Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • کیہہ جاناں میں کون

    منیر بھائی نے اپنے بلاگ پر ایک تحریر میں تصوف کے موضوع پر بات کی تھی۔

    بلھے شاہ کا کلام تھا جو پڑھا گیا تھا۔ جس بند پر اعتراض ہوا اس کے معنی اہل نظر کے لئے کچھ اور تھے اوروں کے لئے کچھ اور۔ تصوف کے بارے میں بات کرنے میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ سُنی سُنائی پر یقین کئے جاتے ہیں۔ جن احباب کو کچھ ذاتی تجربہ ہوتا بھی ہے تو ان میں سے بھی اکثر نقالوں کے عمل کو اصل کے رد کی دلیل سمجھتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی معاملات میں اس رویہ کو نامعقولیت گردانا جائے گا دینی معاملات میں یہ روئیے معمولی ہیں۔ آج کی پڑھی لکھی نسل نے تو علم دین بھی انگریز کی "مذہب پر تحقیق" سے حاصل کیا ہے سو تصوف کے بارے میں بھی وہی درست مانا جاتا ہے جو کسی صاحب کی تحریر سے سند پائے۔ جہاں تک بات رہی اہل تصوف کی، ان کے روزمرہ کے مشاغل و معمولات میں اس بات کی گنجائش کم ہوتی ہے کہ کج بحثیوں میں وقت ضائع کریں اور ویسے بھی پھول کی موجودی کی سب سے بڑی دلیل اس کی خوشبو ہی ہوتی ہے۔ آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ معلومات کی فراوانی ہے۔ غلط یا صحیح اس سے سروکار نہیں لیکن ایک سیلاب ہے جو اُمڈا پڑتا ہے۔ اس سب میں سے سچ کو کھنگالنا بہت مشکل ہے اورتصوف کو توہمیشہ سے ہی "تعلیم یافتہ" اور "مقتدر" طبقات کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرا پڑا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو برس کے بعد بھی تصوف ایک حقیقت ہے اور دلوں میں اتر جانےکی تاثیر کا حامل۔

    تصوف کی حقیقت کیا ہے، اس پر لوگ بہت کتابیں لکھتے ہیں لیکن اسی طرح جیسے میں انجنیئرنگ کی ڈگری رکھتے ہوئے علم طب پر ایک "مقالہ" لکھ ڈالوں۔ تصوف کیا ہے یہ تو کوئی وہ ہی جانے جو اس راہ کا مسافر ہو۔ جو صاحبان حال ہیں انہوں نے تو بات بتانے کی بہت کوشش کی لیکن بات کھُل کر ہی نہیں دیتی۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو روزمرہ میں رواج تو پا جاتی ہیں لیکن ان پر غور کرنے کی مہلت و فرصت نہیں ملتی۔ اقبال کا ایک شعر دوبارہ عرض کرتا ہوں

    کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

    یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

    ہم میں سے شائد ہی کوئی ہو جس نےجواب شکوہ کا یہ شعر پڑھا نہ ہو اور اسے سکول کالج کے کسی مضمون میں استعمال نہ کیا ہو۔ لیکن مقصد کیونکہ صرف نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے سو کبھی فرصت ہی نہیں ملتی کے اس کے معانی کو تلاشا جائےوگرنہ بات تو سامنے دھری ہے۔ مصرعہ اولٰی میں شرط ہے اور مصرعہ ثانی میں انعام۔ شرط کیا ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ سے مکمل وفا کی جائے۔ اطاعت اور حُب کامل ہو اسطرح کہ اپنا، جان، مال، رشتے ناتے، کوئی چیز نبی کریمﷺ سے زیادہ محبوب نہ ہو اور یہ نسبت زبانی نہ ہو بلکہ عملی ہو۔ حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی فرماتے ہیں کہ پیر کامل وہ کہ جس کی ایک سُنت بھی قضا نہ ہو۔ یہ شرط ہے مقرب بارگاہ ہونے کی اور اسی راہ پر چلنے کا نام ہے طریقت۔ جب انسان کی اطاعت نبی کریمﷺ سے اس قدر کامل ہوجائے کہ حُب نبیﷺ پر ہر چیز قربان ہو تو پھر بارگاہ الٰہی سے انعام عطا ہوتا ہے کہ "یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں"۔ اس مصرعہ پر دوبارہ غور کیجئے اور اس انعام کی ہمہ جہتی کا اندازہ کیجئے اور اس انعام کا وعدہ سچا ہے ۔

    نماز ہم آپ بھی پڑھتے ہیں، نماز حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی پڑھتے تھے۔ ہمیں مچھر کاٹ جائے تو یہ بھول جاتا ہے کہ کتنی رکعات باقی ہیں اور ان کا تیر کسی طرح نہ نکل سکا تو حکم ہوا کہ جب نماز میں سجدے میں جائیں تو نکال لیا جائے۔ تصوف یا طریقت کا مقصد ابوبکر و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نماز پیدا کرنا ہے ان حضرات کی ظاہری نہیں، باطنی متابعت سے۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ جب مجھے عشق کی نماز اور فرض کی نماز میں فرق پتہ چلا تو میں نے چالیس برس کی نماز قضا پڑھی۔ زکوٰۃ دینا فرض ہے لیکن جب حضرت بایزید بسطامی سے حضرت امام شافعی کے شاگرد نے زکوٰۃ کے متعلق استفسار کیا تو فرمایا"زکوٰۃ دینا حرام ہے"۔ مزید کُرید پر فرمایا  "اللہ کی مخلوق بھوک سے مرتی رہے اور تم سارا سال اتنا مال ذخیرہ کئے رکھو کہ اس پر زکوٰۃ فرض ہوجائے؟ " لیکن یہ باتیں ان اونچے مقامات والوں کے لئے ہیں جن کے یہ حوصلے ہیں۔ ہم آپ، اگر سیدھے سیدھے دین پر عمل ہی کرلیں، پانچ وقت ٹھونگے ہی لگا لیں تو اللہ کا بہت فضل ہےکہ گدھے پر ہاتھی کا بوجھ نہیں لادا جاتا۔

    اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ تصوف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں کہاں تھا؟ اس کا جواب بھی سامنے دھرا ہے۔ تصوف نام ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیروی کرتےہوئے حُب نبیﷺ میں وہ درجہ کمال حاصل کرنے کا ہے جو انہیں حاصل تھا۔ اب صحابہ کرام کے دور میں تصوف کھوجنے کی کوشش کرنا کج بحثی ہی کہلا سکتی ہے۔  بہت سے معاملات ہیں جن کے متعلق سوال کئے جاتے ہیں اور ان کے جوابات دئیے جانے چاہئیں۔ اللہ درجات بلند فرمائے اعلٰی حضرت پیر نظیر احمد صاحب  کے کہ جویان حق کے لئے  باتیں کھول کر بیان فرما گئے۔ انشاء اللہ ماہ رمضان میں کوشش رہے گی کہ اعلٰی حضرت کے فرامین کو بلاگ پر پیش کر سکوں۔ انشاء اللہ ان کے مطالعہ سے اذہان میں تصوف کے بارے میں عموماً اور دین کے بارے میں خصوصاَ جو شکوک و سوالات ہیں ان کا ازالہ اور حل ملے گا۔

    نوٹ:

    گزشتہ چند ماہ بلاگ سے غیر معمولی غیرحاضری رہی۔ پہلے بچیاں پاکستان تھیں تو ان کی جُدائی تھی پھر جب واپس آئیں تو ایک ماہ کے لئے تمام گھر والوں کو اپنے ساتھ مشی گن لے آیا۔ ایک ماہ پھر ان کے سوا کسی چیز پر توجہ نہ دی اور پھر ایک ماہ سے زائد کام کا زور کافی رہا۔ اللہ کریم جزا دے شگفتہ بہنا اور اسماء بہنا کو کہ فکرمندی سے احوال پُرسی کرتی رہیں۔ انشاءاللہ اب کوشش رہے گی کہ بلاگ پر حاضری باقاعدہ رہے۔

    Thursday, July 29, 2010 at 17:33
    107 مشاہدات
  • خصماں نوں کھاؤ

    گزشتہ قریباً ایک ماہ سے فیس بُک اور بلاگ سے غیر حاضری رہی۔ پہلے بچیوں کی آمد کی تیاریاں تھیں اور پھر ان کی آمد کے بعد کی مصروفیات۔ اس دوران کچھ خبر نہ رہی کہ کہاں کیا کچھ ہورہا ہے۔ یہ بے خبری اپنی ہمہ جہتی میں ابھی کافی حد تک قائم ہے ماسوائے ایک پہلو کے۔ پرسوں بیگم نے ہمیں فیس بک پر جاری معاملہ کے بارے میں آگاہ کیا او رہمارا اکاؤنٹ فیس بک پر معطل کردیا۔ کل کچھ وقت نکال کر کچھ اس معاملہ کے بارے میں پڑھا اور پھر الحمدللہ یہ فیصلہ کیا کہ "فیس بک خصماں نوں کھائے"۔ ارادہ یہ ہوا ہے کہ فیس بک سے مستقل قطع تعلق کرکے ٹویٹر سے رابطہ استوار کیا جائے۔ اگرچہ آج خبر ہے کہ فیس بک نے وہ صفحہ ہٹا لیا ہے لیکن یہ قطعاً نہ تو کافی ہے اور نہ اہم۔ اگر انہیں اپنے خودساختہ "آزادئی اظہار" کی اتنی فکر ہے تو ہمیں اپنے آقاﷺ سے محبت اس سے کہیں زیادہ اور شدید تر ہونی چاہئے یا کم ازکم ایسا دعوٰی تو رکھنا چاہئے۔ سو وہ اپنی آزادئی اظہار کا پاس کریں ہمارے لئے آقاﷺ کی محبت کافی ہے۔ جو احباب ٹویٹر پر رابطہ رکھنا چاہیں وہ taaoo75 پر بلاجھجک آواز دے سکتے ہیں۔

    کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

    یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

    Friday, May 21, 2010 at 11:22
    254 مشاہدات
  • مشرق و مغرب کا ملاپ

    استاد فتح علی خاں صاحب اور جین گربیرک کی یہ مشترکہ کاوش یقیناً انتہائی خوبصورت ہے اور کم از کم میرے دل کی حالت کو ضرور بیان کرتی ہے۔ آپ بھی لطف اندوز ہوں۔

    Friday, April 30, 2010 at 08:55
    148 مشاہدات
  • ایک سوال

    ایک سوال جو گزشتہ چند روز سے ذہن میں کلبلا رہا ہے سوچا کہ احباب کے سامنے رکھوں۔ شائد کچھ حل نکل آئے۔ ایک جگہ بہت سارے صفر اکٹھے ہیں۔۔۔۔۔ کروڑوں کے حساب سے۔ انہیں چار حصوں میں رکھ کر مختلف نام دے دئیے گئے۔ چند صفروں نے شور مچایا کہ انہیں اپنا نام نہیں پسند۔ ان کا نام بدل دیا گیا تو چند اور صفرے کودنے لگ پڑے کہ ہمیں بھی اور نام دو، ہمارا خانہ الگ کرو وغیرہ وغیرہ۔ میرا سوال یہ ہے کہ صفروں کا نام بدلنے سے یا انہیں مزید خانوں میں بانٹ دینے سے کیا ان کی قیمت بڑھ جائے گی؟ محمد علی بوگرہ کی روح آج بھی اپنے پیش کردہ استدلال کی سچائی پر ماتم کر رہی ہوگی کہ خوش ہورہی ہوگی؟

    Thursday, April 15, 2010 at 13:27
    252 مشاہدات
  • آسان حل

    آج کل برصغیر میں شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی کے چرچے ہیں۔ اس اطلاع کے منظر عام پر آنے کے بعد شعیب ملک کی مبینہ پہلی بیوی نے بھی میڈیا پر اپنے مبینہ حقوق کی جنگ شروع کردی ہے۔ اس سب میں میڈیا کی چاندی ہے اور دھڑا دھڑ خبریں چلائی اور چھاپی جارہی ہیں۔ ایسے میں اصلیت کا پتہ کیسے چلے؟ عزیزی صاحب اس کا نہایت آسان حل بیان کرتے ہیں جو قابل عمل بھی ہے اور بے خرچ بھی۔ آپ بھی دیکھئے۔

    نجانے کیوں یو ٹیوب نے یہ ویڈیو ہٹا لی ہے حالانکہ دنیا نیوز پر یہ لنک موجود ہے۔ جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوتا اس وقت تک آپ اس پروگرام کے پہلے حصے سے لطف اندوز ہوں۔

    اس کے ساتھ ہی "چوہدری شجاعت حسین" کا پر مغز تبصرہ اس تمام واقعہ پر

    Monday, April 5, 2010 at 11:08
    291 مشاہدات
  • علموں بس کریں او یار

    بلھے شاہ نے جب کہا  "علموں بس کریں او یار ۔۔۔۔۔ اکو الف تینوں درکار" تو اس وقت وہ ایک جاہل مطلق نہ تھے بلکہ اپنے دور کے علوم و فنون کا احاطہ کرنے کے بعد حقیقت کو پاچُکے تھے۔ سید شمس تبریز جب کتابیں سُکھاتے مولانا روم کے پاس سے گُزرے تو کتابوں کے ڈھیر کی بابت دریافت کیا۔ مولانا روم نے جب انہیں کہا کہ "یہ وہ ہے جس کی تمہیں خبر نہیں" تو اس جواب میں ان کے علم کا مان بول رہا تھا۔  پھرجب اکتساب فیض کیا تو کہا "مولوی ہرگز نہ شُد مولائے روم ۔۔۔۔تا غلام شمس تبریزی نہ شُد"۔ حضرت ابن عباسؓ جنہیں تفسیر قرآن کی تعلیم خود سرکار دوعالم ﷺ نے فرمائی تھی،  فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا اونٹ صحرا میں گُم ہوجائے تو میں قرآن سے اس کا اونٹ ڈھونڈ نکالوں۔ فارس فتح ہوا تو امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے کتابوں کا ایک ڈھیر پیش کیا گیا۔ دریافت فرمایا کہ یہ کیا؟ جواب ملا کہ اہل فارس کے علم و دانش کا خزانہ۔ حکم دیا کہ ان سب کو آگ لگا دو۔ ہمارے پاس ان سب سے بہتر کتاب موجود ہے۔ یہ حکم کوئی متعصبانہ یا تنگ نظری والا حکم نہ تھا بلکہ مظہر تھا اس مقام کا جو معلم انسانیتﷺ سے اکتساب فیض کے بعد نصیب ہوا تھا کہ قرآن میں خالق کائنات خود فرماتا ہے

    وَلَا حَبَّۃٍ فِی ظُلُمٰتِ الاَرضِ وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلّاَ فِی کِتٰبٍ مُّبِینٍ  (الانعام:59)

    "زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ نہیں اور نہ کوئی ایسی خشک و تر چیز ہے جس کا بیان کتابِ مبین میں نہ ہو۔"

    ہوا یہ کہ آج کے دور میں تعلیم ارزانی ہوگئی اور علم نایاب۔ حروف کو رٹا لگاکر امتحان پاس کرنے کا چلن دنیاوی مدارس میں ہی نہیں بلکہ دینی مدارس میں بھی جڑ پکڑ گیا۔ شائد اسے آپ انگریز کی سمجھ داری کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے دین کے علم میں بھی ڈگریاں و اسناد داخل کردیں یا کم ازکم اس سوچ کو ضرور داخل کردیا۔ سو فاضل ہونا یا سند یافتہ ہونا ہی دینی علوم پر حاوی ہونے کی سند مانا جانے لگا حالانکہ دین تو سراسر عمل ہے۔ عمل جو علم کی مطابقت میں ہو۔ پھر اس پر مستزاد یہ ہوا کہ عقیدت مندوں نے اولیاء کے فرامین و ارشادات دھڑا دھڑ شائع کرنا شروع کردیئے۔ خاصوں کی بات عاموں تک پہنچی تو مچھلی بازار بن گیا۔ جس کے ہاتھ جو لگا لے اُڑا۔ کسی نے آدھی بات سُن کر دین اور شریعت کی ہی نفی کرنا شروع کردی اور کسی نے اس سے بھی ایک قدم آگے جاکر پوری بات سُنے اور کہے بغیر بدعت اور کفر کے فتاوٰی جڑنا شروع کردیئے اور کچھ یہ سب دیکھ کر دین سے ہی باغی ہوگئے کہ جی سب ڈھکوسلا ہے۔ ایک بات جو ان تمام میں مشترک رہی وہ یہ تھی کہ اصل بات کی نہ کسی کو خبر تھی نہ کسی نے کھوج لگانے کی کوشش کی بس قیاس کے گھوڑے دوڑا دئیے نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر۔

    کتابوں کی بھی عجب کہانی ہے صاحبو۔ حروف در حروف بھرے ہوئے ہیں۔ ہر علم موجود، ہر نکتہ موجود لیکن اصل بات مفقود۔ اب آپ اگر اردو بازار لاہور چلے جائیں اور ایک موٹی سے کتاب اُٹھا لائیے طب کی۔ پھر اس کے حروف کو رٹا مار کر دوکان کھول لیجئے حکمت کی اور لوگوں کو دھڑا دھڑ پُڑیاں بنا کر دینا شروع کردیں۔ کیا اس سب سے آپ سکہ بند حکیم ہوجائیں گے یا طب کا علم ناقص قرار پائے گا؟ یہاں ہم سب کا جواب ہوگا "نہیں" لیکن جب اسی تمثیل کو دین پر لاگو کریں تو مجھ سمیت اکثر صاحبان "علم" کہیں گے "کیوں نہیں؟" اور یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر جاتے جس نے یوکرائین سے ڈگری لی ہو یا کسی فٹ پاتھئے کالج سے امتحان پاس کیا ہو لیکن دین کے معاملہ میں ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کی بات پر یقین کرلیں گے چاہے اس کی ڈگری یا سند کسی بھی ادارے کی ہو۔ اگر کسی میڈیکل کالج کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی واحد گواہی شہر کے گورکن ہوں تو کیا آپ اپنے بچوں کو وہاں اکتساب فیض کے لئے بھیجیں گے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کسی انجنئیرنگ یونیورسٹی کی فیکلٹی کی واحد خوبی یہی ہو کہ ان سے کبھی کوئی چیز بن کے نہ دی تو کیا اس کی ڈگری کو آپ قابل اعتبار سمجھیں گے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں ہم کیا کسی عالم، مولوی، پیر، شیخ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حضرت پہلے عمل دکھائیے پھر خطبہ ارشاد فرمائیے؟؟؟ نہ کبھی نہیں۔۔۔ لیکن ہاں یہ ضرور کہیں گے کہ جی دین میں استنجے پر ہی زور ہے۔ نہ جی قصور دین کا نہیں آپ کا اپنا ہے۔ کیا آپ نے کبھی دین کو کھوجنے کی کوشش ہی کی ہے؟ کسی سے اکتساب کیا؟ کسی کو کہا کہ جی مجھے بتاؤ صراط مستقیم پر چلوں کیسے؟

    اب پیروکار اگر ہم ایسے ہوں تو دین کا کیا قصور؟ حکم ہوا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ مسلمانوں کے کسی معاشرے میں چلے جاؤ یوں لگے جیسے نعوذباللہ حکم تھا کہ "غلاظت پورا ایمان ہے" حکم ہے کہ "مؤمن جھوٹ نہیں بول سکتا" ہمیں دیکھیں تو لگے ہے کہ "مؤمن سچ نہیں بول سکتا" حکم یہ کہ "مسلمان وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں" ہمیں دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ "مسلمان وہ جو ہر روز تین چار بندوں کا ناشتہ کرے" حکم ہے کہ "گواہی دو خواہ تمہارے اپنے قرابت داروں کے خلاف ہی ہو" ہمیں سمجھ آتا ہے کہ "گواہی دو جس سے تمہارے اپنے قرابت دار محفوظ رہیں" حکم ہے کہ "کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقوٰی کے سبب" ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ "سب سے اوپر عربی اور اس کے بعد تمہاری ذات۔ تقوٰی کا معاملہ اللہ کا ہے سو اللہ جانے اور اس کا کام"۔ اب ان بوالحواسیوں کی بنا پر اگر کوئی کہے کہ جی دین تو ہے ہی فساد یا لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام فساد کا نام ہے تو قصور اسلام کا نہیں آپ کا اور میرا ہے۔ آیتوں اور حدیثوں کو رٹا لگانے کا نام اسلام نہیں اور نہ ایسے کو دین کا "عالم" کہتے ہیں۔وہ تو جی بہروپیا ہے۔ 

    ایک وقت تھا کہ بہروپئے بھی کسی قدر کے مالک ہوتے تھے۔ اورنگزیب کے دربار میں ایک بہروپیا آیا۔ کہنے لگا کہ میرے فن کی معراج یہ ہے کہ جہاں پناہ کو بھی اپنے بہروپ سے دھوکا دے دوں۔ اورنگزیب نے کہا کہ اگر کردکھاؤ تو پانچ سو روپیہ انعام تمہارا ہوا۔ بہروپیا کورنش بجا کر رخصت ہوگیا اور ایک دور دراز علاقے میں اللہ والے کا بہروپ دھار کر بیٹھ گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ لوگ آہستہ آہستہ اس کے پاس آنے لگے۔ وہ دُعا کردیتا لوگوں کی مشکل حل ہوجاتی۔ بات بڑھتی گئی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ کو ایک جنگی مہم کے سلسلہ میں اس علاقہ سے گزرنا تھا۔ مصاحبین نے عرض کی کہ ایک اللہ والے یہاں مقیم ہیں ان سے دُعا کروالی جائے۔ بادشاہ نے مشورہ قبول کیا اور خدمت میں حاضر ہوگیا۔ صاحب نے دُعا کی اور بادشاہ جنگ کے لئے روانہ ہوگیا۔ جنگ میں فتح ہوئی تو واپسی پر آستانہ پر رُک کر بادشاہ نے جاگیریں اور وظائف بطور نذرانہ پیش کیے۔ بہروپئے نے کچھ بھی لینا منظور نہ کیا۔ بادشاہ سلام کرکے چلا آیا۔ کچھ عرصہ بعد بہروپیا دربار میں حاضرہوکر اپنے انعام کا طالب ہوا۔ بادشاہ نے کہا کہ ہمیں نہیں یاد کہ تم نے ہمیں دھوکا دیا ہو۔ بہروپئے نے ساری گفتگو دُہرا دی۔ بادشاہ نے پانچ صد روپیہ عطا کرنے کا حکم دیتے ہوئے پوچھا "جب ہم جاگیریں اور وظائف پیش کررہے تھے اس وقت کیوں نہ لیا؟" تو بہروپئے نے جو جواب دیا پڑھئے اور سر دُھنئے۔ بہروپئے نے کہا "حضور جن کا بہروپ دھارا تھا ان کے تقدس کو کیسے ٹھیس لگاتا؟" ہماری قسمت میں اصلی بہروپئے بھی نہ رہے اور ہم نقالوں کے دام میں اُلجھ کر اصلیت سے ہی انکاری ہوئے پھرتے ہیں۔

    اب بات کریں ان کی جو اولیاء کے ارشادات، فرامین، اشعار سُن کر انہیں سمجھے بغیر "افلاطونیاں" جھاڑتے پھرتے ہیں۔ بات پھر ایک تمثیل سے بتاتے ہیں۔ ایک حکیم کے پاس ایک مریض آیا جسے نمونیا تھا، حکیم نے علامات دیکھ کر کہا "دیسی مرغی کا شوربہ پیا کرو"۔ دوجا آیا جسے گرمی کی شکایت تھی تو اسے کہا کہ "شرب صندل ٹھنڈا کرکے پیا کرو" تیسرے کی آنتیں خشک تھیں تو اسے بتایا کہ صبح نہار منہ مکھن کھایا کرو۔ تینوں مریض ٹھیک ہوگئے۔ اب انہوں نے جب بات آگے سُنائی توایسے کہا "میں بیمار تھا۔ حکیم صاحب نے کہا کہ ۔۔۔۔۔ کھاؤ اور میں تندرست ہوگیا" سُننے والے نے بات بنائی کہ حکیم صاحب نے جو بات بتائی تھی وہ اکسیر ہے۔ سو گرمی کے علاج کے لئے دیسی مرغ کے شوربہ پر زور دیا جانے لگا اور سردی کا علاج صندل کے ٹھنڈے شربت سے قرار پایا۔ اور جب ان اوٹ پٹانگ حرکتوں کا نتیجہ نکلا تو الزام کیا نکلا؟ وہ جی حکیم ہی جعلی تھا۔۔۔ یا جی حکمت نامی کوئی چیز نہیں آپ گھاس اُبال کر پیا کریں۔ اب اس تمام ہڑبونگ میں قصور کس کا؟ لیکن اگر اتنی گہری باتیں سوچنے کا شعور ہوتا تو زرداری پاکستان کا صدر ہوتا اور آدھا پاکستان ایک صوبے کا نام بدلے جانے پر خوشیاں منا رہا اور آدھاا فسوس؟

    اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ انسان کو اس دنیا میں ترقی کے لئے جتنے بھی علوم و فنون کی ضرورت ہے وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے غور کرو۔ ہمارے پاس اس کے لئے وقت ہی نہیں۔ ہم اس حکم سے بھی سرسری گُزر جاتے ہیں۔ جب تمام دُنیا سورج چاند کو معبود مان رہی تھی قرآن کہہ رہا تھا "وسخرلکم مافی السمٰوات وما فی الارض"۔ اب مسلمان آج بھی یہ بحثیں کرتے پھرتے ہیں کہ جی چاند پر کیسے جاسکتا ہے جی کوئی؟ قرآن کہے کہ ہر چیز کا جوڑا ہے۔ ہم غور نہ کریں اور نیوٹن یہ بات دریافت کرلے تو اس میں قصور کس کا؟ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات قرآن میں موجود نہ تھی؟ علوم سب قرآن میں ہیں لیکن انہیں کھوج نکالنا آپ کا اپنا کام ہے۔ یہ اور بات کہ مشکل کام ذرا ہمیں پسند نہیں آتے سو کچھ آئیں، کچھ بائیں اور کچھ شائیں کرکے گزارا کرنے کوشش کرتے ہیں لیکن اس طرح کرنے سے حقیقت بدل تو نہیں جاتی نا؟؟؟ سو  آدھے جپنا شروع کردیتے ہیں کہ "علموں بس کریں او یار" یہ جانے بغیر کہ جس مقام والوں کے لئے یہ کہا گیا ہے وہاں ہر کس و ناکس کی رسائی نہیں اور باقی کے آدھے بدعت و شرک کے فتاوٰی جڑنے لگ پڑتے ہیں  اور جو باقی بچ رہتے ہیں وہ دین کو ہی فضولیات کہنے لگ پڑتے ہیں۔

    Friday, April 2, 2010 at 14:42
    287 مشاہدات
  • مورا تم بن جیارا اُداس رہے

    اللہ مغفرت کرے اُستاد امانت علی خان کی۔ نیپال جاتے ہوئے جہاز جب ہچکولے کھارہا تھا، وہ یہ ٹھمری سوچ رہے تھے۔ آج انہیں یہ ٹھمری گائے ہوئے بھی کئی دہائیاں بیت گئیں لیکن جب سے میری شہزادیاں مجھ سے دور ہیں میرا دل بھی ان کی سنگت میں یہی پکار رہا ہے۔

    Tuesday, March 30, 2010 at 16:08
    186 مشاہدات
  • سونا کر گئیو دیس

    وہ جو خیال رکھتے ہیں انہوں نے محسوس کیا ہوگا کہ ایک بار پھر بلاگ سے غیر حاضری کچھ لمبی ہوگئی ہے۔ وجہ اس کی کچھ یوں ہوئی کہ بچیوں کی اماں نے پاکستان جانے کا منشور بناڈالا اور حسب معمول دودھ میں سے مکھی باہر نکال پھینکی۔ وہ بھی حق بجانب تھیں کہ مکھی ملا دودھ پینے اور خاوند کے ساتھ میکے جانے کا کیا فائدہ بھلا؟  بات صرف بیگم کے میکے جانے تک رہتی تو قابل برداشت تھی، مسئلہ یہ تھا کہ بچیوں کو بھی ان کے ساتھ جانا تھا۔ یہ کڑوا گھونٹ پینا آسان نہ تھا لیکن اپنی اولاد سے دوری کی اذیت سے بچنے کے لئے اوروں کو ان کی اولاد سے دور کیسے رکھوں؟ اس سوال کا جواب میری ناقص عقل کے پاس نہ تھا سو خاموشی اختیار کرلی۔  خاموشی ملی رضامندی غنیمت جان کرفروری کے اواخر میں جہاز کی ٹکٹیں لی گئیں اور پھر اٹھارہ مارچ کو بچیوں کی روانگی تک میں نے ہر روز کوشش کی کہ ان کی معصوم حرکتیں اپنی نظروں میں بھر لوں۔

    وقت کہاں تھما ہے جو اب کچھ دیر کو ٹھہرتا سو پلک جھپکتے اٹھارہ مارچ کی تاریخ آپہنچی۔ صبح آرلینڈو سے نیویارک پہنچے اور دس بجے کے قریب وہ لمحہ جس کا انتظار کم از کم مجھے تو نہ تھا۔ بچیوں کو گلے لگا کر الوداع کہنے کی ہمت  نہ تھی سو ان کے سر پر سرسری سا ہاتھ پھیر ا اور رسم الوداع پوری کرڈالی۔ سچ کہتے ہیں بزرگ دوستو کہ جی لگانا ہو تو اللہ سے لگاؤ۔ مخلوق تو کبھی پاس آجاتی ہے، کبھی دور چلی جاتی ہے۔ ایک وہی ذات ہے جو ہمیشہ قریب ہے لیکن پھر لامکاں کا عشق آسان کہاں؟ مخلوق سے عشق میں تو کبھی وصل کے لمحہ کی آس ہوتی ہے، وراء الوراء کا وصل تو اس حیات میں ممکن ہی نہیں۔ سو اب حال یہ ہے کہ ایک ہفتہ بیت گیا اپنے جگر کے ٹکڑوں سے بچھڑے۔ پہلی دفعہ ہے زندگی میں کہ ان سے اتنی دور اور اتنی دیر کے لئے جُدا ہوا ہوں او رایسے میں مصروفیت یہی ہے کہ ان کی تصویریں دیکھ لیں، ان کی باتیں یاد کرلیں یا ان سے باتیں کرلیں۔ ان یادوں میں چند لمحے اس برس کے شروع میں محفوظ کئے تھے اپنے کیمرے میں جو آپ کی نذر ہیں۔

    Thursday, March 25, 2010 at 17:00
    287 مشاہدات
  • ہمارا مستقبل؟؟

    کیا بلاول  پاکستان کا مستقبل ہے؟

    نوجوانان نے جو بھی کہا ہو، پی پی کے وفادار حضرت نے اپنے "چیئرپرسن" صاحب کی وکالت خوب کی ہے۔ بالخصوص ان کا یہ طعنہ کہ پاکستان کے مقدر کا فیصلہ یہ "چند سو" لوگ نہیں بلکہ سترہ کروڑ عوام کریں گے اور ان کی یہ چتاونی کہ "بل" پاکستان کا لیڈر ضرور بنے گا قابل غور ہیں۔ مجھے ان کے نقطہ نظر سے جتنا بھی اختلاف ہو لیکن ہوگا تو شائد ایسا ہی۔ آخر "بل" کا ابا بھی تو پاکستان کا لیڈر بنا ہوا ہے۔

    Saturday, February 13, 2010 at 15:11
    364 مشاہدات
  • گمنام ہیرو

    سنہ انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ پہلی مکمل لڑائی تھی۔ اس لڑائی کا فوری موجب تو گرینڈ سلام بنا جب اکھنور پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو زائل کرنے کے لئے بھارتی منصوبہ سازوں نے جنگ کو پاکستان کی حدودکے اندر پھیلا دینے کا راستہ چُنا۔اس وقت جب پاکستان کی افواج مقبوضہ کشمیر میں اکھنور کی جانب پیش قدمی کررہی تھیں، وزارت خارجہ (وزیر خارجہ) کے دباؤ اور کچھ یقین دہانیوں کے باعث جی ایچ کیو کو یہ باور کروا دیا گیا تھا کہ ہندوستان پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا۔ لیکن یہ سکون ان کمانڈروں کے ذہن میں ناپید تھا جنہیں موقع آنے پر محاذ پر لڑنا تھا۔ لاہور میں تعینات دس ڈویژن کے بریگیڈیئروں نے اپنے ڈویژن کمانڈر میجر جرنل سرفراز خان سے پرزور اصرار کیا کہ کم از کم ان کے بریگیڈوں کو دفاعی پوزیشن لینے کا حکم دیا جائے کیونکہ بیرک سے جنگی پوزیشن پر جانے میں ہی قریباً چھ گھنٹے کا وقت لگتا تھا۔ جرنل سرفراز کے اصرار پر پانچ ستمبر کی شام جی ایچ کیو نے یہ اجازت دے دی۔ بھارتی منصوبہ ساز چھ ستمبر کی رات پاکستان پر حملہ کا منصوبہ طے کرچکے تھے اور جس وقت جی ایچ کیو نے پاکستانی فوج کو لاہور کے قرب و جوار میں دفاعی پوزیشن سنبھالنے کی اجازت دی قریباً اسی دوران بھارتی فوج کے پیش بند جاسوس شالامار باغ تک گھوم کر واپس جارہے تھے۔ واپس جاکر انہوں نے اپنے کمانڈروں کو صورتحال سے آگاہ کیا جو کافی خوشگوار تھی۔ پاکستانی فوج بیرکوں میں موجود تھی اور چھ ستمبر کی علی الصبح کیا جانے والا حملہ یقینی طور پر کامیابی کی طرف گامزن تھا۔ ایسے میں جمخانہ میں جشن فتح اور لاہور کا سویلین ایڈمنیسٹریٹر مقرر کرنا دیوانے کی بڑ نہیں بلکہ ایک ایسا خواب تھا جس کی تعبیر میں صرف رات کے چند گھنٹے حائل تھے۔

    پاکستان کی خوش قسمتی کہ انہی چند گھنٹوں میں، بھارتی تیاریوں سے بے خبر پاکستانی فوج، لاہور کے دفاع کے لئے اپنی دفاعی پوزیشنیں سنبھال چُکی تھی۔ وقت مقررہ پر جب ہندوستان کا حملہ شروع ہوا تو بی آر بی کے اس پار ان کا پہلا ٹکراؤ پاکستانی فوج کے پیش بند دستہ سے ہوا جو علاقہ کی جانچ کے لئے وہاں گشت کررہے تھے۔ تعداد میں انتہائی کم اس دستہ کو زیر کرنے میں بھارتیوں کو زیادہ دشواری تو نہ ہوئی لیکن انہیں پاکستانی فوج کی وہاں موجودی پر حیرت ضرور ہوئی۔ بھارتی کمانڈر نے پاکستانی افسر (غالباً لیفٹینٹ) سے پوچھا "تم یہاں چھاؤنی سے اتنی دور کیا کر رہے ہو؟" جواب ملا "کسی متوقع حملے کی پیشگی اطلاع کے لئے ہم یہاں تعینات تھے"۔ بھارتی کمانڈر نے غصے سے کہا "جھوٹ۔ ہماری اطلاع کے مطابق پاکستانی فوج چھاؤنیوں میں موجود ہے" لیفٹینٹ نے بے فکری سے کہا "آگے جاؤ۔ تمہیں خود ہی معلوم پڑجائے گا"۔ جلد ہی بھارتیوں کو سچائی کا علم ہوگیا۔

    چھ اور سات ستمبر بھارتیوں نے پُرزور کوشش کی بی آر بی عبور کرنے کی لیکن پاکستانی فوج اور فضائیہ کی مشترکہ کاوشوں نے انہیں ناکام بنا دیا۔ حیرت انگیز طور پر بھارتیوں نے اس تمام لڑائی کے دوران اپنا تُرپ کا پتہ 1 آرمرڈ ڈویژن استعمال نہیں کیا تھا۔ battle of chawinda  بکتر بند ڈویژن میدان جنگ میں ایک دہشت ہوتا ہے۔ تین سو کے قریب ٹینکوں سے مسلح یہ فارمیشن عمومی طور پر ایک سٹرایئک فورس کا مرکزہ یا نیوکلیس ہوتی ہے جس کا کام برق رفتاری سے دشمن کے دفاع کو روندتے ہوئے اس کے نازک پہلو پر بھرپور وار کرنا اور دشمن کی سرزمین کے اندر دور تک پیش قدمی کرنا ہوتا ہے۔ بھارتی احمق نہیں تھے۔ اس وقت جب پاکستانی فوج کی توجہ لاہور کے دفاع کی جانب مرکوز تھی، پہلا بھارتی بکتر بند ڈویژن سیالکوٹ کے شمال مشرق میں چھاروا کے قریب مورچہ زن تھا (تصویر میں نمبر 2)۔ ان کا منصوبہ تھا کہ آٹھ ستمبر کو ایک بھرپور حملہ کرتے ہوئے وہ مرالہ لنک کینال پر قبضہ کرلیں گے اور پھر وہاں سےآگے کا راستہ بالکل آسان اور کسی بھی پاکستانی مزاحمت سے پاک تھا۔ اس منصوبہ کی کامیابی سے بھارتی فوج نہ صرف پاکستانی فوج کے عقب میں پہنچ جاتی بلکہ وہ اس کے بعد لاہور یا اسلام آباد کسی بھی طرف پیش قدمی کرسکتی تھی۔ چھ اور سات ستمبر کی درمیانی رات بھارتی  29 بریگیڈ نے جسڑ کی طرف سے پاکستان پر حملے کا آغاز کیا (تصویر میں نمبر 7)۔ اس حملے کا مقصد اس علاقہ میں موجود پاکستانی فوج کو اُلجھانا تھا تاکہ اصل بھارتی حملے کو کم سے کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔

    جسڑ میں موجود پاکستانی دستوں نے دریائے راوی پر موجود اکلوتے پُل کواُڑا کر بھارتیوں کو پیش قدمی سے تو باز رکھا لیکن اپنے بریگیڈ کمانڈر کے ہاتھ پاؤں پھولنے سے نہیں روک سکے جنہوں نے جی ایچ کیو کو اطلاع دی کہ اصل بھارتی حملہ جسڑ کی طرف سے آرہا ہے۔ اس اطلاع کے ملنے پر جی ایچ کیو نے پسرور میں مقیم 24 بریگیڈ  (نقشہ میں نمبر 8) کو حکم دیا کہ جسڑ پہنچ کر پاکستانی 115 بریگیڈ کی مدد کی جائے۔ 24 بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈئیر عبدالعلی ملک نے اپنی زیر کمان ایک بٹالین (تین ایف ایف) کو چھوڑ کر تمام بریگیڈ ،بشمول اپنی واحد ٹینک رجمنٹ 25 کیویلری ،کو فوراً جسڑ جانے کا حکم دیا۔ سات ستمبر کی رات گیارہ بجے 25کیویلری جسڑ پہنچی اور وہاں صورتحال کو مکمل طور پر پاکستانی دستوں کے قابو میں پایا۔ اسی رات دو بجے 25 کیویلری کو واپس اپنی پُرانی پوزیشن پر پسرور پہنچنے کا حکم ملا اور آٹھ ستمبر کی صبح پانچ بجے تک 25 کیویلری کے تین میں سے دو سکواڈرن پسرور پہنچ چکے تھے۔ چھ بجے اطلاع ملی کہ دشمن نے تین ایف ایف، جسے چھاروا اور اس کے اردگرد کے علاقے کے دفاع کے لئے پھیلا کر تعینات کیا گیا تھا، کے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس حملہ میں دشمن کے دو بریگیڈ حصہ لے رہے تھے اور تین ایف ایف کا ان کی اجتماعی قوت کے ساتھ کوئی جوڑ نہ تھا۔

    اس غیر متوقع اطلاع کے ملنے پر 24 بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کے حواس بظاہر شل ہوگئے اور انہوں نے 25 کیویلری کے کمانڈر کرنل نثاراحمد خان کو حکم دیا کہ وہ "کچھ کریں"۔ پاکستان کی خوش قسمتی کہ 25 کیویلری ایک نئی لیکن بہت اچھی ٹینک رجمنٹ تھی اور اس  کے افسر اپنے کام کے ماہر تھے۔ کرنل نثار کو دشمن کی طاقت اور ارادوں کے متعلق کچھ علم نہ تھا۔Nisar اس نازک وقت میں کرنل نثار نے ایک غیر متوقع قدم اٹھایا۔ بجائے اپنے ٹینکوں کو اکٹھا کرکے استعمال کرنے کے، انہوں نے اپنے تینوں سکواڈرن تھارووا سے چوبارہ تک ایک سیدھی لکیر میں پھیلا دئیے گویا ٹینکوں کی ایک دیوار ترتیب دے دی ۔ ان کے مقابل بھارت کا پہلا آرمرڈ بریگیڈ تھا جس کے ہراول دستہ کے طور پر تین ٹینک رجمنٹیں  اور ان کے ساتھ مدد کے لئے کم از کم ایک انفنٹری رجمنٹ حملہ آور تھیں۔ دن دس بجے 25 کیویلری کا ان رجمنٹوں سے سامنا ہوا اور پھر ایک بھارتی مؤرخ کے الفاظ میں "ہم نے لڑائی میں اس سے زیادہ ٹینک کھو دئیے جتنی 25 کیویلری  کے ٹینکوں کی کل تعداد تھی۔" کرنل نثار کی اپنے سکواڈرن پھیلا کر استعمال کرنے کی چال اگرچہ انتہائی خطرناک تھی کہ اگر کوئی بھی سکواڈرن مکمل تباہ ہوجاتا تو دشمن کو روکنا ناممکن تھا لیکن اس سے فائدہ یہ ہوا کہ اس روز دشمن نے جس جگہ سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کی 25 کیویلری کے ٹینکوں کو اپنے مقابل موجود پایا۔ اس بات سے دشمن نے نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستانی ٹینکوں کی ایک کثیر تعداد اس جگہ کے دفاع کےلئے مقرر ہے اور اس روز شام تک بھارتیوں نے اپنا حملہ روک دیا۔ اس سے اگلے دو روز بھارتی نیا منصوبہ بناتے رہے اور پاکستان کو اتنا وقت مل گیا کہ وہ اپنا دوسرا بکتر بند ڈویژن (چھٹا آرمرڈ ڈویژن) اس محاذ پر بھیج سکے۔

    دو روز بعد جب بھارتیوں نے دوبارہ حملہ شروع کیا تو پاکستانی اس دفعہ بہتر طور پر تیار تھے اور بھارتی منصوبہ سمجھ چُکے تھے۔ آنے والے دنوں میں خونریز لڑائیاں ہوئیں لیکن بھارتی آگے نہیں بڑھ سکے۔ اس سب کچھ کا سہرا 25 کیویلری بالخصوص اس کے کمانڈر کرنل نثار احمد خان کو جاتا ہے جنہوں نے زمانہ امن میں اپنی رجمنٹ کی تیاری پر توجہ دی اور جنگ کے دوران جب پاکستان کی قسمت ایک باریک دھاگے سے بندھی ہوا میں معلق تھی، ایک غیر متوقع چال چل کر دشمن کی قوت فیصلہ کو جامد کردیا۔ ان کا یہ جرات مندانہ قدم پاکستان کو بچا گیا وگرنہ اگر اس روز دشمن کو آگے بڑھنے کا راستہ مل جاتا تو پاکستان کا نقشہ مختلف ہوتا کہ بہرحال دشمن کے قریباً تین سو کے قریب ٹینکوں کے مقابلہ میں ان کی ٹینکوں کی تعداد صرف پچاس تھی اور پسرور سے آگے میدان صاف تھا۔ اس تناظر میں جنگی مؤرخین کا یہ کہنا غلط نہیں کہ جو کرنل نثار اور 25 کیویلری نے آٹھ ستمبر 1965 کو کردکھایا  جنگوں کی تاریخ میں اس کا اعادہ بہت مشکل ہوگا۔

    Friday, February 12, 2010 at 13:43
    297 مشاہدات

TOP