Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • بھیڑئیے

    ایک دم توڑتا سماج کیسے کیسے تماشے دکھاتا ہے اس کا مظاہرہ ہم پاکستانی اتنے تواتر سے کرنے لگے ہیں کہ اب تو خوف سا آنے لگا ہے۔ ہر روز ایک سے بڑھ کر ایک وقوعہ درپیش ہے۔ بوالہواسی کے ایسے ایسے شاندار کارنامے رقم کئے جارہے ہیں کہ دیدہ ور کو عبرت حاصل کرنے سے فرصت ہی نہ ملے۔ یہ ملک جو دین کے نام پر بنا تھا یہاں دین کے نام پر لادینیت کی ایسی ایسی مثالیں سامنے آتی ہیں جن کا نہ دین سے کوئی تعلق نہ اس دین کو لانے والے محسن اعظم ﷺ کی سُنت سے کوئی نسبت۔ اور مزے کی بات یہ کہ ہر اوٹ پٹانگ حرکت کے پیچھے کوئی “مذہبی” شخصیت موجود۔ کبھی یہ بیت اللہ محسود کی شکل میں، کبھی قاری امان اللہ کی شخصیت میں تو کبھی فضل اللہ کی صورت میں۔ ایک کہاوت ہے کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھیڑئیے سے پوچھا کہ تم نے میرے بیٹے کو کھایا ہے؟  تو بھیڑئیے نے صفائی میں دلیل دی ا کہ اگر میں نے آپ کے لخت جگرکو کھایا ہو تو چودہویں صدی کے مولویوں میں سے ہوجاؤں۔  کہاوت یقیناً صحیح نہیں لیکن تمثیل بالکل درست ہے۔ ایک خبر کے مطابق مؤمنین نے بھائی پھیرو (حال پھول نگر) میں تین خواتین کو سربازار برہنہ کرکے پھروایا۔ الزام وہی جسم فروشی کا اور اس سب کچھ کی قیادت کی ایک “مذہبی” شخصیت نے۔ اور سب سے مزے کی بات یہ کہ ہماری “پاکدامن” پولیس نے ان خواتین پر بدچلنی کا مقدمہ درج کرکے انہیں حوالات میں بند کردیا ہے لیکن انہیں سرعام برہنہ کرنے والوں پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ پنجاب کے “رنگیلے و پھرتیلے” وزیر اعلٰی کے کانوں تک بھی یہ خبر نہیں ٹکرائے گی شائد کہ اب ضمنی الیکشن قریب ہیں۔ لعنت اللہ علیکم اجمعین

    مزے کی بات یہ کہ ابھی تک اس سب واقعے کی مذمت میں کوئی اُبال اُٹھتا نظر نہیں آتا۔ ویسے بھی جس معاشرے میں حصول رزق حلال عین عبادت ہو، رشوت، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، عصبیت، جھوٹ، ریا، اقربا پروری اور ان جیسے دوجے خواص ناپید ہوں اس معاشرے میں جسم فروشی جیسے قبیح فعل کا الزام لگنا ہی کافی ہونا چاہئے۔ اتنے پاک صاف دودھ سے دُھلے معاشرے میں ایسا گندا کام کرنے کی سوچ بھی کیسے آئے کسی عورت کو؟ عورت کی تخصیص اس لئے کی کہ یہ کبھی نہیں پڑھا کہ جسم فروشوں سے تعلق کی بنا پر کسی مرد کو سر بازار ننگا کیا گیا ہو یا کسی کمبخت کا سماجی بائیکاٹ ہی کیا ہو۔ مسجد حفصہ والے ہوں کہ سوات والے کہ بھائی پھیرو والے، سب کا زور آ جا کر عورت پر ہی نکلتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ عورت اکیلی جسم فروشی بھلا کیسے کر لیتی ہے؟ مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ جی ان عورتوں کو محلے سے نکال دو۔ یہ کوئی کیوں نہیں کہتا کہ جو انہیں ملنے آتے ہیں انہیں محلے میں نہ آنے دو؟ اور پھر اگر بالفرض یہ عورتیں جسم فروشی کی مرتکب بھی تھیں تو شرع میں اس الزام کے لگانے بھی بہت سخت قوانین ہیں۔ چار گواہ ہوں جن کی گواہی معتبر ہو اور انہوں نے مرد اور عورت کو حالت اختلاط میں دیکھا ہو ایسے کہ جیسے سرمہ دانی میں سلائی یا کنویں میں ڈول۔ اور انہوں نے دونوں مرد اور عورت کی شکل بھی اچھی طرح دیکھی ہو اس عمل کے دوران۔ صرف وہ لوگ ان مفعولین پر زنا کا الزام لگا سکتے ہیں۔ ایسی کوئی شرط پوری کی ہمارے “مؤمنین“ نے یا ان کے “مذہبی“ رہنما نے؟ پھر دین میں کس جرم کی سزا کپڑے پھاڑ کر برہنہ بازاروں میں پھروانا ہے؟ دین کو چھوڑیں، موجودہ دنیا کے کس قانون میں ہوس سے لتھڑی ایسی سزا کا وجود ہے؟ اور سب سے بڑی بات پھر وہی کہ اس ساری کہانی میں مرد مفعولین کا ذکر کیوں نہیں؟

    ہوتا دراصل یوں ہے کہ جو لوگ اپنی تصوراتی  بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے ہیں لیکن اپنی فطری کم ہمتی کے باعث ایسا کر نہیں پاتے وہ ٹپکتی رالوں کے ساتھ ان دیکھے مناظر کا چشم تصور سے نظارہ کیا کرتے ہیں اور پھر اپنی محرومی پر اندر ہی اندر بل کھاتے رہتے ہیں۔ پھر جب یہ احساس محرومی حد سے گزر جاتا ہے تو پھر غصہ نکالنے کویہ تحریک چلا دیتے ہیں کہ ان خواتین کو محلہ سے نکال دو۔ اس سب کچھ کے پیچھے جلن صرف یہ ہوتی ہے کہ یہ نظر کرم ہم پرکیوں نہیں؟ اپنے اندر کا یہی گند تو ہوتا ہے جو سر عام ان خواتین کے کپڑے نوچ کر انہیں برہنہ پھرانے کا سبب ہوتا ہے۔ جو کام یہ لوگ اپنی فطری کم ہمتی کے سبب چھُپ کر نہیں کرسکتے،وہ لذت سرعام ایک دوسرے کی شہہ پر حاصل کرتے ہیں اور اس طرح اپنی ہوس کی تسکین کرتے ہیں۔ دین اور شرافت کے نام پر سرعام “سٹرپ ٹیز” سجانے والے “ملا کے اسلام” کے یہ مجاہد جب دین کے نام پر اپنے اندر کے شیطان کو تسکین پہنچاتے ہیں تو ابلیس بھی پیٹ پکڑ کر قہقہے لگاتا ہوگا۔ 

    ویسے سمجھ نہیں آتی کہ ہم لوگ چیز کیا ہیں؟ ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک کہانی چلی ایک بی بی کی امریکی جیل میں قید کی۔ ایک طوفان بدتمیزی اُٹھ کھڑا ہوا پورے ملک میں۔ جذباتی نعروں، بلاگوں، پوسٹوں، بیانوں کا ایک طومار اُٹھ کھڑا ہوا۔ ہر کوئی آستینیں چڑھائے مرنے مارنے پر تیار۔ اصل کہانی کا کسی کو علم نہیں تھا لیکن فرضی کہانیوں کے ذریعے اور تخیلات کے ذریعے باسی کڑھی میں اُبال اُٹھائے جارہے تھے اور ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ ان بی بی کے اور ان کے گھر والوں کے بیان ہی نہیں مل رہے تھے لیکن ہمیں حقائق کی نہیں جذباتیت کی تلاش ہوتی ہے سو بنا تحقیق کئے ہم نے اس بی بی کو پاکستان کی عزت اور پتا نہیں کیا کیا قرار دے دیا۔ اس بی بی نے پاکستان کی خدمت کے لئے کیا کِیا تھا وہ مجھے تو آج تک نہیں پتا چلا۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ پاکستانی حکومت نے بیس لاکھ ڈالر (قریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے) کے محنتانہ پر اس بی بی کے لئے وکیل کئے جنہیں اس بی بی نے ٹھکرادیا۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ ایک بی بی کے لئے آپ اتنے جذباتی کہ اپنا سب کچھ لُٹانے پر تیار اور دوسری طرف اسی قوم کی تین بیٹیوں کو جب سرعام رُسوا کیا گیا تو آپ اسے ان کا حق سمجھ کر پی گئے؟ ایک جانب ایک خاتون کی برہنہ تلاشی پر اعتراض (جبکہ غالباً تلاشی بھی ایک خاتون لیتی ہے) اور دوسری طرف جب ان خواتین کو مردوں نے ان کے کپڑے نوچ کر سر بازار پھروایا آپ پھر بھی خاموش؟آخر ایسا کیوں ہے کہ ایک افواہ اگر امریکی فوجیوں کے بارے میں اُڑتے تو ہمیں پتنگے لگ جاتے ہیں لیکن وہی کرتوت جب ہم کریں تو ہم اسے قابل اعتناء ہی نہیں سمجھتے؟  کیا غلط صحیح کا فیصلہ بھی پاسپورٹ اور قومیت و مذہب کو دیکھ کیا جاتا ہے؟

    آخر میں چند سوالات کرنا چاہوں گا اپنے قارئین سے:

    1۔کیا ان تین خواتین کو کبھی انصاف ملے گا؟

    2۔کیا کبھی ان کے کپڑے نوچنے والوںکو کبھی سزا ملے گی (جو پاکستانی قانون کے مطابق موت ہے)؟

    3۔ کیا ان خواتین کے حق میں کوئی ایسی تحریک چلے گی جیسے عافیہ صدیقی کے بارے میں چلی؟

    4۔ اگر درج بالا تمام سوالات کا جواب آپ کے پاس نہیں میں ہے تو کیا آپ شرمندہ ہیں ایسے معاشرہ کا حصہ ہونے پر؟


  • Tuesday, September 29, 2009 at 12:36 | #1

    چلیں شکر ہے کہ کوئ مردانہ آواز بھی اس زمرے میں آئ کہ ہم کہیں تو کہا جاتا ہے کہ حقوق نسواں اور آزادیء نسواں کی حامل خاتون کی باتیں ہیں۔ حالانکہ یہ کسی بھی انسان کے بنیادی حق میں سے ہے۔ کیا کسی مرد کو اس طرح برہنہ پھرایا جائے کسی بھی جرم کی پاداش میں تو اسے ایک انسانی رویہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
    دوسری جانب یہی بات کہ کیا کسی عورت کا جسم فروشی کرنا ایک یکطرفہ عمل ہے۔ اس میں ملوث مردوں کو کیوں نہیں قرار واقعی سزا دی جاتی۔
    اصل بات یہ ہے کہ مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جودنیا میں نہ کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور نہ تمنا۔ مذہب ایک شارٹ کٹ ہے پاکستان جیسے ملک میں جہاں لوگ اسکے لئے ایکدوسرے کو قتل کر دیں گے مگر اسکے مطابق زندگی نہیں گذاریں گے۔
    دوسری طرف فیوڈل نظام میں خواتین کی حیثیت مال مویشی یا جائداد جیسی ہوتی ہے تو انکا دماغ اسی طرح درست رکھا جا سکتا ہے۔ یہ واقعات پاکستان میں پہلے بھی ہوئے ہیں اورعجیب اتفاق ہے کہ اس قسم کا پہلا واقعہ ضیا الحق کی اسلامی حکومت میں پہلی دفعہ منظر عام پر آیا جب نواب پور میں ایک خاندان کی خواتین کو برہنہ سر بازار پھرایا گیا۔
    بے فکر رہیں، اس سلسلے میں کچھ نہیں ہوگا۔ تمام مذہبی جماعتیں اپنے لبوں پر گوند لگا کر بیٹھ جائیں گی۔ وہ صرف مومنین اور مجاہدین کے لئے تحریکیں چلاتی ہیں اور باقی سیاسی جماعتیں خانہ پری کر کے اپنا ریکارڈ صحیح رکھیں گی۔ رہ گئے عوام تو وہ کہیں گے کہ ایسی عورتوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئیے خدا کی مار یہ تو پرویز مشرف کی لائ ہوئ بے حیائ ہے یا امریکہ چاہتا ہے کہ ہم بھی انکی طرح بے غیرت معاشرے کے فرد بن جائیں۔ ایسی ہی عورتوں کی وجہ سے ہم آج دانہ ء گندم کو ترس گئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور ہم کیوں شرمندہ ہوں، شرمندہ تو ان عورتوں کو ہونا چاہئیے، دھرتی کا بوجھ، مریں تو وہ مریں تاکہ اس پاک دھرتی پر سے کچھ ناپاکی کم ہو۔ خس کم جہاں پاک۔

  • Tuesday, September 29, 2009 at 12:43 | #2

    بات درست ہے یعنی کچھ نہیں‌ ہو گا۔ ہمارے معاشرے میں‌جتنی نفرت جسم فروش عورت سے کی جاتی ہے اس کے مطابق ان کیساتھ ہر زیادتی جائز قرار پائے گی اور وہ عورتیں جیل سے نکلنے کے بعد دوبارہ اسی دھندے میں لگ جائیں گی۔

  • خرم
    Tuesday, September 29, 2009 at 12:47 | #3

    عنیقہ بہنا – سوال تو یہ ہے کہ ہمارا بزعم خود “پڑھا لکھا باشعور طبقہ” بھی منہ میں‌گھنگھنیاں ڈالے کیوں‌بیٹھا ہے؟
    افضل بھائی ۔ میں نے اس استدلال سے ہی اختلاف کیا ہے اس پوسٹ میں۔ ہمارے معاشرے کو جسم فروش عورتوں‌سے نفرت نہیں ہے، ان عورتوں‌سے نفرت ہے جو جسم فروشی کرتی ہیں لیکن “صاحبان ایمان” کو ان کا “حصہ” نہیں دیتیں۔ :-(

  • Tuesday, September 29, 2009 at 13:35 | #4

    لوگوں کو تو اسکے پيچھے بھی امريکہ برطانيہ اسٹيبلشمنٹ اور جانے کس کس کا ہاتھ نظر آئے گا ليکن جو ہاتھ اصل ميں ملوث ہيں ايک دفعہ کاٹ دئيے جائيں يا ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان کے فارمولے کے تحت ملوث ملا اينڈ کو کو بھی اسی طرح ننگا چکر دلوائيا جائے کہ ان عورتوں کا احساس ہو جو نہ جانے بچوں کی بھوک کے ہاتھوں مجبور تھيں يا کيا افتاد تھی بيچاريوں پر کہ ميرا نہيں خيال کوئی عورت خوامسخواہ گدھوں سے خود کو نوچواتی ہو آپکے پہلے تين سوالوں کے جواب نہيں ميں ہيں جبکہ چوتھے سوال کا جواب يہ ہے کہ بندی اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی ہے کہ اس نے اس گندے معاشرے سے نکال کر ان لوگوں ميں بھيجا جن کے نام مسلمانوںجيسے نہيں مگر خصوصيات (چند ايک چھوڑ کر ) مومنين جيسی ہيں

  • Tuesday, September 29, 2009 at 13:46 | #5

    ادھر اکثر پاکستانی لوگ ہميں مستقل پاکستان سيٹل ہونے کا مشورہ ديتے ہيں کہ آپکی بيٹياں ہيں يہ ماحول انکے ليے ٹھيک نہيں تو ہم دونوں يہي کہتے ہيں کہ ہم تو اس وقت سے ڈرتے ہيں جب بچيوں کو پاکستان ليکر جانا پڑے اور اس مثالی معاشرے کو چھوڑ کر اس گندے معاشرے ميں بچيوں کی پرورش کرنی پڑے تو ہماری تو روح ہی کانپ جاتی ہے بندی نے گزشتہ پانچ سالوں ميں پاکستان کا ايک بھی چکر نہيں لگاياا اور نہ آئندہ پندرہ بيس سالوں تک کوئي ايسا ارادہ ہے بندي کو پاکستان کي صرف ايک چيز ياد آتي ہے اور وہ ہے ُ اچھو کے چھولے` جوابا لوگ ہميں اتنی حيرت سے ديکھتے ہيں جيسے کچھ انہونی کہہ دی ہو آپ ہی بتائيں خرم بھائی کہ بچيوں کے ليے يہ معاشرہ محفوظ ہے يا پاکستاني؟

  • خرم
    Tuesday, September 29, 2009 at 14:09 | #6

    اسماء‌بہنا بات تو آپکی ٹھیک ہے لیکن کیا جو بچیاں‌پاکستان میں ہیں ان کا یہی مقدر ہے؟ کیا ہمارا فرض صرف اپنے آپ کو بچانا اور صاف کرنا ہے؟ یہ سوال ہیں جو مجھے پریشان کرتے ہیں۔ :-S

  • Tuesday, September 29, 2009 at 17:10 | #7

    ہماری آنکھیں آئنیہ نہیں‌دیکھ سکتی۔ کیونکہ آئنیہ سچ بولتا ہے۔ خرم بھائی آپ کی بات سے سو فیصد بلکے ایک سو دس فیصد متفق ہوں۔ اور عنیقہ آپی میں بھی آواز اٹھا رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے آمین

  • Tuesday, September 29, 2009 at 21:38 | #8

    خرم بھائی یہ پہلی دفعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایک پنچایت عورتوں کی بے حرمتی کرچکی ہے۔ اور رپورٹ نا ہونے والے واقعات کی تو بات ہی جانے دیں۔۔ اس پر ہمارے دانشوار اورصاحبان جبہ و دستار معاشرے کی افضلیت یوں بیان کرتے ہیں کہ وجد آجائے اور جو آواز اٹھائے تو وہ آلہ کار۔۔ آپ تو جانتے ہیں اس وقت قوم بڑے بڑے مسائل مثلا کیری لوگر بل اور بلیک واٹر سے نمٹنے میں منہمک ہے موقع ملے گا تو اس پر بھی بات کریں گے۔۔ اور کیوں کے اس واقعے میں عوام ہی عوام ہے یعنی طالبان یا غیر ملکی شامل نہیں‌ اس لیے میڈیا کے لیے تو ویسے ہی کوئی خاص اہم نہیں۔۔ اور کئی لوگوں‌کے نزدیک تو من گھڑت داستان بھی ہوگی۔۔

  • Tuesday, September 29, 2009 at 22:14 | #9

    راشد بھائی کی بات درست ہے یہ پہلی بار نہیں ہوا ایسے واقعے ہوتے رہے ہیں اور رہیں گے ۔بگڑے ہوے معاشرے کا یہ ایک بھیانک پہلو ہے ۔ اس کا ذمہ دار یہ ہی مرد حضرات ہیں جو یہ سلوک کر رہے ہیں۔ یہ کارنامہ انجام دینے والوں کو پوچھا جائے کہ ان کو یہ حق کس نے دیا ہے ۔ (U)
    جواب :۔ کچھ نہیں ہو گا۔

  • Tuesday, September 29, 2009 at 23:55 | #10

    بہت پرانی بات ہے۔ مجھے لکھنے کا شوق چرایا تومیں نے جو پہلی تحریر لکھی تھی، اس کا عنوان تھا ”منافقت“۔ اگرچہ وہ کہیں شائع نہیں ہوسکی، ایک مقامی اخبار کا رپورٹر میرا دوست بھی تھا ، لیکن تحریر پڑھنے کے بعد اس نے غور سے میری طرف دیکھا اور کہا ”کیوں ساڈے بچیاں دی روزی دے پچھے پیاں ایں“۔ تو جی بھٹی صاحب۔۔۔ سادہ سی بات ہے، گنجل بالکل نہیں ہیں اس میں کہ ہم منافق ہیں۔ پیریڈ

  • Wednesday, September 30, 2009 at 02:08 | #11

    واقعی یہ ایک گھٹیا عمل تھا، اور افسوس کی بات کے پولیس والوں نے بھی صرف یک طرفہ کاروائی کی، ہمارے معاشرے میں ہر روز ایسے گندے واقعات ہو رہے ہیں، پتہ نہیں یہ عوام کب سدھرے گی۔ کچھ لوگ جو اس واقعے کے خلاف ایکشن لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ پیچھے بیٹھ کر تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں، جو شریف لوگ اس عمل کو برا سمجھتے ہیں وہ ہجوم سے گھبرا کر چپ سادھ لیتے ہیں اور اپنے گھر کی راہ لیتے ہیں۔

  • Wednesday, September 30, 2009 at 03:56 | #12

    کوئی NGOیا شخص اپنی مشہوری کے لئے ان خواتین کو انصاف دلا دے گا ۔

    وگر ہمارے یہاں انصاف کی کمی بہت ہے

  • Wednesday, September 30, 2009 at 05:40 | #13

    بزدلوں کا زور ہمیشہ کمزوروں پر ہی چلتا ہے اور اس طرح کے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے لوگ جاہل ہونے کے ساتھ ساتھ بزدل بھی ہیں۔
    اگر ان خواتین کو انصاف ملا بھی تو ان کو انصاف دلانے کے چکر میں نجانے کتنی این جی اوز اپنی جیبیں گرم کریں گی۔
    خرم بھائی کی یہ بات صورتحال کی عکاس ہے:
    “ہمارے معاشرے کو جسم فروش عورتوں‌ سے نفرت نہیں ہے، ان عورتوں‌سے نفرت ہے جو جسم فروشی کرتی ہیں۔”

  • عبداللہ
    Wednesday, September 30, 2009 at 07:33 | #14

    اسی لیئے تو میں کہتا ہوں جیسی روح ویسے فرشتے :-(
    اب آپکے سوالوں کے جواب اگر اس ملک کو اپنی بنیادوں پر قائم رہنا ہے تو صرف ان خواتین ہی کو نہیں ان جیسی تمام خواتین اور مظلومین کو انصاف ملنا چاہیئے کیونکہ اب ہمارے پاس زیادہ وقت بچا نہیں ہے اور آئندہ کے لیئے کسی کے ساتھ ایسا سلوک کرنا ناقابل معافی جرم ہونا چاہیئے اگر افتخار چوہدری اپنے آفس کے اے سی کی ٹھنڈک سے پورے جم نہ گئے ہوں تو :-/
    دوسرے سوال کا بھی یہی جواب ہے، رہا تیسرا سوال تو عافیہ صدیقی تو محض ایک مہرہ تھی جسے ضرورت کے تھت آگے بڑھایا گیا تھا ورنہ کونسی تحریک اور کیسی تحریک :-S
    میں اس معاشرے کا حصہ ہونے پر شرمندہ نہیں ہوں کیونکہ میں اس معاشرے کو اپنے زور بازو سے بدلنے کا حوصلہ رکھتا ہوں اور اپنے رب سے بلکل بھی ناامید نہیں ہوں،

  • عبداللہ
    Wednesday, September 30, 2009 at 07:35 | #15
  • Wednesday, September 30, 2009 at 10:29 | #16

    بہت افسوس ناک واقعہ ہے۔ حیرتناک نہیں کیونکہ اس سے بھی زیادہ غلط کام یہاں ہوتے ہیں۔ میرے جذبات بھی وہی ہیں جو آپ کے ہیں،

  • توہینِ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ ہو یا عصمت فروشی یا کوئی بھی کس قدر سنگین اور گھناؤناجرم ہی کیوں نہ ہو ۔ ایسے جرم یا واقعے پہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے لئیے بھی سخت ترین سزائین ہونی چاہئیں ۔ کہ ایسی سزاؤں پہ عمل درآمد ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہئیے۔۔ مگر

    مگر یہ کرے گا کون۔؟ کہنے کو تو پولیس کا ادارہ ہے۔ انتظامیہ ہے۔ مجسٹریٹس اور عدلیہ وغیرہ ہے۔ لیکن اگر یہ پولیس کے ادارے وغیرہ یہ سب کرتے ہوتے تو عوام بھی اسطرح کی حیوانیت کا مظاہرہ نہ کرتے۔ کیونکہ ایک بات تو طے ہے ۔ کہ اگر وہ خواتین واقعی جسم فروشی کا گھناؤنا دھندا کرتی تھیں تو بھی انہیں سزا دینے کا حق نہ محلے کے مولوی اور اہلِ محلہ کو ہے اور نہ ہی اسکا اختیار پولیس کو ہے۔ سزا یا چھوڑ دینے کا فیصلہ تو عدالت کا کام ہے۔ اگر ہر جرم پہ اسی طرح کا ردِ عمل ظاہر کیا جائے تو پاکستانی معاشرے اور جنگلی معاشرے میں فرق ختم ہوجائے گا۔

    ایسے واقعات پہ بھپری ہوئے یا مذہبی حوالے دے کر مشتعل کیے گئے عوام کے سامنے معقول لوگ چاہتے ہوئے بھی انھیں روکنے یا سمجھانے کی ہمت نہیں پاتے ۔ جبکہ انہیں پتہ ہوتا کہ سراسر غلط ہو رہا ہے۔ اور یہ کسی معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے۔

    اخباری اطلاعات کے مطابق اس انسانیت سوز واقعے پہ جب برہنہ عورتوں نے اپنا جسم ڈھانپنے کے لئیے محلے کے مکانات کا دروازے کھٹکھائے تو کوئی دروازہ نہ کھلا تو ایسے میں ایک ایسا کردار جو آبادی کا سب سے غریب آدمی ہے، اس نے ایک برہنہ عورت کو اپنی جھوپڑی میں پناہ دی اور اسے اپنا تن ڈھاپنے کے لئیے کپڑا مہیا کیا۔جبکہ اسکول ماسٹر سے لیکر باقی دوسرے لوگ جو ایسے واقعے کو غلط تو سمجھتے تھے مگر انہوں نے اسے روکنے کی جراءت نہ کی ۔ یہ بھی اپنی جگہ پہ ایک المیہ ہے۔

  • خرم
    Tuesday, October 6, 2009 at 13:22 | #18

    خرم بھیا – تو آئینہ دکھانا ہی ہمارا کام ہونا چاہئے اس سماج میں۔
    راشد بھائی – یہی تو المیہ ہے کہ ہم پاکستانی سات سمندر پار ہوئے ظلم پر تو فوراً اُچھل اُچھل کر بے حال ہوئے جاتے ہیں لیکن اپنے لوگوں پر ہوئے ظلم کو ان کا مقدر سمجھ کر پی جاتے ہیں۔
    کامی بھائی — یہی تو کوشش کرنا چاہئے کہ “کچھ نہیں‌ہوگا”‌جیسا جواب دینے کی نوبت نہ آئے۔ انشاء اللہ ہم سب اگر یکجان ہو کر اس منزل کی طرف بڑھیں گے تو اسے پا بھی لیں گے۔
    جعفر – بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔۔۔ لیکن اہم تر بات یہ کہ اس منافقت کے رویہ کو بدلنے کا عزم جوان رہنا چاہئے۔
    یاسر بھائی – شریف لوگ نہیں بزدل لوگ جنہوں نے شرافت کا لبادہ اوڑھا ہوتا ہے۔
    فرحان بھائی – انصاف کی کمی ہے تو اسے پورا بھی تو ہمی نے کرنا ہے نا۔ بس یہ عزم ہونا چاہئے ہمارا۔ برائی کو برائی تو سمجھتے ہیں، اب اللہ اس کو روکنے کا عزم بھی عطا فرمائے۔ آمین
    فہد بھائی – آپ نے بالکل درست فرمایا ہے۔
    عبداللہ ۔ تو پھر روح کو بدلنے کی کوشش کی جائے نا میرے بھائی۔ صرف سچ اور انصاف کی بات کہی اور کی جائے۔ بس یہ عزم ہو اپنا انشاء اللہ۔ بہت اچھا عزم ہے آپکا اپنے معاشرہ کو بدلنے کا لیکن اس سے پہلے یہ عزم رکھیں کہ اپنے آپ کو بدلنا ہے۔ تمام زنجیریں توڑنا ہیں اور صرف حق اور سچ کا ساتھ دینا ہے۔ جب یہ ہوجائے تو پھر معاشرہ کو بدلنے کا عزم بھی آجاتا ہے بفضل اللہ۔
    سعد بھائی – ہم خیالی کا شکریہ پیارے بھائی۔
    جاوید بھائی – تو اس جنگل میں انسان تو وہ جھونپڑی والی ہی نکلی نا۔ باقی سب نے تو صرف تن پوشی کی ہوئی تھی۔

  • Sunday, October 18, 2009 at 03:54 | #19

    لعنت اللہ علیکم اجمعین

  • Sunday, October 18, 2009 at 03:56 | #20

    ١ ۔ نہیں ملے گا
    ٢ ۔ نہیں ملے گی
    ٣ ۔ نہیں چلے گی
    ٤ – جواب ہونے کے باوجود میں شرمدنہ ہوں

  • خرم
    Tuesday, October 20, 2009 at 06:23 | #21

    ریحان بھائی ۔ بلاگ پر تشریف آوری کا بہت شکریہ۔ امید ہے رونق بخشتے رہیں گے۔

تبصرہ کریں

:o) :-D :-( ;-) :-P =-O 8-) :-/ :-! C:-) :-(|) O-) :@ :-[ (B) (^) (P) (@) (O) (D) :-S ;-( (C) (&) :-$ (E) (~) :-* (I) (L) (8) (T) (G) (F) (*) (N) (Y) (U) (W)
1 trackbacks/pingbacks

TOP