Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • یوم آزادی

    آج پھر وہی تاریخ ہے۔  باسٹھ برس قبل اس تاریخ کو مسلمانان ہند کو ایک سرزمین عطا ہوئی تھی۔  ایک وعدہ کیا تھا ہم نے اپنے آپ سے اور ایکدوسرے سے کہ مل کر ہم گہوارہ بنائیں گے اس ارض پاک کو خوشحالی کا، ترقی کا، بھائی چارے کا، اخوت و محبت کا، انصاف کا، رواداری کا، علم کا، آگہی کا، حلم کا، برداشت کا، خودداری کا، وفاشعاری کا۔ ایک دعوٰی کیا تھا کہ دکھا دیں گے دنیا کو کہ ایک قوم نہ صرف مذہب کی بنا پر بن سکتی ہے بلکہ اتنی وسیع ظرف بھی ہوسکتی ہے کہ قومیت کے تقاضوں اور فوائد میں غیر مذاہب کو بھی برابر کا شریک کرے۔ آج باسٹھ برس گزرے اس دعوے کو اس وعدے کو اور ہم سب حیران و پریشاں سرگرداں ہیں ان وعدوں کی تعبیر تلاش کرنے میں ان دعوں کی سچائی ثابت کرنے میں جو آج سے باسٹھ برس قبل کئے گئے تھے۔ یہ کیا ہوا کہ وہ قوم جسے ہر منزل ہر گام پر سجدہ شکر ادا کرنا تھا پہلے پڑاؤ پر ہی راستہ بھٹک گئی؟  ایک پاکستانی قوم بننے کا خواب چھوڑ کر سندھی، بنگالی، پنجابی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر کی تفریق میں بٹ گئی۔ محبتوں کے جس کھیت سے پھول چُننے کی آرزو تھی، اسے نفرتوں کی آندھی نے جھُلسا ڈالا۔ آج یہ ارض پاک زخم زخم ہے۔ آدھا حصہ گنوا دینے کے بعد بھی ہمارا ترقئی معکوس کا یہ سفر تھما نہیں بلکہ ہر لمحہ گزرنے کے ساتھ تیز تر ہوتا جارہاہے۔ رشوت ستانی، اقرباء پروری، جھوٹ، دھوکا دہی، ریاکاری، تعصب، نفرت، استحصال، جہالت، ہوسِ زر و اقتدار، کاہلی ایسی اوصاف ہماری قومی عادات کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں اصلاح کیسے ہو؟ امید کی کرن کہاں سے پھوٹے؟ کوئی مسیحا کیسے آئے؟

    میرے پیارے ہم وطنو، یہ ارض پاک ایک احسان ہے، ایک امانت ہے ہمارے پاس۔ یہ ہماری جاگیر نہیں نہ ہی ہم اس کا استحقاق رکھتے ہیں۔ یہ تو عطا میرے اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔ اگر ہم نے اس امانت کی پاسداری نہ کی، اس احسان کی قدر نہ کی تو ڈر ہے کہ کہیں اس سے محروم نہ کردئیے جائیں۔ ناشکری ہی تو وہ گناہ تھا کہ جس کی پاداش میں بنی اسرائیل پر ہمیشہ کی ذلت مسلط کردی گئی۔ آئیے آج کے روز ہم عہد کریں۔عہد کریں اپنے آپ سے اس ارض پاک سے کہ ہم ان ناشکریوں سے توبہ کریں گے۔ عہد کریں کہ ہم میں سے ہر ایک کم از کم ایک ایسی عادت ضرور چھوڑدے گا ہمیشہ کے لئے جس سےپاکستان کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ وعدہ کریں کہ ہم پاکستان کی فلاح کی طرف ایک قدم بڑھائیں گے۔ اپنی ایک ایسی عادت چھوڑیں گے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے۔ صرف ایک عادت۔ کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ آج سے ہم:

    کسی رشوت خور کے یہاں سے کچھ کھائیں گے نہ کچھ پئیں گے۔

    اپنے ذمہ کا کام خوش اسلوبی سے ادا کریں گے۔

    کسی علاقائی و لسانی و فرقہ وارانہ تعصب سے اپنے آپ کو آلودہ نہیں کریں گے۔

    پاکستان میں بسنے والے ہر انسان کو وہ عزت دیں گے جس کا ہر انسان مستحق ہے۔

    کسی فرقے، برادری، خاندان، پارٹی کی بجائے اپنی وفاداری صرف اور صرف پاکستان سے وابستہ کریں گے۔

    کسی دوسرے سے آنکھیں چار ہونے پر اسے مسکرا کر دیکھیں گے۔

    اپنے گھر والوں کو کوئی غلط کام کرنے پر ٹوکیں گے۔

    بھیڑ چال میں شامل ہونے کی بجائے صرف اور صرف صحیح کام کرنے کی کوشش کریں گے۔

    ٹریفک کے اشاروں کی پابندی کریں گے۔

    صرف حق بات کہیں گے کسی بھی تعصب یا وابستگی سے بالاتر ہو کر۔

    اپنے عمل کو اپنے علم سے ہم آہنگ کریں گے۔

    آؤ میرے ساتھیو ان میں سے کوئی یا ان جیسا کوئی ایک عہد کریں اپنے آپ سے اپنے پاکستان سے۔ آؤ قدم بڑھائیں اس منزل کی جانب  جس کاخواب بھی اب ہماری آنکھوں سے دور ہوتا جارہا ہے۔ آؤ پاکستان کو ویسا بنائیں جیسا ہم چاہتے ہیں۔ آؤ قدم بڑھائیں، اس مٹی کا قرض چُکائیں۔

    آؤ سنواریں پاکستان


  • Thursday, August 13, 2009 at 20:20 | #1

    اگر آپ نے صرف پہلے ہی اصول پر عمل کرنا شروع کردیا تو پھر آپ بھوکے ہی رہ جائیں گے۔
    دراصل قوموں کی تربیت بچپن سے ہی ہوتی ہے۔ اگر ان اصولوں کی پاسداری کرانی ہے تو پھر سکولوں کے سسٹم کو ٹھیک کرنا پڑے گا۔

  • Friday, August 14, 2009 at 05:03 | #2

    آپ تو 62 سالہ پرانے ا“نے آپ سے کئے گئے وعدے کی بات کر رہے ہیں جبکہ ہم تو عالم ارواح میں اللہ سے کیا گیا وعدہ بھلائے بیٹھے ہیں

  • Friday, August 14, 2009 at 06:22 | #3

    جشنِ‌آزادی مبارک ہو!

  • Sunday, August 16, 2009 at 08:42 | #4

    خدا کرے میری ارض پاک پر اُترے
    وہ فصل گُل جسے اندیشئہ زوال نہ ہو
    خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کیلئے
    حیات جُرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

  • خرم
    Tuesday, August 18, 2009 at 15:30 | #5

    میرا پاکستان – ارے بھیا پہل تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔ میں نے تو انفرادی رویوں کی بابت بات کی تھی اور یہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے۔ خیر تصویر میں نقص نکالنا اور ان نقائص‌کو درست کرنا دو فرق باتیں ہیں۔ :-D
    ڈفر- یار وعدہ تو وعدہ ہے نا جب بھی کرو کسی سے بھی کرو۔ اور پاکستان کا وعدہ تو اللہ سے ہی کیا تھا نا۔
    الف نظامی – خاکسار کے بلاگ پر خوش آمدید۔ آپ کو بھی آزادی کا دن مبارک۔
    لالے کی جان – آمین میرے بھائی آمین۔

  • عبداللہ
    Saturday, August 22, 2009 at 12:03 | #6

    خرم بھائی معاف کیجیئے گا آپ کی یہ تحریر پہلے نظر سے نہ گزری کچھ مصروفیت تھی تو سرسری سا بلاگ پڑھتا تھا ،اچھی تحریر ہے اور انسان ارادہ کرے تو سب ممکن ہے جب ہمارا اللہ کہتا ہے کہ تم جس راستے کی جستجو کروگے میں اسے تمھارے لیئے آسان کردوں گا تو گل ہی مک جاتی ہے ویسے اگر آپ اسے اپنے منہ میاں مٹھو نا سمجھیں تو میں آپ کی کہی ہر بات پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں،اللہ آپکی خواہشات کو قبولیت عطا فرمائے آمین

  • خرم
    Monday, August 24, 2009 at 12:33 | #7

    عبداللہ میرے بھائی اللہ آپ کی عمر اور ارادوں میں مزید برکت دے۔ عمل والی بات کرکے تو آپ نے میرے متزلزل ارادوں اور ڈھلمل یقین کو ایک نئی توانائی اور زندگی دے دی۔ اللہ آپ کو اور مجھے ہم سب کو ہمارے نیک ارادوں پر استقامت عطافرمائے۔ آمین۔

تبصرہ کریں

:o) :-D :-( ;-) :-P =-O 8-) :-/ :-! C:-) :-(|) O-) :@ :-[ (B) (^) (P) (@) (O) (D) :-S ;-( (C) (&) :-$ (E) (~) :-* (I) (L) (8) (T) (G) (F) (*) (N) (Y) (U) (W)

TOP