2009 بھی اپنے سے پہلے گزرنے والے اربوں سالوں کی طرح بالآخر قصہ پارینہ بن گیا۔ عجب المیہ ہے کہ جب قلم ایک برس لکھنے کا عادی ہوتا ہے تو وہ برس اپنی آخری سانسوں پر ہوتا ہے۔ زندگی کا یہ سفر اتنی تیزی سے تمام ہورہا ہے کہ مہ و سال کا شمار رکھنا ہی مشکل ہے۔ سال دن اور دن لمحے بن کر گزر رہے ہیں۔ عمر کی نقدی ہر سانس کے ساتھ نہ صرف کم ہورہی ہے بلکہ اس کی قدر بھی گھٹتی جارہی ہے جیسے سٹاک مارکیٹ کریش کرجانے پر کرنسی کی قدر گھٹ جاتی ہے۔اس تمام افراتفری میں جب 2009 کا آخری دن آیا تو ہم اپنے گھر میں اکیلے دُکیلے معہ اہلیہ و دختران موجود تھے۔
"کھا جاؤں گا" معہ اہلیہ (بھابھی) پاکستان سدھارے تھے، ایک دوست گھرانہ شکاگو اور دوجا ورجینیا پدھار چُکا تھا۔
کام سے آجکل فراغت ہے سو یکا یک سوچ آئی کہ کیوں سال کا آخر گھر میں بند گزارا جائے؟ سو فیصلہ کیا کہ ایک سفر پر نکلتے ہیں۔ ارادہ بنا کہ دو روز موبِل الاباما (Mobile, Alabama) اور نیو آرلینز لوئیزی آنا (New Orleans, Louisiana) میں گزارتے ہیں اور سالِ نو کا استقبال وہیں کرکے تیسرے روز واپس آجائیں گے۔ فٹافٹ تیاری پکڑی اور اکتیس دسمبر کی سہ پہر قریباً تین بجے سفرپر روانہ ہوگئے۔ رات قریباً ساڑھے گیارہ بجے موبل پہنچے تو لوگ سالِ نو کے استقبال کی تیاریوں میں مشغول تھے۔ ہم بچوں کو سُلا کر خود بھی بستر پر سو گئے کہ اس برس امریکہ کے جنوبی حصے بھی
غیر معمولی طور پرسخت سردی کی لپیٹ میں ہیں اور ساحلی علاقے جہاں درجہ حرار تیس ڈگری سنٹی گریڈ کے آس پاس رہا کرتا تھا، وہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد کے اریب قریب پایا جاتا ہے۔ ہم کیونکہ فلوریڈا میں رہتے ہیں سو ٹھنڈ کے لئے کبھی تیاری کی ہی نہیں اور نہ ہی کبھی بچوں کے لئے گرم کپڑے لئے۔ سو ایک طرح سے بے سروسامانی کا ہی عالم تھا اور ایسے میں باہر جاکر آتش بازی دیکھنا اپنی جان پر ظلم ہی محسوس ہوا۔صبح اُٹھے تو باہر کے حالات کچھ ایسے سازگار معلوم نہ ہوئے کہ بچوں کے ساتھ باہر نکلا جاتا۔ موبل نے ہمیں ویسے بھی کوئی زیادہ متاثر نہیں کیا تھا اس پر مستزاد یہ کہ وہاں حلال کھانا دستیاب نہیں تھا اور سفر میں ہمیں تو ویسے بھی بھوک بہت لگتی ہے۔۔سو فیصلہ یہ ہوا کہ بجائے یہاں دن برباد کرنے کے ہیوسٹن چلا جائے جو امریکہ کا چوتھا بڑا شہر ہے اور جہاں پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد آبادہے اور موبل سے قریباً پانچ سو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
ناشتہ کے بعد بچوں کو گاڑی میں بٹھایا اور سوئے ہیوسٹن روانہ ہوئے۔ تمام دن خیریت سے گزرا اور جب قریباً چھ گھنٹے کے سفر کے بعد مغرب کی نماز کے لئے ٹھہرے تو نور کی اماں پر یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ وہ اپنی سونے کی چودہ چوڑیاں موبل کے ہوٹل میں بھول آئی ہیں۔ اس انکشاف پر ان کی جو حالت ہوئی اس کا اندازہ خواتین کو بخوبی ہوگا۔ ان کا فوری فیصلہ تو یہ تھا کہ فوراً یہ دورہ منسوخ کرکے گھر واپس چلا جائے۔ انہیں سمجھایا کہ سب اللہ کی سپرد ہے اور اگر خدانخواستہ چوڑیاں کھو گئی ہیں تو گھر واپس جانے سے مل تو نہیں جائیں گی۔ ہوٹل والوں کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ صفائی والیاں تو کب کی گھر جاچُکیں اور اب صبح ان کی آمد پر ہی چوڑیوں کی بابت کچھ معلوم ہو سکے گا۔ باقی کا سفر جیسے تیسے کٹا اور امید و بیم کےاس عالم میں رات کوئی نو بجے کا عمل تھا جب ہم ہیوسٹن پہنچے۔ ہیوسٹن میں ماشاء اللہ پاکستانی بہت ہیں اور نتیجہ اس کا یہ کہ پاکستانی کھانا پاکستانی ماحول میں وافر دستیاب ہے۔ پاکستانی کھانے سے ہماری مراد ہے گندا اور پُرانا کھانا اور پاکستانی ماحول سے مراد ہے صفائی سے ہر ممکن بُعد۔ ہم لوگ اپنی عادات میں کسقدر محکم ہیں یہ چیز بھی شائد اسی کا اظہاریہ ہے۔ بیگم کو ایسا کھانا اور ایسی جگہ کھانے سے مناہی ہےسو کچھ دیر تو پریشانی ہوئی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ایک دو ریستوران ایسے موجود تھے جن کے متعلق لوگوں کے تاثرات اچھے تھے۔ ایسے ہی ایک حلال چائینیز ریستوران سے رات کا کھانا کھایا اور ہوٹل آکر بیگم کو دلاسہ دیتے ہوئے ہم تو سو گئے۔ بیگم نے وہ رات البتہ حسب توقع کانٹوں پر گُزاری۔
اگلی صُبح اُٹھے تو بیگم کا اصرار تھا کہ علی الصبح ہوٹل والوں کو فون کیا جائے۔ ان کی بے قراری دیکھتے ہوئے فون کیا تو جواب ملا کہ صفائی والیاں نو بجے کے قریب آتی ہیں ۔ وقت گزاری کے لئے بچوں کو ناشتہ کروانے لے گئے۔اس تمام دوران بیگم کی نظریں جیسے گھڑی سے چپک گئی تھیں اور گھڑی کی سوئیاں تھیں کہ ہلنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ خیر خدا خدا کرکے نو بجے تو پھر ہوٹل کو فون ملایا تو ان کا جواب تھا کہ اس وقت تمام عملہ میٹنگ میں ہے۔ پندرہ بیس منٹ انتظار کے بعد پھر فون کیا تو جواب ملا کہ میٹنگ تو ابھی جاری ہے لیکن آپ کی چوڑیاں بحفاظت موجود ہیں جب چاہیں آکر لے لیں۔ الحمد للہ۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس خبر کے بعد کم از کم اس ہوٹل میں سب سے زیادہ پرمسرت جوڑا کون تھا۔ بیگم کو اپنی چوڑیاں ملنے کی خوشی تھی اور ہمیں اس بات کی کہ ان کے چہرے پر رونق واپس آئی۔ اللہ نے پریشانی سے نجات دی تو فیصلہ یہ ہوا کہ ایک دن میوزیم اور ایک دن چڑیا گھر کی سیر کی جائے اور پھر نیو آرلینز روانگی پکڑی جائے۔ کھانے کے لئے ایک جگہ کا انتخاب ہوا جو ہیوسٹن سے باہر ایک دوسرے شہر میں تھی اور اپنی تعارفی تصویر سے صاف ستھری لگ رہی تھی۔ قریباً دس بارہ میل گاڑی چلا کر وہاں پہنچے تو اس شہر اور ریستوران دونوں کو بہت صاف ستھرا اور خوبصورت پایا۔ دوپہر کا کھانا جی بھر کر کھایا اور پھر ہیوسٹن کے Museum of Natural Sciences کو روانہ ہوئے۔ وہاں کیا کٕیا اور کیا دیکھا اس کی روداد اگلی قسط میں انشاء اللہ۔
اس قسط کا اختتام کرنے سے پہلے میں آپ سب بہن بھائیوں کو بالخصوص اسماء بہنا کو دل کی گہرائیوں سے نئے سال کی مبارک دینا چاہوں گا۔ اسماء بہنا کی تخصیص اس لئے کہ سفر کے دوران ان کی تہنیت کا جواب نہ دے سکا تھا۔ اللہ کرے یہ سال آپ سب کے لئے اور آپ کے پیاروں کے لئے ڈھیروں مسرتیں اور شادمانیاں لائے۔ آمین۔
اس روداد کا شکریہ۔ چوڑیاں ملنے کی مبارکباد کیونکہ سونا اب اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ دوبارہ چوڑیاں بنانا جوئے شیرلانے کے برابر ہوتا۔
زیور ، سونے یا قیمتی پتھروں کے جڑاؤ سے بنا زیور بجائے خود قیمتی ہوتا ہے ، لیکن زیور کے ساتھ گزرے ماہ و سال کی ایک پوری تاریخ جڑی ہوتی ہے۔ اس لئیے بھی ہماری خواتین کو زیور کے ساتھ لگاؤ ہوتا ہے۔
مبارک ہو کہ بہن جی! کی چوڑیاں واپس مل گئیں۔
سفر کی رواداد بھی خوب ہے۔
جی! اور ماشاءاللہ آپ کی دونوں بچیاں بہت پیاری ہیں۔ اللہ انھیں خوش رکھے۔ آمین
آپ کو نیا سال مبارک ہو جناب۔۔ اگلے ہفتے ہمارا بھی ہیوسٹن کا پروگرام ہے دعا کریں کہ ٹھنڈ کچھ کم ہو کہ ہم بھی آپ کی طرح سردی سے دور دور ہی رہتے ہیں اور اس کم بخت سے کچھ خاص بنتی نہیں۔۔
چوڑیاں واپس مل جانے پر مبارک ہوجی۔۔ جاوید صاحب نے درست فرمایا ہے کہ چوڑیوں سے جو تاریخ جڑی ہوتی ہے خواتین کے لیے ان کی اہمیت سونے کی قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی یہ اور اگلے سب سال آپ کیلئے مبارک کرے ۔ آپ کی چوڑیوں کا پڑھ کر مجھے کچھ گذرۓ واقعات یاد آئے ہیں ۔ اِن شاء اللہ جلد لکھوں گا
بھابھی کو بہت بہت مبارک باد دیجیے گا چوڑیاں واپس ملنے کی۔ ویسے حلال کمائی سے حاصل کی گئی چیز اتنی آسانی سے نہیں کھوتی
اچھا اگلی قسط میں ہیوسٹن کے میوزیم آف نیچرل سائنسز کے بارے میں کچھ ضرور بتائیے گا، مجھے اس طرح کے عجائب گھر بہت اچھے لگتے ہیں۔ آخری مرتبہ لاہور کے عجائب گھر گیا تھا تو بڑی مشکل سے ساتھیوں نے باہر نکالا کہ اب تو باہر آ جاؤ، میوزیم بند ہونے والا ہے
بہت شکريہ مبارکباد کا ، ميرا تو دل اوپر نيچے ہو رہا تھا چوڑيوں والی بات پڑھ کر پر ان لوگوں کی ايمانداری ديکھيں کيسے واپس کر ديں چودہ کی چودہ جانتے ہوئے بھی کہ کيا قيمت ہو سکتی ہے پھر ہم لوگ انہيں برا ثابت کرنے کے ليے پتہ نہيں کہاں کہاں سے جواز ڈھونڈھ لاتے ہيں ويسے بھابی چوڑياں بھول کيسے گئيں ميرے پاس تھوڑی سی ہيں مگر گھر سے دس منٹ کے فاصلے پر بھی جاؤں تو جيب ميں ڈال کر لے جاتی ہوں اگر بھول جاؤں تو راستے سے واپس آ جاتی ہوں بس وڈے لوکاں دياں وڈياں گلاں اور ہيوسٹن والا تو نہيں بوسٹن والا سائنس ميوزيم ميں نے بھی ديکھا ہوا ہے بس ٹھيک ہی ہے کافی بڑا تھا سارا نہيں ديکھا آپ بھی بچوں کی تصويريں ہماری طرح ہی بناتے ہيں جس ميں صرف بچے نظر آتے ہيں عرصہ پانچ سال کی فوٹو گرافی کے بعد انکشاف ہوا کوئی اڑوس پڑوس کی تصوير بھی ہونی چاہيے تاکہ بعد ميں پتہ چلے کہاں اور کس موقع کی تصوير تھی اور بجائے شکرانے کے نفل پڑھنے کے آپ لوگ چوڑياں ملنے کے بعد جانوروں کو سلامی پيش کرنے کيوں چل پڑے ابھی اس پر آپکو باقی بلاگر حضرات فتوی جاری کرتے ہيں مگر نہيں فتوی تو صرف انہوں نے ايک شخصيت کے ليے مخصوص کر رکھے ہيں باقيوں کے ليے گنجائش ہے
افضل بھائی – بہت شکریہ آپ کی نیک تمناؤں کا۔ یقیناً چوڑیوں کا ملنا اللہ کریم کی خاص مہربانی ہے اور بیگم کو وسوسہ بھی یہی تھا کہ ساڑھے نو دس ہزار ڈالر کی چیز کوئی واپس کیونکر کرے گا۔

جاوید بھائی – آپ کی بات بالکل درست ہے۔ زیور کی اپنی قیمت تو جو ہوتی ہے سو ہوتی ہے اس سے جُڑی یادیں بہت قیمتی ہوتی ہیں۔ چودہ میں سے آٹھ چوڑیاں نور کے نانا نے اس کی اماں کو تحفتاً دی تھیں سو جذباتی لگاؤ کی شدت کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔
راشد بھائی – سردی تو اس برس جانے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ ابھی سُنا ہے کہ اٹلانٹا میں برف پڑی ہے اور کچھ تو اس ویک اینڈ آرلینڈو میں بھی برف باری کی پیشن گوئیاںکررہے ہیں۔ ہیوسٹن بھی چونکہ سمندر کنارے ہے سو ٹھنڈی ہوائیں کافی پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ تیاری پوری کرکے جائیے گا اور دیسی کھانا کھانے سے پہلے ذبیحہ پر ان کے متعلق تاثرات جانچ لیجئے گا۔ کافی بُرے حال ہیں۔
افتخار انکل – آپ کی نیک تمناؤںکا بہت شکریہ۔ بزرگوں کی دُعاؤں سے کارزار حیات میں آسانی رہتی ہے۔ آپ نے جن یادداشتوں کو بانٹنے کا ذکر کیا ہے ان کا انتظار رہے گا۔
فہد بھائی ۔ بہت شکریہ آپکی مبارک کا۔ انشاء اللہ جلد ہی عجائب گھر کے متعلق اپنی یادوں میں آپ کو شریک کروں گا۔ یہ عقدہ بھی آپ نے کھول دیا کہ آپ کے دوست آپ کو لاہور کے عجائب گھر سے “نکال” کر لے آئے تھے۔۔۔۔۔ میں بھی کہوں کہ “اندر” کی چیز کا باہر کیا کام بھلا؟؟؟
اسماء بہنا۔ اللہ کا یقیناً بہت کرم ہوا وگرنہ کسی کا بھی دل بے ایمان کرنے کو کافی سامان تھا۔ بیگم چوڑیاں معمولاً نہیں پہنتیں اور جب کبھی پہنیں تو خاصا خیال رکھتی ہیں ان کا۔ کچھ حوادث ایسے ہوتے ہیں جن سے مفر ناممکن ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا شائد۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے اس بھول کو پچھتاوا بننے سے بچا لیا۔ بچوں کی تصاویر بس بھاگتے دوڑتے ہی لیں کہ انہیں کیمرے کے فریم میں قید کرنا کافی مشکل ہوتا ہے بالخصوص نور کو۔ اتنا وقت ہی نہیںہوتا کہ پس منظر اور پیش منظر پر غور کرسکیں
ھاھاھاھا ۔۔۔۔۔ خرم بھائی کبھی تو بخش دیا کریں
منظرنامہ کی جانب سے جاری بہترین اردو بلاگ کا ایوارڈ بہت بہت مبارک ہو۔ :mrgreen:
فرحان بھائی – ایوارڈ؟؟؟ کہاں؟؟؟کب؟؟؟؟