ایک بہت لائق احترام بہنا نے اپنے بلاگ پر لکھی ایک تحریر کو اس کے انجام تک پہنچاتے ہوئے اپنی بیٹی کے لئے کہا کہ "اسے محض ایک ذمہ دار عوت نہیں ذمہ دار انسان بننا ہے جو اپنے ماحول کی بہتری کے لئے اپنی قدرتی صلاحیتوں کو استعمال کر سکے۔ جسے اسے دینے میں خدائے پاک نے کسی بخل سے کام نہیں لیا۔" ان الفاظ نے میرے اندر کچھ ہلچل سی مچا دی اور میں نے ان سے استفسار کیا کہ "ایسا لگا جیسے آپ کہہ رہی ہیں کہ عورت انسان نہیں یا شائد یہ کہ عورت ہونا کچھ کمتر بات ہے۔" اس پر ان کا جواب تھا "خرم صاحب، لگتا ہے آپ بہت دنوں سے پاکستانی معاشرے سے بہت ظاہری سی ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ بات عام طور پہ سمجھی اور کہی جاتی ہے کہ اصل میں عورتوں کی سرگرمیاں بہت محدود ہوتی ہیں اور انہیں ان پہ ہی توجہ دینا چاہئیے۔ میں نے اس پہ ہی اشارہ کیا ہے۔اور کوئ بات نہیں۔" ان کی اس بات نے میرے ذہن میں کئی سوال پیدا کئے لیکن ان سے پہلے چلتے ہیں کچھ کڑیاں کھوجتے ہیں ماضی کی۔
1992 ۔ 1993
کی بات ہے، تحقیق کاروں کو ایتھوپیا کے آفار نشیب میں ایک قدیم مخلوق کے آثار ملے۔ کھوپڑی ، جبڑا، دانت اور بازو کی ہڈیاں ملا کر یہ قریباً سترہ ہڈیاں تھیں۔ 1994 میں مزید ہڈیاں دریافت ہونے پر اس مخلوق کے 45 فی صد ڈھانچے کی تشکیل ممکن ہوئی۔ ابتدائی طور پر تو خیال تھا کہ یہ آسٹریلوپیتھیکس نما جاندار کی باقیات ہیں جو موجودہ نسل انسانی کا حیاتیاتی جد ہے لیکن پھر بعد میں اسے ایک نئے حیوان کے طور پر پہچان دی گئی اور اسے آرڈی پیتھیکس کا نام دیا گیا۔ 1999 سے 2003 کے درمیان اس قبیل کے نو مزید جانداروں کی باقیات دریافت کی گئیں جو تینتالیس لاکھ بیس ہزار برس سے لیکر پینتالیس لاکھ دس ہزار برس قدیم تھے۔ تین سو سے ساڑھے تین سو مکعب سینٹی میٹر دماغ کا حامل یہ جاندار آسٹریلوپیتھیکس سے بھی قبل اس کرہ زمین پر موجود تھا اور انسان کے ارتقائی عمل کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس کے دانتوں کے معائنہ سے یہ معلوم ہوا کہ عام بندروں اور لنگوروں کے برعکس یہ جانور ہمہ خور (Omnivore) تھا جیسا کہ انسان ہے۔ موجود بندروں کے برعکس نر اور مادہ کے نوکیلے دانتوں میں بھی قابل ذکر فرق نہ تھا جو اچنبھے کی بات ہے کہ نر بندر اپنے نوکیلے دانتوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اس ہتھیار کا سب سے عمومی استعمال ماداؤں کی رفاقت حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ دانتوں کی اس مختلف بناوٹ سے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ انسانوں اور بندروں کے مشترکہ حیاتیاتی اجداد میں باہمی لڑائی جھگڑا بہت کم ہوا کرتا تھا جو کہ بندروں کی موجودہ عادات سے یکسر مختلف ہے۔
آرڈی پیتھیکس بہرحال انسانوں اور موجودہ بندروں کے مشترک حیاتیاتی جد سے بعد کی مخلوق ہے اور نسل انسانی کے ارتقاء کی ایک کڑی ہے۔ آرڈی پیتھیکس کے پاؤں جہاں درختوں پر پھدکنے کی بجائے زمین پر چلنے میں زیادہ ممد تھےوہیں نر اور مادہ کے درمیان دانتوں کی ساخت میں قابل ذکر فرق کا نہ ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ ان کی آبادی میں طویل المدت جوڑے بنا کر رہنے کا چلن تھا۔ جس بات نے سائنسدانوں کو حیران کیا وہ آرڈی کی زمین پر سیدھا چلنے کی اہلیت تھی۔ آرڈی پیتھیکس کے دانتوں کی ساخت اور اس کے زمین پر سیدھا چلنے کی اہلیت سے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک بڑے دماغ کی نشو نما سے پہلے ہی وہ ایک پیچیدہ معاشرتی نظام کی ابتداء کرچکے تھے اور اس سب کچھ میں سیدھا چلنے کا بہت عمل تھا۔
انسان ہونے کے ناتے دو پاؤں پر سیدھا کھڑا ہوکر چلنا ہمارے لئے معمول کی بات ہے لیکن حیاتیاتی دنیا میں یہ ایک عجوبہ سے کم نہیں۔ دو ٹانگوں پر چلنا ایک انتہائی غیر مستحکم طریقہ ہے جبکہ اس کے برعکس چار ٹانگوں پر چلنا ایک انتہائی مستحکم طریقہ ہے جس میں آپ کا توازن کھونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ پھر دو ٹانگوں پر چلنے کی وجہ سے انسان نہ تو دوسرے جانوروں سے تیز بھاگ سکتا ہے اور نہ زیادہ لمبے فاصلے پیدل طے کرسکتا ہے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ وہ مخلوق جس نے لاکھوں برس قبل چار ٹانگوں پر چلنے کے مستحکم طریقے کو چھوڑ کر دو ٹانگوں پر چلنے کے غیر مستحکم طریقے کو اپنایا، آج اس زمین پر حکومت کر رہی ہے جبکہ اسی کے جن حیاتیاتی بھائی بندوں نے چار پاؤں پر چلنے کو ترجیح دی ان میں سے اکثر اسی کے ہاتھوں معدومیت کے خطرے کا سامنا کررہے ہیں؟
سائنسدان اس سوال کا جواب ایک انتہائی بنیادی حیاتیاتی رویہ میں تلاش کرتے ہیں۔ قدرت نے ہر جاندار میں اپنی نسل کو بڑھانے کے جذبہ کو درجہ اولٰی میں رکھا ہے۔ حیاتیاتی مشاہدات اس نتیجے کی طرف غمازی کرتے ہیں کہ ہر جاندار اپنی تمام عمر اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ایک صحت مند نئی نسل اس دنیا میں چھوڑ کر جائے اور اس کے لئے تمام جانداروں میں بقول ڈارون فطری چناؤ کا نظام قائم ہے جس کے تحت وہ اپنی آئندہ نسل کے لئے ایسی جین چُنتے ہیں جن کی بقا کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی لئے عمومی طور پر نر جانوروں کو ماداؤں کے حصول کے لئے سخت مقابلہ کرنا پڑتا ہے جس کے دوران ان میں سے اکثر ہلاک بھی ہوجاتے ہیں لیکن اس سب سے فطرت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ صرف سب سے صحت مند جین ہی نئی نسل کو منتقل ہوں۔ اس تمام مار دھاڑ کے بعد اکثر جانوروں میں اپنی اولاد کو اچھا آغاز فراہم کرنے کی سعی ملاپ کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے۔ ملاپ کے بعد نر اپنی راہ لیتا ہے اور مادہ اپنی۔
جب انسان کے ارتقائی اجداد نے دو پاؤں پر چلنا شروع کیا تو ایک زبردست تبدیلی پیدا ہوئی۔ دو ٹانگوں پر چلنا اگرچہ دشوار تھا لیکن اس عمل سے ان کے دو ہاتھ فارغ ہوگئے۔ ان دو ہاتھوں نے انہیں اس قابل کیا کہ وہ اپنی اولاد کی پرورش اور نگہداشت کا فرض بانٹ سکتے تھے۔ آپ سوچیں گے وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ اب جوڑے کا ایک فرد خوراک کے حصول کے لئے جاسکتا تھا اور خوراک ملنے پر نہ صرف اپنا پیٹ بھر سکتا تھا بلکہ اپنے ساتھی اور بچے کے لئے وہ خوراک ہاتھوں میں اٹھا کر بھی لاسکتا تھا۔ اس بنیادی تغیر کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ نر اور مادہ صرف ملاپ کے لئے ہی نہیں بلکہ اولاد کی پرورش و نگہداشت تک ایک ساتھ رہنے لگے اور اسی بنیاد پر انہوں نے ایک پیچیدہ معاشرتی نظام کی بنیاد ڈالی۔ جب دو ٹانگوں پر چلنے نے انہیں ذمہ داریاں بانٹنے میں مدد دی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی نئی نسل نے ارتقائی منازل زیادہ سرعت سے طے کیں کہ اب ایک نوزائدہ بچہ زیادہ دیر تک اپنے والدین کی حفاظت میں رہتا تھا اور اس وجہ سے اس کی دماغی نشو نما کے مواقع زیادہ تھے۔
سائنس اب اس بات کو مانتی ہے کہ انسانی ارتقاء اورایک پیچیدہ معاشرتی نظام کی نشونما میں اس بنیادی رویہ کا بہت بڑا عمل دخل تھا کہ انسان کے حیاتیاتی اجداد نے اپنی ذمہ داریاں بانٹیں اور جب جوڑے کا ایک فرد خاندان کے لئے وسائل فراہم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا تو دوسرے کے ذمہ ان کی اولاد کی پرورش اور دیکھ بھال ہوئی اور اس طرح وہ اس قابل ہوئے کہ جسمانی طور پر کمتر ہونے کے باوجود ان کی اولاد کے پاس دنیا میں زندہ رہنے کے مواقع باقی مخلوقات کی نسبت بہتر تھے۔ لیکن اب شائد وقت بدل گیا ہے۔ بہت بدل گیا ہے۔ اب انسان شائد اس سمجھ سے بھی دور ہوتا جا رہا ہے جو آرڈی کے پاس تھی۔ اب اولاد کی پرورش ایک بائی پراڈکٹ ہے۔ ایک ڈھول جو گلے میں پڑے تو بجانا ہی پڑتا ہے۔ ایک ایسا کام جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب ہر کوئی ہر کام کرنا چاہتا ہے اور کوئی بھی اپنا کام نہیں کرنا چاہتا۔ اولاد کی پرورش وقت کا ضیاع ہے، اہلیت کا ضیاع ہے۔ ایک ماں ہونا۔ صرف ماں ہونا تو مانو ایک گالی ہے۔ کہ لوجی تمام عمر کچھ نہیں کیا؟؟ بچے پیدا کرنا بھی کوئی کمال ہے؟؟ سب کرتے ہیں اور پال بھی لیتے ہیں۔انسان کو اپنا کیریئر بنانا چاہئے۔ رہے بچے تو وہ پہلے تو دس بارہ برس ہونے ہی نہیں چاہئیں کہ یہی وقت ہوتا ہے کیرئیر بنانے کا۔ پھر جب ہو گئے تو کچھ عرصہ آیاؤں کے سپرد، پھر دو برس کے ہوئے تو سکول والوں کے سپرد اور بس۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ پل بھی جائیں گے، پڑھ بھی جائیں گے اور سیکھ بھی جائیں گے جو دنیا کا رواج ہے۔ ویسے بھی یہ سب انہی کے لئے تو ہے۔ ہم نے کونسا ساتھ لے جانا ہے؟ اور ویسے بھی بندہ محتاج نہیں ہوتا جب خود کماتا ہے۔ رُعب رہتا ہے سسرال میں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اور جہاں اتنی ساری "میں میں اور صرف میں" ہو وہاں تو کوئی بھی پرخلوص رشتہ پروان نہیں چڑھ سکتا چہ جائکہ ماں ایسا رشتہ جو تمام رشتوں میں سب سے مقدس کہ خالق نے جب مخلوق سے اپنی محبت کی مثا ل دینا چاہی تو ماں کی محبت کو پیمانہ بنایا۔
شائد نپولین نے کہا تھا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا"۔ اب جہاں عورت ہونا، ماں ہونا، صرف ماں ہونا ہی ایک طعنہ ہو،ایک رکاوٹ ہو، ایک مجبوری ہو وہاں اچھی قوم کہاں سے اُگے گی بھلا؟
آپکی تھریر کی آکری بات تھی جسکے متعلق میں نے وہ جملہ لکھا۔
آپ نے کافی تفصیلات دیں لیکن انسانی تاریخ کے اس کصے کو نہیں بیان کیا جب انسان نے زراعت باقعدہ شروع نہیں کی تھی۔ اور وہ خاندان بنا کر نہیں رہتا تھا۔ یہ بھی اسی تاریخ کا ہم حصہ ہے۔ اینتھروپولجسٹ کہتے ہیں کہ ابتدائ زمانے میں عورتیں اور مرد ساتھ نہیں رہتے تھے۔ مرد فطرتآ شکاری تھے اور وہ شکار کرتے تھے۔ انسان عورتیں جھنڈ بنا کرقبیلوں کی صورت رہا کرتی تھیں۔ مرد کو صرف اسی صورت اس قبیلے میں آنے کی اجازت دی جاتی جب بچے کی خواہش ہوتی۔ اور اسکے بعد ان مردوں کا کوئ کام نہ ہوتا تھا۔ عورتون کے یہ قبیلے مل جل کر بچوں کو پالتے تھے اور بچہ صرف اپنی ماں کا بچہ نہیں ہوتا تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ زراعت کی طرف رجحان عورتوں نے دیا کیونکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتی تھیں اور وہ بنیادی طور پہ سبزی خور تھیں۔ آہستہ آہستہ قبیلے سے نکال دئیے جانیوالے مرد سے اور بھی کام لئے جانے لگے کیونکہ وہ جسمانی طور پہ عورت کی نسبت مضبوط تھا۔ مرد کو بھی شکار کی خطرناک زندگی سے یہ زندگی بہتر لگی اور یوں خاندان کا وجود ہوا۔
اس تمام معلومات کے ذرائع وہی ہیں جو آپ نے دئیے ہیں۔
ان معاشروں کے مضبوط ہونے کے بعد مرد نے حاکمیت حاصل کی اور انہوں نے کہا کہ اب عورت صرف ایک ماں بن سکتی ہے۔ اور جب کسی چیز کو زیادہ قوت کے ساتھ نافذ کرنا ہو تو پھر ایک ہی طریقہ استعمال کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اسے مقدس بنا دیا جائے۔
خود اسلام نے عورت کے رول کو اس حد تک محدود نہیں کیا جتنا چرچا ہمارے یہاں کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت ذاتی جائداد رکھ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ذاتی جائداد کہاں سے آئے گی اور جب مرد اسکی ہر چیز کا کفیل ہے تو وہ اس ذاتی جائداد کا کیا کرے گی۔ خلع لینے کی صورت میں وہ مرد سے کچھ لین دین کر سکتی ہے اسکے پیسے کہاں سے آئیں گے۔
کسی بھی معاملے کی ایک شدت کی طرف جانے سے پہلے اس پہ غورو خوض کرنا اچھی بات ہے۔ جب حضرت عمر عورتوں کو اپنے بچوں کو دودھ پلانے کا بھی پابند نہیں کرنا چاہتے تو اس پہ بحث کا نتیجہ یہ نکلنا چاہئیے کہ بچے کی دیکھ بھال دونوں والدین کے فرائض میں شامل ہے۔
وہ مرد جو نہیں چاہتے کہ انکی خواتین نہ کام کریں یہ انکا ذاتی فیصلہ تو ہو سکتا ہے لیکن اسے بس ایسے ہی دلیلوں سے ثابت کرنا بیکار ہے۔وہ خواتین جو سمجھتی ہیں کہ وہ کچھ کرسکتی ہیں اور کرنا چاہتی ہیں اور انہیں مواقع حاصل ہیں انہیں بالضرور کرنا چاہئیے۔
آپکے دئیے گئے تمام دلائل کے باوجود میں نے کام اور گھر میں توازن رکھنے والی خواتین کے بچے ان لوگوں کے بچوں سے زیادہ بہتر دیکھے ہیں جن کی مائیں سوائے گھرداری کے کچھ نہیں کرتیں۔
بلکہ وطن عزیز کی مائووں کی اکثریت ان پڑھ ہے، اور کچھ نہیں کرتی اور ہماری ترقی سے تو آپ آگاہ ہی ہیں۔
کیا آپ اس پہ روشنی ڈالیں گے کہ ہمارے ملک میں عرصہ ء دراز سے عورت کے صرف ماں ہونے کی وجہ سے ہم کتنی اچھی قوم بن گئے ہیں۔
ارے آپ دونوں تو بيالوجسٹ ہيں ہوں تو ميں بھی مگر ميری بيالوجی اب صرف بايو کی ڈيفينيشن تک ہی محدود ہو گئی ہے وجہ وہی ہے کہ ميں صرف ماں ہوں اور مجھے معاشرے کی روايتی سوچ کے تحت ايسا ہونے پر مجبور کيا گيا ہے اور اپنی اس کيفيت کو ميں اچھا نہيں سمجھتی مجھے اپنی نسبت وہی عورتيں برتر نظر آتی ہيں جو جاب کے ساتھ ساتھ بچوں کی تربيت بھی کرتی ہيں اور گھر ميں بيٹھی ناکارہ عورتوں سے بيسيويں گنا بہتر کرتی ہيں پھر وہی بات عنيقہ والی کہ پاکستان کی اکثريت عورتيں جاہل ہيں اور يہ انہی کی غلط تربيت کا نتيجہ جو آج پاکستان کے حالات ہيں آدھی آبادی بيکار بيٹھی صرف بچے پہ بچہ پيدا کيے جا رہی ہے اور ميں نے ابھی عنيقہ کے بلاگ پر کہا تھا انکے مرد انکی حمايت ميں ايسی ايسی دليليں لاتے ہيں جيسی خرم صاحب آپ نے پيش کيں حالانکہ آپ کی بيوی ماشاءاللہ ڈاکٹر ہيں پاکستان ميں ميں نے کچھ عرصہ جاب کی اور بہت گہرا مشاہدہ کيا جاب کرنے والی خواتين اور نہ کرنے والی کے بچوں ميں ، پڑھي لکھي اورجاب کرنے والی خواتين کے بچے صحت صفائی تعليم تربيت ہر معاملے ميں نکمی ماؤں کے بچوں کو پيچھے چھوڑ ديتے ہيں الغرض ميرے نزديک گھر بيٹھی عورت جو صرف بچے پہ بچہ پيدا کيے جا رہی ہے وہمعاشرے پر ايک بوجھ ہے اور اس لعنت سے چھٹکارا پانے کے ليے اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے عنيقہ ناز جيسی خواتين تو مثالی عورتيں ہيں ہمارے گلے سڑے معاشرے کی جن کی ہمت کی داد دينی چاہيے
کیا آپ اس پہ روشنی ڈالیں گے کہ ہمارے ملک میں عرصہ ء دراز سے عورت کے صرف ماں ہونے کی وجہ سے ہم کتنی اچھی قوم بن گئے ہیں۔
خرم بھائی عنيقہ کے اس فقرے پر جلدی سے روشنی ڈاليں لوڈشيڈنگ کا بہانہ امريکہ ميں نہيں چلنے والا
بہت اچھی تحریر ہے
مگر جنہیں آپ منانا چاہتے ہیں مشکل ہے کے وہ مانیں
قرآن نے مرد اور عورت کو زوجین کہا ہے ۔ جسکا مفہوم ایک دوسرے کو complement کرنے والے کے ہیں ۔ یعنی زوج وہ شے ہے جو اپنے متضاد سے مل کر ایک مکمل شے کو جنم دے یا اپنے متضاد کی کمیوں کو پورا کرے ۔
میں تو عورت کے عورت ہونے کو بہت اہمیت دیتا ہوں ۔ ماں ہونا ایک تخلیقی عمل ہے جس سے مرد محروم ہے ۔ میں ایک شوقیہ سوفٹویر ڈیولپر بھی ہوں اور مجھے احساس ہے کہ کسی شے کو عدم سے وجود میں لانا اور کتنا پرلطف اور نشاط انگیز کام ہے ۔
ریاج شاہد آپ ایک سوفٹ وءیر ڈیولپر ہیں اور میں ایک کیمیاداں۔ دراصل بحیثیت کیمیا دان اور بحیثیت ماں مجھے زیادہ پتہ ہے کہ کسی شے کو عدم سے وجود میں لانا اور اسے سنوارنا کتنا نشاط انگیز کام ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ جس چیز کا مردون کو تجربہ نہیں ہوتا وہ اس پہ اتنا بڑھ چڑھ کے لکھنا کیوں پسند کرتے ہیں۔ لیکن بہر حال میرا آپ سے ایک سوال ہے سادہ سا۔ اگر آپکے پاس کوئ ایک ایسا سوفٹ وئیر ہو جو کہ ایک وقت میں کئ کام بے ھد اچھی طرح انجام دے سکتا ہو۔ لیکن اس میں سے اپکو صرف ایک ہی فنکشن استعمال کرنا آتا ہو تو کیا آپ اپنی اس کمی کو یہ کہہ کہہ کر چھپاتے رہیں گے کہ نہیں یہ صرف وہی فنکشن اچھی طرح انجام دے سکتا ہے جو مجھے آتا ہے۔
چونکہ میںذاتی طور پہ بہت سارے سوفٹ وئیر انجینئیرزسے گھری ہوئ ہوں تو میں جانتی ہوں کہ آپکا جواب ہوگا نہیں۔
پھر کسی خاتون پہ کیوں زور دیا جاتا ہے کہ بس وہ ایک ہی کام اچھی طرح کر سکتی ہے۔ آئیے مجھ سے ملئیے میرے گھر میں کوئ آیا نہیں۔ میں ابھی اپنی بچی سونے کے کپڑوں میں ڈالکر ایک کہانی سنا کر منہ میں دودھ کی بوتل دیکر آپ کو یہ لاءینیں لکح رہی ہوں۔ وہ میرے برابر والے کمرے میں موجود ہے اور میں اسے وقتا فوقتا آوز دیکر یہ معلوم کر رہی ہوں کہ کیا اب میں اسکے پاس آجائوں۔ کیونکہ انہیں سوتے وقت میرا ہاتھ چاہئیے ہوتا ہے۔
ایسی خواتین اس شہر میں بےشمار ہیں جو اپنے بچوں کی دیکھبھال کے ساتھ کامیابی سے گھرداری کر رہی ہیں۔ وہ ڈاکٹر جو آپکی گھر کی خواتین کے علاج کے لئے دن رات ہسپتال میں موجد رہتی ہے وہ بھی ایک عورت ہے۔ وہ خواتین اساتذہ جن سے آپ نے اپنے تعلیمی ادوار میں پڑھا ہوگا کیا وہ ناکام خواتین تھیں۔
میں بحیثیت خاتون کیمیاداں سوچ سکتی ہوں کہ مجھ جیسی خواتین کے علاج معالجے کے لئیے کس قسم کی دوائووں کی ضرورت ہوتی ہے، اس میں تھقیق کو کس سمت میں جانا چاہئیے کیا میری ضرورت کو ایک مرد بہتر محسوس کر سکتا ہے یا عورت۔
جی ہاں بچے پیدا کرنا ایک بیالوجیکل عمل ہے اور اس بات کو ایک پڑھی لکھی اور اپنے ماحول سے آگاہ عورت ہی سمجھ سکتی ہے کہ انہیں محفوظ زندگی اور محفوظ ماحول کیسے ملنا چاہئیے۔
بجائے اسکے کہ ہم اپنے معاشرے کو خواتین کے لئیے ایک دوستانہ معاشرے میں تبدیل کرنے کے لئے کوشان ہون ہم اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ بس انکا ایک ہی مقصد ہے اور انہیں وہی کرنا چاہئیے۔
یہ بھی ایکطرح کی شدت پسندی ہے یا روایت پسندی ہے۔ یہ کہنا کہ بچے دس بارہ سال تک پیدا نہیں کئیے جاتے۔ یہ میں نے پاکستانی معاشرے میں تو نہیں دیکھا۔ پھر اس قسم کی انتہا پسند مثالیں دوسروں کے معاشرے سے لینا چہ معنی دارد۔
اگر آپ میرے تبصرے کے صرف دوسرے حصے پر فوکس کریں گی تو آپ کا اعتراض بجا ہے جبکہ پہلا حصہ اتنا ہی اہم ہے ۔ مرد اور عورت دونوں مل کر ہی ایک دوسرے کی شخصیت مییں موجود عدم توازن کو درست کرتے ہیں نہ اکیلا مرد متوازن ہو سکتا ہے اور نہ کوی عورت تنہا رہ کر ۔ اور اولاد پیدا کرنا تو ایک وجہ افتخار ہے جس جو صرف عورت کو ملی ہے ۔ میں نے کب کہا ہے کہ عورت کیمسٹری لیب میں نہیں جا سکتی یا اپنی دلچسپی کا کوی اور کام نہیں کر سکتی بلکہ میں تو عورتوں کی فراغت کو ان کی صلاحیتوں کا ضیاع سمجھتا ہوں ۔ اگر ایک عورت اچھی پینٹر بن سکتی ہے تو ضرور بنے۔ ہاں مرد یا عورت میں سے کوی محض اس لیے دوسرے پر دھونس جماے کہ وہ ایک مختلف صنف سے تعلق رکھتا ہے تو یہ اس کی خود غرضی ہے ۔
ریاض شاہد ساحب، آپکی بات درست ہے۔ ہم یہی چاہتے ہیں۔ اگر کوء یہ کہتا ہے کہ خواتین کو اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کی آزادی ہونی چاہءیے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بچے پیدا کرنے کی ذمہداری مرد اٹھالیں۔ یا جیسا کہ میرے ساتھی نے کہا کہ بچے بائ پروڈکٹ بنادئیے جاتے ہیں۔ اسکا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ حقوق کی ضمن میں دونوں کو توازن کی راہ اختیار کرنی چاہئیے۔ ورنہ خواتین پہ صرف یہ زور ڈالتے رہنے سے کہ وہ تو صرف ماں ہیں، ماں کا درجہ بہت بلند ہے وہ خواتین کو بائ پروڈکٹ بنا دیتے ہیں۔ ہمیں اس قسم کی افراط و تفریط سے بچنا چاہئیے۔
بچوں کو بائ پروڈکٹ بنانے کے ضمن میں کہونگی کہ ہم دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جہاں بچون کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ہمارے یہان بچوں کا رونا رونے والوں کو خود انصاف سے دیکھنا چاہئیے کہ کیا ہم نے بچوں کو بائ پروڈکٹ نہیں بنا ڈالا۔ ہماری قوم کی اکثریت تو اس بات سے ہی ناوقف ہے کہ انہیں ان پھولوں کی حفاظت کرنی چاہئیے۔ اس بات کا ثبوت ایدھی اور چھیپا والوں کہ یہ بیانات ہے کہصرف کراچی میں ہر مہینے ساٹھ ستر نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملتی ہیں۔ کراچی کی سڑکوں پہ بے شمار پحرنے والے لاوارث بچے جو اپنے والدین کی عدم توجہی کی بناء پہ اپنے گھروں سے بھاگ کر ملک کے مختلف حصوں سے یہاں پہنچتے ہیں۔ اور یہ واقعہ تو کچھ زیادہ پرانا نہیں جس میں لاہور میںمقیم ایک شخص نے جنسی زیادتی کے بعدیکے بعد دیگرے سو بچوں کو قتل کر دیا اور کسی کے کان پہ جوں تک نہ رینگی۔
بلاسوچے سمجھے بچے پیدا کرتے چلے جانا اور انکے مستقبل کے لئے کوئ پلاننگ نہ کرنا کیا یہ طرز عمل انہیں بائ پروڈکٹ سمجھنے کے لئیے کافی نہیں۔
دینی مدرسوں میں ایک بڑی تعداد ان بچوں کی ہوتی ہے جنکے والدین انہیں کسی بھی قسم کی آسائش تو کیا ایک وقت کا کھانا نہیں دے سکتے۔ اور مدرسے والوں کے حوالے کر جاتے ہیں۔ کیا یہ رویہ انہیں بائ پروڈکٹ نہیں سمجھتا۔
ایکدوسرے کیخلاف ہتھیار اٹھا لینا اور ایکدوسرے کو مارتے وقت یہ بھی نہ سوچنا کہ سامنے کوئ بچہ ہے، چاہے وہ کوئ معاشرتی مسئلہ ہو یا کوئ نظریاتی اختلاف۔ اس وقت کوئ نہیں کہتا کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سمجھتے ہیں۔
یہ فہرست خاصی لمبی ہے۔ لیکن لوگوں کو انہیں جھٹلانے کے لئیے یہ کہنا کافی ہوگا کہ یہ باتیں ایک خاتون کے قلم سے نکلیں ہیں اور وہ بھی روشن خیال، غیر روائیتی۔
میرا خیال ہے بجائے خرم کی پوسٹ کا جواب دینے کے کچھ لوگوں کو مغربی خواتین کی نقالی کا بے حد شوق ہے اور ہر معاملے کو روایتی تحریک نسواں کی آںکھ سے دیکھنے کی عادت ہے اور مردوں کو کمتر اور ظالم ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینے کا وہ افسوسناک رویہ ہے جس کی بدولت پورا مغربی معاشرہ تہذیب اور اخلاق سے عاری ہوتا جا رہا ہے۔
السلام علیکم۔
کسی زمانے میں پاکستان ٹیلیویژن پر مینا نامی ایک بچی کی زندگی پر کارٹون لگا کرتا تھا۔ ایک دن مینا اور اس کے بھائی راجو کے درمیان تکرار ہوئی کہ میرا کام زیادہ مشکل ہے۔ چنانچہ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کام بدل لیے۔ ایک دن سارا دوسرے کے کام کرتے رہنے کے بعد دونوں کو سمجھ آ گئی کہ جس کا جو کام ہے، وہ اس سے بہتر اور کوئی بھی نہیں کر سکتا۔
میں نے بھی آج تک کے اپنے مطالعے اور مشاہدے سے یہی سیکھا ہے کہ عورت کا کام عورت سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا اور مرد کا کام مرد سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔ نہ ہی مرد (اکیلا) بچوں کی پرورش جیسا کام کر سکتا ہے کہ وہ بچوں کو اتنی محبت نہیں دے پائے گا کہ جو ضروری ہے اور نہ ہی عورت بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر تار درست کرتے ہوئے چھوٹے موٹے کرنٹ کھانے کے باوجود اپنا کام کرتی رہ سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بہترین طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ذمہ داریاں بانٹ لی جائیں اور جو شخص جو کام بہتر طور پر کر سکتا ہے، وہی کام کرے۔
لیکن یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ چند مخصوص کاموں کو بلا وجہ کم تر درجے کا سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہ ایسے کم درجے کے نہیں ہوتے بلکہ بعض معاملات میں تو انتہائی اہم ہوتے ہیں۔
ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ عام طور پر لوگ موچی کے کام کو اتنا کم تر سمجھتے ہیں کہ کوئی اس سے سیدھے منہ بات کرنا ہی پسند نہیں کرتا۔ حالانکہ یہ بھی ہمارے معاشرے کا ایک انتہائی اہم فرد ہے۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اگر موچی نہ ہوتا تو ہمارے پیروں میں جو طرح طرح کے جوتے ہیں، یہ کہاں سے آتے؟ ذرا تصور کیجیے گا کہ پوری دنیا میں کسی کے پاؤں میں بھی جوتا نہیں ہے کیونکہ کوئی موچی کا “نیچ کام” کرنے کو تیار نہیں ہے۔
اسی طرح تصور کیجیے کہ ساری دنیا کے بچے بغیر کسی کی تربیت کے بڑے ہو رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی یہ “نیچ کام” کرنے کو تیار نہیں ہے۔ کیا یہ تصور انتہائی خوف ناک نہیں ہے؟ مجھے پتا ہے کہ عنیقہ آنٹی فوراً یہ کہتی ہوئی مجھ پر حملہ آور ہوں گی کہ جو عورتیں نوکری کرتی ہیں، ان کے بچے زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ براہِ مہربانی موازنہ ایک جیسی علمی سطح رکھنے والوں کا کریں۔ اگر گھر میں رہنے والی ان پڑھ عورتوں کے ساتھ موازنہ کرنا ہے تو اوروں کے گھروں میں برتن اور کپڑے مانجھنے والی ان پڑھ عورتوں کا کریں۔ اگر “بڑے درجے” کی نوکری کرنے والی عورتوں کا موازنہ کرنا ہے تو تعلیم یافتہ عورتوں ہی سے کریں نہ کہ اپنا مطلب نکالنے کے لیے ملازمت پیشہ خواتین اعلیٰ تعلیم والی چن لیں اور گھر میں رہنے والی ان خواتین کے ساتھ موازنہ کریں جن کی علمی سطح کچھ خاص نہیں۔ انصاف کا یہی تقاضا ہے کہ دونوں اطراف سے ایک جیسی علمی سطح والی خواتین کا موازنہ کیا جائے۔ انصاف پر مبنی موازنہ کریں گی تو سارا فرق خود بخود واضح ہو جائے گا۔
باقی اگر آپ کو یہ نفسیاتی مسئلہ ہے کہ آپ عورت ہونے کو کم تر ہونے کا مترادف ہی سمجھتی ہیں یا آپ کو دنیا کے سارے مردوں سے کوئی بلا وجہ قسم کی نفرت ہے تو اس کا علاج میرے پاس نہیں ہے۔
ایک اور اہم نکتہ میں بھول گیا تھا۔
بعض گھر سے باہر کے کام بھی ہوتے ہیں جو کہ صرف خواتین ہی کے کرنے کے ہوتے ہیں، مثلاً خواتین کا علاج کرنے کے لیے لیڈی ڈاکٹر یا بچیوں کی تعلیم کے لیے استانیاں۔ یہ ذمہ داریاں ایسی خواتین پر ڈالنی چاہئیں جن کے ساتھ گھروں میں خاندان کی دوسری عورتیں بھی رہتی ہیں تاکہ ان کی غیر موجودگی میں ان کے بچے نوکروں کے رحم و کرم پر نہ رہیں۔
باقی جو عورتیں اولاد والی ہیں اور ان کے گھر میں کمانے والے بھی موجود ہیں لیکن وہ صرف “مردوں کی برابری” کے شوق میں کسی دفتر وغیرہ میں ملازمت کرتی ہیں جہاں ان کی ضرورت نہیں (یعنی جہاں خواتین کی موجودگی ضروری نہیں) تو وہ اپنی اولاد کی حق تلفی کرتی ہیں۔
محمد سعد میرے بھائی – بلاگ پر خوش آمدید۔ اسی موضوع پر کچھ بات اپنی نئی پوسٹ میںبھی عرضکی ہے۔ اس پر بھی اپنی رائے سے آگاہ کیجئے گا۔
محب – اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے اپنی نئی پوسٹ میں۔ اس پر بھی اپنی رائے سے آگاہ کیجئے گا۔
خرم آپسے صرف ایک سوال کیا آپکی بیگم صاحبہ اپنی ڈاکٹری چھوڑ کر گھر میں بچے پال رہی ہیں؟
اس سے اگے کی گفتگو اس سوال کے جواب کے بعد ہوگی
عبداللہ میرے بھائی ۔ آپکے سوال کا جواب ہے “جی ہاں”
خوب! تو آپکی وہ بات کہ خواتین کے علاج کے لیئے خواتین بھی ڈاکٹر ہونا چاہیئے کی آپ نے خود ہی نفی کردی!
اب سوال یہ ہے کہ آپ کی بیوی اگر اتنیہ پڑھی لکھی ہونے کے بجائے جاہل ہوتیں تو کیا یہ آپ کے لیئے ذیادہ بہتر اور باعث اطمینان ہوتا ؟
بھائی کچھ بات سمجھ نہیں آئی۔ میری بیوی کے فی الحال کام نہ کرنے سے میری بات کی نفی کیسے ہوگئی؟ اور یہ کیسے اخذ کیا آپ نے کہ میںلڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہوں۔
دیکھیئے اگر سب مرد اسی طرح اپنی ڈاکٹر بیویوں کو گھر بٹھا لیں تو پھر وہ عورتیں کہاں سے آئیں گی جو عورتوں کا علاج کریں گی؟
دوسرے آپ جاہل اور پڑھی لکھی ماؤں کا موازنہ کررہے تھے اس لیئے مینے یہ سوال کیا
بھیا تو میں نے یہ کب کہا کہ پڑھی لکھی خواتین بالکل کچھ نہ کریں اور صرف گھر بیٹھی رہیں اگر کرنے کو کچھ نہ بھی ہو تو؟
اوپر کے مضمون میں آپنے جن پڑھی لکھی ملاذمت پیشہ خواتین کا ذکر کیا ہے وہ پاکستانی معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور بات جب بھی کی جاتی ہے اکثریت کی کی جاتی ہے اقلیت کی نہیں