Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • عہد فراموش کردہ

    اگر آج سوال کیا جائے کہ متحدہ ہندوستان کا پہلا بین الاقوامی اعزاز یافتہ ایتھلیٹ کون تھا تو ہم میں سے اکثر کو اس کا جواب ہی معلوم نہ ہوگا۔ اگر پوچھا جائے کہ 1947 تک برصغیر ہندوپاک کا سب سے مقبول کھیل کونسا تھا تو نئی نسل کے اکثر لوگ چُپ سادھ لیں گے۔ اگر سوال ہو کہ برصغیر میں دو شعبہ جات ایسے رہے جن میں مسلمان اپنے دور زوال میں بھی سب پر حاوی رہے۔ ایک شعر و ادب اور دوسرا کونسا تھا؟؟؟ تو ٹامک ٹوئیوں کی خیر نہیں۔ ایک عہد،  ایک تاریخ کس طرح دیکھتے ہی دیکھتے فراموش کردی جاتی ہے موجودہ موضوع بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ چند دہائیوں کے اندر ایک عظیم الشان روایت، ایک لاثانی فن کس طرح گور کنارے جاپہنچا، کس طرح مقبول عامہ کے منصب سے فراموش کردہ کی تاریکیوں میں جاگرا یہ سب ماجرا چند برسوں کی بات ہے۔

    بات ہو رہی ہے فن پہلوانی کی جو تین صدیوں تک بلاشرکت غیرے برصغیر پاک و ہند کا مقبول ترین کھیل رہا۔ ان تین صدیوں میں واقفان فن نے اسے بام عروج تک پہنچا دیا۔ استاد نورالدین قطب پہلوانی سے لیکر منظور حسین بھولو پہلوان تک ایک طویل فہرست ہے فنکاروں کی جنہوں  نے اپنے خون جگر سے اس فن کی آبیاری کی اور ہر دور میں بلاامتیاز رنگ و نسل اقوام عالم کے شہ زوروں کو نہ صرف للکارا بلکہ پچھاڑا۔ بوٹا پہلوان لاہوری دیودل، غلام پہلوان رستم دوراں، گاما پہلوان رستم زماں ، امام بخش رستم ہند، منظور حسین بھولو،  زبیر جھارا۔۔ ان تمام پہلوانوں نے اپنے دور کے نامور فاتحین کو زیر کیا اور اپنے فن کی برتری کا جھنڈا گاڑا۔ ملکہ وکٹوریہ کا دربار ہو کہ کسی دورافتادہ دیہہ کا میلہ، اس فن کے شائقین ہر جگہ موجود تھے۔ پہلوانی صرف طاقت اور داؤ ہی نہیں بلکہ بلند مکارم اخلاق کی تعلیم و ترویج اور پاسداری کا فریضہ بھی سرانجام دیتی تھی کہ فن پہلوانی میں سب سے زیادہ اہمیت طاقت یا داؤ کی نہیں ہوتی تھی بلکہ سب سے پہلی چیز جو استاد اپنے شاگرد کو تعلیم کرتا تھا وہ عمدہ مکارم تھی۔ فضولیات سے پرہیز و اجتناب شرط اول تھی اور لنگوٹ کا پکا ہونا سب سے اہم۔ اخلاق سے گری ہوئی حرکت قابل دست اندازی پہلواناں سمجھی جاتی تھی۔ ایک پہلوان تمام علاقے کی عزت و آبرو کا محافظ سمجھا جاتا تھا اور وہ ایسا بن کر بھی دکھاتے تھے۔ اوائل بیسویں صدی کا واقع ہے کہ لاہور کے مشہور پہلوان خلیفہ غلام محی الدین کا نوجوان صاحبزادہ "منڈوا" دیکھ آیا۔ خلیفہ صاحب موصوف نے پہلوانی کے گرز اور ورزش کا سامان گھر سے اُٹھا کر باہر پھینک دیا کہ اب پہلوانی اس گھر سے کوچ کر گئی۔ ایک پہلوان کو صرف طاقت ہی نہیں عمدہ مکارم بھی اپنانے ہوتے تھے وگرنہ وہ پہلوان نہیں "بدمعاش" کے نام سے جانا جاتا تھا۔

    عمومی نظریہ کے برعکس فن پہلوانی میں داؤ کو طاقت پر فوقیت حاصل ہے۔ "داؤ پر آیا پہاڑ بھی رائی" پہلوانی کی ایک عام اصطلاح ہے۔ پہلوانی دیوار کو اندھی طاقت سے گرانے کا نہیں حریف کے کمزور مقام پر مناسب موقع پر بھرپور وار کرنے کا نام ہے۔ فن پہلوانی میں کم و بیش تین سو ساٹھ داؤ ہیں جن میں سے ہر داؤ کے کئی انداز ہیں۔ فن پہلوانی میں حریف کو مار مار کر اس کا بھرکس نکالنانہیں بلکہ چت کردینا مقصود ہوتا تھا۔ سرکاری بندوبستی علاقہ جات میں جس پہلوان کےکاندھے زمین پر لگ جاتے وہ چت سمجھا جاتا۔ ریاستی قوانین میں البتہ چت کرنے کے لئے تمام کمر کا زمین پر لگنا ضروری ہوتا تھا۔ تمام داؤ اور تمام ورزشوں کا مطمع یہی انجام ہوتا تھا کہ حریف کو چت کردیا جائے۔ یہ اندھا دھند لاتیں گھونسے چلانا تو بازاری چلن ہے جو فری سٹائل کے نام پر مروج ہے، فن پہلوانی میں اس کی کوئی گنجائش نہ تھی۔

    جسمانی طاقت کے لئے جو ورزشیں مقرر تھیں ان میں بیک وقت طاقت اور سٹیمنا بڑھانے پر زور دیا جاتا تھا اور ایک عضو کے لئے کئی قسم کی ورزشیں مخصوص تھیں۔ پہلوانوں کے لئے خصوصی خوراک مقرر ہوتی تھی جو ان کے پٹھوں اور ہڈیوں کو مطلوبہ توانائی مہیا کرتی تھی۔ حیرت انگیز طور پر اٹھارہویں صدی  کے پہلوان کی خوراک بھی انہی اجزاء پر مشتمل ہوتی تھی جو آج کے بین الاقوامی ایتھلیٹوں کی خوراک کا جزو ہیں۔ خوراک میں زیادہ زور لحمیات (Protein) پر دیا جاتا تھا اور ان کے ساتھ مناسب مقدار میں چکنائی اور تازہ پھل شامل خوراک ہوتے تھے۔  چکنائی کے زیادہ استعمال کی صورت میں لازم تھا کہ اتنی مقدار میں حرارے استعمال کئے جائیں۔ خلیفہ غلام محی الدین جن کا اوپر ذکر کیا ان کی عادت تھی کہ ہر روز صبح ایک سیر سرسوں کا تیل پیا کرتے تھے۔ اس تیل کو جزو بدن بنانے کے لئے انہیں ہر روز بادشاہی مسجد کا مینار ایک سو دفعہ بھاگ کر چڑھنا اور اترنا ہوتا تھا۔ معمول کی باقی ورزش اس کے علاوہ تھی۔ ورزش کا ایک اہم جزو "زور" کرنا ہوتا تھا جس میں پہلوان اپنے شاگردوں کو نہ صرف نئے داؤ سکھاتے تھے بلکہ خود ان کی مشق بھی کرتے تھے۔ "زور کروانے" کا عملی مطلب یہ ہے کہ پہلوان کی تمام تر طاقت کو زائل کردینا۔بڑے پہلوان زور کرنے کے اس عمل کے دوران تیس سے پچاس پہلوانوں کو "زور "کروایا کرتے تھے۔ کئی ایسے بھی تھے جنہیں اس کے بعد بھی رہٹ وغیرہ چلا کر اپنی طاقت کو زائل کرنا ہوتا تھا۔ ایک نام گوجرانوالہ کے رحیم بخش سلطانی پہلوان کا ہے کہ معمول کی ورزش اور زوروں کے بعد وہ رات کو رہٹ چلا کر لوگوں کے کھیتوں کو پانی دیتے تھے۔ اس سب کا مقصد ہوتا تھا کہ جسمانی طاقت اور سٹیمنا میں ترقی ہوتی رہے اور جمود طاری نہ ہو۔

    اس تمام مشقت و ریاضت کا نتیجہ تھا کہ پہلوان اس دور کا سب سے قیمتی اثاثہ سمجھے جاتے تھے۔ راجواڑے ان پہلوانوں کو ملازمتیں دیتے اور انہیں سہولیات مہیا کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی جستجو کرتے۔ پہلوانی جاہلوں کا نہیں بلکہ نفیس لوگوں کا پیشہ تھا۔ والیان ریاست کے درباروں میں  نشست و برخاست ایک اچھے پہلوان کا معمول ہوتا تھا۔ یہ روایت پاکستان میں منظور حسین بھولو تک موجود رہی جن کے صدر پاکستان سے ذاتی تعلقات ہوتے تھے اور صدر پاکستان کے اصرار پر ہی انہوں نے ناصر بھولو اور زبیر جھارا کو فن پہلوانی کی تعلیم کے لئے وقف کیا۔ درباری وابستگی سے قطع نظر ایک پہلوان ہر ریاست میں قابل قدر سمجھا جاتا جیسے ہیرا کسی کا بھی ہو اس کی قدر ہر کوئی کرتا ہے۔ میڈیا سے پاک اس دور میں بھی پہلوان عوامی پسندیدگی کے اس درجہ پر فائز تھے جسے سلیبریٹی کہا جاتا ہے اور لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے پروانہ وار ٹوٹ پڑتے تھے۔ کئی پہلوان تو ایسے تھے جو لوک داستان کے مرتبے پر فائز ہوئے کلو پہلوان ستارہ ہند، گونگا پہلوان رستم ہند، کالیا پہلوان جلالپوری، قادر بخش بچہ پہلوان ملتانی، صدیقا پہلوان گلگو ایسے ہی چند نام ہیں۔

    بدقسمتی سےتقسیم ہند کے بعد راجواڑوں کی موت کے ساتھ فن پہلوانی بھی زوال کی جانب گامزن ہوگیا۔ ہندو پاک کی سرکاروں نے جو حشر باقی شعبہ جات کے ساتھ کیا وہی حال پہلوانی کا ہوا۔ پہلوانی ایک جز وقتی شوق نہیں کل وقتی پیشہ ہے اور ویسی ہی یکسوئی اور ارتکاز مانگتی ہے۔ ایک پہلوان ایک فرد نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ بیس سے ساٹھ دوسرے افراد ہوتے ہیں جو ایک پورا نظام(اکھاڑہ) بناتے ہیں۔ اس سب کچھ کے لئے پیسہ چاہئے ہوتا ہے جو انفرادی حیثیت میں ممکن نہیں ہوتا۔ حکومتوں کو اپنا پیٹ بھرنے سے فرصت نہ تھی پہلوانی کی طرف توجہ کون کرتا؟ دور کیوں جائیں؟؟ گاما پہلوان رستم زماں جو غیر منقسم ہندوستان کے پہلے بین الاقوامی اعزاز یافتہ ایتھلیٹ تھے، ریاست پٹیالہ میں جنہیں جاگیریں اور باغات دئیے گئے تھے، پاکستان میں اپنے آخری ایام میں قریباً کسمپرسی کے عالم میں زندہ رہے۔ نہ جاگیریں ملیں اور نہ باغات۔ بھولو برادران جن کی راجےاور نوابان ناز برداریاں کرتے تھے، پاکستان میں بیت الخلا کے ٹھیکے لے کر رشتہ جسم و جاں چلانے پر موجود تھے۔ ملک کے باقی حصوں میں تو حال اس سے بھی پتلا تھا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ فن پہلوانی ہماری یادداشتوں سے بھی محو ہوچکا ہے۔ چند ایک ٹمٹماتے ہوئے چراغ موجود ہیں جو اس شاندار عہد کی یادگار ہیں لیکن عوامی اور حکومتی بے حسی انہیں گُل کیا چاہتی ہے۔ جس ملک میں کرکٹ ایسے فضول کھیل پر اربوں لُٹائے جاتے ہیں وہاں پہلوانی ایسی صحت مند سرگرمی کے لئے کوئی جگہ نہیں، کوئی سپانسر نہیں، کوئی وظیفہ نہیں۔ صد حیف۔


  • Wednesday, January 20, 2010 at 11:23 | #1

    اب ہم لوگوں کی دلچسپی ٹی وی پر نورا کشتی (ریسلنگ( دیکھنے تک ہی ہے

  • Wednesday, January 20, 2010 at 11:45 | #2

    برِ صغیر سے پہلے تیں چمپیئن تھے
    گاماں پہلوان ۔ کُشتی
    ملکھا سنگھ ۔ دوڑ
    عبدالخالق ۔ ہَیمر تھرو

  • خرم
    Wednesday, January 20, 2010 at 12:09 | #3

    جی انکل ۔ پہلا بین الاقوامی ایتھلیٹ گاما پہلوان رستم زماں کو ہی مانا جاتا ہے۔ اور انہوں نے ہی پہلی دفعہ کسی بھی کھیل میں ورلڈ چیمپیئن شپ جیتی تھی۔

  • نبیل
    Wednesday, January 20, 2010 at 12:35 | #4

    یہ معلومات فراہم کرنے کا شکریہ خرم۔
    پہلوانی غیر منقسم ہندوستان میں عروج پر رہی ہوگی لیکن پاکستان کے کھلاڑیوں نے جس کھیل میں لاثانی مرتبہ حاصل کیا تھا وہ سکواش ہے۔ جہانگیر خان پانچ سال سے زیادہ عرصہ تک ناقابل شکست رہا تھا۔ یہ سکواش ہی نہیں بلکہ کسی بھی سپورٹس کا ناقابل فراموش ریکارڈ ہے۔ مجھے کبھی وقت ملا تو اس پر ضرور لکھوں گا۔

  • Wednesday, January 20, 2010 at 12:41 | #5

    میری والدہ کے مطابق کشتی رانی کبھی اتنا ہی مقبول کھیل تھا جتنا آج کرکٹ ہے۔
    مگر آج صرف ;-( ;-( ;-( ;-(

  • Wednesday, January 20, 2010 at 12:43 | #6

    بہت خوب، خرم صاحب بلاشبہ آب پاکستان سنوارنے کی بات کر رہے ہیں :o)

  • خرم
    Wednesday, January 20, 2010 at 13:28 | #7

    نبیل بھائی – جہانگیر خان تو صرف پانچ برس ناقابل شکست رہا تھا گاما پہلوان رستم زماں‌اور بھولو پہلوان تو تمام عمر ناقابل شکست رہے۔ جہانگیر خان کی عظمت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن آج سکواش میں بھی ہمارے پاس عہد رفتہ کی یادوں کے سوا کچھ نہیں اور کچھ عجب نہیں کہ اگلے بیس برس بعد یہ یادیں بھی دھندلا جائیں۔
    فرحان – آپکی والدہ کا فرمانا درست ہے۔ ہمارے یہاں کسی بھی صحت مند سرگرمی کی سرپرستی کی ہی نہیں گئی۔
    عمر – وہ انگریزی میں کہتے ہیں نا One baby step at a time.

  • Wednesday, January 20, 2010 at 13:47 | #8

    ہم نے بھی کئی دنگل اپنے شہر میں دیکھے ہیں‌ مگر اب واقعی دنگل وغیرہ نام کی چیز کا کسی کو علم ہی نہیں۔ اب لوگوں کو موبائل، کمپیوٹر اور کیبل سے ہی فرصت نہیں‌وہ پہلوانی کیا کریں گے۔
    پہلوانی خوراک کو چھوڑ کر سب سے سستا کھیل تھا۔ بس ایک جگہ اکھاڑا بنایا اور کھیل شروع۔ شاگرد اس اکھاڑے کی مٹی نرم رکھنے کیلیے اسے پانی دیتے اور کہی سے اسے مکس کرتے۔ ڈھول اس کھیل کا لازمی جزو رہا ہے اور ڈھول کی تھاپ پر پہلوانوں کا شہر کا چکر اپنی مثال آپ ہوا کرتا تھا۔ دنگل کا اعلان کرنے والا ڈھولچی گلی گلی ڈھول پیٹ کر دنگل کا اعلان کیا کرتا تھا۔

  • اسماء پيرس
    Wednesday, January 20, 2010 at 14:10 | #9

    آج آپکو پہلوان بہت ياد آ رہے ہيں لگتا ہے نئی نئی کٹ کھائی ہے ہماری بھابی پہلوان سے

  • Wednesday, January 20, 2010 at 14:14 | #10

    کبڈی کا کھیل بھی تو ایسا ہی تھا ۔میں نے بچپن میں ایسے مقابلے دیکھے ہیں کہ مزہ آ جاتا تھا ۔ اس کھیل میں پھرتی اور حاضر دماغی بلا کی چاہیے ورنہ فریق مخالف تھپڑ مار مار کر منہ لال کر دیتا تھا ۔

  • Wednesday, January 20, 2010 at 16:35 | #11

    بہت سے کھیل ایسے ہیں جو فراموش کر دے گے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں

  • Thursday, January 21, 2010 at 00:14 | #12

    اس تحریر سے مجھے وہ قصے یاد آگئے ہیں جو میرے والد اکثر سنایا کرتے ہیں۔ مجھے تو دنگل دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں‌ہوا لیکن پاکستان بننے کےبعد ہونے والے تقریبا سارے قابل ذکر دنگلوں کی روداد سن چکا ہوں بزبان والد۔۔۔

  • Thursday, January 21, 2010 at 00:52 | #13

    بہت ہی انوکھے موضوع پر لکھا ہے آپ نے اور بہت خوب لکھا ہے۔ آپ انہی کھیلوں کے بارے میں سوچ لیں جو ہم بچپن میں کھیلا کرتے تھے، کہ وہی دم توڑ گئے ہیں۔ آج کل کے بچے تو موبائل اور کمپیوٹر کے گیمز کے شائق ہیں یا پھر سرکاری سرپرستی بھی صرف کرکٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جو اربوں روپے کے اخراجات کے باوجود جو کارنامے انجام دے رہے ہیں وہ آپ آسٹریلیا میں دیکھ رہے ہیں۔ کبڈی جیسا مقامی کھیل جو گلی گلی کھیلا جاتا تھا اب دیہات میں بھی شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔

  • Saturday, January 23, 2010 at 04:06 | #14

    امریکنوں نے اچھی مارکیٹنگ ، رنگ و نور کاطوفان، بہترین سائونڈ سسٹم، مصنوعی روشنیاں اور جھوٹا سسپنس ڈال کر پہلوانی نما فن کو ریسلنگ کی شکل میں‌کس قدر اوپر پہنچا دیا ہے، ڈبلیو ڈبلیو ای بیشتر خبروں والے چینلز سے زیادہ دیکھا جاتا ہے، تمام ریسلرز، انتظامیہ اور اس سے منسلک افراد لاکھوں میں‌کما رہے ہیں ،شائقین دیوانگی کی حد تک دیکھنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں، جب کہ ہمارے اکھاڑے اجڑ چکے ہیں
    کسی بھی فن یا انڈسٹری کو جب تک جدید دور کی ضروریات کے مطابق موڑا نہیں جائے گا، اس قائم نہیں رکھا جا سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  • Tuesday, January 26, 2010 at 16:06 | #15

    مگر ہماری نوجوان نسل تو ریک فلیر ،ہولک ہوگن اور شان مئیکل کو جانتے ہیں یہی انکے سٹار ہیں ہر دوسرے نوجوان نے انکی تصویر والی شرٹ زیب تن کر رکھی ہے ۔ ویسے آپکی معلومات بھی زبردست ہیں بھٹی صاحب بہت شکریہ ۔ :-*

  • خرم
    Wednesday, January 27, 2010 at 11:09 | #16

    افضل بھائی – یہ موبائل وغیرہا اسی لئے ہماری نئی نسل کی جان ہیں کہ انہیں ہم نے کوئی صحت مند سرگرمی اپنانے کا موقع ہی نہیں‌دیا۔ نہ کھیل کے میدان ہیں نہ ورزش کے اکھاڑے اور نہ صحت مند مقابلے۔ جس معاشرہ میں کھیل کود کو “وقت کا ضیاع” سمجھا جائے وہاں ایس ایم ایس ایسی ہی “صحت مند” سرگرمی پروان پاسکتی ہے۔
    اسماء بہنا – یہ تو آپ نے نندوں والی بات کی ہے۔ :-[
    ریاض بھائی – بہت شکریہ تشریف آوری کا۔ کبڈی یقیناً بہت خوبصورت کھیل ہے لیکن اب رو بہ زوال ہے حالانکہ برطانیہ میں تو وہ اپنی سپیشل فورسز کو کبڈی کھلاتے ہیں کہ ان کے ریفلیکسز تیز ہوں۔
    خرم – یہی تو المیہ ہے میرے بھائی کہ کھیل بھی اب ایس ایم ایس میں سمٹ آئے ہیں اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
    جعفر – آپ کے ابا تو صاحب ذوق ہیں ماشاء اللہ۔ انہیں میرا سلام کہئے گا۔
    فہد بھائی – اوروں کی نقالی کرتے کرتے اپنا حشر خراب کرڈالا ہم نے۔ بچپن میں کرکٹ ہم نے بھی بہت کھیلی لیکن اب سوچتے ہیں کہ کیا بے تُکا کھیل ہے؟؟؟ بھلا جو چیز ہو ہی “بائی چانس” اس کو کھیلنے سے کیا حاصل؟
    یاسر بھائی – یہی تو مسئلہ ہے۔ اس سب کچھ کے لئے پیسہ اور عقل چاہئے۔ وہ کہاں سے آئے یہ علم ہی نہیں وگرنہ صلاحیت کی تو کمی نہیں۔
    کامی بھائی – نوجوان نسل کو جب دیکھنے کو ہی وہ ملیں گے تو کسی اور کو جانیں گے بھی کیسے بھلا؟ اسی بات کا تو رونا ہے۔ :-(

تبصرہ کریں

:o) :-D :-( ;-) :-P =-O 8-) :-/ :-! C:-) :-(|) O-) :@ :-[ (B) (^) (P) (@) (O) (D) :-S ;-( (C) (&) :-$ (E) (~) :-* (I) (L) (8) (T) (G) (F) (*) (N) (Y) (U) (W)

TOP