Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • تیرہ شب کا چراغ

    رابرٹ عرف فانیش مسیح کی جواں سال موت کو ہماری قوم نے اپنے مضبوط ہاضمے کی نذر کردیا۔ خیر یہ تو معمول ہے۔اگر کوئی اقلیتی فرد پاکستان میں مسلمانوں کے ہاتھوں جان کی بازی ہار جائے تو ہم اسے ان کا مقدر سمجھ لیتے ہیں۔ اسلام قبول نہ کرنے کی اتنی سی سزا تو ان کا حق ہی سمجھا جاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ جب ایسا ہی سلوک ہمسایہ ملک میں کسی مسلمان کے ساتھ ہونے کی بھنک بھی ہمارے کانوں میں پڑتی ہے تو ہمارا خون اُبلنے لگتا ہے۔ حقوق کی غیر مساویانہ تقسیم کا یہی قومی رویہ ہمارے قومی زوال کا سبب ہے۔ ویسے کتنی عجب بات ہے کہ جس کہانی پر ہم عامر چیمہ کو شہید کہتے ہیں اسی کہانی پر فانیش مسیح کی موت کو خودکشی کہتے ہیں۔ چہ افسوس۔۔۔۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ عامر شہید تھا کہ نہیں مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ ہم نے انسانی اور آفاقی قوانین اور اپنے جذبات کو مسلم غیر مسلم کی تقسیم میں صرف اس لئے بانٹ دیا ہے کہ اس سے ہمیں کچھ برتری کا احساس ہوتا ہے۔ یہ الگ بات کہ اگر کوئی یورپین عیسائی لڑکی کسی مولانا کو عقد کی پیشکش کرے تو ٹپکتی رالوں کے ساتھ اسے اسلام کی حقانیت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

    بہرحال یہ سب دوعملی اور دوغلا پن میرے آج کے بلاگ کا موضوع نہیں ہے۔ آج کے بلاگ کا موضوع ہیں دو انسان۔ دو ائمہ جو ایک ہی علاقہ کی مختلف مساجد میں امامت کرواتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جب یہ افواہ پھیلی(افواہ اس لئے کہ اب تک اس بات کا کوئی ثبوت کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور امید ہے کہ ایسا کبھی ہوگا بھی نہیں) کہ فانیش مسیح نے لڑکی سے سپارہ چھین کر گندگی پر پھینک دیا ہے ہے تو مسجد فاروقیہ کے امام قاری امان اللہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے بار بار اعلان کرتے رہے کہ عیسائیوں کو گاؤں سے باہر نکال دو۔ ایک شخص کے فرضی گناہ کی سزا ایک پورے فرقے کو دینا کونسی شریعت میں ہے کم از کم میرے علم میں نہیں۔ خیر آجکل تو شریعت بھی پاکستان میں براستہ سعودی عرب بذریعہ مولانا صوفی محمد و بیت اللہ مسحود و فضل اللہ وغیرہا آتی ہے۔ گاؤں کے لوگ بھی باقی پاکستانیوں کی طرح “پکے” مسلمان تھے۔ جھوٹ، ریاکاری، رشوت ستانی، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، چغل خوری، شراب نوشی اور اس قسم کے گناہ کبھی انہیں چھُو کر بھی نہیں گزرتے تھے (ویسے بھی اب ان کا شمار گناہ میں کم کم ہی ہوتا ہے)۔ سو انہوں نے امان اللہ کی پکار پر لبیک کہا اور چرچ جلا ڈالا۔ انجیل کو نذر آتش کیا اگرچہ جو انجیل کو اللہ کی نازل کردہ کتاب نہ مانے وہ مسلمان ہی نہیں پھر بھی اللہ کی ایک کتاب کی بزعم خود محبت میں اللہ کی دوسری کتاب کو جلا  ڈالا۔ نتیجتاً عیسائی جان بچا کر کھُلے گھر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ یہاں تک سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک بیمار معاشرہ سے توقع کی جانی چاہئے۔

    لیکن پھر ایک اور آدمی اس منظر میں داخل ہوتا ہے۔یہ شخص فانیش مسیح کا ہمسایہ تھا اورمقامی مسجد عثمانیہ کا امام ۔ اس باریش شخص کا نام ہے قاری نذیر۔ جب “مؤمنین” کا جتھہ فانیش مسیح کے گھر پر فاتحانہ یلغار کررہا تھا یہ غریب آدمی سُنت رسول ﷺ ادا کررہا تھا۔ رحمت اللعالمین ﷺ سے وابستگی نبھارہا تھا۔ حملہ آور “منافقین”  کو کہہ رہا تھا  “گھروں کو آگ مت لگانا، غریب لوگ ہیں، معاف کردو۔ چلے جاؤ، رحم کرو، انہیں نہیں تو میرے جڑے ہاتھ دیکھ لو۔ کیا پاؤں میں گرجاؤں گا تو رک جاؤ گے؟” یاد رہے کہ یہ سرکاری پراپیگنڈہ نہیں متاثرہ خاندان کے افراد کے الفاظ ہیں۔ اور جب “مؤمنین” کی یلغار سے بچنے کے لئے مسیحی خاندان گھر بار خالی چھوڑ کر چلے گئے تو اس قاری نذیر نے اپنے گھر سے تالے لا کر ان کے دروازوں پر ڈالے تاکہ “مال غنیمت” مؤمنین کی یلغار سے محفوظ رہے۔ ان “غیر مسلموں” کی غیر موجودی میں ان کے جانوروں کو چارہ ڈالتے رہے۔ لوگوں کو سمجھاتے رہے “انہیں صرف اس وجہ سے مت مارو کہ وہ عیسائی ہیں۔ یہ بھی ہمارے تمہارے جیسے انسان ہیں۔”

    گھٹا ٹوپ اندھیروں میں جلنے والے چراغ کی مانند قاری نذیر نے اپنا فرض ادا کیا۔ جہالت میں لتھڑے ہوئے جذبات کے آگے کلمہ حق بلند کیا اور اس بات کی پرواہ بھی نہ کی کہ کوئی انہیں بھی مُرتد قرار دے کر جنت کی سیٹ نہ پکی کروالے۔ میں نہیں جانتا کہ قاری نذیر کا مسلک کیا ہے۔ وہ پگڑی اگر باندھتے ہیں تو کس رنگ کی؟ وہ دکھتے کیسے ہیں؟ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کی وجہ سے اس قوم پر ابھی اللہ کا عذاب نہیں آیا۔ میں جانتاہوں کہ کوئی تمغہ، کوئی ستائش ہمارے معاشرہ میں ان کے لئے نہیں ہوگی کہ یہ معاشرہ اب صرف فضل اللہ اور بیت اللہ وغیرہا سے متاثر ہوتا ہے لیکن میں اپنی ذاتی حیثیت میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا قاری نذیر اللہ سے کہ “جناب آپ اس دھرتی کا فخر ہیں۔ ہمیں آپ پر مان ہے۔ آپ نے نبی پاک ﷺ سے نسبت کا حق ادا کیا ہے۔ آپ ان علماء میں سے ہیں جو انبیاء کے وارث ہیں۔ اللہ کریم ہمیشہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین”


  • محمد رضوان
    Wednesday, September 23, 2009 at 14:27 | #1

    لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کی وجہ سے اس قوم پر ابھی اللہ کا عذاب نہیں آیا

    آپ ہی کے الفاظ کی تائید کرتا ہوں

  • نبیل
    Wednesday, September 23, 2009 at 14:38 | #2

    جزاک اللہ خرم۔

    اللہ تعالی قاری نذیر کو اپنی حفاظت میں رکھیں۔ اور اللہ تعالی اس بدنصیب قوم کے مولویوں کو قاری نذیر کی تقلید کی توفیق عطا فرمائیں۔ اور اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اعمال کی سیاہی کو اپنی رحمت سے دھو ڈالیں۔ آمین۔

  • Wednesday, September 23, 2009 at 15:05 | #3

    ٰآپ کے تمام گلے درست۔ لیکن مندرجہ زیل سطر میں دونوں‌اشخاص کا ربط سمجھا دیں زرا
    “جس کہانی پر ہم عامر چیمہ کو شہید کہتے ہیں اسی کہانی پر فانیش مسیح کی موت کو خودکشی کہتے ہی”

  • Wednesday, September 23, 2009 at 16:38 | #4

    قاری صاحب کا ذکر کہیں نہیں پڑھا سوائے آپ کے بلاگ کے میں قاری صاحب کو سلام پیش کرتا ہوں حقیقی طور پر اسلام کا سنبھالنے والے لوگ ہیں یہ جن کی وجہ سے یہ دنیا اللہ کے عذاب سے محفوظ ہے۔ جزاک اللہ خیر
    آپکا بھی شکریہ بات کو زندہ کرنے کا۔

  • Wednesday, September 23, 2009 at 16:52 | #5

    ابھی عذاب آنا باقی ہے؟ میرا خیال ہے آچکا ہے۔

  • خرم
    Wednesday, September 23, 2009 at 17:22 | #6

    محمد رضوان بھائی، نبیل بھائی، کامران بھائی – بہت شکریہ آپ کی نوازشوں‌کا۔
    عمران بھائی ۔ ابھی تو چھوٹے چھوٹے جھٹکے دئیے جارہے ہیں۔ عذاب سے تو اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے کہ پھر ہم آپ بھی کہیں اس کی لپیٹ‌میں نہ آجائیں۔
    لفنگا بھائی ۔ عامر چیمہ کی وفات پر تو پورے ملک میں کہرام برپا ہوگیا کہ ناحق قتل کردیا، فانیش مسیح کی موت پر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اسی طرف اشارہ تھا۔

  • Wednesday, September 23, 2009 at 23:17 | #7

    جزاک اللہ۔ کہیں خاور کھوکھر نے بھی ذکر کیا تھا کہ ستارہ داؤدی کی بے حرمتی مسلمان کیوں کر کرسکتا ہے اب انجیل مقدس جلانے کا قصہ آپ نے سنا دیا۔ جن قاری نذیر صاحب جیسے لوگ اتنے کم ہوگئے ہیں کہ توازن قائم نہیں ہوسکتا۔۔ جس قوم نے صدام حسین کو ہیرو مان کر اس کی قد آدم تصویریں آویزاں کر رکھی تھیں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی قاری نذیر ان کے ایمان کی مضبوطی میں معمولی سی دراڑ بھی ڈال سکے۔

  • Thursday, September 24, 2009 at 04:49 | #8

    اپنے آپکو برتر سمجھنا دراصل اپنے آپکو کمتر سمجھنے کے احساس سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک عام مشاہدہ یہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں اور چیزیں حاصل کرنے میں محنت اور جذبے کا مظاہرہ نہیں کر پاتے وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے مذہب کا دامن پکڑ لیتے ہیں۔ یہ آسان اور چھوٹا راستہ ہے۔ اختلاف کرنے والے کو کافر قرار دیکر اسکا دماغ درست کیا جا سکتا ہے اور کوئ دوسرا معترض بھی نہ ہوگا۔ وہ شخص جو مسجد سے اعلان کر کے لوگوں کے جذبہ ء ایمانی کو ہوا دے رہا تھا۔ اسے لوگوں کے ایک مجمعے کو اپنے اقوال کے تابع کرنے میں کس چیز نے جادو اثر کیا وہ مذہب کا نام تھا۔ انہی علاقوں میں اگر ہم یا آپ کسی اور سماجی مسئلے کو حل کرنے پہنچ جائیں تو کوئ کان بھی نہ دھرے گا۔ بہر حال اچھائ کتنی کمزور کیوں نہ ہو وہ دوسرے لوگوں کا مورال بلند رکھتی ہے۔ امید کی کرن باقی رہتی ہے۔ اور ہم نیکی اور بدی کے درمیان تمیز کرنے کے قابل رہتے ہیں۔
    قاری نذیر نے وہ کیا جو تمام انسانیت کا فخر ہے۔
    بس ایک سوال ذہن میں آتا ہے۔ یہ دونوں صاحبان ایک ہی علاقے کے رہنے والے تھے۔ یقینآ کم و بیش انکی تعلیمی استعداد اور خاندانی پس منظر بھی ایک جیسا ہوگا۔ پھر انکے روئیے اتنے مختلف کیوں تھے۔ کیا انسانی آخلاقیات کی بھی جینز ہوتی ہیں۔

  • Thursday, September 24, 2009 at 13:52 | #9

    جب جہالت اور جذباتیت مل جائیں تو ایسے افسوسناک واقعات ہوتے ہیں۔ اللہ پاک ہم پر رحم فرمائے اور دشمنوں کی شرپسندی سے محفوظ رکھے۔ آمین

  • خرم
    Thursday, September 24, 2009 at 16:45 | #10

    راشد بھائی یہی تو رونا ہے۔ ہمیں گفتار کے غازی تو بہت میسر ہیں کردار کے غازی خال ہی دستیاب ہیں۔ فہد بھائی نے بھی اپنے بلاگ میں یہ رونا رویا ہے۔
    عنیقہ بہنا – بات جین کی نہیں علم پر عمل کی ہے۔ سُنت رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم تو سب کو ہوتا ہے اس پر عمل کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ اسی موضوع پر یہ تحریر بھی ملاحظہ کیجئے گا
    علمائے سوء اور جاہل اصفیاء
    سعد بھائی – بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔ آپ کی دُعا کے لئے آمین ثم آمین

  • Friday, September 25, 2009 at 01:35 | #11

    بہت خوب خرم بھائی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جزبات سے ہٹ کر سوچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمارے علماءاکرام کو بھی سیدھی راہ دیکھائیں آمین

  • عبداللہ
    Saturday, September 26, 2009 at 06:24 | #12

    اللہ قاری نزیر کو سلامت رکھے اور ایسے بہت سے قاری نزیر اس قوم میں پیدا فرمائے جنہیں انسانیت کا درد ہو کہ یہی اسلام کی اصل روح ہے آمین

  • Monday, September 28, 2009 at 13:03 | #13

    ہمارے قاری ایسے کیوں ہیں، اسکا قصور بھی ہمارا اپنا ہے، ہمارا جو بچہ لولا لنگڑا، اندھا اپاہج پیدا ہوتا ہے، اسے درس میں حفظ کرنے کے لیے ڈال دیتے ہیں، جو بچہ ذہین ہوتا ہے اسے ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان بننے کے لیے بیکن ہاوس، ایجو کیٹرز اور آکسفورڈ میں ڈال دیتے ہیں،ہر امتحان کے بعد اس بچے کی پراگرس رپورٹ دیکھتے ہیں، جب کہ درس میں رہنے والوں کو کوئی پوچھتا ہی نہیں،ہم اسلامی اور قرانی علوم کو کسی لائق سمجھتے ہیں نہیں، جب کند ذہن اور ٹھکرائے ہوے بچے اسلامی علوم حاصل کریں گے تو قاری امان اللہ جیسے ہی بنیں گے

  • خرم
    Monday, September 28, 2009 at 15:01 | #14

    خرم بھائی ، عبداللہ بھائی – آپکی دعاؤں پر ہم بھی رب ذوالجلال سے قبولیت کی دُعا کرتے ہیں۔
    یاسر بھائی – میرے خیال میں یہ بھی پراپیگنڈہ ہی ہے کہ ذہنی لحاظ سے کمتر لوگ دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ میں‌نے تو مدارس سے پڑھے لوگوں‌کو انتہائی شاطر و عیار پایا ہے اب تک عمومی طور پر۔ بیت اللہ، فضل اللہ، امان اللہ یہ سب بھولے بھالے لوگ نہیں ہیں اپنے مطلب کی خاطر کوئی بھی پینترا بدل کر کچھ بھی روپ دھارنے والے لوگ ہیں۔

  • Tuesday, September 29, 2009 at 01:32 | #15

    خرم بھائی، بیت اللہ اور امان اللہ میں بہت فرق ہے، بیت اللہ امریکہ کا آدمی ہے،اور شاطر، جب کہ امان اللہ جاہل، دونوں کو ایک کیٹگری میں‌نہیں رکھ سکتے، بہر حال
    میں‌نے اپنا نقطہ نظر اپنے بلاگ پر پیش کر دیا ہے

  • عبداللہ
    Thursday, October 1, 2009 at 01:01 | #16

    یاسر امان اللہ جاہل ہی سہی مگر شاطر تو ہے نا!

  • قوم کو بہت سے قاری نذیر صاحبان کی ضرورت ہے۔ میری رائے میں، اسلام ہو یا پاکستانی قانون۔ معاشرتی اقدار ہوں۔ یا روز مرہ کا جینا مرنا۔ جب تک تعلیم عام نہیں ہوگی۔ علم کی روشنی ہر سو نہیں پھیلی گی اور معاشرے میں بڑھتا ہوااحساسِ محرومی اور مایوسی کم نہیں ہوگی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ اور ہر کوئی اسلام قانون اور معاشرتی اقدار کے بارے میں کسی واقعہ پہ اپنا ردعمل جہالت، احساسِ محرومی اور مایوسی کی کمی بیشی کے حساب سے کرے گا جو عموما خوفناک اور افسوسناک ہوتا ہے۔

    ہندؤستان کی تقسیم کے وقت بہت سے ایسے واقعات ریکارڈ پہ ہیں کہ جب کچھ لوگ اور جرائم پیشہ افراد لُوٹ مار کررہے تھے اور قتل وغارت میں مصروف تھے تب کئی نادار مسلمانوں نے کئی ہندؤوں کو چھپا کر رکھا ، انکی حفاظت کی اور موقع ملنے پہ بمع انکے مال و دولت اور اہلِ خاندان انکو کیمپوں یا سرحد تک بہ حفاظت پہنچایا۔

    اسلام نے بہت اعلٰی اخلاقیات کا نہ صرف درس دیا ہے بلکہ مسلمانوں کو اسکا پابند بھی بنایا ہے۔ ضروت اس امر کی ہے کہ اسے اپنے لوگوں کو سکھایا جائے۔

  • خرم
    Tuesday, October 6, 2009 at 13:13 | #18

    جاوید بھائی احقر کے بلاگ پر خوش آمدید۔ بات تو آپ کی درست ہے کہ ہم سب میں‌وہ جذبہ مستانہ پیدا ہونے کی ضرورت ہے جو حق کا ساتھ بنا کسی خوف و مصلحت کے دے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اس منزل پر پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تبصرہ کریں

:o) :-D :-( ;-) :-P =-O 8-) :-/ :-! C:-) :-(|) O-) :@ :-[ (B) (^) (P) (@) (O) (D) :-S ;-( (C) (&) :-$ (E) (~) :-* (I) (L) (8) (T) (G) (F) (*) (N) (Y) (U) (W)

TOP