کوشش کرنے کے باوجود حالات کچھ ایسے ہوئے کہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک بلاگ پر کچھ لکھا ہی نہ جا سکا۔ پہلے تو کام کا زور تھا اس پر طرّہ یہ کہ تمام بلاگران کی طبیعیت آجکل زوروں پر ہے۔ سو ادھر ہم نے دو روز چکر نہ لگایا اور ایک قطار بندھ گئی احباب کی تحاریر کی۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو ایک روز ریڈر پر دیکھا تو ساٹھ سے زیادہ تحاریر تھیں جن کا پڑھنا ہم پر ادھار تھا۔ سو فرصت کے چند لمحوں میں ہانپتے کانپتے چند ایک تحاریر پڑھتے، چند تبصرے کرتے اور اتنے میں فارغ وقت ختم ہوجاتا۔ سو اگلے روز سے پھر وہی گھن چکر۔ گزشتہ پورا ماہ تقریباً اسی معمول میں گزر گیا۔ ویسے ایک گونہ خوشی بھی محسوس ہوتی رہی اتنی متنوع تحاریر پڑھنے پر۔ مکی بھائی جہاں تاریخ کے اوراق کھنگال رہے تھے،وہاں پاس ہی فہد بھائی وکی پیڈیا پر دھڑا دھڑ فتوحات کے جھنڈے گاڑے جارہے تھے، افتخار انکل زرداری اور این آر او یافتگان کے سلسلہ میں ہماری معلومات میں اضافہ کر رہے تھے،تو شاکر بھائی زبان کے تغیر و تبدل پر تحقیق سے آگاہ کر رہے تھے۔ ایک طرف افضل بھائی پاکستانی حالات حاضرہ پر رواں تبصروں سے معلومات میں اضافہ کر رہے تھے تو دوسری طرف ڈفر اور جعفر ڈفریاں اور جعفریاں مار رہے تھے۔ عمر اپنی عمر کا صلہ لوگوں میں بانٹ رہے تھے اور حیران کن طور پر بدتمیز بھی گزشتہ چند روز سے میدان میں کودتے نظر آرہے ہیں۔ خاور صاحب نے یکا یک اپنا انداز ہی بدل کر ہمیں چونکا دیا تو جہانزیب بالکل غائب رہے ۔ یاسر عمران پاکستان گئے ہیں اور خرم شہزاد خرم نے بھی کافی عرصہ سے کچھ نہیں لکھا۔
جہاں حضرات بلاگ کی دُنیا میں ہلچل مچا رہے تھے وہاں خواتین کی بھرپور نمائندگی شاہدہ آپی نے کی کہ ماورا اور عنیقہ بہنا تو سیروسیاحت پر نکلی ہوئی ہیں اور تھیں جبکہ شگفتہ بہنا اور حجاب بہنا ویسے ہی کم کم آتی ہیں۔
تبصرہ جات میں بھی خوب معرکے زوروں پر رہے ۔ افتخار انکل کی ایک پوسٹ پر تو مناظرے کا اہتمام ہو چُکا تھا لیکن ہمیں تصور میں افتخار انکل ڈنڈا اٹھائے اپنے پیچھے بھاگتے نظر آئے کہ "کیوں میرے بلاگ کا خانہ خراب کررہے ہو۔ اپنے بلاگ پر جاکر جو چاہے تماشا کرو" سو کان دبا کر کھسک لئے۔
اس تمام عرصہ میں ہم نے بھی بہت سے موضوعات پر لکھنے کا سوچا۔ پہلے سوچا کہ "آرڈی پیتھیکس" پر کچھ لکھیں گے اور یہ کہ دو ٹانگوں پر چلنا انسانی ارتقاء میں کیوں اتنا اہم ہوا اور انسانی معاشرے اور فطرت کی تشکیل میں اس جسمانی تبدیلی کا کیا اثر تھا؟ پھر یہ بھی ارادہ تھا کہ شکار کے ایک دورے کی روداد ہی لکھ ڈالیں معہ تصاویر۔ پھر عید آئی تو طبیعت چلبلائی لیکن کیا کیجئے کہ
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
سو بس یہی مقدور ہوا کہ ایک لمبی غیر حاضری کے خاتمہ کے لئے یہ چند سطریں گھسیٹ دی جائیں۔ تفصیلی باتیں پھر انشاء اللہ فرصت پر۔
عنایت ہے آپ کی چند سطریں ہی بھلی۔
آپ کیا پاکستان سنوارنے گئے ہوئے تھے ؟
چلئے آپ کے درشن ہوئے تو سہی۔۔۔ میں تو سوچ رہا تھا کہ شاید آپ پتھر کو چوم کر چھوڑ چکے ہیں۔۔۔
اردو بلاگنگ بھی مسالہ فلم کی طرح ہے، آٹھ گانے، چار رومانی سین، چھ ایکشن سین، کچھ ڈرامہ اور کامیڈی اور فلم مکمل۔۔۔
میں تو خود سلیمان ٹوپی پہنے ہوئے تھا کیونکہ وکیپیڈیا پر مصروفیت چل رہی تھی۔ آج بلاگستان کا رخ کیا تو پتہ چلا مجھ سمیت کئی پردہ نشین موجود ہیں جو بلاگستان سے غائب ہیں۔
واپسی مبارک ہو۔
سعود بھائی – ہمت افزائی کا بہت شکریہ

افتخار انکل – اک تیر تو نے مارا ظالم کہ ہائے ہائے۔۔۔۔۔پاکستان جانا تو گزشتہ ساڑھے چار برس سے ممکن نہیںہوسکا۔ بس غم روزگار میں ہی گرفتار رہے۔
جعفر – بھائی اب اور کیا کہیں کہ چچا بہت پہلے کہہ گئے کہ چھٹتی نہیں یہ کافر ۔ اور بلاگ پر نہ لکھنا تو اب ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے آپ سب سے ملاقات نہ ہوئی ہو اور یہ کافی بے قراری کی بات ہوتی ہے۔ اردو بلاگنگ کی تجزیہ ویسے آپ نے خوب کیا ہے۔
فہد بھائی – محبتوں کا بہت شکریہ۔ وکی پیڈیا پر بھی کبھی جانا نہیں ہوا عرصہ سے۔ بس سوچ کر ہی رہ جاتا ہوں کہ کچھ لکھ ڈالا جائے لیکن ۔۔۔۔ انشاء اللہ جلد ہی ایک آدھ موضوع پر لکھوںگا۔
واپسی مبارک جناب، فیس بُک فیر بھی نی چھڈیا تسی
لالیو فیس بک پر تو ہم اپنے کالے بیری سے ہی اپڈیٹ کرتے رہتے ہیں وگرنہ تفصیلی طور پر تو وہاں جانا بھی بہت کم ہوگیا ہے۔
کیا بات ہے لالہ خرم ،
واقعی ایسی رپورٹنگ ہونی چاہے اور میری غیر حاضری کا لکھا نہیں ، آخر کو ہم بھی تو غیر حاضر ہیں اے جذبہ دل غزل سنانے کے بعد
ویسے خرم آپ بھی ڈارون کے معتقد ہیں
دو ٹانگوں پر چلنا انسانی ارتقاء میں کیوں اتنا اہم ہوا اور انسانی معاشرے اور فطرت کی تشکیل میں اس جسمانی تبدیلی کا کیا اثرات ہوئے۔؟
ڈارون کی تھیوری پر یقین ہے آپ کو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بھٹی صاحب آپ تو سفرے ہی رہتے ہیں کبھی آرام نال بیٹھ کے لکھو
عرب خواتین پاکستانی ڈاکٹروں سے پردہ نہیںکرتیں۔۔۔وجہ؟؟؟ کہ غیر ملکی جو کام کرنے آتے ہیں ان کے ملک میں وہ غلام کی تعریف میں آتے ہیں اور غلام سے پردہ نہیں۔
خرم آپنے یہ بات کس بنیاد پر کہی؟سعودی عرب میںاتنے عرصے رہنے کے باوجود ایسی کوئی بات میرے علم میں نہیں!
باقی آپکے بقیہ تبصرے سے میں مکمل متفق ہوں
محب ۔ آپ کی تو خبر لینی ہے سو غیر حاضری کی بات تو غیر متعلقہ ہے۔

کامی بھائی – سفر وسیلہ ظفر جو ہوا۔
عبداللہ۔ ڈاکٹروں کی بات ڈاکٹروں سے ہی سُنی ہے بھائی۔ بیگم ڈاکٹر، برادر نسبتی ڈاکٹر، ان کی بیوی ڈاکٹر، ان کے دوست ڈاکٹر وغیرہ وغیرہ۔ عام انسان تو بس ہم اور ہماری بیٹیاں ہیں اس ہجوم ڈاکٹراںمیں۔
بھائی پڑھے لکھے لوگ تو ایسی سوچ نہیں رکھتے البتہ جو بدوؤں کے علاقے ہیں وہاں ایسی سوچ پائی جاتی ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتا میرے بھی کئی قریبی جاننے والے ڈاکٹر ہیں مگر انہوں نے تو کبھی ایسی کوئی بات نہیں بتائی،بلکہ اچھے ڈاکٹرز کا تو بہت احترام کیا جاتا ہے خواہ انکا تعلق کہیں سے بھی ہو!