گزشتہ ہفتے بیٹھے کچھ سوچ رہے کہ ایکا ایک ہمارے ذہن کامل میں ایک خیال نادر آیا۔ زوجہ کو اس انکشاف پر آگاہ کرتے ہوئے ہم نے فرمایا "مجھے لگتا ہے کہ یہ سوائن فلو کی وبا امریکی سازش ہے تاکہ گرتی ہوئی امریکی معیشت کو سہارا دیا جاسکے" ہماری زوجہ نے مشکوک آنکھوں سے ہماری ذہنی حالت پر اپنے شک کو درجہ ایقان کے مزید قریب کرتے ہوئے استفسار کیا "وہ کیسے؟؟؟؟؟؟" "سیدھی سی بات ہے" ہم گویا ہوئے۔ “یہ وائرس امریکی لیبارٹریوں میں تیار کرکے تمام دُنیا میں پھیلا دیا گیا ہے۔ جب اس کی تباہی کی ہولناکیوں کا اندازہ ہوگا تو امریکی دواساز کمپنیاں اس کی پہلے سے تیار کردہ ویکسین لے کر میدان میں آجائیں گی۔ اتنی ہولناک بیماری سے بچنے کے لئے لوگ کیا کچھ نہ دیں گے اس دوا کو حاصل کرنے کے لئے؟ نتیجتاً امریکی دواساز کمپنیاں ایک دفعہ پھر امیر ہوجائیں گی اور امریکی معیشت کو وہ سہارا مل جائے گا جس کی وہ تلاش میں ہے۔" بیگم نے اس مفروضہ پر جو فی البدیہہ کہا وہ تو ہم تمام تبصرہ جات کے آخر میں عرض کریں گے لیکن اس مفروضہ کی بابت آپ کا کیا خیال ہے؟
بات چل نکلی ہے مفروضوں اور حقائق کی تو پھر آج ایک اورطرف دیکھ لیا جائے۔ طاہر یلداشیو گزشتہ ہفتے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔ آج بی بی سی پر ان کے متعلق ایک اظہاریہ چھپا۔ یہ حضرت ازبک تھے۔ وہاں کی حکومت کے خوف سے جان بچا کر پہلے افغانستان پہنچے اور پھر نو گیارہ کے بعد وہاں سے نو دو گیارہ ہو کر پاکستان میں آ وارد ہوئے۔ اپنے ملک میں تو اسلام کے نفاذ کی ہمت نہ ہوئی لیکن پاکستان میں اسلام کے نفاذ کی کوششوں میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس اظہاریہ میں پہلی دفعہ یہ بات بھی کھُل کر سامنے آئی کہ لال مسجد کے واقعہ میں ان کے جنگجو ملوث تھے۔ خیر احباب نے تو پھر بھی فوج اور حکومت کو ہی صلواتیں سُنانی ہیں لیکن میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ان سمیت "مُلا کے اسلام" کے وہ تمام "مجاہدین" جو پاکستان کو "مشرف بہ اور مشرف بغیر" مسلمان کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے ممالک سے دُم دبا کر کیوں فرار ہوئے ہوتے ہیں؟ اگر ان کا "ایمان" اتنا ہی کامل ہے تو شہادت کی جس موت کی آرزو وہ پاکستانی بچوں میں پیدا کرکے انہیں شب برات کے پٹاخے بناتے ہیں، اسی شہادت کی موت کو اپنے ملک میں کیوں قبول نہیں کرتے؟ چین و عرب میں تو ان کی چلتی نہیں، پاکستان ہمارا کی گردان فوراً شروع ہوجاتی ہے۔ یہ مفروضہ کب حقیقت ہوگا کہ پاکستان پاکستانیوں کا ہے اور انہی اپنی مرضی کے مطابق اپنا راستہ اختیار کرنے کا حق ہےاور کسی دیگر عربی و غیر عربی کو یہ حق نہیں الا یہ کہ وہ امام مہدی ہو یا حضرت عیسٰی علیہ السلام؟
آج ظالمانی ترجمان نے بھی ایک بڑھک ماری کہ وزیرستان خالہ جی کا گھر نہیں ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ طالبان پاکستانی فوج، قوم اور سرزمین کے دشمن نہیں۔ سبحان اللہ۔ انہیں یہ تک تو علم نہیں کہ قوم کی تعریف کیا ہوتی ہے اور کسی قوم سے وابستگی کا اعلان کرنے کے کیا تقاضے ہیں لیکن "رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی" کے مصداق جس قوم، جس سرزمین اور جس فوج سے جنگ کرتے ہیں، انہی سے وفاداری کی صداکاری بھی کررہے ہیں۔ صداکاری اس لئے کہا کہ اداکاری کی ہی حد تک سہی، انہوں نے کبھی پاکستان سے وفاداری کا ثبوت نہیں دیا۔ اور خالہ جی کا گھر تو خیر وہ آج کل ازبکوں، عربوں، چیچنوں، تاجکوں وغیرہا کے لئے ہے ہم پاکستانیوں کی تو وہاں جاتے ہی عید قربان مناڈالی جائے گی۔ خیر اب ان کی اس طوطا مینا وفاداری پر محب وطن کالم نگار و مفروضہ نویس ان کی حب الوطنی کی ستائش کرتے ہوئے فوج کے ممکنہ آپریشن کی مخالفت کریں گے اور قوم کو اپنے فن داستان گوئی سے مرعوب و مسحور کریں گے۔
خبر یہ بھی ہے کہ عدالت نے پھول نگر کے واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا ہے ۔ اگرچہ یہ ایک نسبتاً اچھی خبر ہے لیکن ابھی تک کہیں یہ خبر نہیں پڑھی کہ مقامی یونین کونسل کے ناظم اور ان کے حوارئین بشمول وہ "مذہبی شخصیت" گرفتار ہوچکے ہیں جو اس واقعہ کے روح رواں تھے۔ اسی طرح عدالت عظمٰی نے بھی چینی کی قیمت چالیس روپے فی کلو مقرر کرنے پر زور دیا ہے اور کوئی نوٹس وغیرہ بھی جاری کیا ہے۔ ویسے کیا عجب اتفاق ہے کہ اکثر شوگر ملیں یا تو مسلم لیگ قاف والوں کی ہیں یا پی پی والوں کی اسی لئے چینی کے معاملہ میں زیادہ پھرتی بھی پنجاب حکومت دکھا رہی ہے کہ ان کے دو بڑے دشمن چوہدری برادران اور منظور احمد وٹو شوگر ملوں کے مالکان میں سے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ خبر بھی پڑھیں کہ ایک بین الاقوامی اشتہاری ملزم کو پنجاب کا صوبائی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ موصوف کی سب سے بڑی اہلیت میاں نواز شریف کا ہم جماعت ہونا بتائی جاتی ہے۔ عدالت عالیہ اس کا "ازخود نوٹس" کب لیتی ہے ہم منتظر رہیں گے۔ چلیں ہم یہ مفروضہ بیان کردیتے ہیں کہ ان تمام واقعات میں جن میں مسلم لیگ نون سے وابستہ افراد ملوث ہیں تمام مجرمان کو قرار واقعی سزا ملے گی اور یہ شک دور ہوگا کہ میاں نواز شریف نے سیاست کے بعد اب عدلیہ کو بھی باضابطہ طور پر "کاروباری" کردیا ہے۔ یہ مفروضہ حقیقت بنتا ہے کہ نہیں اس کا انتظار ہم سب مل کرکرتے ہیں۔
کچھ نہیں ہو گا
گنجے بھی اسی تھالی کے چٹے بٹے ہیں
اور یہ بات بالکل درست ہے کہ چینی کے معاملے میں اتنی چستی اپنے حریفوںکے کنڈا ڈالنے کے چکر میں دکھائی جا رہی ہیں
ورنہ ان گنجوں کے نام بھی سرفہرست ہیں عدالت کو دی گئی نیب کی لسٹوں میں
میرے مفروضے ھقیقت ہیں نا؟
لیجئے آپ اتنے بھولے بن رہے ہیں کہ لوگ اپنے ملک چھوڑ کر پاکستان میں کیوں اسلام نافذ کرنے کےلئے جام شہادت نوش کرنے آتے ہیں۔ کیا آپکو معلوم نہیں کہ پاکستان دنیا کے ان دو ممالک میں شامل ہے جو کسی نظرئیے کی بنیاد پر وجود میں آئے۔ یہاں کا مقصد تومسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک حاصل کرنا نہیں بلکہ اسلام کا نفاذ تھا۔ چونکہ آپ لوگوں کی نیت میں کھوٹ پیدا ہو گئ تو باہر کے مسلمانوں کو یہ ذمہداری اٹھانی پڑی۔ اس پر بھی آپ ایسے نا شکر گذار ہیں کہ ان مجاہدین کا ساتھ دینے کے بجائے لادین عناصر کے اقوال دہراتے ہیں۔ امریکن ایجنٹ۔



اور یہ آپ نے پھر پاکستانی ایک قوم کا سبق چھیڑ دیا۔ جبکہ سحیح سبق ہے طالبان ایک قوم۔ اگر آپ انکے ساتھ نہیں تو انکے دشمنوں میں ہیں۔ یہ جملہ لگتا ہے میں نے پہلے بھی کبھی سنا تھا۔ شاید نو گیارہ کے موقع پر۔ معلوم نہیں کس نے کہا تھا۔ بش نے یا طالبان نے۔ لیکن یہ میں بتا دوں کہ میں امریکن ایجنٹ نہیں ہوں۔ امریکہ مردہ باد۔
جہاں پاکستان میں ہر ایک آکر اپنی ٹانگ اڑاتا ہے وہاں ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ دوسرا ملک جو کسی نظرئیے کی بنیاد پر وجود میں آیا وہ دوسرے ملکوں میں اپنی ٹانگ اڑاتا رہتا ہے۔ وہ ملک کتنے خوش قسمت ہیں جو بس یونہی کسی نہ کسی طرح وجود میں آگئے۔
آپکے مفروضات تو آئنسٹائن کے نظریات لگتے ہیں۔ بظاہر بالکل درست مگر تجربے کی کسوٹی پر پورے نہیں اتارے جا سکتے کہ انکی شرائط بڑی سخت ہیں۔ آپ نے اپنا آئ کیو چیک کیا ہے۔ آئنسٹائن کا تو ایک سو ساٹھ تھا۔
اور بر سبیل تذکرہ یہ آپ نے اپنی زوجہ کے ساتھ محترمہ کیوں نہیں لگایا۔ اگرچہ یہ نوٹس میں نے از خود لیا ہے لیکن اسکے خلاف بھی کوئ چارہ جوئ ہونی چاہئیے۔
میں آپ کے خیال سے متفق ہوں امریکی اس سے پہلے بھی اس قسم کے ڈرامے کر چکے ہیں مثلا اینتھرکس جسے القاعدہ سے جوڑنے کی کوشش بھی کی گئی
حضور شاید آپ کی بات درست ہو، لیکن میںصرف اس چیز کا گواہ ہوںکہ عالمی طاقتوںنے ہمیشہ یہ کھیل اب تک دو وجوہات کی بناءپر کھیلا ہے، ایک تو انگریزی و جرمن دواساز کمپنیوںکی ازلی پورفیشنل دشمنی کی وجہ سے یا پھر دواساز اداروںکے پھنکارتے سانپوںکے جیسے جو مالک ہیں ان کی وجہ سے، ہو سکتا ہے یہ کوئی نیا تجربہ ہو ان تہذیب یافتہ قوموںکا ہم”رینگتے کیڑوں” پر
پاکستانی سیاست اور حالات پر میری رائے محفوظ ہے۔
جناب خرم صاحب آپ نے اعلحضرت قائد لیبیا قذافی صاحب کی رائے کو عام کیا سوائن فلو کے بارے میں۔ ویسے امریکنوں کی عقلمندی کو داد دینی ہوگی کہ تجربہ کے لیے انتخاب بھی اپنے پچھواڑے کا کیا جہاں سے وائرس نے سیدھا انہی کے گلی کوچوں کا ہی رخ کرنا ہے لیکن یار لوگ آپ کی حق گوئی کو داد دیں گے دیکھتے جائیے
باقی جی وہ آپ نے جگہ غالب کا شعر سنا ہوگا کہ
سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی
بن گیا روئے آب پر کائی۔۔
تو آج کل یہ حال ہے کہ
مجرموں کو جب کہیں جگہ نہ ملی
بن گیا اسلام کا سپاہی۔۔
مبارک ہو آپ نے سوائن فلو جیسی آفت کی اپنے مفروضوں کی مدد سے حقیقت بیان کر دی۔ ویسے زیادہ تر پاکستانی تو امریکی دوائیں افورڈ ہی نہیں کر سکتے۔
جو لوگ ایسی باتوں کی نشاندہی کرتے ہیں، وہ کسی وجہ سے ہی بات کرتے ہیں۔ اور امریکی قوم سے متعلق یہی ایک نہیں، کئی بین الاقوامی اثرات رکھنے والےجھوٹ منسوب ہیں۔ اور سبھی پاکستانی پارٹیوں میں کرپشن اورجھوٹ موجود ہے، نواز لیگ کونسی فرشتوں کی جماعت ہے
ڈفر میرے بھائی – یار اتنا زیادہ سچ تو نہ بولا کرو نا
اور آپ کے از خود نوٹس نے تو بلوہ ہی کروا دیا تھا ہمارا۔ وہ تو جب ہم نے زوجہ کو “محترمہ” کا انجام اور ان کے “شوہر” کا حال یاد دلایا تو پھر ہماری جان بخشی ہوئی۔ ویسے اگر آپ پسند کریںتو ہم آپکو آئندہ سے “محترمہ” پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ محترمہ عنیقہ ناز۔۔۔۔ کیا خیال ہے؟ 
عنیقہ بہنا – “جہاں پاکستان میں ہر ایک آکر اپنی ٹانگ اڑاتا ہے وہاں ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ دوسرا ملک جو کسی نظرئیے کی بنیاد پر وجود میں آیا وہ دوسرے ملکوں میں اپنی ٹانگ اڑاتا رہتا ہے۔ وہ ملک کتنے خوش قسمت ہیں جو بس یونہی کسی نہ کسی طرح وجود میں آگئے۔ “۔ یہ جملے بہت آسانی کے ساتھ ابن انشاءیا یوسفی صاحب کی کسی تصنیف کا چھاپہ قرار پاسکتے ہیں
راشد بھائی – ماشاء اللہ کیا شعر کہا ہے۔ حقیقت کا کتنا اچھا آئینہ دار ہے۔ واہ
نازیہ بہنا – اس ناچیز کے بلاگ پر تشریف آوری کا بہت شکریہ۔ امید ہے اس بلاگ کو آپ رونق بخشتی رہیں گی۔
اب وہ وعدہ وفا کرتے ہیں جس کا ذکر پہلے پیرا گراف میں کیا تھا۔
جب ہم نے بیگم کو اپنا مفروضہ سُنایا تو ہمارے کاندھوں پر شاباش دیتے ہوئے بولیں “واہ۔۔۔ جب آپ لوگوں کو یہ مفروضہ بتاؤ گے تو وہ اب آپ کی مسلمانی کا یقین کریں گے۔ سمجھو کہ اب آپ نے صحیح کلمہ پڑھ لیا ہے مسلمانی کا”
ویسے بیگم کے تُکے میرے مفروضوں سے بھی زیادہ سچے کیوںہوجاتے ہیں؟
ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ کانسپریسی پکوڑے
محترمہ عنیقہ، یہ تو آپ نے مشکل میں ڈالدیا، میں اپ کے خلاف ریفرنس واپس لیتی ہوں۔ بندے سے نہیں بندی سے بھی بھول چوک ہو ہی جاتی ہے۔ اور غلطی سے پاک تو خدا کی ذات ہے۔ معاف کردینے میں ہی بڑائ ہے۔ ہم دونوں تو ویسے بھی بھائ بہن ہیں۔ تو ہو گئ ڈیل۔
اور یہ آپ نے وہ کتاب نہیں پڑھی مینز آر فرام مارس اینڈ ویمن آر فرام وینس۔ اسکے مطابق خواتین کی چھٹی حس بڑی تیز ہوتی ہے۔ اس لئے انکے تکے بھی مرغی کے تکے بن جاتے ہیں۔
ہممم بغیر کسی آفر کے ڈیل ؟؟ چلیں آفر آپ پر اُدھار رہی لیکن ڈیل ہم مانے دیتے ہیں
سوائن فلو کی جعل سازی کوئی مفروضہ نہیں ہے۔ جب آپ ویکسین لیں گے نا، تب پوچھوں گا!
بہت خوب لکھا
عارف بھائی – یار کیوں غریب کے پیچھے پڑے ہو؟
رومی – آپکی تشریف آوری اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔