Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • روٹھے ہوئے پانی

    کچھ عرصہ بعد سوچا کہ آج پھر بات کی جائے اپنے محبوب سندھو کی، اس کے حیات بخش پانیوں کی، اس کی لہروں میں کھیلتی کودتی زندگی کی۔ اس زندگی کی جسےسندھ کا ڈیلٹا بے رحمی سے موت کی گھاٹ اُتارا جارہا ہے۔ کچھ بات کی جائے ان کی جنہیں نہ وسائل میسر ہیں نہ قیادت کہ جو ان کے حق پر پڑنے والے ڈاکے پر آواز اُٹھائے کہ کسی میں "ہل من مزید" کا الاپ جپتے وحشیوں کو روکنے کی سکت نہیں۔   اباسین ۔۔۔ جسے شیر دریا کہا جاتا ہے تو کبھی سندھ، کبھی سندھو تو کبھی انڈس۔ جس کے پانی اوائل تاریخ سے اس دھرتی کو سیراب کرتے آرہے ہیں۔ ان پانیوں پر آخر حق کس کا ہے؟ یہ مسئلہ بھی کبھی اٹھانا چاہئے کہ ہم میں سے اکثر یا تو جہالت کا شکار ہیں یا تعصب کا اور ان دونوں انتہاؤں کے درمیان نفرتوں کی فصلیں سینچی جارہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں نہ ہو کہ تعصب اور نفرت کی یہ دیواریں گرادی جائیں کہ جن کی تعمیر و افزودگی میں ہی ان کا بھلا ہے جن کی ہم رعایا ہیں؟ تو چلیں آج بات کریں سندھ کی اور اس کے پانیوں کی۔ بات کریں ان پانیوں میں چھلکیں مارتی لہروں کی اور ان لہروں میں اچھلتی کودتی گاتی ڈالفن کی۔ ان مگرمچھوں کی جو ان پانیوں میں پلتے ہیں۔ مانگروو کے ان جنگلوں کی جو ان پانیوں کے باسی ہیں کہ یہ سب ہماری آنکھوں کے سامنے، ہمارے ہی ہاتھوں زندگی کی جنگ ہار رہے ہیں۔

    اوسط سے کمتر ذہانت کے حامل ہمارے حکمران عرصے سے ہمیں لوریاں سُناتے آرہے ہیں کہ ہم دریا کا اتنے ملین کیوبک فٹ پانی سمندر میں ضائع کردیتے ہیں۔ اور یہ کہ ان پانیوں سے ہم کتنے ریگزاروں کو گلزاروں میں بدل سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ بات کبھی کسی نے مُنہ سے نہ پھوٹی کہ اس سب کی قیمت چھ لاکھ  ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے مانگروو کے وہ جنگل چکائیں گے جنہیں سمندر کا پانی نگل لے گا۔ دس مختلف اقسام کے ممالیہ جانور، ایک سو تینتالیس اقسام کے پرند، بائیس اقسام کے رینگنے والے جاندار (جن میں مگر مچھ بھی شامل ہیں)، دوسو سے زیادہ قسم کی مچھلیاں اور پندرہ قسم کے جھینگے ان جانداروں میں شامل ہیں جنہیں ناپید ہونا ہوگا۔  یہ کہ صحرا کو گلزار کرنے کی دُھن میں وہ لہلہاتے  کھیت ویران ہو جائیں گے جو کسی وڈیرے، کسی رکن پارلیمنٹ اور کسی جرنیل کی ملکیت نہیں۔ یہ کہ اس کے بعد سندھ کا ڈیلٹا ایک کھاری دلدل میں بدل جائے گا جس میں کوئی مرغابی اترنا پسند نہیں کرے گی، جہاں پلا مچھلی کے ذائقے پروان نہیں چڑھیں گے۔ یہ کہ اس سب کے بعد مانگروو جنگل کی جگہ ایک کھاری قبرستان ہوگا جس میں مانگروو دفن ہوں گے۔ اورسب سے بڑھ کر یہ کہ نئے جہان آباد کرنے کی یہ ہوس ان کے گھروں کو اجاڑ دے گی جو قرنوں سے سندھ کنارے  آباد ہیں۔

    آج حالت یہ ہے کہ سندھ کا ڈیلٹا اپنے اصل رقبہ کا صرف دس فیصد رہ گیا ہے۔ مانگروو کے جنگل ہر روز اپنے باسیوں کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ ہارتے جارہے ہیں کہ سمندر ہر روز اسی ایکڑ زمین پر قبضہ کرتا جارہا ہے۔ سندھ  کے پانی  چولستان و تھر کے ریگزاروں کو گلزار بناسکیں یا نہ، انہیں چھین کر ہم سندھ کے ہرے بھرے ڈیلٹا کو اُجاڑ رہے ہیں۔ سندھ کی اندھی ڈالفن بھی ہماری اس اندھی ہوس کے بھینٹ چڑھ جائے گی کہ جب اس کے تیرنے کو تازہ پانی ہی نہ رہا تو کہاں کی ڈالفن اور کہاں کے نغمے؟ سوال ذہن میں اٹھتا  ہے کہ اگر کسی کا گھر اُجاڑ کر کسی کا پہلے سے بھرا گھر مزید بھرے تو کیا اس کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز ہے؟ جب دنیا کے مروجہ قانون کے مطابق دریا کے پانیوں پر سب سے زیادہ حق اس کے ڈیلٹا اور ٹیل پر بسنے والوں کا ہے تو پھر ہم انہیں ان کے حق سے محروم کیوں کر رہے ہیں؟  آخر کیوں وہ پانی انہیں نہیں دیا جاتا جو ان کا حق ہے؟ اگر پانی کم ہے تو کٹوتی یکساں کیوں نہیں کی جاتی؟ آخر کیوں ہم اپنوں کے ساتھ ہی انصاف نہیں کرسکتے؟ معاشیات کی بات کریں تو حقیقت یہ ہے کہ سندھ کا ڈیلٹا سال میں 120 ملین ڈالر کی پیداوار دے سکتا ہے۔  اس کے لئےاگر تربیلا میں ذخیرہ کردہ پانی کا 25 فی صد بھی چھوڑ دیا جائے تو خزانے کو 38 ملین ڈالر سالانہ کو نقصان ہوتا ہے۔ واضح طور پر ایسی صورتحال میں بھی ڈیلٹا ایک زیادہ منافع بخش سودا ہے۔ ماحول پر اس ڈیلٹا کے پڑنے والے مثبت اثرات اس سب کے علاوہ ہیں۔

    اس وقت حال یہ ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا آبپاشی نظام رکھنے کا زعم تو ہمیں ہے لیکن کیا ہم نے اس نظام کو اس کی مکمل اہلیت کے مطابق استعمال کرلیا ہے؟ پانی کا ضیاع جو کچے کھالوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے کیا اس کا سدباب کرلیا  ہے جو ہمیں اب مزید پانیوں کی ضرورت ہے؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنوں کو پیاسا مارنے سے پہلے کیا ہم نے ان کا علاج کرنے کا سوچا ہے جو ہمارے پانیوں پر بے درنگ قبضہ کئے جارہے ہیں؟ جب ان تمام سوالوں کا جواب "نہیں" میں ہے تو پھر کیا جواز ہے اپنی ہوس کے لئے اوروں کا گلا گھونٹنے کا؟ آج جب دنیا قدرتی حیات اور ماحول کو بچانے کی باتیں کررہی ہے، ہم اپنے ماحول کی بربادی کا مزید سامان کرنا چاہ رہے ہیں۔ ہم کیوں نہیں مان سکتے کہ یہ دنیا خالق کی تمام مخلوقات کے لئے ہے؟ یہ کہ تخلیق کا یہ خوبصورت نظام ایک انتہائی نازک توازن پر قائم ہے اور اس توازن میں گڑبڑ کی قیمت آپ کو جلد یا بدیر چُکانا پڑتی ہے۔یہ کہ ڈیلٹا میں بہنے والا پانی بھی اتنا ہی حیات بخش اور ضروری ہے جتنا رحیم یارخان کے ایک دیہہ کے کھالوں میں بہتا پانی۔ یہ مرغابیاں، یہ مگرمچھ، یہ ڈالفن، یہ مانگروو کے جنگل اوران میں بستے چرند پرند یہ سب ہمارے اپنے ہیں۔ ہمارا اثاثہ ہیں۔ ہمیں ان کو بچانا ہے کہ اللہ کی رحمتیں انسانوں پر ان کی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے کم اور ان بے زبانوں کی وجہ سے زیادہ نازل ہوتی ہیں ۔ اور یہ کہ یہ پانی جو ڈیلٹا میں بہتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ دنیاوی منڈی میں اس سے کہیں زیادہ نفع بخش ہے جتنا ہم ان پانیوں کو روک کر کما سکتے ہیں۔

    زندگی کے کئی برس میں بھی اس جھوٹ کا شکار رہا کہ کالاباغ بہت ضروری ہے۔ کہ پانی ضائع ہوتا ہے سمندر میں اور اسے استعمال کرنا چاہئے اپنے فائدہ کے لئے۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ کتنی بھیانک قیمت ہے اس سب کی۔ اور یہ سب کچھ صرف اس لئے کہ جنوبی پنجاب کے روائیتی جاگیردار کچھ مزید کھیتی زیر آب لاسکیں اور جرنیلوں کو جو زمینیں چولستان میں الاٹ ہوئی ہیں وہ منافع بخش ہوسکیں؟ تف ایسی سوچ پر اور ایسی تنگ نظری پر۔  ایک ہنستے بستے گلشن کو برباد کرکے ایک اور گلستان آباد کرنے کا خواب دیکھنے والے یہ بوالہواس اپنے چند ٹکوں کے لئے اس ملک کو اس کے ورثہ سے محروم کردینا چاہتے ہیں۔ انہیں اس کی بھی پرواہ نہیں کہ ان کے ان اقدامات سے ملک کے عوام کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہوجائے گی جسے پاٹنا ناممکن نہیں تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ میرا تعلق شمالی پنجاب سے ہے اور میری زندگی کا غالب حصہ صادق آباد ضلع رحیم یارخان میں گزرا ہے لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں سندھ کے ڈیلٹا کا مقدمہ لڑنے والوں کے ساتھ ہوں۔ سندھ کے پانیوں پر پہلا حق اس کے ڈیلٹا میں بسنے والوں کا ہے اور ان کا گھر برباد کرکے کسی اور گھر کی آبادی مجھے منظور نہیں۔ یہ ہنستی گاتی لہراتی اچھلتی ڈالفن میری ہے، دریا کنارے لیٹے سوتے مگر مچھ میرے ہیں، یہ سندھ کے پانیوں میں پلتی پلا مچھلی میری ہے، یہ مانگروو کے جنگلوں میں پلتے جھینگے میری ہیں۔ یہ دولت ہیں میرے وطن کی اور میں ہر اس فرد، ہر اس طبقہ کے خلاف ہوں جو میرے وطن کو اس دولت سے محروم کرنا چاہتا ہے۔

    آج صورتحال اس نہج پر آن پہنچی ہے کہ ہمیں رائے عامہ کو بیدار کرنا ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔ ہم بہت سا وقت پہلے ہی جھوٹے دلاسوں اور لوریوں کی نذر کر چکے ہیں۔ اگر ہمیں پاکستانی معاشرہ کو ایک امن پرور اور خوشحال معاشرہ بنانا ہے تو ہمیں انصاف کرنا ہوگا۔ کسی بھی وابستگی سے بالاتر ہوکر صرف انصاف کرنا ہوگا۔ تو کیوں نہ اس کا آغاز ان سے کریں کہ جو اپنے پر توڑے والے ظلم کی فریاد بھی نہیں کرسکتے؟ کیوں نہ لوریوں کی بجائے حقائق کھوجیں؟ کیوں نہ حق کا ساتھ دیں خواہ اس کے مخالف کوئی بھی ہو؟ سو آئیں آواز اٹھائیں اس ظلم کے خلاف اور برأت کا اظہار کریں اس ظلم سے جو ہمارے نام سے ہمارے پیاروں پر کیا جارہا ہے۔ آئیں سنواریں پاکستان۔


  • Saturday, December 12, 2009 at 00:48 | #1

    خرم بھٹی صاحب، آج آپ نے غیر سندھی ہونے کے باوجود اس موضوع پہ جو پاکستانی رویہ اپنایا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ میں کچھ عرصے پہلے آربی اوڈی اور چھوٹیاری ڈیم پہ بننے والی ایک دستاویزی فلم کےعملے کے ساتھ اس پورے علاقے میں گھومی پھری۔ اور خود جا کر ڈیلٹا کی حالت دیکھی تو حیران رہ گئ۔ ڈیلٹا کسی بھی دریا کا ماحولیاتی لحاظ سے خاصہ اہم اور حساس علاقہ ہوتا ہے یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں دریا سمندر سے ملتا ہے اس طرح سمندر کے پانی میں شامل ہونے سے پانی ایک الگ قسم وجود میں آتی ہے جو کہ وہاں موجود اگنے والون پودوں جیسے مینگرووز اور اسکے علاوہ صدہا دوسری مخلوقات کو سپورٹ کرتی ہے۔ لیکن ہم نے اپنی ہوس میں اس نثام کو بھی نہ صرف تباہ کر دیا ہے بلکہ گستاخی معاف میں نے جب اپنے ان ساتھیوں کو جنکا تعلق پنجاب سے تھا یہ بتانے کی کوشش کی کہ ڈیلٹا بالکل ختم ہو چکا ہے اور اس جگہ پہ دریاءے سندھ کی جگہ ایک پتلا سا نالہ بہتا ہے اور اسے صحرائے سندھ کہنا زیادہ موزوں ہیں تو انہوں نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ انہوں نے کبھی خود ڈیلٹا جا کر نہیں دیکھا تھا۔
    اسی طرح چھوٹیاری ڈیم بنانے کا فیصلہ اور ایل بی اوڈی کی تعمیر ان سب عوامل نے سندھ کی زرخیز زمینوں کو بنجر کرنے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن کسی کو ان سب مسائل کی پرواہ نہیں۔ انکو بھی نہیں جو انہی زمینوں سے اٹھ کر اسمبلی تک پہنچتے ہیں۔
    کاشتکاری کے موجودہ نظام میں بھی انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے جس سے فصلوں پہ پانی کی لاگت کم آئے اور پانی اوپر والے علاقے سے نیچے کی طرف بھی مناسب مقدار میں بہنا شروع ہو۔

  • Saturday, December 12, 2009 at 01:39 | #2

    موجودہ صورتِ حال بالعموم پچھلے 50 سالوں مین اور بالخصوص پچھلے 8 سالوں میں پیدا ہوئی ہے ۔ میں صرف اس صورتِ حال کا پسِ منظر لکھوں گا ۔ بات لمبی ہے اور اہم بھی اسلئے بہتر ہو گا کہ میں اپنے بلاگ پر تحریر لکھوں کہ سب پڑھ سکیں ۔ اِن شاء اللہ جلد

  • Saturday, December 12, 2009 at 03:34 | #3

    ایک بہت اہم مسئلے پر آپ نے بات شروع کی ہے۔۔ مجھے تیکنیکی باریکیوں کا نہیں پتہ لیکن اگلے روز این پی آر پر بھی کم و بیش اسی بات کا رونا رو رہے تھے بلکہ وہ تو اس حد تک چلے گئے کہ اگر پاکستان کی حکومت نے پانی کا مسئلہ حل نا کیا تو پاکستان میں پانی پر خانہ جنگی ہوسکتی ہے۔

  • خرم
    Saturday, December 12, 2009 at 08:12 | #4

    عنیقہ بہنا – بہت شکریہ آپ کے حسن ظن کا۔ جس رویے کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اس کی وہی وجوہات ہیں جو میں نے عرض کی ہیں۔ جہالت اور تعصب۔ پنجاب میں بسنے والوں کو تو عرصہ سے یہی سُنایا جاتا ہے کہ پانی سمندر میں ضائع ہوجاتا ہے اور یہ کہ اسے روک کر ہم مزید زمینیں زیر کاشت لاسکتے ہیں۔ سندھی بھائی بہن بجائے حقائق اور اعداد و شمار سے بات کرنے کے پنجاب کو گالیاں دے دے کر گزارا کرتے ہیں عموماً۔ سو کسی کو علم ہی نہیں کہ اصل بات کیا ہے۔ یہ جو کچھ میں نے جانا یہ اپنی تحقیق سے جانا اور اس سب کی شروعات تب ہوئیں جب میں نے ظہور بھائی کی فیس بک پوسٹ پر ربط مانگا کسی سائنسی تحقیق کا جو کالاباغ ڈیم کے منصوبے کو رد کرتی ہو۔ اس دور میں بھی جس طرح کامیابی سے ہمارے ارباب حل و عقد نے پاکستانی نوجوانوں کو بالخصوص پنجاب کو اس تمام معاملہ میں اندھیرے میں رکھا ہے وہ تعجب انگیز اور قابل افسوس ہے۔ پنجاب کیونکہ ڈیلٹا میں واقع نہیں سو انہیں نہ اس کی اہمیت کا ادراک ہے اور نہ کبھی کسی نے انہیں بتانے کی کوشش کی ہے۔ ویسے بھی بالائی پنجاب میں تو اکثر زمینیں بارانی ہیں سو ان کا تجربہ تو مزید محدود ہے۔ ایسے میں جب تک انہیں حقائق بتائے نہ جائیں انہیں‌مورد الزام قرار دینا مناسب نہیں لگتا۔ بدقسمتی سے یہی چلن رہا ہے ہمارے یہاں سو ہر ایک اپنے خول میں بند ایک خیالی دُنیا بسائے بیٹھا ہے۔ میرا یقین ہے کہ اگر ہم اپنی بات اعداد و شمار اور حقائق کے ساتھ ان تک پہنچائیں تو پنجاب کے لوگ سندھ کے بھائیوں‌کے ساتھ ہم آواز ہوکر کالاباغ اور پانی کی تقسیم میں بدعنوانی کے خلاف کھڑے ہوں گے انشاء‌اللہ۔ مسئلہ صرف اپنی بات ان تک پہنچانے کا اور ایک دوسرے کو دشمن کے طور پر نہیں بھائی کے طور پر دیکھنے کا ہے۔ یہی خطرہ ہے ہمارے ارباب حل و عقد کو سو وہ لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں کہ جس روز عوام نے حقائق کی بنیاد پر بات کرنا شروع کردی اس روز ان کی بادشاہت ختم ہو جائے گی۔

  • خرم
    Saturday, December 12, 2009 at 08:16 | #5

    اجمل انکل آپ کی پوسٹ کا انتظار رہے گا۔
    راشد بھائی – یہی تو چاہتے ہیں پاکستان کے اندرونی و بیرونی دشمن کہ ہم لوگ ایک نہ ہو سکیں۔ پانی میں گڑبڑ کسی دس ایکڑ کے زمیندار غریب کے لئے تھوڑا کی جاتی ہے۔ وہ تو کی جاتی ہے سینکڑوں، ہزاروں ایکڑ والوں‌کے لئے اور الزام آجاتا ہے پورے صوبے میں بسنے والوں‌پر۔ اب پانی کی چوری بھی صرف پنجاب میں نہیں‌ہوتی، سندھ میں بھی وڈیرے کی زمین کو پانی پورا ملتا ہے۔ بچا کھچا عام لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور انہیں کہتے ہیں کہ باقی کا پانی پنجاب لے گیا۔ مقصد صرف یہ کہ ان سے کوئی نہ پوچھے اور لوگوں‌کے غصے کو موڑ دیا اپنے مزید سیاسی فائدے کے لئے۔

  • Saturday, December 12, 2009 at 16:33 | #6

    میں‌بھی آپ کے ساتھ ہوں‌بھیا۔۔۔۔
    http://omer-urdu.blogspot.com/2009/12/blog-post_13.html

  • کنفیوز کامی
    Tuesday, December 15, 2009 at 09:25 | #7

    زبردست جناب بہے اعلی اور معلوماتی لکھا اصل حقیقت کو ظاہر کرنے کا شکریہ اور بھی موضوع ہیں ان پر بھی زرہ لکھیں مثلا سندھی اور پنجابی کے درمیان رنجش پیدا کرنے کی سیاسی چالیں ۔

  • عبداللہ
    Friday, December 18, 2009 at 04:08 | #8

    کنفیوز کامی سندھی آپنے اردو بولنے والوں کو شامل کر کے لکھا ہے یا نکال کے 8-)

  • Tuesday, December 22, 2009 at 15:22 | #9

    خرم بشیر بھٹی صاحب منظرمہ ایوارڈ 2009 کے سلسلہ میں منظرنامہ کو آپ کا ای میل درکار ہے۔ برائے مہربانی جلد سے جلد mail[at]manzarnamah.com پر رابطہ کریں۔ شکریہ

  • Wednesday, December 23, 2009 at 04:05 | #10

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بھائی واقعی آپ نےبہت تحقیقی مضمون کالاباغ ڈیم پرلکھاہےاللہ آپ کوجزادے(آمین ثم آمین) بات وہی ہےکہ پنجاب میں دراصل یہی بات کہی جاتی ہے کہ پانی ضائع ہورہاہےواقعی آپ کی بات یہ بھی ٹھیک ہے کہ جب تربیلاڈیم بناتواس وقت بھی یہی صورت حال تھی لیکن دیکھایہ جاتاہےکہ یہ ملک کے لیےکتناضروری ہے۔ کالاباغ ڈیم بھی ملک کے لیےانتہائی ضروری ہے لیکن ہمارےسیاستدانوں نےاس کوسیاست چمکانےکےلیےاستعمال کیامیں یہ بات گارنٹی سےکہہ سکتاہوں کہ اس میں اکثرسیاستدانوں کویہ ہی نہیں علم ہوگاکہ اس سےکیافائدہ ہوگابس وہ سیاست کرتےہیں اس سے۔ اللہ تعالی ہم پررحم کریں اورہم کوایک سچامسلمان اورپکاپاکستانی بنائےجوکہ سب کی اجتماعی سوچ رکھتاہوں (آمین ثم امین)

    والسلام
    جاویداقبال

  • خرم
    Thursday, December 24, 2009 at 11:02 | #11

    جاوید بھائی ۔ بہت شکریہ بلاگ پر تشریف آوری کا۔ بھیا دراصل کالاباغ بالکل ضروری نہیں ہے۔ یہ سب پراپیگنڈہ ہے۔ ضرورت ہے کہ تمام قدرتی وسائل کو سمجھداری سے استعمال کیا جائے اور اس طرح کیا جائے کہ کسی ایک کا فائدہ کسی دوسرے کا نقصان نہ بن جائے۔ اس طرف کوئی دھیان ہی نہیں دیتا بدقسمتی سے۔ :-(

تبصرہ کریں

:o) :-D :-( ;-) :-P =-O 8-) :-/ :-! C:-) :-(|) O-) :@ :-[ (B) (^) (P) (@) (O) (D) :-S ;-( (C) (&) :-$ (E) (~) :-* (I) (L) (8) (T) (G) (F) (*) (N) (Y) (U) (W)

TOP