![]()
جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں عرض کیا تھا، دو جنوری 2010 کی صبح کا سب سے اہم مسئلہ نور کی اماں کی چوڑیوں کی بازیابی تھا۔ جب ہوٹل والوں نے ان کی چوڑیوں کی بحفاظت موجودی کی تصدیق کی تو مانئے کہ پورے گھر نے سکون کا سانس لیا۔ حتٰی کہ نور کی اماں نے دودھ کے ڈبے کے ساتھ نور کے کھیلنے کا بھی چنداں بُرا نہیں مانا۔ ان کی اس نیم رضامندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم دونوں باپ بیٹی نے ایک چھوٹا سا فوٹو سیشن کرڈالا جس میں تمام وقت میں کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح ہمہ وقت متحرک نور کو کیمرے کے فریم میں قید کرسکوں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ گفتگو بھی جاری رہی کہ اب ہیوسٹن میں کیا کِیا جائے؟ اب کے برس جب ٹھنڈی ہواؤں نے امریکی جنوب کا رُخ کیا تو یکایک ہیوسٹن میں ہمارے گھومنے کی جگہیں بہت محدود ہوگئیں۔ انٹرنیٹ پر کھوجا تو معلوم پڑا کہ ہیوسٹن کا عجائب گھر دیکھنے کی چیز ہے۔
اگرچہ طبعاً مجھے عجائب گھر بہت اچھے لگتے ہیں لیکن اپنے قریباً نوسالہ قیام امریکہ کے دوران کہیں ذہن میں یہ بات ہمیشہ موجود رہی کہ امریکیوں کی تاریخ اتنی قدیم نہیں کہ ان کے عجائب گھروں میں جاکر وقت اور پیسے ضائع کئےجائیں۔ بھلا دو سو برس قدیم عمارات و نوادر بھی کوئی نوادر ہوئے؟ اتنی پُرانی عمارات و نوادر سے تو ہمارا مُلک بھرا پڑا ہے اگرچہ ہم نہایت محنت سے کوشش کررہے ہیں کہ یہ تمام ہونق سی عمارات گرا کر وہاں حسین و جمیل نئے ڈیزائن کے پلازے کھڑے کئے جائیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہاں ہر چیز کا عجائب گھر ہے۔ موسیقی کا، کیمرے سے لی گئی تصاویر کا، کسی ایک پُرانے گھر کے فرنیچر کا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں مجھ ایسا بندہ تو اُکتا کر ہی عجائب گھر جانے سے باغی ہوجاتا ہے کہ ایک کام کی چیز دیکھنے کے لئے پچاس جگہ خجل خوار ہوا جائے۔ نور کی اماں نے زندگی میں کوئی عجائب گھر نہیں دیکھا تھا اور اپنے اس ریکارڈ کو توڑنے کا ان کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ لیکن ہیوسٹن کے عجائب گھر میں دو چیزیں ایسی تھیں جن کی وجہ سے وہاں جانا ایک اچھا منصوبہ معلوم پڑا۔ ایک تو یہ کہ وہاں ڈاینوسار کے ڈھانچے موجود تھے جو ہم نور کی اماں کو دکھانا چاہتے تھے کہ موصوفہ یہ مانتی ہی نہ تھیں کہ وہ اس قدر عظیم الجثہ تھے جتنا ہم انہیں بتاتے ہیں۔ اور دوجا یہ کہ وہاں ایک تتلیوں کا باغ تھا۔ سو ایک روائتی عجائب گھر کے تصور سے ہٹ کر بھی کچھ کرنے کو تھا بچوں کے لئے۔ ایک اور وجہ بھی بعد میں دریافت ہوئی جس کے بعد نور کی اماں کو ناصرف یہ عجائب گھر بہت پسند آیا بلکہ مستقبل میں عجائب گھر دیکھنے کی بھی اجازت مل گئی لیکن اس پر کچھ بعد میں۔
ناشتہ اور لنچ ایک ساتھ کھانے کے بعد ہم روانہ ہوئے عجائب گھر کی طرف۔ ہیوسٹن کا عجائب گھر وہاں کے میڈیکل سٹی کے قریب ہے جو کہ دنیا میں کہیں بھی ہسپتالوں کا سب سے بڑا ارتکاز ہے۔ گاڑی پارکنگ میں لگا کر ہم نے بچوں کی انگلی پکڑی اور میوزیم کے اندر چلے۔ ٹکٹ وغیرہ خریدے اور داخل ہوئے عجائب گھر کے پہلے ہال میں جہاں ہمارا استقبال ایک ٹی ریکس نے کیا جوانتہائی شرافت سے ایک ہیڈروسارس کے پہلو میں کھڑا ہمیں سبق دے رہا تھا کہ شیر اور بکری کیسے ایک ساتھ مِل جُل کر رہ سکتے ہیں۔ اور سچ مانئے تو ہم بھی اس بات کے قائل ہوگئے کہ شیر اور بکری پرامن بقائے باہمی کے اصول پر ایک دوسرے کے پہلو میں خوش آباد رہ سکتے ہیں اگر دونوں "فاسلائزڈ" ہوں۔
نور اور خدیجہ کو بھی گھیر گھار کر ہم ٹی ریکس کے قریب لائے کہ ایک تصویر ان کی لی جائے ٹی ریکس کے ساتھ جیسا اسماء بہنا نے تجویز کیا تھا۔ لیکن مصیبت یہ کہ ٹی ریکس کمبخت اتنا بڑا تھا کہ بچوں کو فریم میں لیتے تو ٹی ریکس باہر نکل جاتا اور اگر ٹی ریکس کو فریم میں لیتے تو بچے نظر ہی نہیں پڑتے تھے۔ سو ایک تصویر کھینچی جس کے متعلق آپ کو ہماری زبان پر ہی اعتبار کرنا ہوگا کہ یہ ٹی ریکس کے پہلو میں لی گئی تھی۔ اور جی نہیں، تصویر میں نظر آنے والا ہاتھ ہرگز ٹی ریکس کا نہیں ہے کہ اگر آپ نے بھول کر بھی ایسی سوچا تو ہمارا حشر اس ہیڈروسارس جیسا ہوگا جو زندہ حالت میں ایک ٹی ریکس کے قریب آجائے۔
لیکن اس نمائش کا حاصل وہ جملہ تھا جو بیگم نے ڈائنو سار کے ڈھانچے دیکھنے کے بعد ادا کیا کہ "یہ اتنے بڑے تو نہیں ہوتے تھے۔" ہم نے سٹپٹا کر کہا کہ میں اس ٹی ریکس کی پنڈلی کے برابر بھی نہیں ہوں اور یہ سب سے قوی الجثہ حیوان نہ تھا اپنے دور کا بلکہ کافی اوسط جسامت کا حامل تھا، تو موصوفہ گویا ہوئیں " آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر میرا تصور ان کے متعلق زیادہ دیو قامت تھا۔"
اس کے بعد مزید بحث کی گنجائش ہی نہ تھی۔ اس عجائب گھر میں ایک ندرت یہ تھی کہ جہاں کاسٹ کئے ہوئے ڈھانچے موجود تھے وہیں کچھ تصوراتی سی تصاویر بنا کر بھی ڈائنو سار کے باہمی رشتوں کو واضح کیا تھا ۔ انہی میں سے ایک منظر میں دو ڈائنو سار ایک اُڑنے والے ڈائنو سار سے یا تو زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے یا اس کے سُنائے ہوئے کسی لطیفے پر ہنس رہے تھے۔ ہمیں تو سمجھ نہیں آئی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ عجائب گھر میں کچھ "باقاعدہ" فاسلز بھی رکھے ہوئے تھے جن میں سے اکثریت سمندری جانداروں کی تھی۔ زمانہ قریب کے جانداروں میں سے میمتھ (Mammoth) اور اس دور کے چند دیگر جانداروں کے ڈھانچے بھی نمائش میں موجود تھے۔ نیچے ہی ایک پنڈولم بھی جھول رہا تھا جو نجانے کب سے اسی طرح جھولے جارہا تھا۔ اس کے اردگرد ایک بڑے سے دائرے میں لکڑی کے بلاک دھرے تھے۔ پنڈولم کی حرکت شائد زمین کی محوری گردش سے مطابق تھی کہ ان میں سے چند بلاک نیچے گرے ہوئے تھے لیکن ہم جتنا بھی عرصہ عجائب گھر میں موجود رہے پنڈولم نے کوئی بلاک نیچے نہیں گرایا اور ایک ہی خط میں متواتر حرکت کئے گیا۔
![]()
ڈائنوسار سے فارغ ہوکر پہلی منزل پر چڑھے تو وہاں رنگا رنگ سمندری اور زمینی حیات کے نمونے موجود تھے جن میں سے ہمیں سب سے زیادہ یہ گھونگھے پسند آئے جن کے رنگوں اور شکلوں میں تنوع ان کے خالق کی قدرت کا مُنہ بولتا ثبوت تھے۔ اس ہال کا ایک حصہ ان گھونگھوں کی نمائش کے لئے مخصوص تھاتو دوسرے حصہ میں امریکہ اور افریقہ کی مختلف جنگلی حیات کے حنوط شدہ نمونے موجود تھے۔ کیونکہ ہمارا ارادہ اگلے روز چڑیا گھر جاکر زندہ حیوانات کو دیکھنا تھا سو ہمیں حنوط شدہ جانوروں میں کچھ اتنی زیادہ دلچسپی نہ تھی اگرچہ فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ بہت خوبصورتی سے کیا تھا بالخصوص حنوط شدہ جانوروں کی مدد سے دو شیروں کا ایک زیبرے کو شکار کرنے کا منظر بہت خوب تھا۔
جانوروں سے فارغ ہوئے تو ایک اور حصہ قیمتی پتھروں کی نمائش کے لئے محفوظ تھا اور ہماری پارٹی میں شریک ایک فرد کو اس مخصوص حصہ میں انتہائی کشش محسوس ہوئی۔ بچیاں کیونکہ ابھی چھوٹی ہیں سو اس اندھیرے سے علاقے میں انہوں نے اپنی بے چینی کا اظہار شروع کردیا۔ کچھ عمل اس میں شائد تھکاوٹ کا بھی تھا۔ شوہر نامدار اور والد گرامی ہونے کے ناطے ہمارے ذمہ گاڑی سے سٹرولر لانا ٹھہرا۔ سٹرولر لانے کے بعد بچیوں کو اس میں مقید کیا اور تسلی سے پتھروں کو دیکھنا شروع کیا۔ سب سے زیادہ خوشی تو اس عجائب گھر میں پاکستان سے لائے گئے پتھروں کو دیکھ کر ہوئی جن میں سے ایک تو نمائش کی انتہائی ابتداء میں اپنے جلوے بکھیر رہا تھا۔ ہم نے کوشش تو کی کہ کسی طرح
ان پتھروں کے حسن کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرسکیں لیکن ہمیں اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔ ایک اور بات ہمارے مشاہدہ میں آئی کہ پاکستان میں پایا جانے والا پتھر حیرت انگیز طور پر برازیل کے پتھر سے مماثل تھا اور دونوں کی شفافیت اور رنگ ناقابل امتیاز تھے۔ کچھ پتھروں میں تو ایسے نقش و نگار بنے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی اور چند ایک ایسے شیشے کی مانند شفاف کہ انسان سوچنے پر مجبور ہوجائے۔ خالق کائنات کی صناعی کی نشانیاں اس زمین میں کس قدر تواتر سے بکھری پڑی ہیں ان کا اندازہ ان پتھروں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ آپ بھی دیکھئے ان میں سے چند نمونے۔
پتھروں کے علاوہ اس حصہ میں زیورات بھی موجود تھے جن میں سے چند اٹھارہویں صدی کے زار روس کے عہد کے تھے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔ ان نوادرات کے علاوہ ہیوسٹن کے صرافوں کے بنے ہوئے جڑاؤ زیورات بھی اس نمائش کا حصہ تھے۔ ان زیورات میں ہمیں تو کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن خاتون خانہ نے بہرحال انہیں یکساں ذوق و شوق سے ملاحظہ کیا۔ اس تمام عمل کے دوران خدیجہ تو سو چُکی تھیں نور البتہ ہمیشہ کی طرح چاک و چوبند تھی اگرچہ اس حصہ سے مکمل بیزاری کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً کررہی تھیں۔ انہیں بہلانے کو ہم انہیں بار بار یہ یاد دہانی کرواتے رہے کہ ابھی تتلیاں دیکھنے چلیں گے۔ِ
قیمتی پتھروں کے علاقے سے فارغ ہوئے توحسب وعدہ چلے تتلیوں کی نمائش والے حصہ میں۔ خدیجہ اس وقت تک تھکاوٹ کا شکار ہو کر دُنیا و مافیہا سے بے خبر سو چُکی تھیں۔ جب نمائش کے دروازے پر پہنچے تو وہاں موجود خاتون نے مطلع کیا کہ اندر سٹرولر لے کر جانا منع ہے۔ نور کی اماں نے تجویز کیا کہ وہ پہلے نمائش دیکھ آتی ہیں اور میں اور نور بعد میں اندر چلے جائیں کہ اگر خدیجہ کو سوتے ہوئے بیدار کیا جاتا تو پھر تمام نمائش کے خالی ہونے کا خطرہ تھا۔
بات معقول تھی لہٰذا بیگم تتلیوں کے دیس گئیں اور ہم کوشش کرنے لگے نور اور خدیجہ کو کیمرے کی آنکھ میں پکڑنے کی۔ خدیجہ تو سور ہی تھیں سو ان کی تصویر اتارنا اتنا مشکل نہ تھا لیکن نور کو جیسے ہی معلوم پڑا کہ ہم ان کی تصویر بنانا چاہتے ہیں، انہوں نے اسے ایک کھیل بنا لیا۔ اس کھیل کے دوران بہت سے "بلائنڈ شاٹ" لئے گئے جن میں نور کی طرف کیمرے کا مُنہ کرکےاندھا دُھند بٹن دبا دیا گیا تھا۔ ایسا ہی ایک شاٹ یہ تھا جس میں نور کیمرے سے بچنے کی کوشش میں ہمارے ہی پیچھے جا چھُپی تھیں اور ہمارا کمال اس میں صرف یہ تھا کہ کاندھے کے اوپر کیمرا کرکے "کلک"۔
بیگم توقع سے جلد تتلیاں دیکھ کر فارغ ہوگئیں۔ ان کے آنے پر ہم نے سوتی ہوئی خدیجہ کو سٹرولر سمیت ان کے سپرد کیا اور دونوں باپ بیٹی چلے تتلیاں دیکھنے کہ پکڑنے کی مناہی تھی۔ اندر ایک گرین ہاؤس نما ماحول میں ڈھیروں رنگوں کی تتلیاں ہر طرف اُڑتی پھر رہی تھیں اور ہر عمر کے بچے ان کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ نور نے بھی حسب توفیق اس بھاگ دوڑ میں حصہ لیا اوراس دوران ہم نے کچھ تتلیوں کے رنگ اپنے کیمرے میں بھرے۔ کچھ عرصہ بعد خدیجہ اور اس کی اماں بھی ہمارے ساتھ آموجود ہوئیں۔ شام کے سائے ڈھل رہے تھے جب نگرانوں کے اعلان کیا کہ اب نمائش کا وقت ختم ہورہاہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی میوزیم میں ہمارے پہلے دن کا اختتام ہوا اور حسین یادوں اور تصاویر کے ساتھ ہم واپس ہوٹل روانہ ہوئے۔
آہ ہا، مزہ آ گیا اس سیر کا۔۔۔۔۔۔۔
بے فکر رہیںہم اس ہاتھ بارے ایسا کچھ نہیںسوچیںگے
ہم نے بھی یہ عجائب گھر چند سال قبل بچوں کیساتھ دیکھا تھا اور ہمارے بچوں نے خوب مزے لیے تھے۔ ویسے اس طرح کے عجائب گھر دوسرے شہروں میں بھی ہیں۔ ایک ہم مین ہیٹن نیویارک میں بھی چکے ہیں۔
مزہ آیا روئیداد پڑھ کر۔
لو جی ۔ گھر بیٹھے ہم نے امریکہ کے عجائب گھر کی سیر کر لی ۔ آجکل کسی ملک میں چلے جایئے پورا ملک ہی عجائب گھر ہوتا ہے
اچھا شايد يہی وہ ميوزيم ہو جو ميں نے ديکھا تھا ياداشت کم ہے ميری ہيوسٹن کو بوسٹن کر ديا ہو گا ويسے بھی بقول ان کے عورتوں کو دو اپنے پاس سے لگانے کی عادت ہوتی ہے تتلياں ميں نے نہيں ديکھيں تھيں ڈائنو سار البتہ بيسمنٹ ميں شيشے کے ايک کمرے ٹيں موجود تھا اوپری منزل پر جا کر بھی تصوير ميں پورا نہيں سما رہا تھا کيمرہ ميرا جو ناقص تھا بھائی جان ميں سوچ رہی تھی کہ آپ راجپوت ہو کر اتنی پرسکون طبعيت کے مالک کيوں ہيں اب جو تصوير والا ہاتھ ہے اسے ديکھ کر وجہ سمجھ ميں آ گئی ہے
بہت زبردست تحریر ۔۔۔۔ پڑھ کر لطف آ گیا۔
خاص طور پر آپ کے شگفتہ جملوں نے تو تحریر کا مزا ہی دو بالا کر دیا خصوصا یہ جملہ تو شاہکار ہے “تصویر میں نظر آنے والا ہاتھ ہرگز ٹی ریکس کا نہیں ہے کہ اگر آپ نے بھول کر بھی ایسی سوچا تو ہمارا حشر اس ہیڈروسارس جیسا ہوگا جو زندہ حالت میں ایک ٹی ریکس کے قریب آجائے”
سرکار کی جانب سے دیے گئے اعزازات دیکھنے کا مجھے بھی شوق ہے۔ کسی زمانے میں کراچی کے بحریہ عجائب گھر میں نشان حیدر اور کئی اعلیٰ فوجی و شہری اعزازات رکھے ہوئے تھے، اب شاید انہیں نمائش سے ہٹا دیا گیا ہے، مجھے یاد ہے میں صرف نشان حیدر دیکھنے کے لیے تین مرتبہ بحریہ عجائب گھر گیا تھا
البتہ کراچی میں قومی عجائب گھر کے علاوہ ایک اور عجائب گھر دیکھنے کے قابل جگہ ہے وہ ہے فضائیہ کا عجائب گھر۔ یہ شارع فیصل پر پاک فضائیہ کی بیس فیصل میں واقع ہے۔ صفائی ستھرائی اور انتظام کے لحاظ سے میرے خیال میں لاہور کے علاوہ پاکستان کا کوئی عجائب گھر اس کی ٹکر کا نہیں ہوگا۔
عمر بھائی – بہت شکریہ آپکی پسندیدگی اور ہمارے ساتھ “تعاون” کا

یہاںدریافت بھی تو وہ سینکڑوں کی تعداد میں ہوئے ہیں (لکھنا ہزاروںچاہتا تھا)۔ ایک تو میںنے شکاگو کے ہوائی اڈے پر بھی رکھا دیکھا تھا۔ اور تصویر والا ہاتھ آپ نے ابھی دیکھا ہی کہاں ہے۔ جس تن لاگے سو تن جانے 
افضل بھائی – تو پھر تو ہم “عجائب گھر دیکھ” بھائی بھی بن گئے
شاکر بھائی – پسندیدگی کا بہت شکریہ بھیا۔
افتخار انکل – پسندیدگی کا بہت شکریہ۔ آپ کی بات بالکل درست ہے کہ اکثر مغربی ممالک میں تو تاریخ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں البتہ دم توڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ دور کیا جانا۔۔۔ شالیمار باغ کی حالت ہی دیکھ کر دل کُڑھتا ہے۔
اسماء بہنا – آپ نےبوسٹن کا عجائب گھر ہی دیکھا ہوگا۔ امریکہ میں شائد ہر عجائب گھر میں ڈائنو سار رکھنے کا رواج ہے
فہد بھائی ۔ آپ کو تحریر پسند آئی ہمارے پیسے پورے ہوگئے۔ ازمنہ قدیم سے دلچسپی رکھنے والے لوگ بہت کم پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں تو آرکیالوجسٹ شائد بنتے ہی نہیں۔ لاہور کا عجائب گھر واقعی جا کر کھوجانے کی جگہ ہے اگرچہ نوادر کی تعداد وہاں بہت کم ہے۔ ٹیکسلا کا عجائب گھر بھی بہت اچھی جگہ خاص کر جولیاں کی یونیورسٹی بہت خوبصورت جگہ ہے اور سرکپ اور سر سکھ کے آثار بھی۔ بہاولپور کا ننھا سا عجائب گھر بھی چند نوادر رکھتا ہے۔ کراچی انشاء اللہ اب کبھی آنا ہوا تو آپ کے ساتھ مل کر عجائب گھر دیکھیںگے انشاءاللہ۔
بھیء واھ مزا آ گیا بھائ جان
تسنیم – بلاگ پر خوش آمدید اور حوصلہ افزائی کا بے انتہا شکریہ۔