Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • علموں بس کریں او یار

    بلھے شاہ نے جب کہا  "علموں بس کریں او یار ۔۔۔۔۔ اکو الف تینوں درکار" تو اس وقت وہ ایک جاہل مطلق نہ تھے بلکہ اپنے دور کے علوم و فنون کا احاطہ کرنے کے بعد حقیقت کو پاچُکے تھے۔ سید شمس تبریز جب کتابیں سُکھاتے مولانا روم کے پاس سے گُزرے تو کتابوں کے ڈھیر کی بابت دریافت کیا۔ مولانا روم نے جب انہیں کہا کہ "یہ وہ ہے جس کی تمہیں خبر نہیں" تو اس جواب میں ان کے علم کا مان بول رہا تھا۔  پھرجب اکتساب فیض کیا تو کہا "مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روم ۔۔۔۔تا غلام شمس تبریزی نہ شُد"۔ حضرت ابن عباسؓ جنہیں تفسیر قرآن کی تعلیم خود سرکار دوعالم ﷺ نے فرمائی تھی،  فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا اونٹ صحرا میں گُم ہوجائے تو میں قرآن سے اس کا اونٹ ڈھونڈ نکالوں۔ فارس فتح ہوا تو امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے کتابوں کا ایک ڈھیر پیش کیا گیا۔ دریافت فرمایا کہ یہ کیا؟ جواب ملا کہ اہل فارس کے علم و دانش کا خزانہ۔ حکم دیا کہ ان سب کو آگ لگا دو۔ ہمارے پاس ان سب سے بہتر کتاب موجود ہے۔ یہ حکم کوئی متعصبانہ یا تنگ نظری والا حکم نہ تھا بلکہ مظہر تھا اس مقام کا جو معلم انسانیتﷺ سے اکتساب فیض کے بعد نصیب ہوا تھا کہ قرآن میں خالق کائنات خود فرماتا ہے

    وَلَا حَبَّۃٍ فِی ظُلُمٰتِ الاَرضِ وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلّاَ فِی کِتٰبٍ مُّبِینٍ  (الانعام:59)

    "زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی ایسی خشک و تر چیز ہے جس کا بیان کتابِ مبین میں نہ ہو۔"

    ہوا یہ کہ آج کے دور میں تعلیم ارزانی ہوگئی اور علم نایاب۔ حروف کو رٹا لگاکر امتحان پاس کرنے کا چلن دنیاوی مدارس میں ہی نہیں بلکہ دینی مدارس میں بھی جڑ پکڑ گیا۔ شائد اسے آپ انگریز کی سمجھ داری کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے دین کے علم میں بھی ڈگریاں و اسناد داخل کردیں یا کم ازکم اس سوچ کو ضرور داخل کردیا۔ سو فاضل ہونا یا سند یافتہ ہونا ہی دینی علوم پر حاوی ہونے کی سند مانا جانے لگا حالانکہ دین تو سراسر عمل ہے۔ عمل جو علم کی مطابقت میں ہو۔ پھر اس پر مستزاد یہ ہوا کہ عقیدت مندوں نے اولیاء کے فرامین و ارشادات دھڑا دھڑ شائع کرنا شروع کردیئے۔ خاصوں کی بات عاموں تک پہنچی تو مچھلی بازار بن گیا۔ جس کے ہاتھ جو لگا لے اُڑا۔ کسی نے آدھی بات سُن کر دین اور شریعت کی ہی نفی کرنا شروع کردی اور کسی نے اس سے بھی ایک قدم آگے جاکر پوری بات سُنے اور کہے بغیر بدعت اور کفر کے فتاوٰی جڑنا شروع کردیئے اور کچھ یہ سب دیکھ کر دین سے ہی باغی ہوگئے کہ جی سب ڈھکوسلا ہے۔ ایک بات جو ان تمام میں مشترک رہی وہ یہ تھی کہ اصل بات کی نہ کسی کو خبر تھی نہ کسی نے کھوج لگانے کی کوشش کی بس قیاس کے گھوڑے دوڑا دئیے نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر۔

    کتابوں کی بھی عجب کہانی ہے صاحبو۔ حروف در حروف بھرے ہوئے ہیں۔ ہر علم موجود، ہر نکتہ موجود لیکن اصل بات مفقود۔ اب آپ اگر اردو بازار لاہور چلے جائیں اور ایک موٹی سے کتاب اُٹھا لائیے طب کی۔ پھر اس کے حروف کو رٹا مار کر دوکان کھول لیجئے حکمت کی اور لوگوں کو دھڑا دھڑ پُڑیاں بنا کر دینا شروع کردیں۔ کیا اس سب سے آپ سکہ بند حکیم ہوجائیں گے یا طب کا علم ناقص قرار پائے گا؟ یہاں ہم سب کا جواب ہوگا "نہیں" لیکن جب اسی تمثیل کو دین پر لاگو کریں تو مجھ سمیت اکثر صاحبان "علم" کہیں گے "کیوں نہیں؟" اور یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر جاتے جس نے یوکرائین سے ڈگری لی ہو یا کسی فٹ پاتھئے کالج سے امتحان پاس کیا ہو لیکن دین کے معاملہ میں ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کی بات پر یقین کرلیں گے چاہے اس کی ڈگری یا سند کسی بھی ادارے کی ہو۔ اگر کسی میڈیکل کالج کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی واحد گواہی شہر کے گورکن ہوں تو کیا آپ اپنے بچوں کو وہاں اکتساب فیض کے لئے بھیجیں گے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کسی انجنئیرنگ یونیورسٹی کی فیکلٹی کی واحد خوبی یہی ہو کہ ان سے کبھی کوئی چیز بن کے نہ دی تو کیا اس کی ڈگری کو آپ قابل اعتبار سمجھیں گے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں ہم کیا کسی عالم، مولوی، پیر، شیخ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حضرت پہلے عمل دکھائیے پھر خطبہ ارشاد فرمائیے؟؟؟ نہ کبھی نہیں۔۔۔ لیکن ہاں یہ ضرور کہیں گے کہ جی دین میں استنجے پر ہی زور ہے۔ نہ جی قصور دین کا نہیں آپ کا اپنا ہے۔ کیا آپ نے کبھی دین کو کھوجنے کی کوشش ہی کی ہے؟ کسی سے اکتساب کیا؟ کسی کو کہا کہ جی مجھے بتاؤ صراط مستقیم پر چلوں کیسے؟

    اب پیروکار اگر ہم ایسے ہوں تو دین کا کیا قصور؟ حکم ہوا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ مسلمانوں کے کسی معاشرے میں چلے جاؤ یوں لگے جیسے نعوذباللہ حکم تھا کہ "غلاظت پورا ایمان ہے" حکم ہے کہ "مؤمن جھوٹ نہیں بول سکتا" ہمیں دیکھیں تو لگے ہے کہ "مؤمن سچ نہیں بول سکتا" حکم یہ کہ "مسلمان وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں" ہمیں دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ "مسلمان وہ جو ہر روز تین چار بندوں کا ناشتہ کرے" حکم ہے کہ "گواہی دو خواہ تمہارے اپنے قرابت داروں کے خلاف ہی ہو" ہمیں سمجھ آتا ہے کہ "گواہی دو جس سے تمہارے اپنے قرابت دار محفوظ رہیں" حکم ہے کہ "کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقوٰی کے سبب" ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ "سب سے اوپر عربی اور اس کے بعد تمہاری ذات۔ تقوٰی کا معاملہ اللہ کا ہے سو اللہ جانے اور اس کا کام"۔ اب ان بوالحواسیوں کی بنا پر اگر کوئی کہے کہ جی دین تو ہے ہی فساد یا لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام فساد کا نام ہے تو قصور اسلام کا نہیں آپ کا اور میرا ہے۔ آیتوں اور حدیثوں کو رٹا لگانے کا نام اسلام نہیں اور نہ ایسے کو دین کا "عالم" کہتے ہیں۔وہ تو جی بہروپیا ہے۔ 

    ایک وقت تھا کہ بہروپئے بھی کسی قدر کے مالک ہوتے تھے۔ اورنگزیب کے دربار میں ایک بہروپیا آیا۔ کہنے لگا کہ میرے فن کی معراج یہ ہے کہ جہاں پناہ کو بھی اپنے بہروپ سے دھوکا دے دوں۔ اورنگزیب نے کہا کہ اگر کردکھاؤ تو پانچ سو روپیہ انعام تمہارا ہوا۔ بہروپیا کورنش بجا کر رخصت ہوگیا اور ایک دور دراز علاقے میں اللہ والے کا بہروپ دھار کر بیٹھ گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ لوگ آہستہ آہستہ اس کے پاس آنے لگے۔ وہ دُعا کردیتا لوگوں کی مشکل حل ہوجاتی۔ بات بڑھتی گئی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ کو ایک جنگی مہم کے سلسلہ میں اس علاقہ سے گزرنا تھا۔ مصاحبین نے عرض کی کہ ایک اللہ والے یہاں مقیم ہیں ان سے دُعا کروالی جائے۔ بادشاہ نے مشورہ قبول کیا اور خدمت میں حاضر ہوگیا۔ صاحب نے دُعا کی اور بادشاہ جنگ کے لئے روانہ ہوگیا۔ جنگ میں فتح ہوئی تو واپسی پر آستانہ پر رُک کر بادشاہ نے جاگیریں اور وظائف بطور نذرانہ پیش کیے۔ بہروپئے نے کچھ بھی لینا منظور نہ کیا۔ بادشاہ سلام کرکے چلا آیا۔ کچھ عرصہ بعد بہروپیا دربار میں حاضرہوکر اپنے انعام کا طالب ہوا۔ بادشاہ نے کہا کہ ہمیں نہیں یاد کہ تم نے ہمیں دھوکا دیا ہو۔ بہروپئے نے ساری گفتگو دُہرا دی۔ بادشاہ نے پانچ صد روپیہ عطا کرنے کا حکم دیتے ہوئے پوچھا "جب ہم جاگیریں اور وظائف پیش کررہے تھے اس وقت کیوں نہ لیا؟" تو بہروپئے نے جو جواب دیا پڑھئے اور سر دُھنئے۔ بہروپئے نے کہا "حضور جن کا بہروپ دھارا تھا ان کے تقدس کو کیسے ٹھیس لگاتا؟" ہماری قسمت میں اصلی بہروپئے بھی نہ رہے اور ہم نقالوں کے دام میں اُلجھ کر اصلیت سے ہی انکاری ہوئے پھرتے ہیں۔

    اب بات کریں ان کی جو اولیاء کے ارشادات، فرامین، اشعار سُن کر انہیں سمجھے بغیر "افلاطونیاں" جھاڑتے پھرتے ہیں۔ بات پھر ایک تمثیل سے بتاتے ہیں۔ ایک حکیم کے پاس ایک مریض آیا جسے نمونیا تھا، حکیم نے علامات دیکھ کر کہا "دیسی مرغی کا شوربہ پیا کرو"۔ دوجا آیا جسے گرمی کی شکایت تھی تو اسے کہا کہ "شرب صندل ٹھنڈا کرکے پیا کرو" تیسرے کی آنتیں خشک تھیں تو اسے بتایا کہ صبح نہار منہ مکھن کھایا کرو۔ تینوں مریض ٹھیک ہوگئے۔ اب انہوں نے جب بات آگے سُنائی توایسے کہا "میں بیمار تھا۔ حکیم صاحب نے کہا کہ ۔۔۔۔۔ کھاؤ اور میں تندرست ہوگیا" سُننے والے نے بات بنائی کہ حکیم صاحب نے جو بات بتائی تھی وہ اکسیر ہے۔ سو گرمی کے علاج کے لئے دیسی مرغ کے شوربہ پر زور دیا جانے لگا اور سردی کا علاج صندل کے ٹھنڈے شربت سے قرار پایا۔ اور جب ان اوٹ پٹانگ حرکتوں کا نتیجہ نکلا تو الزام کیا نکلا؟ وہ جی حکیم ہی جعلی تھا۔۔۔ یا جی حکمت نامی کوئی چیز نہیں آپ گھاس اُبال کر پیا کریں۔ اب اس تمام ہڑبونگ میں قصور کس کا؟ لیکن اگر اتنی گہری باتیں سوچنے کا شعور ہوتا تو زرداری پاکستان کا صدر ہوتا اور آدھا پاکستان ایک صوبے کا نام بدلے جانے پر خوشیاں منا رہا اور آدھاا فسوس؟

    اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ انسان کو اس دنیا میں ترقی کے لئے جتنے بھی علوم و فنون کی ضرورت ہے وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے غور کرو۔ ہمارے پاس اس کے لئے وقت ہی نہیں۔ ہم اس حکم سے بھی سرسری گُزر جاتے ہیں۔ جب تمام دُنیا سورج چاند کو معبود مان رہی تھی قرآن کہہ رہا تھا "وسخرلکم مافی السمٰوات وما فی الارض"۔ اب مسلمان آج بھی یہ بحثیں کرتے پھرتے ہیں کہ جی چاند پر کیسے جاسکتا ہے جی کوئی؟ قرآن کہے کہ ہر چیز کا جوڑا ہے۔ ہم غور نہ کریں اور نیوٹن یہ بات دریافت کرلے تو اس میں قصور کس کا؟ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات قرآن میں موجود نہ تھی؟ علوم سب قرآن میں ہیں لیکن انہیں کھوج نکالنا آپ کا اپنا کام ہے۔ یہ اور بات کہ مشکل کام ذرا ہمیں پسند نہیں آتے سو کچھ آئیں، کچھ بائیں اور کچھ شائیں کرکے گزارا کرنے کوشش کرتے ہیں لیکن اس طرح کرنے سے حقیقت بدل تو نہیں جاتی نا؟؟؟ سو  آدھے جپنا شروع کردیتے ہیں کہ "علموں بس کریں او یار" یہ جانے بغیر کہ جس مقام والوں کے لئے یہ کہا گیا ہے وہاں ہر کس و ناکس کی رسائی نہیں اور باقی کے آدھے بدعت و شرک کے فتاوٰی جڑنے لگ پڑتے ہیں  اور جو باقی بچ رہتے ہیں وہ دین کو ہی فضولیات کہنے لگ پڑتے ہیں۔


  • نبیل
    Friday, April 2, 2010 at 17:27 | #1

    جزاک اللہ خرم، بہت اچھی تحریر ہے۔

  • arifkarim
    Friday, April 2, 2010 at 21:01 | #2

    بہت اچھا مضمون ہے۔ درحقیقت یورپ کے احیائے ثانیہ میں مسلمان و عرب سائنسدانوں، فلاسفروں کا بہت حد تک رول رہا ہے۔ بغداد اور قرطبہ میں بد امنی کے بعد یہ میراث یورپی اقوام کے پاس چلی گئی جنہوں نے اپنے ہی دین عیسائیت کیخلاف بغاوت کرکے جدید سائنسی علوم کی بنیاد رکھی اور مذہب اور سیاست کو الگ الگ کر دیا۔
    آج مسلمان اسی اسٹیج ہر ہیں جہاں مغربی 4 سو سال قبل تھے۔ صدیوں قبل نیوٹن، گیلیلیو، ٹسلا، ایڈیسن اور بہت سے سائنسدانوں نے رومن کیتھلک چرچ کی طرف سے سزائیں بھی سنی ہیں اور اپنی بے عزتی بھی برداشت کی ہے۔ مگر جیت سچ یعنی سائنس کی ہی ہوئی کیونکہ یہ ہر چیز کی دلیل دیتی ہے اور کسی پر کچھ بھی زبردستی نہیں ٹھونستی، جیسا کہ عیسائی مذہب ٹھونستا تھا، یا جو آجکل کے مسلمان علماء اپنے فتووں سے ٹھونستے ہیں۔ پس مسلمانوں کی پستا حالت کی اصل وجہ اسلام نہیں بلکہ نااہل علمائے دین ہیں! :-D

  • Friday, April 2, 2010 at 22:31 | #3

    آپ نے حضرت عمر کی مثال تو دی مگر رسول اللہ کے اقوال دینا بھول گئے۔ جنہوں نے کہا کہ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے اسے جہاں پائے حاصل کرے،
    علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے، علم کا حصول مسلمان مرد اور عورت دونوں پہ فرض ہے۔ اور عالم کے قلم کی سیاہی مجاہد کے خون سے زیادہ وقعت رکھتی ہے۔
    ان احادیث کے بعد ایسی باتوں کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ ہم علموں بس کریں کا نعرہ لگائیں۔ رسول اللہ کی زندگی میں مختلف غزوات میں پکڑے جانیوالے لوگوں کی سزا میں تخفیف اس بات پہ ہوتی تھی کہ وہ جو علم انہیں آتا ہے عام مسلمانوں کو سکھائیں گے۔
    اس میں فن تحریر بھی شامل تھا۔
    یہ کہنا کہ کتاب مبین کے بعد کسی کتاب کی ضرورت نہیں رہی۔ اس کتاب مبین اور اسکے پہنچانے والے اور اسکے بھیجنے والے دونوں کی توہین ہے۔
    تمام علماء ظاہر اور باطن اس بات پہ متفق ہیں کہ یہ کتاب دین کے بنیادی اصولوں کی طرف لے جاتی ہے اور انسان کو ہدایت کی طرف۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس کے بعد اب ہمیں کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دور عروج کے مسلمانوں نے غیر مسلموں کی کتابوں سے بھی اکتساب حاصل کیا۔ نہ قرآن سائینس کی کتاب ہے، نہ تاریخ کی اور نہ فزکس کی۔ اس میں انسان کو تجسس اور فکر کی دعوت دی گئ ہے اور اسکے لئے کچھ مثالیں۔ پوری کائنات کو اس میں تلاش کرنا بیکار ہے اور اسکی توہین کے مواقع پیدا کرنے کے برابر۔ اس میں انسان اور کائنات کے متعلق صرف بنیادی باتیں کی گئ ہیں۔ خدا عالم و خبیر ہے اگر وہ صرف اپنے علم کا اظہار چاہتا تو اتنی بڑی کتاب لکھنے کی بھی ضرورت نہ تھی چند لفظوں میں ساری کتھا کھول دیتا۔ لیکن اس نے انسان کو علم اور عمل کی آزدی دی ہے تاکہ وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اور ان بنیادی اشاروں کو جو اس کتاب میں موجود ہیں۔ سمجھتے ہوئے اس کار جہاں کو کھوجے۔
    جدید علم کے خلاف لکھنا کوئ ثواب کا کام نہیں۔ اور نہ ہی جدید عالموں ککے خلاف۔ ہر عہد میں دونوں طرھ کے عالم موجود رہے ہیں۔ ہر دور میں علم کے قدر کرنے والے اور عالموں سے ھسد کرنیوالے لوگ موجود رہے ہیں اور ہر دور میں سطحی علم ھاصل کرنے والے لوگ موجود رہے ہیں۔ ہر دور اپنے اکثریتی روئیے سے پہچانا جاتا ہے۔
    آج ہم اگر رٹ کے پاس کرنے والے لوگوں سے بھرے ہیں تو ہم دنیا میں کون سے اہم امور انجام دے رہے ہیں۔جیسا علم ہم حاصل کر رہے ہیں ویسے نتائج ہم بھگت رہے ہیں۔
    نہ جدید علم برا ہے نہ اسکا حصول۔ البتہ علم رکھنے والے سے حسد، اسے اسکے علم پہ طعنے، اسکے علم کی بے عزتی اور جاہل رہنے کے فوائد اور جہالت پہ فخر یہ بری باتیں ہیں۔ اس لئے اسلام سے پہلے کے دور کو دور جاہلیت کہا گیا۔
    اگر ہم اسی روئیے پہ مزید چلتے رہے تو اسکا انجام اس سے بدتر ہی ہوگا ۔
    کتابوں کے ڈھییر کو آگ لگا کر راکھ ہی ملتی ہے کیا آپکی یہ خواہش ہے۔
    تاریخ میں سے صرف اپنے نکتے کے حق میں جانے والے نکات انکے سیاق و سباق کے بغیر تلاش کر کے وہ بھی منفی راہ کی طرف جانیوالے نکتے کو ثابت کرنے سے کوئ بہت اعلی کام انجام نہیں دے سکتا۔
    آپ نے حضرت عمر کا واقعہ بیان کیا، انکی شخصیت کی عظمت کے باوجود آج بہت سے لوگ انکی شخصیت کی منفی خوبیاں اس واقعے سے نکالتے ہیں۔ جسے آپ نے کتاب سے انکی بیزاری کو نمایاں کرنے کے لئے لکھا۔ اسی طرح ایک الف کافی۔ یہ صوفیوں کے راز ونیاز کی وہ باتیں ہیں جنہیں آپ سطحی طور پہ نہیں لے سکتے۔ شمس تبریز چٹے ان پڑھ آدمی نہیں تھے۔ علم اتنا حاصل کرنا چاہئیے کہ پھر کتابوں کی ضرورت نہ رہے۔ اس بات کا تذکرہ شیخ سعدی کے ایک واقعے میں بھی ملتا ہے میں اسے طوالت کی وجہ سے نہیں دے رہی۔حالانکہ انکا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگ قرآن کو پہلے پڑھیں اور باقی کتابوں کو بعد میں۔ انکے بعد میں آنیوالے لوگوں نے یہی کیا۔ جسے آپ مسلمانوں کا دور عروج کہتے ہیں وہ محض قرآن کو پڑھتے رہنے سے حاصل نہیں ہوا بلکہ اسکے احکامات کی روشنی میں دوسری اقوام کے حاصل کئے گئے علوم کو حاصل کر کے ملا تھا۔
    حیرت ہے کہ ہم اپنی قوم میں علم کی آگ بھڑکانے کے بجائے علم اور عالم دونوں کی تضحیک کر کے سمجھتے ہیں کہ اب ہم نے اپنا فرض پورا کر دیا۔

  • خرم
    Friday, April 2, 2010 at 22:45 | #4

    نبیل بھائی – بہت شکریہ۔
    عارف میرے بھائی – بات تو کچھ ایسی ہی ہے۔
    عنیقہ بہنا۔ آپ نے شائد بات سمجھی نہیں۔ میں‌علم کے خلاف نہیں ہوں اور نہ اس کی وکالت کی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جو کیا اور کہا اس کی وجوہات صائب ہیں اور اسی پر بات کی تھی کہ خاصوں کی بات عاموں‌تک آئے تو نہ صرف اثر کھودیتی ہے بلکہ بیڑا غرق کردیتی ہے۔ آپ نے بھی بات سمجھی نہیں‌میری بہنا اور رو میں لکھتی چلی گئیں۔ اسی رویہ کے متعلق عرض کیا تھا میں نے۔ سائنس اچھی ہے، تمام علوم اچھے ہیں لیکن کامل علم صرف قرآن ہے۔ سب علوم سیکھ کر آپ پہنچیں گے وہیں پر۔ اس حقیقت سے مفر نہیں۔ لیکن جو صرف حرف جانتا ہے وہ یہ بات نہیں جانے گا اور اسے یہ بات جاننی بھی نہیں چاہئے۔ ہم سب الگ الگ راہ کے مسافر ہیں۔ منزل سب کی ایک ہے۔ کچھ اس سے باخبر ہیں کچھ بے خبر لیکن اس سے منزل کی حقیقت پر فرق نہیں پڑتا۔ اب دیکھئے آپ کو بیس سال مکتب جانے کے بعد جو معلوم پڑا وہ سکول میں داخلے کے وقت تو معلوم نہ تھا۔ تو کیا اس سے آپ یہ نتیجہ اخذ کرسکتی ہیں کہ جو آپ کو معلوم نہیں‌وہ موجود ہی نہیں۔ اسی طرح آپکی پرائمری کی دنیا میں آپ کے اساتذہ آپ کے لئے علم کی معراج تھے لیکن جو باتیں آپ کو آج معلوم ہیں ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں گی۔ تو کیا اپنی پرائمری کی ٹیچر کے علم کی بنا پر آپ پی ایچ ڈی کے علم کا انکار کردیں گی؟ بس اتنی سی بات ہے قرآن کی بھی۔ نہ علم کی تضحیک مقصود ہے نہ عالم کی عرض صرف اتنی ہے کہ علم وہ جو باعمل ہو وگرنہ آزار ہے۔

  • Friday, April 2, 2010 at 23:37 | #5

    آپ نے علمی حقيقت کے جس پہلو پر روشنی ڈالی وہ آج کی دنيا کا سب سے بڑا فضيحتا [قريب ترين لفظ سانحہ] ہے ۔ اور کمال ديکھيئے کہ عصرِ حاضر کی نمائندہ نے آپ کی تحرير کی اساس کو ثابت کر ديا ۔ سُبحان اللہ ۔ حق کی بات چھا کر رہتی ہے

  • Saturday, April 3, 2010 at 02:59 | #6

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    جزاک اللہ خیر۔ اللہ تعالی تحریر میں اورقوت دے۔ آمین ثم آمین
    والسلام
    جاویداقبال

  • Saturday, April 3, 2010 at 04:33 | #7

    خرم صاحب
    بہت شکریہ
    عمدہ تحریر ہے، اچھی لگی
    عنیقہ صاحبہ نے بھی اچھے نقاط لکھے
    شاید ہم لوگ تحقیق کرنے سے اکتا چکے ہیں، محنت، مستقل مزاجی وغیرہ چھوڑ چکے ہیں، ہمیں سب کچھ پکا پکایا چاہیے

  • عبداللہ
    Saturday, April 3, 2010 at 09:53 | #8

    ساری باتیں چھوڑیں مجھے صرف یہ بتادیں کہ صوبے کا نام بدلے جانے پر آپ خوش ہونے والوں میں سے ہیں یا ماتم کرنے والوں میں 8-)

  • Saturday, April 3, 2010 at 11:32 | #9

    عنیقہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ یہ بات سنتے ساتھ ہی ری ایکٹ کر دیتی ہیں۔ اس کے بعد مزید مزاق آڑاؤ تو مزید ناراض۔ کاش کہیں ایک جگہ مجھے یہ ایسے نہ ملیں۔

  • Saturday, April 3, 2010 at 14:38 | #10

    آپکی تحریر میںتضاد محسوس ہوتا ہے۔ اور اسکے لئے آپکی اس بات کا حوالہ دونگی جو آپ نے نیوٹن کے قانون کے بارے میں کہا ہے۔ بس یہ کہ قرآن سائینس کی کتاب نہیں ہے۔ اسلئے اس قسم کے علوم کی اساس قرآن میں تلاش کرنا اور ثابت کرنا بیکار ہے۔
    اور بھی باتیں ہیں لیکن جب پوسٹ اتنی لمبی ہو جائے تو تضاد پیدا ہونے کے امکان رہتے ہیں۔

    یہاں عالموں کی کثیر تعداد ایسی ہے جو ظاہری اعمال دل جمعی سے انجام دیتی ہے اور اسی پہ بہت زیادہ زور بھی دیتی ہے اور آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ عالم با عمل نہیں ہیں۔ جو علم انہوں نے حاصل کیا ہے اسکے مطابق پوری قوت سے عمل کرتے ہیں۔ لیکن بات یہ ہے کہ جو علم انہوں نے حاصل کیا ہے وہ ناقص ہے۔ اور عالم با عمل ہیں لیکن قصور انکا یہ ہے کہ وہ ایک محدود علم کے حامل ہیں۔ اصل نعرہ یہ ہونا چاہئیے کہ علم کو اتنا زیادہ حاصل کریں کہ نہ صرف کتابوں کی ضرورت نہ رہے بلکہ چیزیں ایک وجدان کی صورت ہمارے قلب پہ اترنے لگیں۔ خاص طور پہ وہ لوگ جو علم بانٹنے کے میدان میں ہیں۔۔

    بد تمیز، میں ہمیشہ بات سمجھ کر ری ایکٹ کرتی ہوں۔ لیکن آپ ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ عنیقہ کوئ اور نہیں بد تمیز کا ہی کوئ ورژن ہے۔ جبکہ حقیقتآ ایسا نہیں ہے۔

  • Saturday, April 3, 2010 at 15:06 | #11

    نہایت عمدہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت خوبصورت تحریر اور خیالات :o)

  • خرم
    Sunday, April 4, 2010 at 09:16 | #12

    افتخار انکل – بہت شکریہ آپ کی ذرہ نوازی کا۔
    جاوید بھائی – آپکی دعاؤں اور ہمت افزائی کا بہت شکریہ پیارے بھائی۔
    یاسر بھائی – بہت شکریہ آپ کی ہمت افزائی کا پیارے بھائی۔ بات کی تہہ کو کھوجنے سے جی چُرانا ہی تو قوموں کے زوال کی وجہ ہے۔
    عبداللہ بھائی – میں ان میں سے ہوں‌جو ان دونوں گروہوں کی عقل پر ماتم کررہے ہیں :-D
    عنیقہ بہنا – یہ کہنا کہ “بس یہ کہ قرآن سائینس کی کتاب نہیں ہے۔ اسلئے اس قسم کے علوم کی اساس قرآن میں تلاش کرنا اور ثابت کرنا بیکار ہے۔” کیا ایک سائنسی رویہ ہے؟ آخر کس بنیاد پر ہم ایسی بات کہیں جبکہ قرآن میں سائنسی اشارات مذہبی احکامات سے زیادہ ہیں؟ آپ نے کہا کہ علم اتنا زیادہ حاصل کریں کہ چیزیں ایک وجدان کی صورت میں دل پر اُترنے لگیں۔ بالکل درست کہا ہے اور اسی کے متعلق بات کی تھی۔ جو اس مقام کو پاجاتے ہیں وہ پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ “علموں بس کریں او یار” اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارےپاس جو کتاب ہے اس کے بعد کسی اور کی حاجت نہیں۔ لیکن یہ کہنا اور سمجھنا صرف انہی کو روا ہے۔ ہم آپ جو نہ کچھ جانتے ہیں نہ مانتے ہیں، ہمیں‌سب کچھ سیکھنا ہے اور اسی پر توجہ مرکوز ہونا چاہئے۔ ہم کرتے یہ ہیں‌کہ یا تو ان بڑے لوگوں کی نقالی میں چھوٹا مُنہ بڑی بات کی تصویر بن جاتے ہیں یا پھر آسمان پر تھوکنے لگ جاتے ہیں۔ یہ دونوں‌روئیے ہی جاہلانہ ہیں‌اور ان کے متعلق ہی اس تحریر میں بات کی تھی۔
    عمر بھائی – بہت شکریہ پیارے بھائی آپ کی پسندیدگی کا۔

  • Sunday, April 4, 2010 at 11:44 | #13

    السلام علیکم خرم بھائی جزاک اللہ بہت اچھی تحریر لکھی ہے آپ نے پڑھ تو میں نے اسی دن تھی جس دن آپ نے لکھا تھا اس کے بعد تبصروں کا انتظار کر رہا تھا آج ایک بار پھر پڑھی ہے مزہ آ گیا ہے پہلے کی نصبت اب اچھی طرح سمجھ آئی ہے یہ تحریر

  • عبداللہ
    Sunday, April 4, 2010 at 21:27 | #14

    اگر نام رکھنے پر اتنا ماتم کریں گے تو 12 صوبے بننے پر کیا کریں گے ؟؟؟
    مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں :-D

  • خرم
    Monday, April 5, 2010 at 14:44 | #15

    خرم میرے پیارے بھائی – بہت شکریہ پسندیدگی کا۔
    عبداللہ – بات زیادہ صوبے بنانے کی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ آپ سے نظام صحیح طرح سے نہیں چل رہا تو صوبے بانٹنے یا نام بدلنے سے آپکے پاس کونسی گیدڑ سنگھی آجائے گی؟

  • عبداللہ
    Monday, April 5, 2010 at 17:30 | #16

    یہی تو اصل گیدڑ سنگھی ہے،پہلے صوبے،اور علاقے ہر بات کا الزام سینٹر پنجاب پر دھر دیتے تھے،جب اپنے اپنے صوبے اور مکمل خود مختاری مل جائے گی تو ان علاقوں کی عوام پھر اپنے لیڈروں کا گریباں پکڑے گی اور وہ اپنی بلا دوسروں کے سر نہیں ڈال پائیں گے،اس کے علاوہ پنجاب کی کرپٹ بیوروکریسی جو نظام میں گڑ بڑ کرتی رہی ہے وہ بھی کمزور پڑ جائے گی،اور یوں جاگیر دار اور وڈیرے بھی اس طرح من مانی نہ کر پائیں گے جس طرح اب تک کرتے آئے ہیں،ہمیں اپنے ذہن اور دل کھلے رکھنا چاہیئے ،ایک گھر میں ایک دوسرے کا خون کا پیاسا بن کر رہنے سے کہیں بہتر ہے کہ الگ الگ رہیں مگر پیار اور محبت سے رہیں

  • Wednesday, June 9, 2010 at 06:50 | #17

    توجہ دلانے کا شکریہ۔ میری نظر سے یہ تحریر پہلے گزری نہ تھی۔ آپ نے ایک اچھا جائزہ پیش کیا ہے۔ افراط و تفریط ہر جگہ پر موجود ہے اور درست عمل کہیں پر نہیں۔

  • Friday, June 25, 2010 at 20:42 | #18

    قرآن سائنس و ٹیکنالوجی کی کتاب نہیں، زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے والی اور آخرت میں فلاح کا راستہ پانے کی کتاب ہے۔ توحید کی طرف بلاتے ہوئے قرآن ایسے اشارے دے دیتا ہے جو عقل والوں کے لیے مہمیز کا کام کرتے ہیں اور وہ مشاہدے کے ذریعے رب کریم کی نشانیوں تک پہنچتے ہیں، علم بھی حاصل کرتے ہیں اور خالق و معبود کے ہونے کا یقین بھی۔

  • خرم
    Tuesday, June 29, 2010 at 22:55 | #19

    منیر بھائی – بہت شکریہ عزت افزائی کا۔
    شاکر میرے بھائی – تحقیق کئے بغیر ہی نتیجہ اخذ کرلینا تو سائنسی طریقہ نہیں۔ قرآن ایک مکمل کتاب ہے۔ نہ صرف سائنسی کتاب ہے، نہ صرف دینی اور نہ صرف دنیاوی۔ اس میں‌سب کچھ ہے لیکن جیسے سمندر میں مچھلی بھی ہے، سیپ بھی، تیل بھی، ہیرے بھی لیکن ہر کوئی اپنی اہلیت کے مطابق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح قرآن ایک بحر بے کراں ہے علوم کا۔

تبصرہ کریں

:o) :-D :-( ;-) :-P =-O 8-) :-/ :-! C:-) :-(|) O-) :@ :-[ (B) (^) (P) (@) (O) (D) :-S ;-( (C) (&) :-$ (E) (~) :-* (I) (L) (8) (T) (G) (F) (*) (N) (Y) (U) (W)

TOP