اللہ مغفرت کرے اُستاد امانت علی خان کی۔ نیپال جاتے ہوئے جہاز جب ہچکولے کھارہا تھا، وہ یہ ٹھمری سوچ رہے تھے۔ آج انہیں یہ ٹھمری گائے ہوئے بھی کئی دہائیاں بیت گئیں لیکن جب سے میری شہزادیاں مجھ سے دور ہیں میرا دل بھی ان کی سنگت میں یہی پکار رہا ہے۔
آؤ سنواریں پاکستان
ہمارا پیارا پاکستان
آنے ديں آج ذرا انکو واپس دکھاتی ہوں يہ تحرير، ہر وقت ہم سے تنگ آئے رہتے ہيں
ميں نے اپنی جوانی کے زمانہ ميں اُستاد امانت علی خان اور ان کے بھائی فتح علی خان کو سامنے بيٹھ کے سُنا ہوا ہے ۔ دونو بھائی واقعی اُستاد تھے
مجھے امانت علی خان بہت پسند ہے ۔ میری گاڑی میں زیادہ تر انہیں کا میوزک چلتا ہے ۔ آپ صاحب ذوق نکلے
اسماء بہنا – پھر کیا ہو یہ تو بتایا ہی نہیںآپ نے۔
افتخار انکل – بالکل درست فرمایا آپ نے۔ استاد فتح علی خان صاحب تو غالباً اب اسلام آباد میں مقیم ہیں اور نوجوانوں کو کلاسیکل کی تعلیم کے لئے اکیڈمی چلا رہے ہیں۔
ریاض بھائی – بہت شکریہ آپ کے حُسن گمان کا
اوہ، سامعین میںاور بھی بہت سی نابعہ روزگار ہستیاں نظر آ رہی ہیں۔