بہت عرصے سے ایک موضوع پر لکھنا چاہ رہا تھا۔ عمومی طور پر کچھ باتیں اس طرح رواج پا جاتی ہیں کہ غلط ہونے کے باوجود درست گردانی جاتی ہیں۔ لغت میں اسے غلط العام کہا جاتا ہے۔ عمومی جب غلط العام کی بات کی جاتی ہے تو چند الفاظ یا محاورات کی ترکیب و معانی پر ہی توجہ مرکوز رہتی ہے۔ لیکن غلط العام صرف الفاظ ہی نہیں روئیے بھی ہوا کرتے ہیں۔ ایسے روئیے جو غلط ہیں لیکن دیکھا دیکھی یا سُنی سُنائی کی بنیاد پر رواج پاگئے اور اب ان کے خلاف بات کرنا بھی عجب گردانا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک روئیے پر آج بات کرتے ہیں لیکن بات آگے بڑھانے سے پہلے کچھ اوراق پلٹتے ہیں تاریخ کے۔
یہ سرزمین جسے ہم پاکستان کہتے ہیں، 14 اگست 1947 سے پہلے معلوم تاریخ میں اسے ہندوستان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسلام اگرچہ یہاں محمد بن قاسم کی فتوحات کے سبب آچُکا تھا لیکن ایک غالب عرصہ تک اس کی اشاعت صرف ان علاقوں تک ہی محدود رہی جومحمد بن قاسم نے فتح کئے تھے۔ یہ صورتحال اس وقت تک قائم رہی جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر اپنے حملوں کا آغاز کیا۔ آج کے برعکس اس دور کا ہندوستان ایک مالدار ملک تھا جس کی عملداری ایک وقت میں کابل سے بنگال تک تھی۔ محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملوں کی وجوہات خالصتاً معاشی اور سیاسی کہی جاسکتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے ہندوستان میں زمینی راستے سے بھی مسلمانوں کی آمدورفت شروع ہوئی۔ شروع میں تو محمود ہر حملے کے بعد اپنی سپاہ اور مال غنیمت کے ساتھ واپس چلا جاتا لیکن پھر اس نے لاہور کے صوبہ کو براہ راست اپنی مملکت میں شامل کرکے ایاز کو اس کا صوبیدار مقرر کردیا تھا۔ اس سیاسی تبدیلی کے باوجود ہندوستان کی اکثریت آبادی غیر مسلم تھی ۔ حکمرانوں کی توجہ عموماً امور سلطنت پر ہوا کرتی ہے اوروہ اسی میں مشغول تھے۔
یہ وہ وقت تھا جب مسلم صوفیاء نے ہندوستان کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ یہ لوگ بعد از تکمیل تربیت اپنے مرشد کے حکم پر اس ملک میں آتے، جس جگہ کا حکم ہوتا وہاں ڈیرہ لگاتے اور اللہ کی یاد شروع کردیتے۔ یہ بزرگ کیونکہ اسوہ رسول کریمﷺ پر مکمل عمل پیرا ہوتے تھے سو اس اسوہ حسنہ کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر ان کے اردگرد بسنے والے ان کی طرف مائل ہوتے۔ پھر یہ بزرگ آہستہ آہستہ ان لوگوں کو دین اسلام کی تعلیم دینا شروع کرتے اور لوگ مسلمان ہوجاتے۔ اس عظیم کام میں ان بزرگوں کا ہتھیار صرف یہ اسوہ رسولی ﷺہوتا تھا۔ جب کسی بزرگ کا وقت آخر آتا تو اپنے شاگردوں میں سے جسے اس کا اہل سمجھتے، اسے منصب تعلیم و ارشاد سونپ کر رُخصت ہوجاتے اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا۔ خلق خدا کے لئے یہ بزرگ ایک لائٹ ہاؤس کا کام دیتے تھے۔ لائٹ ہاؤس جو گھٹا ٹوپ اندھیروں میں جلتا رہتا ہے اور راستہ دکھاتا ہے۔ جسے دیکھ کر مسافر کی تھکن دور ہوجاتی ہے اور اسے اطمینان ہوجاتا ہے کہ وہ راستہ بھٹکا نہیں۔ اسلام کی تبلیغ میں ان بزرگوں نے اپنوں اور غیروں کی مخالفتیں سہیں۔ تنگیاں برداشت کیں گھر بار چھوڑے لیکن اپنا توکل اللہ کی ذات پر رکھا اور اللہ کے ہو کر رہے۔ یہ بزرگ ہندوستان میں دین کی تعلیم اور اس کے فروغ کا ذریعہ ہی نہ تھے بلکہ اس کے عوام میں بلند مکارم اخلاق کی بلا تخصیص مذہب پرچار کرنے والے بھی تھے۔ آج بھی پاکستان کی تمام اکائیوں میں پایا جانے والا کلاسیکی ادب انہی بزرگوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جس میں معرفت حق کے ساتھ ساتھ بلندی اخلاق کے اسباق موجود ہیں۔
انگریز جب ہندوستان میں وارد ہوئے تو جانتے تھے کہ انہیں اصل خطرہ مسلمانوں سے ہے۔ اس خطرہ کا سد باب کرنے کے لئے انہوں نے مسلمانوں کے عقیدہ کی جڑ پر وار کرنے کی سوچی۔ جیسے بیروں کو پگڑیاں پہنا کر گوروں کو برترسمجھنے کا رواج ڈالا، جیسے انگریزی کو ایک برتر زبان سمجھانے کا ڈول ڈالا اسی طرح انہوں نے مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کرنے کے لئے دو رُخی پالیسی کا اجرا کیا۔ اس کے ایک پہلو کے طور پر تو انہوں نے مذہب کو بالکل ہی لایعنی قرار دینا شروع کیا لیکن یہ طریقہ زیادہ کارگر نہ تھا کہ ہندوستان کے لوگ اپنی جذباتی فطرت کی بنا پر اپنے اپنے مذاہب سے زیادہ قریب تھے۔ اس حقیقت کا ادراک ہونے پر انگریزوں نے دوسری چال چلی اور مسلمانوں کو ان کے مذہبی مراکز سے دور کرنا شروع کیا۔ اس مقصد کے لئے جہاں عقلیت کا سہارا لیا گیا وہیں یہ بھی اہتمام کیا گیا کہ موجود مذہبی نظام کو تحقیر کا باعث بنایا جائے اور لوگوں کو ان اصحاب سے دور کیا جائے جن کی بدولت اسلام اس سرزمین پر آیا۔ اس کے لئے جہاں انہوں نے ایسے "علماء" کی امداد کرنا شروع کی جن کا علم الفاظ تک محدود تھا وہیں انہوں نے ان لوگوں کی سرپرستی کی جن کے اجداد میں سے کوئی بزرگ دین گزرا تھا لیکن خود ان لوگوں کا عمل دین پر نہ تھا۔ ان لوگوں کو جاگیروں سے نوازا گیا ، ان کے مدارس کے لئے چندے دئیے گئے اور دیگر مراعات دی گئیں۔ انہیں عالم اور پیر مشہور کیا گیا اوروقت آنے پر مرزا غلام احمد جیسے بندے سے اعلان نبوت بھی کروایا گیا تاکہ مسلمانوں میں انتشار پیدا ہو۔ اس ساری تنظیم کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ان لوگوں سے دور کردیا جائے جن کے کردار میں حکومتیں بدل ڈالنے کی طاقت ہے۔
جو اللہ والے تھے وہ اس سب سے لاتعلق اپنے کام میں مشغول رہے لیکن انگریز کا وار اتنا رائگاں بھی نہ گیا۔ عقلیت والوں نے جھوٹے اور نمائشی پیروں اور علماء کو دیکھ کر اپنی لادینیت کی تصدیق کی۔ جو علمائے ظاہر تھے وہ چونکہ صاحبان حال و قال نہ تھے سو اپنی دکان چمکانے کے لئے انہوں نے پیروں اور مشائخ کو نشانہ بنایا تاکہ لوگ ان کی طرف مائل ہوں ۔ ان لوگوں نے ایسی کھیپ تیار کی جنہیں احادیث اور آیاتِ قرآنی تو ازبر تھیں لیکن ان پر عمل سے عاری اور اپنے "علم" کے نشہ میں چُور تھے۔ ڈبہ پیر چو نکہ سرکاری اثر و رسوخ رکھتے تھے سو عوام الناس بھی ان کی طرف مائل ہوئے کہ پیر صاحب کو "نذرانہ" دیا اور پھنسے ہوئے کام نکل گئے۔ اللہ کے ساتھ تعلق داری کی بھی آس رہی کہ پیر سے وابستگی کو ہی کافی سمجھا گیا۔ جب وقت آیا تو سب نے دیکھا کہ تمام علمائے ظاہر اور ڈبہ پیر ایک طرف تھے اور اللہ والے ایک طرف اور پھر اللہ نے ہمیشہ کی طرح اپنے بندوں کو سرفراز کیا اور پاکستان قائم ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد انگریز تو چلا گیا لیکن اپنے لگائے ہوئے بُوٹے چھوڑ گیا جو آہستہ آہستہ تناور درخت بن گئے۔ ظاہر والوں کے پاس کیونکہ صرف الفاظ تھے سو عقلی بنیادوں پر ان الفاظ کی ایسی ایسی توجیہات نکالی گئیں کہ حشر برپا ہوگیا۔ زور چونکہ اپنے علم کی برتری منوانے پر تھا سو آج دین کی ایسی تشریحات میدان میں ہیں کہ مسلمان کا جینا حرام، اس کا مرنا حرام، اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا ہنسنا حرام، اس کا رونا حرام نظر آتا ہے۔ مسلمان کا صرف ایک کام ہے کہ تلوار، تیر، بندوق، بم، جو ہاتھ لگے اٹھائے اور کشتوں کے پشتے لگا دے۔ اس پر طرہ یہ کہ انگریزوں نے ایسا ہی ایک بُؤٹا مشرق وسطٰی میں بھی لگایا تھا۔ تیل کی ریل پیل ہوئی تو وارے نیارے ہوگئے ۔ سو اب فنڈ آتے ہیں، "مجاہد" آتے ہیں، "مبلغ" آتے ہیں، "فتاوٰی" آتے ہیں، "تفسیریں آتی ہیں. “تراجم" آتے ہیں، لمبے کرتے پاجامے آتے ہیں اور قوم "اسلام کے رنگ" میں رنگی جارہی ہے چٹاخ پٹاخ۔ دوسری طرف ڈبہ پیروں نے سیاسی اور دیگر شعبدہ بازیاں شروع کیں اور ان کے ثمرات دونوں ہاتھوں سے سمیٹے۔ مخدوم صاحب وزیر ہیں، مشیر ہیں اور عیش میں ہیں۔ میڈیا میں، سیاسی میدان میں، اقتدار میں کیونکہ یہی دو طبقے غالب ہیں سو عوام بھی ان کو ہی دین کا روپ بہروپ سمجھ کر پیچھے چل رہی ہے۔
نتیجہ یہ کہ مدارس اور مساجد کھمبیوں کی طرح اُگ رہے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر دن رات گلا پھاڑ رہے ہیں۔ حلق کی تہوں سے الفاظ برآمد کئے جارہے ہیں، خوش الحان قراتیں ہورہی ہیں، داڑھیوں کی لمبائیاں، مونچھوں کی ساخت، آستینوں کی بناوٹ وغیرہا پر تحقیق کی جارہی ہے، ٹی وی، ریڈیو، اخبار،جرائد پر وعظ و تلقین کے بازار گرم ہیں اور معاشرہ ہے کہ دن بہ دن بگڑتا چلا جارہا ہے۔ لوگ عجب کافر ہیں کہ نہ خوش الحان قراتوں سے متاثر ہوتے ہیں نہ دھواں دھار خطبات سے اور نہ "ملک مقدس" سے آئے ہوئے فتاوٰی سے۔ سو اب حل یہ تجویز ہوا کہ "یہ قوم ڈنڈے کے بغیر سدھرنے کی نہیں" سو سیاسی اور غیر سیاسی طریقے سے تمام کوششیں کی جارہی ہیں کہ پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کیا جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کو "مسلمان" کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے "مجاہدین" تیار و درآمد کئے جارہے ہیں کہ اس ملک میں "اسلام" کا نفاذ ہوسکے اور ان کی بھرپور سیاسی و اخلاقی مدد کی جارہی ہے۔ یہ کبھی سوچا ہی نہیں کہ آخر کیوں اتنے وسائل کے باوجود یہ تمام لوگ اپنی بات بلکہ درست یہ کہنا ہوگا کہ اللہ اور رسولﷺ کی بات اس مسلم اکثریت والی عوام تک نہیں پہنچا پا رہے؟ وجہ تو صاف ظاہر ہے کہ بات کرنے والے، تبلیغ کرنے والے، وعظ کرنے والےسب وہ ہیں جن کے اپنے ہاتھوں میں گُڑ ہے اور وہ اوروں کو گُڑ کھانے سے روکنا چاہتے ہیں لیکن یہ بات کہے کون؟ رہےعوام تو ان کو یہی باور کروایا جارہا ہے کہ جو وہ فرما رہے ہیں یہی "اصل اسلام" ہے اور ان کے خلاف بات کرنے والا یا تو مرزائی ہے، یا "منافق" اور دونوں صورتوں میں واجب القتل۔
ان حالت میں آپ کسی کو بتائیے کہ میرے پیر صاحب ہیں تو آپ کو سر سے پیر تک ایسے دیکھا جائے گا جیسے آپ کے سر پر یکایک ایک دو نہیں پورے بارہ سینگ اُگ آئے ہیں۔ اور پھر آپ کو ایک شان بے اعتنائی سے طبقہ حمقاء میں داخل کردیا جائے گا۔ آپ نے کہیں حوالہ دیا کہ "ہمارے پیر صاحب نے یہ فرمایا تھا" تو آپ کو شخصیت پرستی کا شکار قرار دے کر آپ کی بات کو سُنے بغیر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائےگا۔ کہا جائے اگر کہ "پیر تو ایک اُستاد ہے، ایک عالم ہے جو باعمل ہے۔ جسے دیکھ کر آپ کو اللہ یاد آئے۔ جو راہ ہدایت پر آپ کی راہنمائی کرے۔ جسے دیکھ کر آپ کو اسوہ رسول ﷺ کا عملی نمونہ نظر آئے اور اس سے وابستگی اس لئے ہے کہ دین کی روح پر عمل کیا جائے" تو کہا جاتا ہے "اجی ایسے لوگ اب کہاں؟ پہلوں میں ہوا کرتے تھے" عرض کی جائے "آپ نے کبھی کھوجا؟" تو جواب ملتا ہے "ہمیں معلوم ہے پیروں کے آستانوں پر کیا ہوتا ہے؟" کہا جائے کہ "ڈبہ پیروں کی بات نہ کیجئے عطائیوں کی کثرت ہو تو آپ تمام ڈاکٹروں کو عطائی نہیں گردانتے بلکہ سچے ڈاکٹر کی تلاش مزید شدت سے کرتے ہیں۔" تو پینترا بدل کر کہتے ہیں "پیروں کے ماننے والے تو جی یہ کرتے ہیں اور وہ کرتےہیں وغیرہ وغیرہ"۔ عرض کی جائے کہ "پیر تو ایک اُستاد ہے اور اس کے پاس آنے والے سب مانند شاگرد۔ دنیا کے کسی بھی مکتب میں تمام شاگرد ایک ہی معیار کے نہیں ہوتے۔ پیروں کا کام کیونکہ لوگوں کواپنے سے توڑنا نہیں بلکہ انہیں آہستہ آہستہ راہ پر لانا ہوتا ہے کہ مخلوق مالک سے ملے تو سرخرو ہو۔سو ڈنڈا لیکر ہر ایک پر دین کا "کامل" نفاذ نہیں کرتے بلکہ ان کی غلطیوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کی بہتری میں کوشاں رہتے ہیں" تو پھر فرماتے ہیں "ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور فلاں صاحب کی تفسیر پڑھ رکھی ہے اور حدیث کی کتب بھی پڑھتے ہیں۔" عرض کی جائے کہ "دنیاوی علوم کے لئے تو آپ نے مکتب کا راستہ پکڑا، اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور دین کے معاملہ میں چند کتابیں پڑھ لینا اور انہیں پڑھ کر جو غلط سلط اپنے جی میں آیا وہی کافی ہے؟" تو جواب آتا ہے "وہ بات اور ہے۔ اللہ نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے۔" عرض کی جائے کہ "پھر قرآن کے ساتھ نبی ﷺ کو کیوں مبعوث فرمایا گیا؟ صرف قرآن کیوں نہ کعبہ کی چھت پر نازل کردیا گیا؟" تو فرماتے ہیں "تاکہ لوگوں کو قرآن پر عمل کرکے دکھائیں اور یہ خزانہ ہمارے پاس حدیث کی شکل میں موجود ہے" کہا جائے "احادیث بھی تو صرف الفاظ ہیں۔ اگر قرآن کی تشریح کے لئے صاحب قرآن کی ضرورت تھی تو احادیث کے علم کے لئے کسی ایسے کی ضرورت کیوں نہ ہے جو احادیث و قرآن دونوں پر عمل کرکے دکھائے؟" جواب آتا ہے "ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔" عرض کی جائے "گویا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا علم کامل ہے اور آپ کے خیال میں ایسے شخص کا ہونا ناممکن ہے جس کا علم اور عمل آپ سے بہتر ہو کہ اسے دیکھ کر، اسے سُن کر آپ اپنی اصلاح کرسکیں؟" اس کے بعد یا تو ایک تیوری چڑھا کر "جی ہاں" کہہ کر مُنہ پھیر لیا جائے گا وگرنہ خاکسار کی زندگی کی تمام معلوم خامیوں کا پوسٹ مارٹم شروع ہوجائے گا۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر صرف الفاظ اور بات کا بتا دینا ہی کافی ہوتا تو اللہ کریم ہر کتب سماوی کے لئے فرشتوں کی ایک جماعت بھیجتا جو لوگوں کو وہ کتاب دیتی، لوگ اسے پڑھتے اور اچھے مسلمان بن جاتے۔ یقیناً ایسے نہیں ہوا۔ مشئیت ایزدی تھی کہ کتاب کے ساتھ ایک عملی نمونہ بھیجا جائے جو اس کتاب پر عمل کرکے لوگوں کو دکھائے۔ انسان الفاظ سے نہیں ان میں چھپے خلوص سے اور ان پر کئے گئے عمل سے متاثر ہوتا ہے۔ صدر زرداری دن رات رشوت کی مذمت میں بیان دیں کوئی بات تک نہیں سُنے گا۔ اس کے برعکس ایک غریب چپڑاسی جس نے تمام عمر رشوت نہ لی ہو، کم از کم اس کی موجودی میں ہی لوگ رشوت لینے سے احتراز کریں گے۔ یہی فرق ہے علم اور عمل کا۔ یہی فرق تھا کہ اولیاء اور صوفیاء لمبے چوڑے وعظ نہیں کرتے تھے، تبلیغ کی جماعتیں نہیں بھیجتے تھے پھر بھی لوگ آتے اور ان کے کردار و گفتار سے متاثرہوکر ان کا دین اپنا لیتے۔ ان کا روپ انہیں اس قدر بھاتا کہ صدیوں سے قائم اجداد کے طریق کو چھوڑ دیتے بنا کسی دھمکی بنا کسی مجبوری کے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اپنی کتاب "غنیتہ الطالبین" میں فرماتے ہیں کہ "پیر کامل وہ جس کی ایک سُنت بھی قضا نہ ہو۔" یہی اصحاب ہیں جنہیں پیر کہا جاتا ہے اور یہی اصحاب پیر کہلوانے کے لائق ہیں۔ آج کا انسان، آج کا مسلمان، آج کا معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے ان اشخاص سے جن کا عمل اسوہ رسولیﷺ پر ہو ، جو اس کڑی شرط پر پورا اُترتے ہیں۔ انہیں تلاشنا چاہئے، ان سے وابستگی رکھنا چاہئے کہ وہ ہمیں اسوہ رسولیﷺ پرچلنے کا طریقہ بتائیں، رہنمائی کریں، ہمت دیں، حوصلہ دیں کہ صرف الفاظ کافی نہیں ہوتے، کبھی نہیں ہوتے۔
یہ سب درست لیکن یہ بھی تو بتایئے کہ پیر کامل کو کہاں ڈھونڈا جائے ؟ آج قوم کا تو یہ حال ہے کہ قرآن شریف کا ترجمہ پڑھنے کا وقت نہیں ملتا لیکن چار گھنٹے موسیقی کا پروگرام سنا جاسکتا ہے
آپ کی بات سو فیصد درست ہے۔ عمل سے ہی زندگی بنتی ہے۔
جناب خرم بھٹی صاحب۔۔۔ بہت مہربانی اور شکریہ
اس تحریر کے لئے جو میرے دل کی آواز ہے۔۔۔۔
میں نے جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔۔۔
پیر کامل تو ہیں مگر ملتے قسمت والوں کوہیں
حقیقت تو یہی ہے کہ موجودہ دور میں ہم دو یکسر مختلف انتہاؤں کے درمیان پس رہے ہیں۔ جو دین سے دور ہیں وہ عربی کی عام کتاب کو بھی ٹیڑھی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جو دین سے قربت کے دعویٰ دار ہیں وہ لکیر کے فقیر۔
افتخار انکل – پیر کامل تو اپنے لئے ڈھونڈنا ہوتا ہے۔ قوم کو جب فرصت ملے گی تو وہ بھی آپ کی تقلید میں اس طرف چل نکلیں گے انشاء اللہ۔
افضل بھائی – بہت شکریہ ہمت افزائی کا۔
جعفر – بہت خوشی ہوئی آپ کے خیالات جان کر میرے بھائی۔ اللہ کریم جزا دے۔
فرحان بھائی – سُچا مال تو طلب صادق رکھنے والوں کو ہی ملتا ہے نا میرے بھائی۔
اسد بھائی – ناچیز کے بلاگ پر خوش آمدید۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جب نااہل لوگ کسی بھی کام کو سرانجام دینے لگتے ہیں تو کام تو بگاڑتے ہی ہیں، لوگوں کے دلوں سے اس بات پر اعتبار بھی اٹھا دیتے ہیں۔ اور جب ان خواص کے ساتھ ہٹ دھرمی اور کج بحثی بھی شامل ہوجائے تو سونے پر سُہاگا ہے۔
اور کتنے ایسے بھی ہیں جو قرآن پڑھ اور سمجھ کر بھی اس کی روح کو نہیں سمجھتے
اصل میں انگریز نیں امام مسجد کو تنخواہ دارملّا بنا دیا۔ معزرت کے ساتھ، جو بچہ معاشرے میں کسی اور کام میں پورا نھی آ سکتا اسے مسجد سنبھالنے کا عظیم کام سونپ دیا جاتا ھے۔ ان ملّاؤں سے پھر ہم اور کیا امیدکر سکتے ہیں؟
دراصل بھائی جان جب آپ دین کا علم بھی صرف روپے کمانے کے لئے حاصل کرتے ہیں تو پھر جیسے ہر پیشہ میں ہوتا ہے، بندہ اپنے نفع کے لئے اپنے علم کو بیچتا بھی ہے اور ناجائز ذرائع بھی اختیار کرتا ہے۔ انگریز کا سب سے بڑا کمال یہ ہوا کہ اس نے مسلمان کو “عقلیت” پسند اور “خودمختار” بنا دیا۔ قرآن عربی میں ہے، عربی پڑھو اور تم قرآن سمجھ گئے، حدیث سمجھ گئے اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ ابوجہل بھی عرب تھا اور ابو لہب بھی۔ پھر ان کا سب سے بڑا لگایا ہوا بوٹا تو شرق وسطٰی میں پھولا جس نے دین کی جڑ پر وار کیا اور مسلمان کو ایک انسان سے ایک خوں آشام درندہ میں تبدیل کردیا۔