وہ معرکہ جات جو ہیں وہ نظام تعلیم کی حد سے باہر وقوع پذیر ہوئے تھے اس لئے ان کا تذکرہ نہ کیا۔ :-D

  • Monday, September 7, 2009 at 07:21 | #12

    بہت خوب خرم عمدہ حال لکھا ہے تعلیمی سفر کا۔

    ایک قدر مشترک مجھے بھی پتہ چلی وہ یہ کہ میں بھی ایف سی کالج سے پڑھا ہوں‌ یوں‌ ہم دونوں Formanites ٹھہرے :-D

  • خرم
    Tuesday, September 8, 2009 at 12:45 | #13

    واہ جی واہ محب۔ یہ ایف سی کالج والی قدر مشترک تو کیا خوب نکلی :-D

تبصرہ کریں

:o) :-D :-( ;-) :-P =-O 8-) :-/ :-! C:-) :-(|) O-) :@ :-[ (B) (^) (P) (@) (O) (D) :-S ;-( (C) (&) :-$ (E) (~) :-* (I) (L) (8) (T) (G) (F) (*) (N) (Y) (U) (W)

TOP