وہ جو خیال رکھتے ہیں انہوں نے محسوس کیا ہوگا کہ ایک بار پھر بلاگ سے غیر حاضری کچھ لمبی ہوگئی ہے۔ وجہ اس کی کچھ یوں ہوئی کہ بچیوں کی اماں نے پاکستان جانے کا منشور بناڈالا اور حسب معمول دودھ میں سے مکھی باہر نکال پھینکی۔ وہ بھی حق بجانب تھیں کہ مکھی ملا دودھ پینے اور خاوند کے ساتھ میکے جانے کا کیا فائدہ بھلا؟ بات صرف بیگم کے میکے جانے تک رہتی تو قابل برداشت تھی، مسئلہ یہ تھا کہ بچیوں کو بھی ان کے ساتھ جانا تھا۔ یہ کڑوا گھونٹ پینا آسان نہ تھا لیکن اپنی اولاد سے دوری کی اذیت سے بچنے کے لئے اوروں کو ان کی اولاد سے دور کیسے رکھوں؟ اس سوال کا جواب میری ناقص عقل کے پاس نہ تھا سو خاموشی اختیار کرلی۔ خاموشی ملی رضامندی غنیمت جان کرفروری کے اواخر میں جہاز کی ٹکٹیں لی گئیں اور پھر اٹھارہ مارچ کو بچیوں کی روانگی تک میں نے ہر روز کوشش کی کہ ان کی معصوم حرکتیں اپنی نظروں میں بھر لوں۔
وقت کہاں تھما ہے جو اب کچھ دیر کو ٹھہرتا سو پلک جھپکتے اٹھارہ مارچ کی تاریخ آپہنچی۔ صبح آرلینڈو سے نیویارک پہنچے اور دس بجے کے قریب وہ لمحہ جس کا انتظار کم از کم مجھے تو نہ تھا۔ بچیوں کو گلے لگا کر الوداع کہنے کی ہمت نہ تھی سو ان کے سر پر سرسری سا ہاتھ پھیر ا اور رسم الوداع پوری کرڈالی۔ سچ کہتے ہیں بزرگ دوستو کہ جی لگانا ہو تو اللہ سے لگاؤ۔ مخلوق تو کبھی پاس آجاتی ہے، کبھی دور چلی جاتی ہے۔ ایک وہی ذات ہے جو ہمیشہ قریب ہے لیکن پھر لامکاں کا عشق آسان کہاں؟ مخلوق سے عشق میں تو کبھی وصل کے لمحہ کی آس ہوتی ہے، وراء الوراء کا وصل تو اس حیات میں ممکن ہی نہیں۔ سو اب حال یہ ہے کہ ایک ہفتہ بیت گیا اپنے جگر کے ٹکڑوں سے بچھڑے۔ پہلی دفعہ ہے زندگی میں کہ ان سے اتنی دور اور اتنی دیر کے لئے جُدا ہوا ہوں او رایسے میں مصروفیت یہی ہے کہ ان کی تصویریں دیکھ لیں، ان کی باتیں یاد کرلیں یا ان سے باتیں کرلیں۔ ان یادوں میں چند لمحے اس برس کے شروع میں محفوظ کئے تھے اپنے کیمرے میں جو آپ کی نذر ہیں۔
ہمارے تو جی کاکے کاکیاں ہیں نہیں اس لیے اولاد کی تڑپ تو نہیں جانتے لیکن بھانجوںبھانجیوں بھتیجے بھتیجیوں سے ہی دوری بڑی محسوس ہوتی ہے۔
مینوںتے کار ای بوت یاد آندا اے
ميں تو غير حاضری کی اسٹوری تجربے کی بنياد پر پہلے ہی سمجھ گئی تھی آدھے گھنٹے کے ليے بازار اکيلی چلي جاؤں تو بچياں ياد آنے لگتی ہيں اور ابھی آپ ان کی ياد ميں رونا نہ شروع کر ديجيے گا آنسو رخصتی کے ليے سنبھال رکھيں اور نور خديجہ کی فلم ديکھتے ديکھتے جب خديجہ کے بچپن کی مووی پر پہنچی تو پتہ چلا بچپن ميں تو بالکل مختلف تھی پہلے جاپانی يا چائينيز لگتی تھی اب ہماری طرح لگتی ہے يعنی بہت خوبصورت پھر سوچا کيا بچہ اسقدر شکل تبديل کر سکتا ہے کہ آنکھيں بھی بدل جائيں جب غور کيا تو وہ تو خديجہ خير الدين تھی
السلام علیکم خرم بھائی
اور کسی نے کمی محسوس کی ہو یا نا کی ہو میں نے محسوس کی تھی اور رضی سے پوچھ لیں میں اکثر آپ کا ذکر ان سے کرتا رہتا ہوں خرم سئنیر کے نام سے اور جب بھی سعود بھائی یا کوئی اور مجھے خرم جونئیر کہتا ہے تو مجھے فوراَ آپ یاد آ جاتے ہیں
خیر بچے تو میرے بھی نہیں ہیں ڈفر بھائی کی طرح لیکن بھانجے عبدالاحد اور امام عالم کا ذکر اکثر کرتا رہتا ہوں میری بھی یہی حالت ہوتی ہے دو دن پہلے مجھے ایک سال مکمل ہوا ہے یہاں اور یقین کریں دو دن پہلے ہی گھر میں نیٹ لگا ہے بھائی نے کیم لگایا تو دونوں کو دیکھا یقین نہین آیا ایک سال میں کتنے بدل گے ہیں اتنے بڑے ہوگے ہیں میں نے سوچا تبصرہ کر لوں پھر ویڈیو دیکھوں گا
ماشا اللہ بچے تو سبھی کیوٹ ہوتے ہیں۔ اولاد کیا چیز بنا دی اللہ تعالی نے اور انسان کے دل میں اس کی کیسی محبت ڈال دی، چاہے جیسا بھی انسان ہو چاہے پتھر دل وہ اس کی محبت سے خود کو بچا نہیں سکتا۔
خیر آپ زیادہ اداس مت ہوئیے، جلد ہی بچے واپس آ جائیں گے، ویسے بچوں کی آڑ میں بھابھی جی کے لیے اداسی تو نہیں
ہا ہا ہا یاسر بھائی کی بات بھی درست ہی لگتی ہے کیوں خرم بھائی
ماشاءاللہ بچیاں بہت پیاری ہیں اور شرارتی بھی میں نے تو ساری ویڈیوز دیکھیں ہیں بہت اچھا لگا اوپن دی ڈور، اوپن دی ڈور
بھٹی صاحب کیا یہ پہلی بار ایسا ہوا ہے جو اتنی اداسی چھائی ہے میں بھی آپکی چھوٹی بیٹی سے بھی چھوٹی مطلب سوا سال کی بیٹی چھوڑ کر آیا ہوں میں آپکی اداسی بہت اچھے طریقے سے سمجھ سکتا ہوں ۔ جب بھی آپ کو یاد آئیں تو ایک بات ضرور سوچا کریں کہ آپکی ماں اور باپ بھی اسی طرح آپ کے لیے تڑپ رکھتے ہیں میں تو ایسا ہی سوچتا ہوں تو میرا غم کچھ کم ہو جاتا ہے ۔
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی بچوں کی محبت بھی رب تعالی نےکیاعجیب رکھی ہے۔ اللہ تعالی آپ کویہ جدائی برداشت کرنی کی ہمت دے۔آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
کمی تو بالکل جناب محسوس ہوئی، نہ صرف بلاگ بلکہ فیس بک پر بھی۔ جہاںتک بات اہل خانہ سے جدائی کی ہے تو آپ کے صرف دو چار فیس بک کے اپڈیٹس سے یہی نتیجہ اخذکیا جا سکتا ہے کہ جیسے کسی جن یا دیو کی جان کسی طوطے میںہوا کرتی تھی، آپ کی جان آپ کی بیٹیوں میںہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ یہ جدائی آپ کے لیے آسان فرمائے اور جلد ہی آپکو فارم میںبھی واپس لائے۔
ڈفر میرے بھائی بس کیا بتاؤں۔ اس درد سا کوئی درد نہیں یہ سمجھو۔


میری پھپھے کُٹنی بہن – آنسو بچے کہاں ہیں؟ آگ میں بھلا پانی بھی کبھی بچتا ہے؟ اُڑ اُڑا گئے کب کے۔ اور خدیجہ کی مووی پسندکرنے کا شکریہ
خرم بھائی۔ یہ سب آپ کی محبت ہے میرے پیارے بھائی۔ اللہ کریم آپ کو ہر جگہ اور ہر وقت خوش رکھے۔ آمین۔
یاسر بھائی ۔ یقیناً یہ پیار اللہ کا کرم ہے۔ اور جو بات آپ نے دوسری کہی وہ بھی کچھ حد تک درست ہے یہ الگ بات کہ سورج کی روشنی میں چاند نظر نہیں آتا۔
کامی بھائی ۔ بندے کو اپنادُکھ ہی یاد ہوتا ہے نا۔ اماں کے پاس تو باقی ساری اولاد ہے، میری تو ساری اولاد ہی پردیس چلی گئی
جاوید بھائی – آپکی محبتوں اور دعاؤں کا بہت شکریہ۔ اللہ ہمیشہ خوش رکھے۔ آمین۔
عمر بھائی – اللہ خوش رکھے میرے بھائی کو اور میرا یہ بھرم بنائے رکھے۔ آمین۔ اب دو روز سے سکائپ کی وجہ سے صبح شام بچیوںسے بات ہوجاتی ہے تو ہم تینوں باپ بیٹیوں کو کچھ سکون میسر ہے الحمدللہ۔ اس سے پہلے تو دن گزرتے ہی نہیں تھے۔
خرم بھائی کہاں بزی ہیں، اور سنائیے بچے واپس آ گئے کہ نہیں۔
بلاگنگ کو اور ہم ساتھی بلاگروں کو ٹائم دیا کیجیے نا۔۔۔