منیر بھائی نے اپنے بلاگ پر ایک تحریر میں تصوف کے موضوع پر بات کی تھی۔
بلھے شاہ کا کلام تھا جو پڑھا گیا تھا۔ جس بند پر اعتراض ہوا اس کے معنی اہل نظر کے لئے کچھ اور تھے اوروں کے لئے کچھ اور۔ تصوف کے بارے میں بات کرنے میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ سُنی سُنائی پر یقین کئے جاتے ہیں۔ جن احباب کو کچھ ذاتی تجربہ ہوتا بھی ہے تو ان میں سے بھی اکثر نقالوں کے عمل کو اصل کے رد کی دلیل سمجھتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی معاملات میں اس رویہ کو نامعقولیت گردانا جائے گا دینی معاملات میں یہ روئیے معمولی ہیں۔ آج کی پڑھی لکھی نسل نے تو علم دین بھی انگریز کی "مذہب پر تحقیق" سے حاصل کیا ہے سو تصوف کے بارے میں بھی وہی درست مانا جاتا ہے جو کسی صاحب کی تحریر سے سند پائے۔ جہاں تک بات رہی اہل تصوف کی، ان کے روزمرہ کے مشاغل و معمولات میں اس بات کی گنجائش کم ہوتی ہے کہ کج بحثیوں میں وقت ضائع کریں اور ویسے بھی پھول کی موجودی کی سب سے بڑی دلیل اس کی خوشبو ہی ہوتی ہے۔ آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ معلومات کی فراوانی ہے۔ غلط یا صحیح اس سے سروکار نہیں لیکن ایک سیلاب ہے جو اُمڈا پڑتا ہے۔ اس سب میں سے سچ کو کھنگالنا بہت مشکل ہے اورتصوف کو توہمیشہ سے ہی "تعلیم یافتہ" اور "مقتدر" طبقات کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرا پڑا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو برس کے بعد بھی تصوف ایک حقیقت ہے اور دلوں میں اتر جانےکی تاثیر کا حامل۔
تصوف کی حقیقت کیا ہے، اس پر لوگ بہت کتابیں لکھتے ہیں لیکن اسی طرح جیسے میں انجنیئرنگ کی ڈگری رکھتے ہوئے علم طب پر ایک "مقالہ" لکھ ڈالوں۔ تصوف کیا ہے یہ تو کوئی وہ ہی جانے جو اس راہ کا مسافر ہو۔ جو صاحبان حال ہیں انہوں نے تو بات بتانے کی بہت کوشش کی لیکن بات کھُل کر ہی نہیں دیتی۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو روزمرہ میں رواج تو پا جاتی ہیں لیکن ان پر غور کرنے کی مہلت و فرصت نہیں ملتی۔ اقبال کا ایک شعر دوبارہ عرض کرتا ہوں
کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
ہم میں سے شائد ہی کوئی ہو جس نےجواب شکوہ کا یہ شعر پڑھا نہ ہو اور اسے سکول کالج کے کسی مضمون میں استعمال نہ کیا ہو۔ لیکن مقصد کیونکہ صرف نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے سو کبھی فرصت ہی نہیں ملتی کے اس کے معانی کو تلاشا جائےوگرنہ بات تو سامنے دھری ہے۔ مصرعہ اولٰی میں شرط ہے اور مصرعہ ثانی میں انعام۔ شرط کیا ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ سے مکمل وفا کی جائے۔ اطاعت اور حُب کامل ہو اسطرح کہ اپنا، جان، مال، رشتے ناتے، کوئی چیز نبی کریمﷺ سے زیادہ محبوب نہ ہو اور یہ نسبت زبانی نہ ہو بلکہ عملی ہو۔ حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی فرماتے ہیں کہ پیر کامل وہ کہ جس کی ایک سُنت بھی قضا نہ ہو۔ یہ شرط ہے مقرب بارگاہ ہونے کی اور اسی راہ پر چلنے کا نام ہے طریقت۔ جب انسان کی اطاعت نبی کریمﷺ سے اس قدر کامل ہوجائے کہ حُب نبیﷺ پر ہر چیز قربان ہو تو پھر بارگاہ الٰہی سے انعام عطا ہوتا ہے کہ "یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں"۔ اس مصرعہ پر دوبارہ غور کیجئے اور اس انعام کی ہمہ جہتی کا اندازہ کیجئے اور اس انعام کا وعدہ سچا ہے ۔
نماز ہم آپ بھی پڑھتے ہیں، نماز حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی پڑھتے تھے۔ ہمیں مچھر کاٹ جائے تو یہ بھول جاتا ہے کہ کتنی رکعات باقی ہیں اور ان کا تیر کسی طرح نہ نکل سکا تو حکم ہوا کہ جب نماز میں سجدے میں جائیں تو نکال لیا جائے۔ تصوف یا طریقت کا مقصد ابوبکر و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نماز پیدا کرنا ہے ان حضرات کی ظاہری نہیں، باطنی متابعت سے۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ جب مجھے عشق کی نماز اور فرض کی نماز میں فرق پتہ چلا تو میں نے چالیس برس کی نماز قضا پڑھی۔ زکوٰۃ دینا فرض ہے لیکن جب حضرت بایزید بسطامی سے حضرت امام شافعی کے شاگرد نے زکوٰۃ کے متعلق استفسار کیا تو فرمایا"زکوٰۃ دینا حرام ہے"۔ مزید کُرید پر فرمایا "اللہ کی مخلوق بھوک سے مرتی رہے اور تم سارا سال اتنا مال ذخیرہ کئے رکھو کہ اس پر زکوٰۃ فرض ہوجائے؟ " لیکن یہ باتیں ان اونچے مقامات والوں کے لئے ہیں جن کے یہ حوصلے ہیں۔ ہم آپ، اگر سیدھے سیدھے دین پر عمل ہی کرلیں، پانچ وقت ٹھونگے ہی لگا لیں تو اللہ کا بہت فضل ہےکہ گدھے پر ہاتھی کا بوجھ نہیں لادا جاتا۔
اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ تصوف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں کہاں تھا؟ اس کا جواب بھی سامنے دھرا ہے۔ تصوف نام ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیروی کرتےہوئے حُب نبیﷺ میں وہ درجہ کمال حاصل کرنے کا ہے جو انہیں حاصل تھا۔ اب صحابہ کرام کے دور میں تصوف کھوجنے کی کوشش کرنا کج بحثی ہی کہلا سکتی ہے۔ بہت سے معاملات ہیں جن کے متعلق سوال کئے جاتے ہیں اور ان کے جوابات دئیے جانے چاہئیں۔ اللہ درجات بلند فرمائے اعلٰی حضرت پیر نظیر احمد صاحب کے کہ جویان حق کے لئے باتیں کھول کر بیان فرما گئے۔ انشاء اللہ ماہ رمضان میں کوشش رہے گی کہ اعلٰی حضرت کے فرامین کو بلاگ پر پیش کر سکوں۔ انشاء اللہ ان کے مطالعہ سے اذہان میں تصوف کے بارے میں عموماً اور دین کے بارے میں خصوصاَ جو شکوک و سوالات ہیں ان کا ازالہ اور حل ملے گا۔
نوٹ:
گزشتہ چند ماہ بلاگ سے غیر معمولی غیرحاضری رہی۔ پہلے بچیاں پاکستان تھیں تو ان کی جُدائی تھی پھر جب واپس آئیں تو ایک ماہ کے لئے تمام گھر والوں کو اپنے ساتھ مشی گن لے آیا۔ ایک ماہ پھر ان کے سوا کسی چیز پر توجہ نہ دی اور پھر ایک ماہ سے زائد کام کا زور کافی رہا۔ اللہ کریم جزا دے شگفتہ بہنا اور اسماء بہنا کو کہ فکرمندی سے احوال پُرسی کرتی رہیں۔ انشاءاللہ اب کوشش رہے گی کہ بلاگ پر حاضری باقاعدہ رہے۔
سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوںگا کہ بہت اچھے طریقے سے اپنے اختلاف رائے کو بیان کیا۔ ہمارے ہاںایک روایت سی چل نکلی ہے کہ اختلاف رائے کے وقت حدیں پھلانگنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بعض اوقات میں بھی اس حرکت کا مرتکب ہو جاتا ہوں۔ اوروںسے کیا گلہ۔
آمدم بر سر مطلب، تصوف کی حقیقت سے مجھے انکار نہیں۔ ان سب اولیا و صوفیا کی کاوشیںایسی ہیںکہ ان کو کوئی کافر ہی نظر انداز کرے گا۔ اپنے مراسلے میںمیںنے یہ نکتہ اٹھانے کی کوشش کی تھی کہ صوفیا کی تعلیم جو کچھ بھی ہے، وہ وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی، اور جس پہ عمل کا نمونہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی زندگیوںکی صورت میںبھی دیکھا جا سکتا ہے۔
میںنے صرف اتنا عرضکیا تھا ، کہ آج کل کا جو صوفی ازم کا پرچار ہے، اور امن و آشتی و رواداری کے نام پر جس طرح اسلام کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، وہ مجھے تصوف نہیںدکھائی دیتا۔
میںاپنے مراسلے میں کہہ چکا ہوںکہ بابا بلھے شاہ نے جذب و مستی کی حالت میںجو کچھ کہا، اس کی وجہ اور سیاق و سباق وہ بہتر جانتے تھے۔ مگر یہ کیا، کہ فسق و فجور میں مبتلا رہنے والے گلوکار، جیسا کہ عام رواج ہے، اس کلام کو گاتے پھریں اور عوام جس کا مطالعہ اور علم ویسے بھی نہیںہوتا، گمراہ ہوتے رہیں۔
بہر حال یہ ایک ایسی بحث ہے جس پر ہمارے بڑے بھی کبھی متفق نہیںہوئے تو ہم کیا کر لیںگے۔
والسلام
اتفاق سے میں بھی انجنیئر ہوں مگر ان جیسا نہیں جن کے ہاتھ اور کپڑے کام کرنے کے بعد بھی صاف ہوتے ہیں اور جو اگر مکینیکل انجنیئر ہوں تو گھر کی کوئٰی مشین درست نہ کر سکیں ۔
آپ حیران ہوں گے کھ بات تصوف کی ہو رہی ہے اور میں کیا قصھ لے بیٹھا ہوں ۔ جناب جس قوم کا انجیئر جو پڑھتا ہے اسے استعمال نہیں کرتا وہاں لوگ جو اسلام کو ہی نہیں سمجھ سکے وہ تصوف کیا جانیں ؟ آج کی دنیا میں لوگوں نے تصوف کو سمجھنے کی بجائے صوفیوں کی ظاہری حرکات اور بولے ہوئے الفاظ کا مطلب اپنی مرضی کا نکال لیا ہے اسلئے تصوف کا اصل اوجھل ہو گیا ہے
آپ نے تصوف کے بارے میں اچھی بات کی۔
میں نے بھی سب سے پہلے کلام پڑھا تھا تو شدید اعتراض پیدا ہوا تھا۔
لیکن پھر دوسری بار اور تیسری بار پڑھنے سے حقیقت واضح ہوتی گئی
منیر بھائی – بہت شکریہ آپ کی کرم فرمائی کا۔ ظاہر اور باطن کی بحث تو لمبی ہے لیکن میرے تئیں فرق صرف نکتہ نظر کا ہے۔ کچھ لوگ فوری طور پر نتیجہ چاہتے ہیں اور کچھ آہستہ آہستہ راہ راست پر لانا چاہتے ہیں۔ دونوں کے اپنے فوائد و نقصانات ہیں اور دونوں طریقوں پر چلنے کے لئے الگ خواص اور حوصلہ چاہئے۔
افتخار انکل۔ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ لوگ بات کو سمجھے بغیر نتیجہ نکالتے ہیں اور پھر اسی کو درست سمجھ کر اس پر قائم ہوجاتے ہیں۔ یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
شازل بھائی – بہت شکریہ آپ کی تشریف آوری کا۔ آپ نے جو بات کی وہ ہم سب کی آپ بیتی ہے۔ گہری باتیں گہرائی میں اُتر کر ہی سمجھ آتی ہیں۔ آپ نے بالکل بجا فرمایا ہے۔