جہاز اڑنے کے لئے تیار تھا۔ نورالعین اور اس کی اماں فرسٹ کلاس کی کشادہ سیٹوں پر ٹیک لگائے اپنے اپنے مشروب کی چسکیاں لے رہی تھیں اور خدیجہ ان سے اگلی رو میں اپنی سیٹ یعنی اپنے ابا کی گود میں اچھل رہی تھی کہ اسے جوس پینا تھا۔ ایئر ہوسٹس سے سٹرا لے کر خدیجہ کو جوس پلاتے ہوئے میرے خیالوں میں تیرہ چوہ برس کا وہ لڑکا آگیا جو اپنے والدین کی پہلی نرینہ اولاد تھا۔ اس کے والد اپنے والدین کی اکلوتی نرینہ اولاد تھے اور جب ایک بیٹی کے بعد وہ پیدا ہوا تو خاندان بھر میں خوشیاں منائی گئیں۔ اگرچہ والدین نے نام محمد شفیع رکھا لیکن اس کی پھوپھیاں اسے لاڈ سے "برکت" کے نام سے پکارتی تھیں کہ اس کے بعد اللہ نے اس گھر کو تین مزید بیٹوں سے نوازا تھا جن میں سے سب سے چھوٹے کی عمر اس وقت چھ ماہ تھی۔جس روز کا ذکر ہے اس روز تقدیر نے "برکت" کو یتیم کردیا تھا۔ اس کے لاڈ اٹھانے والا باپ اسے دنیا کے تھپیڑوں کے حوالے کرکے خود مٹی کی چادر اوڑھ سویا تھا۔
چھوٹی سی زمینداری اور کثیرالعیالی کا بارِ گراں۔ اس کے ننھے کاندھے یہ بوجھ کیسے اٹھا پائیں گے؟ یہ مصیبت کیا کم تھی کہ "شریکوں" نے موقع غنیمت جان کر کھڑی کھیتی میں بکریاں چرا ڈالیں۔ اپنی یتیمی کا ماتم کرنے سے کسے فرصت تھی کہ اس موقع پر لڑائی کرتا اور اس کے لئے لڑتا بھی کون؟ نہ کوئی چچا نہ کوئی تایا۔ یہ امتحان کم نہ جان کر قدرت نے ایک اور آزمائش کی۔ یکے بعد دیگرے ان کے جانور مرنے لگے۔ پنجاب کے دیہات میں تو جانور ہی "مال" سمجھے جاتے ہیں۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ تمام گھر کا کل اثاثہ ایک بھینس رہ گئی۔ خدا کا کرنا کہ وہ بھینس بھی بیمار پڑ گئی۔ شام ڈھل رہی تھی جب اس کی والدہ نے کہا" بیٹا اس بھینس کے دن اب پورے ہو گئے ہیں۔ یہ اگر اندر مر گئی تو ہم دونوں سے اٹھائی نہ جائے گی۔ آؤ اسے ہنکا کر باہر لے چلیں تاکہ بعد میں مشکل نہ ہو۔" دونوں ماں بیٹا مل کر بھینس کو ہنکا کر گھر سے باہر لے گئے اور اس رات وہ بھینس بھی مر گئی۔
صبح اس مری ہوئی بھینس کا چمڑا، چماروں کو بیچا اور اس کے دس پیسے ملے (یہ قصہ بیسویں صدی کے انتہائی اوائل کا ہے) جو اس گھر کی کُل پونجی تھی۔ گاؤں والوں نے یہ حال دیکھا تو سوچا کہ مل بانٹ کر اس گھر والوں کی کچھ مدد کی جائے سو ایک پنچائت بلائی گئی۔ نائی محمد شفیع کو بلانے آیا۔بلاوا سُن کر اس کی والدہ کا ماتھا ٹھنکا اور بیٹے کو کہا کہ بیٹا تم چلو، میں چھت پر سے آتی ہوں۔ محمد شفیع چوپال میں پہنچا تو اس کے رشتہ کے چچا نے جو غیر روائتی طور پر برادری کے سربراہ تھے انہیں کہا "بیٹا ہمیں معلوم ہے تم لوگوں پر آجکل مشکل وقت ہے۔ سو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ سب مل کر تمہیں راشن ڈال دیتے ہیں تاکہ تمہارے گھر کا خرچ چل سکے۔" ابھی ان کی بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ چھت کے اوٹ سے محمد شفیع کی والدہ گرج اٹھیں۔ "میں مانتی ہوں کہ ہم پر اللہ کی آزمائش ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں کہ ہمیں کسی کی خیرات کی ضرورت پڑے۔ اللہ کا ہم پر کرم ہے۔ یہ چند پیسے ہمارے پاس ہیں، آپ ایسا کیجئے یہ رکھ لیجئے اورکسی ضرورت مند کو دے دیجئے۔ بیٹا انہیں پیسے دے دو اور آؤ گھر چلیں"۔ محمد شفیع ماںکے حکم کی تعمیل میں اپنی ماں کے پیچھے پیچھے گھر آگیا۔ اس محمد شفیع کی، جس کی کل پونچی اس وقت وہ دس پیسے تھے، پڑپوتیاں جہاز کی فرسٹ کلاس میں سفر کر رہی تھیں۔ فبائی آلاﺀ ربکما تکذبٰن۔
یہ محمد شفیع میرے دادا تھے جنہوں نے والد کی وفات کے بعد ہل کی ہتھی کو ہاتھ میں پکڑا اور زمین کا سینہ چیرتے ہوئے اپنے رب کا فضل تلاش کرنے لگ پڑے۔ اللہ جب آزمائش کرتا ہے تو انعام بھی کرتا ہے۔ اس مشکل وقت میں ان کے اکلوتے اور متمول ماموں نے اپنی لاڈلی بہن کے ایک بیٹے اور بیٹی کا بار اُٹھایا لیکن خوددار بہن نے بھائی کی بھی حد سے زیادہ مدد کو گوارا نہ کیا اور آٹھ نفوس پر مشتمل باقی کنبہ کی کفالت کا بار دادا ابو نے ہی اُٹھایا۔ آہستہ آہستہ حالات سنبھلنے لگے اور زندگی کا پہیہ چل پڑا۔ داداا بو ہل چلاتے رہے، پھوپھیاں اپنے بھتیجے پر نثار ہوتی رہیں اور وقت گزرتا گیا۔ ماں کو اپنے بیٹے پر ہر طرح کا مان تھا اور دادا ابو؟ انہیں اللہ کے بعد اپنی ماں کی دعاؤں اور اپنے زور بازو پر یقین تھا۔ ماں نے لوگوں کی امداد سے انکار کرکے خودداری کا جو سبق پڑھایا تھا، اسے تمام عمر ایسے ذہن نشین رکھا کہ کبھی کسی معاملے میں بھی کسی کی مدد نہ طلب کی۔ خودداری اور انا پسندی میں ایک باریک سا فرق ہے اور حیرت انگیز طور پر دادا ابو اپنی تمام عمر اس فرق کو پار کئے بغیر گزار گئے۔ اس میں سب سے زیادہ عمل شائد ان کی والدہ کا تھا۔ چھ فٹ کے گھبرو جوان لاڈلے بیٹے سے جب بگڑتی تھیں تو اس کا کھانا پینا بند کردیتی تھیں۔ اور دادا ابو جن کی پکڑ کبھی کوئی شہہ زور نہ چھڑا سکا، ان کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ پر مار سکیں۔ ایک دفعہ کا قصہ خود مجھے سُنایا "بے بے مجھ سے ناراض ہو گئی تو میرا کھانا پینا بند کردیا۔ ہل چلا کر واپس آیا تو زور کی بھوک لگ رہی تھی لیکن حکم تھا کہ کھانا نہیں ملے گا مجھے۔ سو بیل حویلی باندھ کر گھر کی جانب چلا لیکن اندر جانے کی بجائے دروازے کے ساتھ چھُپ کر کھڑا رہا۔ تمہاری دادی روٹیاں پکا رہی تھی اور بے بے اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد بےبے اٹھ کر رسوئی میں گئی اور میں نے موقع غنیمت جانا۔ لپک کر اندر گیا، چنگیر میں سے دو روٹیاں اٹھائیں دو چمچ سالن اوپر ڈالا اور بے بے رسوئی میں سے باہر نکل رہی تھی جب میں باہر کو بھاگا۔ روٹیاںکھانے کوگھر سے دور پیڑ کے نیچے ابھی بیٹھا ہی تھا کہ بے بے بھی پیچھے پیچھے پہنچ گئی۔ "لا ادھر کر میری روٹیاں" بے بے نے غصے سے کہا۔ میں نے بے کسی سے کہا "بے بے روٹی نہ کھاؤں تو کیا بھوکا مر جاؤں؟" اس پر بے بے کا دل پسیجا اور مجھے معافی ملی"۔
ماں کا یہی مان تھا جس نے تمام عمر دادا ابو کی رہنمائی کی اور تمام عمر انہوں نے اپنی ماں سے زیادہ کسی سے پیار نہ کیا۔ ہماری رشتے کی ایک دادی بتایا کرتی تھیں کہ دادا ابا نے بیل تھامے جب ہل چلا کر واپس آنا تو ان کی اماں نے ان پر غصہ سے برسنا شروع کرنا۔ دادا ابا نے مسکراتے ہوئے ماں کی طرف دیکھتے رہنا اور کھانا کھا کر بنا کچھ بولے اسی طرح مسکراتے ہوئے گھر سے چلے جانا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ اسی وجہ سے اتنی عمر ہو گئی، ان کی اتنی زیادہ آل اولاد ہے لیکن یہ کسی کو بھی کہیں بھی کچھ بھی کہہ دیتے ہیں اور کوئی ان کے آگے نہیں بولتا۔
دادا ابو اچھی نسل کے بیلوں کے شیدا تھے۔ اپنی آخری عمر تک ان کے ہم عمر انہیں شفیع بیلوں والا کہہ کر بلاتے تھے۔ لوگ مذاق سے کہا کرتے تھے کہ کہتے ہیں بابا بوڑھا ہوگیا ہے لیکن شام کو اگر خبر ملے کہ کئی کوس پر کسی نے اچھا بیل خریدا ہے تو صبح سب سے پہلے پہنچ جاتاہے۔ بیلوں کے بعد اگر کسی چیز کا شوق تھا تو بازو پکڑنے کا۔ اس کھیل میں انہیں کبھی کسی نے شکست نہ دی اور ایسا ہونا کچھ اچنبھے کی بات بھی نہ تھا۔ سو برس سے اوپر کی عمر میں ان کی قوت ارادی کا مظاہرہ تو میں نے بارہا خود کیا۔ اپنے چھ چھ فٹے پوتوں کے ساتھ جب وہ بازو پکڑا کرتے تھے تو ہمارے بازو کے ساتھ جھول جایا کرتے تھے۔ ہمیں یہ ڈر خواہے ہو کہ کہیں انہیں چوٹ نہ لگ جائے، وہ ایسی کسی فکر سے بھی بے نیاز ہوتے تھے۔زندگی میں اپنی ذات پر یہ اعتماد ان کا بنیادی وصف رہا اور جہاں اس نے انہیں تمام عمر سر اُٹھا کر جینے کا عزم و حوصلہ دیا وہاں ایک خاص حد تک خطرات سے یہ بے نیازی ہی ان کے وصال کا سبب بنی۔ اس کے بارے میں کچھ بعد میں۔ ایک سو برس سے اوپر کی عمر میں بھی جب ان کے جسم کا صرف ایکسرے ہی باقی رہ گیا تھا، ان کی کلائی کو مکمل اپنی گرفت میں پکڑنا کم از کم میرے بس کی بات نہ تھی۔ آج تک مجھے کسی ایسے شخص کی تلاش ہے جس کی کلائی ان جتنی چوڑی ہو۔ ہمارا گھر ایک باغ کے کنارے تھا۔ ایک روز دادا ابا مجھے کہنے لگے یار یہ جو باغ میں ہل چلاتا ہے اس کا ایک بیل بہت اچھا ہے۔ جی کرتا ہے اسے دیکھنے چلیں۔ میں ہمہ وقت تیار سو دادا پوتا کی جوڑی پیدل ہی باغ والے کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں پانی کا ایک کھال تھا۔ اس پر نظر پڑی تو سوچنے لگا کہ دادا ابو کو اس کے پار کیسے لیکر جاؤں گا۔ کمر پر سوار کرلوں کہ بازوؤں میں بھر کر پھلانگ جاؤں۔ میں انہی سوچوں میں گُم تھا جب ہم اس کے کنارے پہنچے ااور اس سے پہلے کہ میں اپنے کسی تدبیر کو فائنل کرتا، دادا ابو نے اپنی لاٹھی کھال کے کنارے ٹکائی اور کسی پول والٹ اولمپئن کی طرح ایک ہی جست میں اس پار پہنچ گئے۔ دوسرے کنارے پر کھڑا میں ہونقوں کی طرح اس ساری کاروائی کو دیکھا کیا۔
دادا ابو نے باپ کی شفقت سے زیادہ فیض نہ اٹھایا لیکن یتیمی کے بعد اپنے بھائیوں کو باپ کی طرح ہی پالا اور ان پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ جتنی والہانہ محبت انہیں اپنے بھائیوں سے تھی، کم از کم میرے مشاہدے میں ایک کے سوا اس کی کوئی مثال نہیں۔ ان کے برادران نے البتہ برادران یوسف کی یاد تازہ رکھی۔ اپنی اولاد سے دادا ابو کا تعلق روائتی سے ہٹ کرتھا۔ اگرچہ بڑھاپے میں جب جی چاہا جسے جو چاہا کہہ لیا لیکن کبھی بھی اولاد پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی اور نہ کبھی مارپیٹ کی۔ ایک عجیب سی بے نیازی تھی ان کے رویے میں۔ جہاں میری دادی کے ہاتھ سے اگر پیالہ بھی چھوٹ جاتا تو وہ بے ساختہ کہہ اٹھتیں "اللہ میرے بچوں کی خیر" وہاں دادا ابو اپنی زندگی میں مگن تھے۔ یہ نہیں کہ انہیں کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ ان کی طبیعت میں بس ایک خاص قسم کا سکون تھا۔ کبھی کسی ایسی کی خواہش نہ رکھنے کا سکون جو ان کی ضرورت نہیں تھی اور ایسی کوئی چیز ہی نہ تھی جس کے بغیر وہ اپنی زندگی کو نامکمل محسوس کرتے۔ ایک پرسکون سمندر کی طرح جو زمانے کے تمام گرم و سرد دیکھ چکا ہو، وہ اپنی دنیا میں مگن تھے کہ ان کی ضرورت انہیں میسر تھی۔ اور ان کی ضرورت کیا تھی؟ صبح دو چپڑی روٹیوں کے ساتھ دہی کا پیالہ اور لسی، دوپہر کو دو روٹیاں سالن اور لسی کے ساتھ اور شام کو دو روٹیاں سالن کے ساتھ اور ایک پیالہ دودھ کا سونے سے پہلے۔ یہ تمام عمر کا معمول تھا۔ کہا کرتے تھے بیٹا جب کھانا کھا لیا تو پھر کوئی سونے کی بنی چیز بھی کھانے کو دے اسے نہیں لینا چاہئے۔ باقی کسی دنیاوی چیز کی انہیں ہوس ہی نہ تھی۔ نہ زمین کی نہ کپڑے کی نہ چوہدراہٹ کی۔ جن دنوں ریاست بہاولپور میں زمینوں کی تقسیم جاری تھی، ان کے بڑے بہنوئی نے کئی دفعہ اصرار سے کہا "بھائی تھوڑی سی زمین لے لو۔ صرف آٹھ آنے مربع کو مل رہی ہے۔" اُن کا جواب یہی رہا "میں نے کیا کرنا ہے اتنی زمین کو؟" آخری عمر میں جب ان کا لاڈلا پوتا یعنی میں شکوہ کرتا تو کہ دیتے "بس پتر غلطی ہوگئی"۔
ہم دادا پوتا کا تعلق بھی عجیب تھا۔ دادا ابا نے اگر اپنی اماں کے بعد کسی سے خوف یا کسی کا لحاظ رکھا تو وہ میرے ابا جان تھے (اللہ غریق رحمت کرے)۔ شائد اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ والد صاحب خلد آشیانی اپنی دادی کے چہیتے تھے اور وہ کہا کرتی تھیں کہ جس نے میرے اس پوتے کو کچھ کہا وہ میرا دشمن ہے۔ راجپوتی خون کی گرمی بھی والد صاحب کو ذرا فراخ دلی سے عطا کی گئی اوپر سے دادی کے چہیتے سو دونوں باپ بیٹے میں پیار اور رعب کا عجیب سا رشتہ تھا جس میں رعب بیٹے کا باپ پر تھا۔ پھر ہمارے والد صاحب خاندان کے پہلے خواندہ شخص بھی بنے سو ان کے رعب کو چار چاند لگ گئے۔ والد صاحب کی شخصیت اپنے خاندان میں اس قدر بھاری بھرکم تھی کہ ان کی موجودی میں اور کسی کی طرف دھیان ہی نہ جاسکتا تھا۔ دادا ابا سے لیکر ایک نوزائیدہ بچے تک کو یہ علم تھا کہ ان کے آگے پر نہیں مارنا۔ سو اگرچہ میں پہلوٹھی کی اولاد تھا لیکن ایک تناور شجر کے تلے اگنے والے ننھے منے بوٹے کی طرح ہم پر دھیان ذرا کم کم ہی جاتا تھا۔ زندگی کے اٹھارہ برس تک میرا اور دادا ابو کا تعلق بس ایسے رہا کہ ہم دونوں کو معلوم تھا کہ دوسرا بھی موجود ہے۔ پھر ایف ایس سی کے بعد یونیورسٹی کے داخلے کھلنے میں دیر تھی اور دادا ابو ان دنوں ہمارے یہاں قیام کے لئے آگئے۔ وہ چند ماہ جب ہم دونوں دادا پوتا اکٹھے رہے تو یکدم ایکدوسرے کے لئے بہت اہم ہو گئے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں نے ان سے گونگے پہلوان کے متعلق پوچھا تھا۔ بس اس بات سے دادا ابو نے یاد رفتہ کے اوراق جو کھولنا شروع کئےتو اگلے چند ماہ گزرنے تک ہم دونوں گہرے دوست بن چکے تھے۔ میں فارغ تھا اور دادا ابو کےپاس ایک سو برس کی زندگی اور اس کے تجربات تھے۔ میں سُنتا رہا اور وہ سُناتے رہے۔ پھر بعد کے دس برس میں نے خاندان میں سب سے چہیتے پوتے کے طور پر گزارے۔ اتنا پیار بڑھا دادا ابو کو مجھ سے کہ انہوں نے میری خاطر خاندان کے ہٹلر یعنی ہمارے والد گرامی تک سے ٹکر لے لی۔ یہ بھی ایک خاصا دلچسپ قصہ ہے۔
انجنیئرنگ یونیورسٹی سے چھٹیوں پر میں گھر آیا ہوا تھا۔ سردیوں کے دن تھے اور دادا ابو ہمارے یہاں آئے ہوئے تھے۔ میں کسی کام سے ایک ویلڈنگ والے کے پاس گیا۔ اس نے نہایت رکھائی سے کسی بات کا جواب دیا۔ مجھے غصہ آیا لیکن کیونکہ ویلڈنگ والا والد صاحب کا واقف تھا سو غصہ میں کھولتا واپس آگیا۔ گھر آکر والد صاحب کو بتایا کہ آپ کے اس واقف کار نے مجھ سے نامناسب بات کی ہے اور آپ کے لحاظ میں میں واپس آگیا ہوں۔ والد صاحب اسی وقت اٹھے اور مجھے ساتھ لیکر اس ویلڈنگ والے کے پاس چلے گئے۔ وہ صاحب والد صاحب کے سامنے سارے وقوعہ سے ہی مُکر گئے۔ اب اس کے اس طرح صاف مُکرنے پر مجھے اتنا غصہ آیا کہ میں کانپنے لگ پڑا۔ والد صاحب نے سرزنش کی "اپنے آپ کو سنبھالو" اور ساتھ ہی گال پر ایک تھپڑ رسید کردیا۔ لوجی ہم بجائے ویلڈنگ والے کو کچھ کہنے کے بھرے بازار میں تھپڑ کھا کر مزید غصے میںکھولتے واپس آگئے۔ آکر دادا ابو کو سارا قصہ سُنایا۔ دادا ابو خاموش رہے۔ والد صاحب رات کو عموماَ دیر سے گھر آیا کرتے تھے اور دادا ابو عشاﺀ کے فوراَ بعد سو جایا کرتے تھے۔ سو جب تک والد صاحب آئے دادا ابو سو چُکے تھے۔ صُبح ہوئی تو نماز پڑھنے کے بعد مجھے پوچھنے لگے "تمہارا باپ کیا کررہا ہے؟" میں گیا اور آکر بتایا کہ صحن میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں۔ کہنے لگے "آؤ چلیں"۔ میں آنے والے واقعات سے بے خبر ان کے ساتھ چل دیا۔ دادا ابو لاٹھی ٹیکتے صحن میں پہنچے اور پہنچتے ہی غصہ سے بولے "کیوں میاں کس خوشی میں کل تم نے اسے تھپڑ مارا تھا؟" والد صاحب سمیت سارے گھر کو سانپ سونگھ گیا۔ کئی دہائیوں میں پہلی بار دادا ابو نے والد صاحب کو اس انداز میں مخاطب کیا تھا۔ لیکن یہ تو صرف آغاز تھا۔ والد صاحب سر نیچا کئے اخبار پڑھتے رہے اور پھر جو دادا ابو گرجنا شروع ہوئے تو بس۔ سب حیران اور میں دل ہی دل میں دادا ابو کو ہلا شیری دے رہا تھا کہ تھوڑا سا اور تھوڑا سا اور۔ پانچ دس منٹ خوب گرجنے کے بعد دادا ابو نے للکارا "آئندہ اس کو ہاتھ لگاؤ گے؟" والد صاحب نے سر نیچا کئے ہی نفی میں سر ہلا دیا۔ اس پر دادا ابو نے مجھے کہا آؤ چلیں اور دادا ابو لاٹھی ٹیکتے آگے آگے اور میں اپنے دل میں خوشی سے چھلانگیں لگاتا قلقاریاں مارتا ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ بس اس دن کے بعد میری حیثیت خاندان میں سب سے چہیتے فرد کی ہوگئی۔ والد صاحب خلد آشیانی نے بھی اپنے وعدہ کی ایسی لاج رکھی کہ اس کے بعد اگر میں نے ان کی کسی بات کی پرزور اور کبھی گستاخانہ مخالفت بھی کی تو بھی انہوں نے مجھے کبھی کچھ نہ کہا۔ دادا ابو بھی اس کے بعد جب ملتے تو یہ سوال ضرور کرتے، "پھر تو اس نے تمہیں نہیں مارا؟" اور میرے نفی میں جواب سے ہی ان کی تسلی ہوتی۔ کئی بار جب وہ والد صاحب سے ناراض ہوتے تو مجھ اپنی سوچوں میں شریک کرتے اور اس دوران جب کبھی والد صاحب کو صلوٰاتیں سُناتے ہوئے خیال آتا تو مجھے کہتے "تجھے بُرا تو نہیں لگ رہا میں تیرے باپ کو بُرا بھلا کہہ رہا ہوں؟" میں جواباَ کہنا "مجھے کیوں بُرا لگے گا؟ آپ کے بیٹے وہ پہلے ہیں۔ جی بھر کر کوسنے دیں میری طرف سے" اور دادا ابو خوش ہو کر پھر سے شروع ہو جاتے۔
بدقسمتی یہ رہی کہ جب میں نے امریکہ آنا تھا تو دادا ابا چچاؤں سے ناراض ہوکر اپنے بھانجے کے یہاں مقیم تھے۔ مجھے اس بات کا علم گاؤں پہنچنے پر ہوا۔ میرا معمول ایسا بنا تھا کہ میں ایک رات کو شدید دھُند میں گاؤں پہنچا، دوپہر کو میں نے واپس لاہور آنا تھا اور اگلے روز رات کو میری امریکہ کی فلائٹ تھی۔ سو اس رات کو جب میں پہنچا تو دادا ابو کے سونے کا وقت ہوئے بھی مدت ہو چُکی تھی۔ صبح ناشتے کے بعد میری روانگی تھی۔ اتنا وقت ہی نہ تھا کہ انہیں منا کر گھر لاسکوں۔ انہیں ملنے گیا تو وہ بس ساری دُنیا سے ناراض بیٹھے رہے۔ چچا نے کہا کہ آپ نے پہچانا ہے نا کہ کون آیا ہے؟ انہوں نے بے رُخی سے کہا ہاں پتہ ہے بشیر کا بیٹا ہے۔ ان کا خیال شائد یہ تھا کہ میں چچا کی طرفداری کرنے آیا ہوں۔ میں نے بتایا کہ میں اگلے روز امریکہ جارہا ہوں۔ انہوں نے دُعا دی اور میں بوجھل دل سے واپس لاہور آگیا۔ میرے آنے کے بعد دادا ابو اتنے بے قرار ہوئے کہ بغیر کسی کے منائے گھر آگئے۔ پھر میرے چچا زاد نے بتایا کہ سارا دن تمہارے لئے دعائیں کرتے رہے ہیں۔ میں امریکہ آگیا۔ دادا ابو اسی طرح زندگی کے شام و سحر گزارتے رہے۔ پھر ایک روز اسی طرح لڑ کر اپنے دوسرے بھانجے کے یہاں چلے گئے۔ وہاں نماز کے لئے کھڑے ہونے لگے تو گر پڑے۔ قریباَ ایک سو دس برس کی عمر میں پکے فرش پر گرے تو ٹانگ میں چوٹ آگئی۔ ٹانگ کی چوٹ تو شائد معمولی تھی لیکن دادا ابو کو زندگی بھر کبھی کسی کی محتاجی کی عادت ہی نہ تھی۔ اب جو خود سے ہلنے سے معذور ہوئے تو اس حالت سے سمجھوتہ نہ کر سکے۔ وہ عزم جو جوانوں سے بازو پکڑتے وقت انہیں ہارنے نہیں دیتا تھا، ٹانگ کی ایک غیر متوقع چوٹ سے آنے والی وقتی محتاجی پر ان کا ساتھ چھوڑ گیا۔ اور بس پھر آہستہ آہستہ وہ گھُلتے چلے گئے اور اکتوبر کی ایک شام مٹی تلے جا سوئے۔ ان کی وفات کے سوا دو ماہ بعد جب میں پاکستان گیا تو والد صاحب شدید علیل تھے۔ ایک روز سب سے علیحدگی میں مجھے وصایا کیں اور کہنے لگے "بیٹا زندگی میں کبھی کسی مشکل میں گھبرانا نہیں۔ تیرے دادا نے تیرے لئے بہت دعائیں کی ہیں۔" آج اس داد کی پوتیاں جہاز کی فرسٹ کلاس میں بیٹھی سفر کر رہی تھیں۔
تحریر سے آپ کی اپنے دادا سے اٹیچمنٹ اور محبت کا پتا لگتا ہے
پھر بھی شائد اس محبت کا درست اظہار نا ہو سکا ہو
بزرگ اللہ تعالٰی کی بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں
مجھے تو اپنے بزرگوں میں امی ابو ہی میسر آئے
لیکن بڑا بدنصیب ہوں، انکی قدر کرنا مقدر میں نہیں
اپنے دادا کے بارے میں سنا ہے کہ بڑے اچھے انسان تھے
کبھی دیکھ نہیں سکا اس لئے ان سے نا مل سکنے کا بڑا قلق ہے
بہت جذباتی تحریر ہے
آپ خوش قسمت ہیں کہ دادا کی قربت ملی۔ میرے دادا چھوٹا سا تھا فوت ہوگئے ابا جی آخری اولاد تھے سو یہ قربتیں تایاؤں کی اولادوں کے نصیب میں آئیں۔ ابو کبھی کبھار ان کی زندگی کے ایک دو واقعات سنا دیا کرتے ہیں ورنہ بہت کم جانتا ہو ان کی زندگی کے بارے میں۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا لکھوں
تعریف کا ہر لفظ اس تحریر کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔۔۔۔
بہت ہی زبردست
کسی بھی بلاگ پر آج تک اس سے اچھی تحریر پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا
اس وقت اتنا جذباتی ہوں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا لکھوں۔۔۔
نشیب و فراز دنیاوی زندگی کا حصہ ہیں ۔ مسئلہ صرف یاد داشت کا ہے
ماں باپ اور بزرگوں کی نیکیاں اولادوں کے کام آتی ہیں اور اولاد کے نیک اعمال ان بزرگوں کے ،کیا دور تھا اور کیا سونے جیسے لوگ اب تو خال خال ہی رہ گئے ہیں اللہ ہمیں بھی اپنے بزرگوں جیسا اچھا بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین،
جعفر جزباتی زیادہ ہے پر دل کا برا نہیں ہے اس کا تو مجھے پہلے ہی سے اندازا ہے
ڈفر – پریشان مت ہوں۔ ہر وہ قدم جو آپ اچھائی کی طرف اُٹھاتے ہیں آپکے والدین کے لئے رحمت بنتا ہے۔ یہ تو بس ایک جہد مسلسل ہے جو آخری سانس تک جاری رہتی ہے۔ بس چند ماہ پہلے دادا ابو زیادہ یاد آئے تو یہ لکھا تھا محفل پر۔ پھر تھوڑی سی ترمیم کے بعد یہاں بھی ڈال دیا۔ یادوںکا ایک ہجوم ہے جس میں سے چند آپ دوستوں کے ساتھ بانٹ لیں۔
دوست – میں آپ کا درد سمجھتا ہوں بھائی۔ جن دنوں والد صاحب علیل تھے میں بھی یہ دُعا مانگا کرتا تھا کہ “یا الٰہی میں نے اپنے دادا کو خوب انجوائے کیا ہے، میری اولاد کو بھی یہ موقع نصیب فرما”۔ لیکن اللہ تعالٰی کو جو منظور ہوتا ہے وہی بہتر ہوتا ہے۔
جعفر – پسندیدگی کا بہت شکریہ میرے بھائی۔
افتخار انکل – آپ نے بالکل درست فرمایا۔ بس ہر وقت اللہ کریم کا شکر واجب ہے۔
عبداللہ۔ بالکل درست بھیا۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر دادا ابو کی چند ایک عادات کو ہی اپنا سکوں تو کیا ہو لیکن بہت مشکل ہے اتنا بے نیاز ہوجانا اور اتنی صاف دلی کہ اندر باہر ایک ہی ہو۔
واللہ کيا تحرير ہے ميں نے تو اتنے اطمينان سے پڑھی اور سارے خاکے بھی اپنے ذہن ميں بنا کر؛ بيچ ميں خديجہ (ہماری والی ) کچھ فرمائش (جو کہ وہ ہر پانچ منٹ بعد کرتی ہے) ڈالنے آئی تو ڈانٹ کر بگھايا کہ مزا کرکرا نہ ہو جائے مجھے تو اپنے دادا ابو ياد آ گئے اور ہاں آپ تو ميرے ذات فيلو نکلے پر ايک بات کہ آپکی تحريروں سے تو آپ انتہائی بآدب اورلحاظ رکھنے والے معلوم ہوتے ہيں يہ باتيں تو راجپوتوں کو زيب نہيں ديتيں
اسماء بہنا بہت شکریہ پسندیدگی کا اور بہت خوشی ہوئی کہ ہم آپ ایک ہی شجر کی شاخیں ہیں۔ ویسے اس کا پتہ تو آپ کی تحاریر میںپائی جانے والی برجستگی و بے ساختگی اور ہر فقرے سے موسلا دھار برستی ذہانت دے رہی تھی۔
جہاں تک باادب اور بالحاظ ہونے کی بات ہے تو وجہ اس کی شاید یہ رہی ہو کہ اماں اور ابا دونوں ہی مزاجا پکے راجپوت تھے اور ہم پہلوٹھی کی اولاد۔ سو یہ ادب اور لحاظ تمام تر راجپوتی طمطراق کے ساتھ ہمارے رگ و پے میں ٹھونسا گیا تھا۔ خیر اب تو عادت ہو گئی ہے اور فدوی کوشش کرتا ہے کہ حق بات کہے لیکن ادب اور لحاظ کے ساتھ۔
خوش نصیب ہوتے ہیں وہ بچّے جن کو دادا ، دادی ، نا نا ، نانی کی محبت ملے اور اُن سے سیکھنے کا موقع ملے ۔۔ مگر میں اُن میں سے نہیں ۔، میرے دادا کو بیٹی پسند نہیں تھی جب کہ میں 3 بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں ایسے بھی دادا ہوتے ہیں
حجاب بہنا بس کسی کو کچھ مل جاتا ہے کسی کو کچھ۔ بس جو مل جائے اس پر شُکر ادا کرنا چاہئے۔ دادا ابو واقعی میری زندگی کا ایک بہت بڑا خزانہ تھے اور اب بھی ان کی یاد سے آنکھوںمیں نمی آجاتی ہے۔
ہمیںآج ہی یہ تحریر پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ اس تحریر سےوابستگی ہماری آنکھون کی نمی بتا رہی ہے۔ خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔
افضل بھائی – آپ کی محبتوں کا بہت شکریہ۔