ہمارے بچپن کے بارے میں جب بھی بات ہو تو ہمارا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے “اللہ کا شکر ہے کہ بیت گیا اور اب دوبارہ کبھی نہیں آئے گا”۔ آج آپ نے بچپن کی یادوں کو کھنگالنے کی فرمائش کی تو چند ایک نسبتاً بے ضرر سے واقعات جو یاد آتے ہیں آپ کی بصارتوں کی نذر کئے دیتےہیں۔
1۔ سب سے پہلے تو آپ کو بتائیں اپنے پر کئے جانے والے ایک ظلم کی داستان۔ ہمارے پھوپھا کے پاس ان دنوں کار ہوا کرتی تھی اور سن ہمارا چار برس کا تھا۔ ایک روز وہ ہمارے یہاں آئے۔ جب وہ چلے گئے تو مجھ معصوم نے اپنے والدین سے پوچھا “انکل نے کار کیسے لی؟” اللہ ہمارے والدین پر اپنی رحمتیں نازل کرے، دونوں نے جھوٹ بولنے کا نیا ریکارڈ رقم کرتے ہوئے کہا “انہوں نے پڑھا اور انہیں کار مل گئی” (انکل موصوف ٹھیکیدار تھے اور ان کی کار کا پڑھائی سے کوئی تعلق نہیں تھا)۔ معصوم بچے نے جوش میں کہا “تو پھر میں بھی پڑھوں گا”۔ خلد آشیانی والد صاحب نے اس پر ہماری والدہ کو کہا “اسے صبح سکول داخل کروادیں”۔ اور بس 1980 میں جو کار حاصل کرنے کی تگ و دو شروع ہوئی تو پھروہ کار مئی 2005 میں ملی۔ ہم اس واقعہ کو بچوں کے استحصال کی مثال کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
2۔ ہمارا اولین سکول جہاں ہم نے درجہ چہارم تک اکتساب علم کیا گھر سے کوئی دو تین سو میٹر کی دوری پر تھا۔ راستے میں ایک سڑک اور ایک بسوں کا اڈا پڑتا تھا جنہیں پار کرنے کے بعد ہم اپنے محلہ میں پہنچ جاتے تھے۔ ہم اور ہمارے ہمسائیوں کی بیٹی ہم جماعت تھے اور عموماً اکٹھے سکول سے واپس آیا کرتے تھے۔ ان میں بدقسمتی سے اس وقت لڑکیوں والی تمام عادات موجود تھیں اور ہم بھی ان دنوں کافی مہم جو ہوا کرتے تھے۔ ایک دفعہ غالباً دوسری جماعت کا واقعہ ہے ہم سکول سے واپس آرہے تھے۔ سڑک پار کرنے لگے تو ایک گاڑی قریب آرہی تھی۔ ہم نے رعب ڈالنے کے لئے اپنی ہم جولی کو جن کا نام ارم تھا کہا “دیکھنا ابھی اس گاڑی سے پہلے سڑک پار کر جاتا ہوں”۔ اور پھر دوڑ لگا دی۔ گاڑی والے پر جو بیتی سو بیتی لیکن ان انکل کی خونخوار آنکھیں آج بھی یاد ہیں جن سے انہوں نے بمشکل تمام ہمیں “ناگہانی وفات” سے بچانے کے بعد ہمیں دیکھا تھا۔ نتیجہ ۔۔۔ اس کے بعد ہمیشہ سڑک دھیان سے ادھر اُدھر دیکھ کر پار کی ۔ تھینک یو انکل۔
3۔ غالباً تیسری جماعت کا واقعہ ہے۔ ابا کا سکوٹر گھر کھڑا تھا اور اس کے ساتھ ہی بلب کا سوئچ تھا جو ہمارے کھیل کے دوران گیند لگنے سے تھوڑا اندر کو پچک گیاتھا۔ اماں ہمسائیوں کے یہاں گئی ہوئی تھیں۔ ٹھکائی سے بچنے کے لئے سوچا کہ چلو اسے اڑیس لگا کر باہر نکال دیتے ہیں۔ اوزار اور کوئی ہاتھ نہیں آیا تو اباجان کی مونچھیں تراشنے والی قینچی پکڑ لی۔ سکوٹر پر چڑھے اور قینچی بٹن کے اندر گُھسا کر بٹن کو باہر نکالنے لگے۔ بس اتنا یاد ہے کہ زور سے ایک جھٹکا لگا تھا اور ہم سکوٹر سے نیچے آن پڑے۔ شائد سکوٹر کے ربڑ کے ٹائروں کی وجہ سے اس روز ہم مرحوم ہونے سے بچ گئے تھے کہ ہم ہی پہلوٹھی کی اولاد ہیں اور گھر میں اور کوئی بڑا موجود نہیں تھا۔
4۔ یہ بھی تیسری جماعت کا ہی واقعہ ہے۔ ان دنوں ہمیں اپنی رفتار کا بڑا زعم تھا۔ سکول سے واپسی پر ہم نے ایک “مرونڈوں” کی ریڑھی دیکھی جو ایک باباجی کی تھی۔ ہم نے اپنی تیز رفتاری ثابت کرنے کے لئے ارم کو کہا “ابھی دیکھنا میں ان باباجی کا مرونڈا اٹھا کر بھاگ جاؤں گا اور یہ مجھے نہیں پکڑ سکیں گے”۔ارم نے ایک میسنی کی خاموشی اختیار کئے رکھی۔ ہم باباجی کی ریڑھی کے پاس پہنچے، جھپٹ کر ایک مرونڈا اٹھایا اور اُڑن چھُو ہو لئے۔ باباجی تو ہمیں نہ پکڑ سکے لیکن ارم نے پورے التزام کے ساتھ یہ قصہ ہماری والدہ کو آسُنایا۔ اور پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔
5۔ تیسری یا چوتھی جماعت کا واقعہ ہے۔ ہمیں گنتی اور کرنسی سے تو واقفیت اچھی خاصی تھی لیکن چار آنے، آٹھ آنے وغیرہ سے نابلد تھے۔ ہمارے ذمہ ایک جوتے کو مرمت کروانا ٹھہرا۔ موچی کے پاس گئے، اس نے جوتا مرمت کیا۔ ہم نے پوچھا کے روپے؟ انہوں نے کہا آٹھ آنے۔ اب ہمارے پاس ایک روپیہ تھا سو گھبرا گئے کہ یا اللہ میرے پاس صرف ایک روپیہ ہے اور یہ “آٹھ” آنے مانگ رہا ہے۔ لجاجت سے عرض کی”ایک روپیہ لے لو گے اس کا؟” موچی صاحب نے تاڑ لیا کہ “چوچا” ناواقف ہے۔ بے نیازی سے کہنے لگے “جیسے تمہاری مرضی”۔ ہم نے ایک روپیہ انہیں پکڑایا اور احساس شکرگزاری سے لبریز گھر پہنچے۔ گھروالوں نے پوچھا “جوتا مرمت کروا آئے”۔ جواب دیا “جی ہاں”۔ پوچھا “کتنے دام میں؟” ہم نے فخریہ سارا واقعہ بتا دیا۔ بس پھر اس دن کے بعد سے آٹھ آنے کا حساب بھی ازبر ہو گیا۔
پوری داستان امیر حمزہ لکھ دی ہے آپ نے
ایک واقعہ کے مطالبے پر
خرم صاحب ۔۔ کافی قلندرانہ بچپن گزرا ہے آپ کا۔۔ کار والا استحصال تو واقعی ایک المیہ بن چکا ہے۔۔ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ عالمی۔
ایک واقعہ کی بجائے پوری داستان امیر حمزہ لکھ دی آپ نے
اور یہ ارم کا اتنا تذکرہ کیوں ؟؟؟؟
ہیں جی۔۔۔
ہاہاہاہاہا
آپ تو جی بہادری کے بڑے قصے ساتھ لئے پھر رہے ہیں
تھورا ٹائم لگائیں اور اس کو پالش کر کے چھپوا دیں
نشان حیدر سیریز تو کتابوں سے غائب ہو گئی لیکن
نئی نسل کے بہت کام آنے والے ہیں یہ بہادری کے واقعات
خرم ، خرم دے سامنے آ گیا
میرا نام بھی خرم ہے
سوچا تھا بچپن بھی ایک جیسا ہو گا لیکن ۔ میں تو بچپن میں اپنے آپ کو سائنس دان سمجھتا تھا بجلی والا ایک تجربہ ہم سے بھی ہو گزرا ہے
بہت مزہ آیا پڑھ کر بہت شکریہ خرم بھائی
ہاہاہاہاہاہا
بڑے درویش صفت تھے آپ بچپن میں۔ لیکن ہر مہم میں آپ کے ساتھ بانڈ گرل لازمی ہوتی تھی یہ کیا چکر ہے۔
زبردست جناب
بہت ہنسی آئی پڑھ کے، لیکن یہ بتائیں ، ارم پر امیپریشن ڈالنے کا کوئی فائدہ ہوا کہ نہیں؟
مُجھے بہُت مزہ آيا آپ کے بچپن کے زبردست قِصّے پڑھ کر ليکِن باقی سب بہن بھائيوں کی طرح ميں بھی اِرم کے بچپن کے بعد يہ جاننا چاہتی ہُوں کہ اب کيا حالات ہيں؟
يہ بتائيں ہماری بھابی کا نام ارم ہے يا کچہ اور
یاسر بھائی، خرم بھائی، شاہدہ بہنا سب سے پہلے تو اس ناچیز کے بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔
(اب سب مل کر دُعا کریں کہ وہ یہ والا جواب نہ پڑھ لیں)
جہاں تک ارم کی بات ہے تو بچپن کے ہمجولی تو تمام عمر یاد رہتے ہیں۔ ارم کا اتنا تذکرہ اس لئے کہ ایک تو ہمسائیگی تھی اور پھر ہم جماعت بھی۔ سو چار برس صبح و شام کا ساتھ رہا۔ پنجم کے بعد ان کے والدین نے انہیں ایک درجہ آگے کروادیا اور پھر رفتہ رفتہ وہ بے تکلفی بھی ختم ہو گئی جو بچپن میںہوا کرتی تھی لیکن بچپن کی یادوںکا وہ ایک لازم جزو ہیں۔
ایک اور محترمہ تھیں جن کے ساتھ ہماری خوب چھنتی تھی۔ ہمارے والد صاحب کے بہترین دوست کی دختر تھیں۔ ہم جماعتی کا شرف تو ہمیں ان سے کبھی نہ ہوا لیکن ویسے اچھی دوستی تھی اور بچپن کی اکثر تصاویر میں ہم اکٹھے پائے جاتے تھے۔ ایف ایس سی کے بعد ان سے بھی ملاقات کا اتفاق نہ ہوسکا لیکن ان کے معاملہ میں ہم اتنے خوش قسمت ثابت نہ ہوئے کہ اب ہمارے گھر میں احکامات کا صدور ان ہی کی ذات بابرکات سے ہوتا ہے۔
زبردست بات ہے خُرّم يعنی ہمم
اور ميں دُعا کر رہی ہُوں کہ کاش بھابھی پڑھ ہی ليں
خواتین کی توجہ کے لئے (خصوصا بھابھی کے لئے):
ہوشیار باش: جو مرد حضرات اپنی بیویوں سے ڈرنے کی اداکاری کرتے ہیں وہ دراصل نہایت اعلی درجے کے میسنے ہوتے ہیں۔ ان پر کڑی نگاہ رکھی جائے، یعنی وہی سونے کا نوالہ اور شیر والی نگاہ۔۔۔
:grin: :grin:
شاہدہ بہنا ۔۔۔ ایسی کیا خطا کی ہم نے جو آپ ایسا چاہ رہی ہیں؟
جعفر – تمہارے لئے تو یہی شعرکہوں گا
دیکھا جو تیر کھا کے “کمینہ” گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
آپ کے شکریہ ادا کرنے سے پتہ چلا کہ آپ کے بلاگ پر میرا پہلا تبصرہ ہے
ارے پرشان ہونے کی بات نہیں میں تو تبصرہ اس لیے نہیں کرتا کہیں اچھی خاصی تحریر کا حشر نشر نا ہو جائے
جعفر نے بالکل درست کہا کہ بیوی سے ڈرنے کی صرف اداکاری ہوتی ہے۔
راشد نے بھی درست کہا قلندرانہ بچپن ہے۔ میں ہمیشہ وہ الٹی حرکات کرتا تھا جو کہ ناقابل اشاعت ہے۔
بی ٹی بھائی – آپ کی حرکات کی سنگینی کا ادراک کرنے کے لئے تو تخیل کے گھوڑے کو زیادہ دور دوڑنے کی حاجت ہی نہیں۔ نام ہی کافی ہے