Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • دعائے صحت

    کل بروز ہفتہ اٹھائیس اگست ہم ایک افطار پر مدعو تھے۔ بعد از افطار بچے کھیل کود رہے تھے کہ خدیجہ اس کھیل کود میں پلنگ سے نیچے گریں اور دائیں بازو کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹ گئی۔ اللہ کا شکر ہے چوٹ زیادہ تشویشناک نہ تھی اور رات کو انہیں پلستر بھی لگا دیا گیا ہے۔ آپ تمام بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ اپنی دعاؤں میں خدیجہ اور نور کو یاد رکھئے گا۔

    Sunday, August 29, 2010 at 04:33
    122 مشاہدات
  • تعلیم قرآن کے تین اہم مدارج 3

    ۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔

    اب اس امر کو سمجھنا چاہئے کہ قرآن شریف نے انسان کو اسلام کی تعلیم دی جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔اسلام کی تکمیل کے بعد ایمان کی تعلیم جس کا تذکرہ کردیا گیا ہے۔ اب قرآن شریف نے نے ایمان والوں کے تکمیل ایمان کے بعد تیسری تعلیم وہ دی جواسلام اور ایمان کا نتیجہ ہے۔ یہ تیسرا حصہ تعلیم قرآنی ہے۔

    درجۂ وصول الی اللہ:

    خداوندکریم نے قرآن شریف میں ارشاد فرمایا ہے۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُواْ فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ   (المائدہ: 35)

    " اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کے راستے میں جہاد کرو تاکہ فلاح پاؤ"

    اگر انسان ارکان و شرائطِ اسلام علمی و عملی پورے کرچکا ہو تو وہ مسلمان ہے اور مسلمان ہوکر شرائط و منازلِ ایمان طے کرچکا ہو (جو تعلیم قرآنی کے دوسرے حصہ میں اوپر مذکور ہیں) تو وہ مؤمن ہے۔ اب خداوند کریم نے ان مؤمنوں کو اپنے دربار میں اپنے لقاء کی دعوت دی ہے اور بتلایا ہے کہ اس میں وسیلہ اختیار کرو تاکہ خطایا سے بچ کر وصولِ حق تک پہنچ سکو۔ اس آیت شریف سے بعض لوگ صرف اعمال اور  عبادات کو وسیلہ سمجھتے ہیں اور علمی بلاغت و لفّاظی سے یہی مدعا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر کا خیال محدود اور ان کا بیان غلط ہے۔ ہر انسان اس کے مضمون پر غور کرنے سے اس کا مدعا سمجھ سکتا ہے۔ اس کی مزید تشریح غیر ضروری ہے۔

    جو لوگ اسلام میں داخل ہو کر اس درجہ کا ایمان حاصل کرچکے ہیں کہ اپنی زندگی آرام، دولت، عزت، جان نیز جذبات بھی مالک کی رضامندی پر قربان کرچکے ہیں اور خدا ان پر راضی ہوا، ان کو اپنے دربار میں لقائے الٰہی کے واسطے دعوت دی۔ یہ وہی صورت ہے کہ بادشاہ کی رعیت میں سے وہ لوگ جو بادشاہ کی نوکری اختیار کرکے بادشاہ کی عظیم الشان خدمات انجام دے چکے ہوں اور بادشاہ ان پر راضی ہو کر ان کو اپنے دربار میں اپنی ملاقات کے لئے دعوت دے اور شرفِ باریابی کے بعد اپنی طرف سے ان کو انعامات اور اپنے وسیع اختیارات عطا کرے۔ اسی طرح مؤمنوں کو جنہوں نے ارشادِ قرآنی کے مطابق

    وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا     (المزمل: 8)

    "اوراپنے رب کا نام یادکرو اور سب سے ٹُوٹ کر اسی کے ہو رہو"

    عمل کرکے اس آیت کی حقیقت پیدا کرلی ان کو اس کے نتیجہ میں یہ عطا کی کہ اپنی بارگا ہ میں ملاقات (لقاء الٰہی) کی دعوت دی۔ عظیم الشان اعزاز و اکرام عطا فرمائے اور اپنے اختیارات اور تصرفات میں ان کو داخل کیا۔ اب اس وصولِ ذاتی اور اس کے حقائق و تصرفات کو سمجھنے کے لئے اس تشریح پر غور کرنا چاہئے کہ انسان فی الحقیقت ہر وقت واصل باللہ ہے جیسے کہ ارشادِ قرآنی ہے۔

    وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ    (ق: 16)

    "اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں"

    اب انسان کی ذات خود اور وہ مخلوق جو ماسوٰی اللہ میں داخل ہے ذاتِ الٰہی کے حجاب ہیں۔ اور حقیقت اپنی بھی اور نیز علوم اور اعمال بھی اس کے حجاب ہیں۔ یہ حجاب دو قسم کے ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جس کو ابتدائے اسلام اور ایمان سے روگردانی ہو جس کے متعلق حکم ہوا۔

    فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لاَ يُبْصِرُونَ    (یٰسٓ: 9)

    "پس ہم نے انہیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا"

    یہ حجاب واصلِ جہنم ہونے کا ذریعہ ہے مگر دوسرا حجاب اپنا نفس اور اس کے اشغال ہیں۔ یہ حجاب خود اسلام اور ایمان کی تکمیل کے بعد معدوم ہوسکتے ہیں جن کا شرک آفاقی اور شرک انفسی میں میں ذکر ہوچکا ہے۔

    چونکہ ایمان کی تکمیل عبادتِ الٰہی کے ذریعہ سے ہی ہوسکتی ہے اس لئے عبادتِ الٰہی جب الفاظ سے گزر جائے اور موضوع و معانی پر پہنچ جائے تو الفاظ متروک ہوجاتے ہیں۔ چونکہ معانی اور ان کے موضوع کا تعلق ذاتِ باری تعالٰی کی صفات سے ہے، اس لئے اب یہ انسان عبادتِ الٰہی کے موضوع سے صفاتِ باری تعالٰی تک واصل ہوتا ہے۔ اب جس اصول اور جس سبیل پر مجاہدہ کرنے سے موضوع تک رسائی ہوئی اسی رفتارِ عمل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان دائرہ مخلوق سے خارج ہوتا جائے گا اور اپنی ذاتِ انسانی بھی مستغرق فی الذات ہو کر اس کی بھی نفی ہوجائے گی اور عبادت وغیرہ جو اسبابِ عروج یا اسبابِ وصول تھے یا وہ علوم جن سے ایمان کی تکمیل ہوئی اور وہ اخلاص اور وہ علوم جو ذریعۂ وصولِ الٰہی ہے وہ چونکہ مخلوق تھے اور اب اس دائرہ امکان اور مخلوق سے علیحدہ ہونے کا وقت آیا اس لئے سب کی نفی ہوجائے گی۔ جب تک انسان کو کسی چیز کا علم ہے وہ عالم ہے، وہ عابد ہے اور دائرہ امکان میں داخل ہے اور جب یہ حجابِ علم معدوم ہوگا تو نہ نہ عابد ہے نہ معبود ہے، نہ عبادت ہے، نہ زبان ہے، نہ جہان ہے، نہ عدد ہوگا۔ اس کی مثال یہ ہے جس طرح چپلی پہن کر دریا تک پہنچے تو چپلی اتار کر دریا میں غوطہ لگا دیا، یا موٹر وغیرہ سواری تیزرفتار کے ذریعہ کسی مکان پر پہنچے تو موٹر چھوڑ کر مکان میں داخل ہوگئے۔ الغرض سب اسباب اور سب علوم معدوم ہوجاتے ہیں۔

    حضرت مولانا نظامیؒ نے فرمایا:   ہم بچشم یار بینیم یار را

    حضرت مولانا جامی: نے اس مقام کے اثر میں آکر بے ساختہ اشعار کہہ دئیے

    در دور زماں جزمن کیست

    در کون و مکاں جزمن کیست

    حضرت بایزید بسطامیؒ کو جب اس طرف کا پردہ ہٹایا گیا تو بے ساختہ، بے اختیار ہو کر کہہ دیا

    سُبحانی مَا اَعظَمَ شَانِی

    الغرض وصولِ ذات کے بعد انسان کو صفاتِ الٰہی کی سیر واقع ہوتی ہے اور صفات میں سے ہر صفت کا مقام علٰیحدہ خاصیت رکھتا ہے۔ جس صفتِ ذاتی کا مشاہدہ ہو اس کا اثر اور اسی کی خاصیت کا پرتو اس انسان کے اندر آتا ہے جیسے کہ صفاتِ الٰہی ہیں۔ دو صفات ایسی ہیں جن کے ذریعہ دنیا کے تمام تغیرات ہوتے ہیں اور ہر چیز اسی سے وجود میں آتی ہے۔ یہ ہیں "القابض" اور "امر تکوین" جو من قبیل "کُن فیکون" ہیں۔ اگر کسی انسان کو "القابض" کے مقامِ اسرار "القبض" پر رسائی ہوجائے خواہ ایک لمحۃ البصر ہی کے انداز پر ہو تو اس انسان کو یہ عزت ملتی ہے کہ وہ اگر مردہ کو حکم دے تو زندہ ہوجاتا ہے اور اگر زندہ کو حکم دے تو مردہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبدالقادر جیلانی غوث الثقلینؒ کو اسرار القبض کے انکشافات ہونے پر ان کو وہ عزت اور تصرف عطا ہوا جو اس مقام کی خصوصیات سے ہے جس کے متعلق حضرت شیخؒ نے اس کو ان اشعار میں ظاہر کیا:

    وَ اطلعنی علٰی سرّ قدیم                                                                                             و قلّدنی و اعطانی سؤالی

    "اور مجھے اپنے ازلی راز اور قدیمی بھید پر آگاہ کیا                            اور مجھے مامور فرمایا اور میری آرزو یا میرے سوال کو پورا فرما دیا"

    ولو القیتُ شرّی فی بحار                                                                                  لصار الکل غورا فی الزوال

    "اور اگر میں اپنے بھید کو دریاؤں (سمندروں) پر ڈال دوں تو وہ تمام خُشک ہوکر زوال پذیر ہوجائیں"

    ولو القیت سری فوق میت                                                                   لقام بقدرۃ المولٰی تعالٰی

    "اور اگر میں اپنے راز کو مردہ تن یا مردہ دل پر ڈالوں تو بلاشبہ رب العزت کی قدرت سے زندہ کھڑے ہوجائیں"

    الغرض انسان جب بشریت سے خارج ہو کر ذاتِ حق کے ساتھ واصل ہو اور اس کو فقدانِ کلی حاصل ہوجائے تو یہ وصلِ تام ہے جس طرح حباب و بلبلہ دریا سے ظاہر ہوا تھا اور پھر اسی میں محو ہوگیا۔

    ۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔

    94 مشاہدات
  • فضائلِ ایمان

    ۔۔۔۔ گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔۔

    اہل ایمان کی نصرت و فتح:

    اسی جذبہ اور اسی ایمان کے لوگ تھے جو دنیاوی کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے اور کوئی طاقت و سامانِ جاہ و جلال ان میں موجود نہ تھا تاہم اس ایمانی خاصیت اور خدائی طاقت سے جس طرف رُخ کیا ہزارہا برس کی حکومتیں ان کے آگے سرنگوں ہو گئیں اور دنیا کی اقوام ان کی مفتوح ہو گئیں اور ثابت ہوگیا کہ ان کے وجود میں وہ چیز ہے جس سے ان کا ہر ایک ارادہ خدا کی طاقت سے پورا ہورہا ہے اور یہ وجود وہ تھے جن کے صدری انوار کی روشنی سے تمام جہان روشن ہوا اور اس خدائی طاقت سے ساری دنیا بدل گئی۔ مدتوں یہ سلسلہ ایمان کامل جاری رہا اور ایک دریائے نور میں یہ لوگ مچھلی کی طرح تیر رہے تھے۔

    اسبابِ تنزّل:

    مگر وہ دستور اور وہ تغیرات زمانہ بھی اپنے اصول پر دنیا میں جاری تھے ار لوگ بھی دوسرے درجہ کے پیدا ہوتے گئے جن میں تغیرات زمانہ کے دستور نے اپنا عمل جاری کیا اور قلوب مؤمنین میں بھی تغیر پیدا ہوتا گیا۔ جس قدر اس نسبت رسولیﷺ اور تجلئی انوارِ ذاتی میں کمی آتی گئی اسی قدر انسانی قوت درّاکہ میں جاہ و جلال دنیاوی کے تصورات جاگزیں ہوتے گئے۔ گویا مؤمنین کی حقیقت ایمانی معدوم ہوتی گئی۔ صوم و صلوٰۃ، حج، اذان و زکوٰۃ تمام احکام اسلام موجود تھے مگر انسانی حقیقت پہلے درجہ اسلام پر واپس گئی اور لوگ صرف مسلمان رہ گئے۔ آخر ان لوگوں میں ایسے لوگ پیدا ہوگئے جن کی تلوار سے وہی وجود جن سے ساری دنیا ضیائے ربانی کی روشنی سے مالامال ہوچکی تھی، قتل ہوئے۔ حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ کرم اللہ وجہہ، یہ لوگ ان مسلمانوں ہی کی تلوار سے شہید ہوگئے۔ واقعہ کربلا ان ہی مسلمانوں کے اعمال کی یادگار ہے۔ حضرت حسینؓ کے گلے پر ان ہی مسلمانوں نے تلوار چلائی۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کو ان مسلمانوں ہی نے قید کیا اور زہر دلوایا۔ الغرض ان واقعات اور متذکرہ بالا کیفیات ایمان پر غور کرنے سے ہر انسان کو یہ پتہ چلتا ہے کہ اب مسلمانوں میں کوئی ایسی چیز گُم ہوگئی جس کی وجہ سے یہی مسلمان جو خدائی طاقت کے مظہر تھے، جس کی وجہ سے تمام دنیا ضیائے ربانی کے انوار سے روشن ہوگئی تھی، اور سب دنیا کی طاقتیں اہل اسلام کے آگے سرنگوں ہوچکی تھیں۔ اس چیز کے گُم ہوجانے کے سبب مسلمانوں کے خیالات اور اعمال اس قدر برعکس ہوگئے کہ مسلمانوں ہی نے ان لوگوں کو جو انوارِ الٰہی کے ظرف تھے اور نسبتِ رسولیﷺ کے مصادر تھے ان کو خود اپنی تلوار سے نابود کیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے اندر خدائی طاقت کے عمل اور فتوحاتِ عالم کا سبب اور ذریعہ صرف وہ حقیقتِ ایمانی تھی جس کا ذکر حصہ دوئم میں ہوا اور بعد کے جو واقعات اس کے برعکس یعنی ذلت، تباہی اور محتاجی کے رونما ہوئے یہ اس حقیقتِ ایمانی اور نسبتِ رسولیﷺ کے مفقود ہونے کے نتائج ہیں۔

    اس وقت اس تشریح اور تذکرہ سے مدعا یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں بھی مسلمان اکثر کلمہ خواں موجود ہیں، عبادت گزار ہیں مگر ذلیل ہیں، خوار ہیں، محتاج ہیں، لاوارث ہیں، تباہ حال ہیں، اسلام سے ناواقف ہیں، ایمان سے خالی ہیں اور مردہ دل ہیں۔ اس کا ثبوت مسلمانوں کے خیالات، کردار و حالات سے صاف ظاہر ہے۔

    مسلمانوں کی زبوں حالی کا علاج:

    اب سوال یہ ہے کہ ان امراض کا علاج کس طرح ہوسکتا ہے؟ خداوند کریم نے ان اقوام کو اس ارشاد سے مخاطب فرمایا ہے:

    إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ   (الرعد:11)

    "بے شک اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کی حالت کو جب تک وہ نہ بدلیں جو ان کے جیوں میں ہے"

    یہ وہ آیت ہے جس کو پڑھ کر علماء وعظ سناتے ہیں، لیڈر مضمون لکھتے ہیں اور لوگوں کو بتلاتے ہیں کہ دنیا میں قومی عروج و ترقی حاصل کرنے کے لئے وسائل اختیار کرو یعنی تجارت کرو، کالجوں میں اعلٰی تعلیم حاصل کرو، تمدن اختیار کرو تاکہ مہذب و ترقی یافتہ اقوام کی پیروی سے وہی کامیابی حاصل ہو۔ مگر یہ معنی اس لئے سُناتے ہیں کہ ان کے اپنے دلوں میں یہی چیز ہے۔ "الاِناءُ یَتَرَشَّحُ مَا فِیہِ" (برتن سے وہی چیز نکلتی ہے جو اس میں ہے"۔ بہرحال سمجھ کے موافق خیر خواہی پر عمل کررہے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ تمام اسباب اور اسباب کے نتائج بھی مشئیت ایزدی کے ماتحت ہیں۔ عرب اگر ان اسباب کو حاصل کرکے کسرٰی تک پہنچنا چاہتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ وہ پہنچتے؟ ہرگز ممکن نہ تھا۔ ایک دل دُنیا میں آیا جس نے لوگوں کے دلوں کو ماسوٰی اللہ کے میل و نجاست سے دھو کر صاف کردیا۔ لوگوں کے خیالات بدل دئیے۔ پہلے نفس کے غلام تھے اب خدا کے عاشق اور خدا کے خادم ہوگئے۔ ان دلوں کے اندر خدائی نور، خدائی طاقت عمل فرما ہوئی۔ اس تبدیلی سے نااہل لوگوں کو خدا نے شہنشاہی کا اہل بنایا اور شہنشاہوں کو ان کا غلام بنا دیا۔ خداوند کریم کا ارشاد ہے کہ میں کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اس چیز کو نہ بدل ڈالے جو اس کے نفس کے اندر ہے۔ اس کے معنی سے صاف ظاہر ہے کہ خدا قوم کی ذلت کو اس وقت تک رفع نہیں کرے گا جب تک وہ اپنے نفس یعنی اپنے دل کے اندر کی چیز بدل نہ دیں گے۔

    قلب اور نفس کی حقیقت:

    واضح ہو کہ نفس جس کا ذکر آیت مذکورہ میں ہے نفس اور قلب عالمِ باطن میں کامل ہیئتِ انسانی کا نام ہے۔ انسانی زندگی کی رفتار اس کے ماتحت ہے اور خداوند کریم کے نزدیک اعمال کی صداقت کا یہ معیار ہے اور ہمیشہ نفس قرآن شریف میں اسی قلب کے لئے آیا ہے جیسے

    وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعاً وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلاَ تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ     (الاعراف: 205)

    اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح و شام یاد کرتے رہو اور اس کی یاد سے غافل نہ ہونا۔

    وہ تبدیلی جو ارشادِ الٰہی میں شرط مقرر کی گئی اس کی مثال اور اس کے نتائج کی مثال یہ ہے کہ خدا کی طرف سے کعبۃ اللہ کی بنیاد قائم کرنے کے لئے حضرت ابراہیمؑ کو حکم صادر ہوا۔ حضرت ابراہیمؑ نے کعبۃ اللہ کی بنیادیں اس مدعا پر قائم کیں کہ تمام دنیا کے انسان خدا کی طرف متوجہ ہوں اور وحدہ‘ لاشریک سمجھ کر اس کا یقین کریں اور اس کی عبادت کریں۔ چنانچہ لوگوں نے بتوں کو چھوڑا، غیر اللہ اشیاء کی پرستش سے توبہ کی کی اور خدا کی رحمت کے مستحق ہوئے۔ مگر تغیرِ زمانہ کے اصول جاری تھے۔ ان کے اثرات بھی اپنے وقت پر اس طرح نمایاں ہوئے کہ مسلمانوں ہی نے اس کعبۃ اللہ میں تین سو ساٹھ بُت لاکر نصب کئے اور ان کی پرستش شروع ہوئی۔ مدتہائے مدت یہ سلسلہ قائم رہا۔ ہر سال لوگ آکر طواف بھی کرتے تھے، بتوں کو بھی پوجتے رہے، تجارتیں بھی کرتے رہے، قومی نظام بھی قائم کرتے رہے، جنگ و جدال کے اصول کے بھی کاربند رہے اور اطراف کی حکومتوں سے بھی تعلقات رکھتے رہے مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ آخر وہ وقت آیا کہ خداوند کریم نے حضور سرور کائناتﷺ کو عالمِ احدیت سے بشریت میں لاکر مکہ میں پہنچایا اور حضور سرور کائناتﷺ نے بشر ہوتے ہوئے بشری اصول پر لوگوں کو حقیقی مالک کی طرف متوجہ کیا۔ حضور پاکﷺ نے لوگوں کے دلوں اور نفوس کو بدلا۔ ان کے دلوں کو نجاست سے پاک کیا۔ کعبہ کو بھی بتوں کی نجاست سے صاف کردیا۔ لوگوں کے نفس کے اندر کی چیز کو اس طرح بدل دیا کہ نفس کی غلامی سے ہٹا کر خدا کی محبت اور غلامی میں لگایا۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب جن کو دوسری اقوام جاہل، جنگلی سمجھ رہے تھے ان سے بھی کم بضاعت لوگ جن کو رؤسائے قبال "ھم اَرَاذِلُنَا" کہتے تھے، وہ لوگ شہنشاہ ہوگئے اور ہزارہا برس کی مستقل حکومتیں ان کے آگے سرنگوں ہوگئیں اور صرف یہی چیز نہیں ملی بلکہ ان کا حقیقی مقصد بھی خدا نے پورا کیا اور وہ یہ تھا کہ وہ خدا سے واصل ہوئے۔ خدا ان سے راضی ہوا اور وہ خدا سے راضی ہوئے جن کے متعلق ارشاد ہوا:

    رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ     (التوبۃ:100)

    "اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ راضی ہوئے اُس سے"

    ۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

    Monday, August 23, 2010 at 06:27
    105 مشاہدات
  • تعلیم قرآن کے تین اہم مدارج ۔ 2

    ۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔

    انسان کی زندگی دو قسم کے کاموں پر مشتمل ہے۔

    ۱۔ عبادات

    ۲۔ معاملاتِ دنیاوی

    عبادات کی بنیاد دین پر ہے اور دین کی بنیاد اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک انسان شرک سے پاک نہ ہو جائے۔ شرک بجائے خود دو قسم کا ہے۔

    ۱۔ شرک آفاقی

    ۲۔ شرک انفسی

    شرکِ آفاقی یہ ہے کہ وحدہٗ لاشریک کے علاوہ یا اس کے ساتھ سورج، ستارے، آگ، پانی، ہوا، خاک وغیرہ یا بتوں کو معبود تسلیم کیا جائے جیسے کہ مشرک لوگ اب تک کر رہے ہیں اور آفاقی شرک کے معبودوں کی عبادت اور اطاعت میں انسان مشغول رہے اور خدائے وحدہٗ لاشریک سے روگرداں و نافرمان ہو۔ اگر اس شرک سے توبہ کی اور خیالات صاف کر کے حقیقی معبودِ برحق وحدہٗ لاشریک کی عبادت اختیار کرے اور اسی حقیقی مالک کی تابعداری اور اس کے احکامِ قرآنی کے موافق عباداتِ ارکانِ اسلام کامل اختیار کرے تو اس صورت میں وہ شخص مسلمان ہے جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

    اب دوسرا شرک شرکِ انفسی ہے۔ یہ شرک باوجود کلمہ پڑھنے اور ارکان اسلام کا عامل ہونے کے دل میں قائم رہتا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان نفس کا مطیع ہو اور اس کا نفس خوہشاتِ رذیلہ کا منقاد ہو۔ اب اس صورت میں انسان کی عبادات یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ سب کام خواہشاتِ نفس کے ماتحت عمل میں آتے ہیں لہٰذا تکمیلِ ایمان کی یہ شرط ہے کہ وہ اس شرک انفسی سے دل کو پاک کرے اور اس کا نفس خواہشات رذیلہ سے رستگاری حاصل کرے اور اس کا دل ذاتِ الٰہی کی محبت سے مالامال ہو۔ اب اس صورت میں اس کا دل دونوں قسم کے شرک سے پاک ہے تو اس کو دولتِ ایمان حاصل ہوئی۔ چنانچہ اس حقیقت کی رہنمائی اس آیت شریف میں کی گئی ہے۔

    فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَلاَ يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا    (الکھف:110) 

    پس جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

    تکمیلِ ایمان:

    اب سوال اس ایمان کی تکمیل اور ایمان کے نتائج کا باقی ہے۔ یہاں پر یہ جملہ معترضہ پیدا ہوا کہ انسان شرک انفسی سے دل کو کس طرح پاک کرے اور ایمان کی تکمیل کس طرح حاصل کرے مگر یہ تشریح اس کے بعد معاملہ کی حقیقت سمجھنے سے خودبخود واضح ہوجائے گی۔ یہاں یہ سمجھنا مقصود ہے کہ مطلق مسلمانی اور ایمان میں کیا فرق ہے؟ چونکہ اس انسان کے دل میں محبت ذاتِ الٰہی جاگزیں ہے اس لئے اس کی تمام حرکات و سکنات خدا ہی کی رضامندی کے لئے ہوں گی اس لئے اس کا ہر کام عبادت ہی متصور ہوگا۔ خواہ عبادت کرے خواہ دنیاوی کام کرے سب خدا کی نوکری ہے۔ حقیقت اس کی تو یہ ہے کہ انسان کے اندر جو قوت درّاکہ ہے جس میں ہر چیز کا عکس قبول ہوتا ہے اور ہر خیال اور ہر کام کی  بنیاد اس عکس سے پیدا ہوتی ہے جو اس قوتِ مدرکہ کے اندر جاگزیں ہوا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شیشہ ہو جس طرف اس کا رخ صحیح کیا جائے وہی چیز اس میں معکوس ہوتی ہے۔ اب اگر مطابق ارشادِ الٰہی:

    وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا     (المزمل:8)

    اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو۔

    انسان ذکرِ الٰہی سے ذات الٰہی یعنی مذکور کی طرف متوجہ ہو تو اس ذات کے انوار اس قوت درّاکہ میں مُتجلّی ہوکر اس میں سما جاتے ہیں جس طرح ایک شیشہ (آئینہ) خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا جب سورج کی طرف متوجہ کیا جائے تو سورج اپنے شعشانِ انوار کے ساتھ اس میں معکوس ہوتا ہے تو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا سورج ہی ہے بلکہ روشنی کے علاوہ گرمی و سوزش بھی اسی طرح آجاتی ہے۔ اب انسان جو مالکِ حقیقی کی ذات کی طرف متوجہ ہو کہ اس کا آئینہ دل اثراتِ ماسوا اللہ سے خالی ہو تو ذاتِ الٰہی اس قوتِ درّاکہ کے عمل سے اس کے حقیقی اور معنوی قلب (جو کہ عالم غیب میں مکمل ہیئت انسانی ہے) اس میں تجلیات انوار کے ساتھ متجلّٰی ہوتی ہے تو یہ شخص صاحب ایمان (مؤمن) ہوتا ہے جیسے حکم ہے

     قَلبُ المُؤمِنِ عَرشُ اللہِ تعالٰی      (الحدیث)

    مؤمن کا قلب اللہ تعالٰی کا عرش ہے۔

    اندریں صورت اس انسان کی نفسانیت بشریت مفقود ہوجائے گی اور بشری اثرات یعنی اعمالِ ظلمانی ترک ہوجائیں گے اس لئے کہ ظلمتِ قلبی رفع ہوچکی ہے اور جب نورِ الٰہی سے منور ہوگیا تو تمام اعمال اس کے نورانی ہوجائیں گے۔ یہ صورت تکمیلِ ایمان کی ہے۔ اب اس صورت میں اگرچہ وہ جسم انسان ہے مگر فی الحقیقت وہ نورِ الٰہی کا ایک ظرف ہے۔ جو خدا کی مشئیت ہو وہ کام اس سے عمل میں آتا ہے، جو اس کے دل میں آئے وہ مالک کی منظوری کا ہوتا ہے اسی واسطے حضرت مولانا رومؒ نے فرمایا ہے

    گفتئہ او گفتئہ اللہ بود

    گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

    اس حالت میں عبادت کے جو الفاظ یا کلمات زبان سے نکلتے ہیں وہ الفاظ ذہن میں نہیں آتے بلکہ ان کا موضوع ذہن میں ہوتا ہے اور موضوع و معانی اس اخلاص کی پیداوار ہوتے ہیں جس کے ذریعہ انسان خدا کی طرف متوجہ ہورہا ہے۔ اب الفاظ کا تعلق صرف زبان سے ہی ہوتا ہے اور الفاظ کا وجود بعد میں پیدا ہوتا ہے اوّل معانی اور موضوع پیدا ہوتے ہیں اور اس نوری حقیقت سے یہ کیفیت رونما ہوتی ہے جو ذاتِ الٰہی سے اقرب ہے۔ اب یہ نماز اس درجے کی ہوگی کہ

    اَلصَّلٰوۃُ امِعراجُ المُؤمِنِینَ   (الحدیث)

    نماز مؤمن کی معراج ہے۔

    جس کے لئے حکم صادر ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مؤمن ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کی نماز معراج المؤمنین ہو۔ اب اس کی ہر عبادت اسی اصول پر ہوگی۔ اسماء مرجع مسمّی ہوں گے۔ اگر یہ انسان حج کرے تو ارکانِ حج ادا کرکے تسبیح وتہلیل پڑھ کر صرف حج کی ڈگری حاصل نہیں کرے گا بلکہ متذکرہ بالا ایمان کی صورت حج میں ہوگی یعنی ایک انسان اقرب الی اللہ ہوجائے گا۔ یہ صورت ایمانِ حضرت ابراہیمؑ کی ہے جن کو خلیل اللہ ہونے کی عزت حاصل ہوئی۔ لہٰذا اس ایمان والے کو اس امر کی ضرورت ہے کہ اپنے ایمان کو حضرت ابراہیمؑ کی طرح مکمل کرے۔ انہی کردار، انہی شرائط اور انہی افعال پر عمل کرے اور اسی ارادے اور اسی اخلاص اور اسی ذہن کے ساتھ ان ارکان کی ادائیگی میں حضرت ابراہیمؑ کے ایمان اور جذبات سینہ میں محویت حاصل کرے تاکہ یہ شخص بھی حضرت ابراہیمؑ کے شجر قبولیت کا جزو بن جائے اور ابراہیمی جذبات میں ہمیشہ مستغرق رہے تو یہ شخص بھی خلیل اللہ ہے۔ اس جذبہ ابراہیمی کے اثرات یہ ہیں کہ جان اور تمام مال کی قربانی پیش کرکے اپنے فرزندِ عزیز کو ارشادِ الٰہی پر قربان کردیا اور خدا نے ان کی محبت کی تصدیق کی اور جب حضرت ابراہیمؑ کو اس آگ میں ڈالا جارہا تھا جس کی گرمی کی سوزش کئی میل تک پہنچ رہی تھی تو سورج اور ہوا کے ملائک نے آکر عرض کی کہ اگر آپ فرمائیں تو اس آگ کو اٹھا کر سمندر میں ڈال دیں۔ آپ نے فرمایا کہ مالک دیکھ رہا ہے جو وہ چاہتا ہے ہم وہی چاہتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت جبرائیلؑ آئے اور عرض کی کہ آپ فرمائیں تو میں اس آگ کو سمندر میں ڈال دوں؟ آپ نے فرمایا کہ مالک نے حکم دیا کہ خود آئے؟ جبرائیلؑ نے عرض کی کہ خود آیا۔ اس پر حضرت ابراہیمؑ نے  فرمایا کہ اگر مالک کو آگ میں ڈالنا منظور ہے تو ہم کو بھی منظور ہے اگر اس کو منظور نہیں تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اس وقت ان کو حکم ہوا کہ یہ خلیل اللہ ہیں اور ایک طرفتہ العین میں آگ گلزار ہوگئی اور شاہی تخت پر بہشتی لباس میں حضرت ابراہیمؑ کو بٹھا دیا گیا۔ یہی جذبہ تکمیلِ ایمان اور عشقِ الٰہی کا ہے اور یہی حاصل کرنا مقصود ہے۔

    ۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔

    Saturday, August 21, 2010 at 12:19
    105 مشاہدات
  • تعلیم قرآن کے تین اہم مدارج

    ۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

    اب واضح ہو کہ قرآن شریف نے دنیا کو تین چیزیں بتلائیں جن کی تشریح مختصراً ذیل میں درج ہے۔

    1۔ درجۂ اسلام:

    قرآن شریف نے لوگوں کو بتایا کہ خدا وحدہٗ لاشریک ہے اور عالمِ دنیا مخلوق ہے اور ہر چیز خدا کی عبادت کے لئے ہے۔ دنیا

    لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا(الملک:۲)

    تاکہ تمہاری آزمائش عملاً کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے

    کے لئے ہے۔

    قرآن شریف نے بتایا کہ تمام صحائف اور آسمانی کتابیں اور پیغمبروں کی تعلیم اور کردار قرآن شریف کا جزو ہیں۔ مخلوقِ خدا کو خالق کے احکام کی تعلیم دی اور بتایا کہ اسلام یہ چیز ہے۔ واضح ہو کہ انسان کیلئے خدا کی طرف صحیح طریقہ پر متوجہ ہونے کا پہلا درجہ اسلام ہے۔ اسلام کی تفصیل یہ ہے کہ نماز پنجگانہ، نوافل، حج کے ارکان، زکوٰۃ کی ادائیگی، روزہ، ذکر الٰہی اور اخوت اسلام یعنی ہر اس شخص کو جو مسلمان ہے اس کو حقیقی بھائی سے اسلام کی وجہ سے عزیز رکھنا اور اپنے مفاد پر اس کے مفاد کو ترجیح دینا۔ قرآن شریف کو پڑھنا اور اس کو سمجھنا، نماز کے الفاظ سمجھنا، معانی و موضوع معلوم کرنا۔ ہر وہ کام جو خدا نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا اور حکم دیا اس کو سمجھنا اور عمل کرنا۔ ہر وہ کام جس سے خدا نے اپنے بندوں کو منع فرمایا اس سے اپنے نفس کو روکنا۔ حقوق والدین، حقوق اولاد، حقوق برادران، حقوق ہمسایہ، حقوق قوم، حقوق استاد، حقوق پیر راہبر روحانی کو ادا کرنا، غیبت، جھوٹ، زنا، حرام خوری، چوری، حرام کاری، فتنہ، فساد، ایذا دہی اور شرارت وغیرہ کو ترک کرنا، ہمیشہ ذکر الٰہی میں مصروف رہنا، عورتوں کے حقوق کا لحاظ رکھنا اور ان کو برائی سے اور خراب عادتوں سے روکنا، عورتوں کو اپنے شوہروں کے حقوق کی پابندی اور شوہروں کو اپنی عورتوں کی رضامندی اور ان کے حقوق کا لحاظ رکھنا ان کو ایذا اور تکلیف اور غم نہ دینا۔ ملازموں اور خدمت گاروں کو تکلیف میں نہ رکھنا اور ذلیل نہ کرنا، بیع و شرا میں دھوکا نہ کرنا، گفتار بیاں اور شہادت میں راستی اور صدق پر عمل کرنا، یتیم کی مدد کرنا، سائلِ محروم و مساکین کی خدمت کرنا، مصیبت میں صبر کرنا اور ادائے عمل میں امید اور استقلال رکھنا، اعمال کو ریا سے پاک رکھنا، امورات متعلقہ شرک سے بچنا، غلط کاموں پر فضول خرچی سے بچنا، جانی و مالی جہاد کو اختیار کرنا۔

    تکمیلِ اسلام:

    الغرض انسان کا تمام پروگرامِ زندگی رسولی دستور العمل کے مطابق ہو اور قرآن شریف کی تعلیم کا نمونہ ہو۔ اگر اس متذکرہ بالا اصول کا پابند ہو اور یہ یقین رکھتا ہو کہ قیامت کا قیام واقعی ہے اور وہ یوم الحساب ہے اور ان امور کی پابندی محض اس لئے کر رہا ہے کہ احکام الٰہی ہیں اور ممنوعات سے ہیں اس لئے پرہیز و اجتناب ہے کہ خدا نے منع فرمایا ہے اور اپنے اعمال و خواہشات میں نفسانی خواہشات اور مفاد پر رضائے الٰہی کو مقدم رکھتا ہے تو اس صورتِ کردار میں یہ شخص مسلمانِ کامل ہے۔ یہ متذکرہ بالا عمل درجۂ مسلمانی اور پہلا حصہ ہے۔اگر پورا عامل نہ ہو تو وہ منافق ہے اور

    أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ (البقرۃ: ۸۵)

    تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو؟

    کا مصداق ہے۔

    2۔ درجۂ ایمان:

    تعلیمِ قرآنی کا دوسرا حصہ درجۂ ایمان ہے جس کی تشریح ذیل میں اجمالاً کی جاتی ہے۔

    حقیقت الامر یہ ہے کہ انسان کے قلب اور روئے حیات کی فطرت اس طرح ہے کہ وہ ایک ہی چیز سے دلبستگی رکھ سکتا ہے اور ناممکن ہے کہ دو چیزیں اس کی محبوب و مقصود ہو سکیں۔ نیز عالمِ دنیا میں سوائے دو چیزوں کے اور کوئی چیز بھی موجود نہیں ہے۔ خالق ہے یا مخلوق ہے۔ اس لئے انسان کی زندگی ان دو چیزوں میں سے ایک ہی کی محبت اور عشق میں گزر سکتی ہے۔ یا تو رفتارِ زندگی مالک و خالق کی محبت و اطاعت میں گزرے گی اور دلبستگی ذاتِ الٰہی سے قائم رہے گی یا مخلوق سے اور اپنے نفس کی محبت اور اطاعت میں گزرے گی یعنی بالکلیہ دل بستگی نفس کے ساتھ ہی ہوگی۔ تیسرا راستہ زندگی کے لئے کوئی موجود ہی نہیں ہے۔ یہاں پر اگر کوئی بے سمجھی سے یہ خیال پیدا کرے کہ انسان تو ہزارہا اشیاء سے محبت رکھتا ہے ایک سے مقیّد نہیں ہے جیسے کہ گھوڑا، موٹر، زمین، مکان، دولت، لباس، شادی، اولاد وغیرہ وغیرہ بے شمار اشیاء سے محبت رکھتا ہے اور بہت سی چیزیں ایسی بھی ہیں کہ جن کو جان و مال خرچ کر کے حاصل کرنا چاہتا ہے تو کس طرح تسلیم کیا جائے کہ ایک سے زیادہ کے ساتھ محبت کا ہونا ناممکن ہے اس لئے اس امر کی وضاحت کی جاتی ہے کہ فی الحقیقت متذکرہ بالا صورت کثیر التعداد اشیاء سے محبت نہیں بلکہ ایک ہی سے ہے۔ دراصل انسان کو اپنا نفس مقصود و محبوب ہے اس لئے جو اشیاء نفس کی خواہش کے ماتحت اس کو پسند ہیں ان کا وہ مشتاق ہے۔ اس حقیقت کو قرآن شریف نے "اتباع ہوٰی" کی اصطلاح میں بیان فرمایا ہے۔

    أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًاأَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا(الفرقان: ۴۳، ۴۴)

    کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنے جی کی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے یا یہ سمجھتے ہو کہ ان میں بہت کچھ سنتے یا سمجھتے ہیں؟ وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی بد تر

    اس لئے کہ مقصود اور محبوب دو طرح پر ہوتا ہے ایک مقصود بالذات اور دوسرا مقصود بالواسطہ۔ جو مقصود بالذات ہے وہ جوہر ہے اور جو مقصود بالواسطہ ہے وہ عرض ہے۔ اب یہ ثابت ہے کہ انسان کے درپیش دو ہی چیزیں ہیں یا اپنا نفس یا ذاتِ الٰہی۔ اگر انسان کو خدا سے قلبی تعلق ہے اور دلی محبت ہے تو وہ مجبوراً وہی چیز پسند کرتا ہے جو خدا کی طرف متوجہ کرنے والی ہے اور جس سے قربِ الٰہی حاصل ہو اور دنیا میں اس کے تمام اعمال اور کردار وہی ہوں گے جو خدا کی پسند ہیں اور کوئی کام منافی رضائے الٰہی اس سے صادر نہیں ہوتا۔

    ۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔

    Tuesday, August 17, 2010 at 22:32
    138 مشاہدات
  • موضوع طریقت 2

    ۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔

    یہاں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اوّلین میں ایسے لوگ موجود ہی نہ تھے جو اس آنے والے سامان اور عجائبات کا علم رکھتے۔ یہ غلطی ہے بلکہ اُس وقت ایسے لوگ بھی موجود تھے جو آنے والے واقعات کو بصیرتِ نوری سے جانتے تھے اور اس کا یقین رکھتے تھے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فرمایا ہے کہ

    جمیع العلوم فی القرآن

    لٰکن تقاصر عن افھام الرجال

    "تمام علوم قرآن مجید میں موجود ہیں لیکن لوگوں کے فہم ان کو سمجھنے سے قاصر ہیں"

    اس موقعہ پر ایک عجیب قصہ یاد آیا۔ 1918 ؁ میں چند عیسائی علمائے بیروت نے مدرسہ عالیہ کلکتہ میں آکر ایک موقعہ پر قرآن کی تشریح کرتے ہوئے مسلمانوں کو مخاطب کرکے سوال کیا کہ اس پر تعجب ہے کہ قرآن شریف کا دعوٰی حد سے زیادہ ہے کہ:

    وَلاَ حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ(الانعام: ۵۹)

    "زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں اور نہ ہی کوئی تر اور خشک چیز ہے جس کا بیان کتابِ مبین میں نہ ہو"

    یہ دعوٰی بلا ثبوت ہے۔ یہ معترضین عربی کے اعلٰی پروفیسر اور لاثانی عالم تھے۔ ان لوگوں نے اعلٰی اور جید مسلمان علماء کے اجلاس میں یہ اعتراض پیش کیا۔ اعتراض اس طرح تھا کہ جب یہ دعوٰی ہے کہ سوکھی اور گیلی کھجور تک یعنی ہر چیز کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے اور ایک اندھیری رات میں ایک حبہ اور ذرہ بھی مفقود نہیں جس کا بیان قرآن شریف میں موجود نہ ہو باوجود اس قدر سخت دعوٰی کے چھوٹی اشیاء تو درکنار جرمن وار (؁۱۹۱۴ تا ؁۱۹۱۸) جنگِ عظیم جو جنگِ دنیا ہے اور ساری دنیا کا حادثہ ہے اس بڑی چیز کا ذکر اس قرآن شریف میں دکھلا دو تو ہم مان جائیں گے کہ یہ دعوٰی درست ہے۔

    اب دعوٰی کی تردید اور تاویلات اور تشریحات علما نے اپنی اپنی استعداد کے موافق کیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی اور علمائے بیروت غالب آ گئے۔ اب مسلمان علما کو سخت شکست ہوئی اور کسی تفسیر کسی کتاب میں یہ تشریح موجود نہ تھی۔ علمائے ظواہر سوائے کتاب کے کچھ جانتے ہی نہیں۔ اب یہ واقعہ مشہور ہوا۔ بے حد کوشش کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوا۔ آخر میں مولانا غلام کبریا خان صاحب بہاری شمس العلماء جو ہمارے استاد ہیں اور ایک اور مولانا ان کے دوست تھے جو بانکی پور انگریزی کالج میں عربی کے پروفیسر تھے یہ دو تین آدمی اس مسئلہ کے فکر و غم میں زیادہ بیتاب ہوئے اور کالج سے رخصت لے کر ایک طویل سفر اختیار کیا تاکہ بڑی بڑی لائبریریوں میں پرانی تفاسیر میں یہ مسئلہ دیکھا جائے۔ چنانچہ پٹنہ بہار میں ملک خدا بخش صاحب وکیل گزرے ہیں انہوں نے لکھوکھہا روپیہ خرچ کرکے ایک ایسی عظیم الشان جامع لائبریری قائم کی کہ تمام ہندوستان کیا بلکہ غیر ممالک میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان علماء نے سب سے اوّل پٹنہ بہار کا سفر اختیار کیا۔ جب لائبریری پہنچے تو حیران تھے کہ کونسی کتاب ملاحظہ کی جائے۔ پروفیسر صاحب بانکی پوری نے کہا کہ حضرت محی الدین ابن عربی شیخ الاکبر کی تفسیر لائی جائے۔ چنانچہ لائی گئی۔ مولانا نے بغیر ارادہ کتاب کو کھول کر میز پر رکھ دیا تو پہلی دفعہ میں یہ آیاتِ قرآن شریف نکل آئیں۔

    إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ◌وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ◌(الانفطار: 14،13)

    "بیشک نیکو کار بہشت میں ہیں اور بے شک بدکار دوزخ میں ہیں"

    مولانا نے صرف طرزِ بیان دیکھنے کے لئے پڑھنا شروع کردیا تو حضرت شیخ الاکبر موصوف نے ان آیات کی تشریح میں لکھا ہے کہ ایک زمانہ دنیا میں وہ آئے گا کہ ایک جنگِ عظیم ہوگی اور بے شمار لوگ جہنم میں جائیں گے اور بے شمار بہشت میں جائیں گے۔ اب اس بیان کے بعد حضرت شیخ الاکبر نے ان آیات کے عدد نکال کر ایک خاص طریقہ پر جمع کرکے تقسیم کئے تو ۱۹۱۸ کا عدد برآمد ہوا۔ حضرت شیخ الاکبر نے تشریح کی کہ عیسائی حکومت کا زمانہ ہوگا اور یہ واقعہ ؁1918 میں پیش آئے گا۔ جب یہ عبارت مولانا نے پڑھی تو مولانا کی خوشی اور مسرت کا کوئی اندازہ نہ تھا۔ انہوں نے کھڑے ہوکر رقص کرنا شروع کر دیا اور مولانا پر حالتِ وجد طاری ہو گئی۔ کتاب کو سر پر رکھا، آنسو جاری ہو گئے، چہرہ سرخ ہو گیا اور ایک جوش پیدا ہوا جو بڑی دیر کے بعد کم ہوا۔ مولانا نے کتاب کی اس تحریر کا فوٹو لیا اور علمائے بیروت کو لاکر دکھایا۔ علمائے بیروت کی زبان پر خاموشی کی مہر لگ گئی اور کوئی جرأت بولنے کی نہ رہی۔ اب اس واقعہ کا اثر نہ صرف عیسائی علماء پر ہی پڑا بلکہ علمائے وقت اہلِ اسلام میں جو وحیدالعصر تھے ان کو بھی یقین ہوا کہ ہم لوگ قرآن شریف کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور ہمارے علوم ناقص ہیں۔

    وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ(یوسف:۷۶)

    "اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے"

    اس کی تصدیق ہو گئی۔

    ایک اور واقعہ یاد آیا کہ حیدرآباد سندھ کے رہنے والے ایک بزرگ (جو مولوی صوفی تھے) تشریف لائے اور مجھ سے درخواست کی کہ میں بہت امید لیکر آیا ہوں کہ یہاں ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔ میری آرزو یہ ہے کہ میں بہت مدت سے سرگرداں ہوں اور ہزارہا روپیہ خرچ کر چکا ہوں کہ ہڑتال ورقی متورم ہوجائے یا موم ہو جائے یا تیل ہو جائے۔ بوعلی سینا اور ارسطو کے اصولِ اکسیرِ اعظم سے واقف ہوں مگر کامیابی نہیں ہوتی اور چند خواص سے معلوم ہوا کہ آپ اکسیر کے عالم ہیں اس لئے مہربانی کریں۔ میں نے ان کو اس خیال سے منع کیا مگر وہ علمی بحث اختیار کرکے اپنی رائے اور مضبوط کر رہے تھے۔ آخر ایک دن قرآن شریف کے اس دعوٗیٰ کو یاد کیا کہ

    وَلاَ حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ(الانعام: ۵۹)

    اور کہا کہ قرآن شریف کی اس آیت کی تصدیق کے لئے ہی بتلا دیں۔ سخت مضطرب تھے اور اس پر مُصِر تھے کہ میرے یقین اور ایمان کو درست کرادیں۔ چنانچہ ان کو قرآن کے الفاظ بتائے گئے اور کچھ مداومت کرنے میں ایک رات حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے خواب میں سبز گھاس دکھلایا اور حکم دیا کہ ہڑتال ورقی کو لوہے کے توے پر رکھو اور آگ جلاؤ اور اس میں گھاس کا پانی نکال کر ہڑتال پر ڈالتے رہو۔ چنانچہ انہوں نے بیدار ہو کر اس پر عمل کیا تو واقعی ہڑتال ورقی متورم ہو گئی اور موم ہو گئی۔ انہوں نے یہ ہڑتال تانبہ یعنی مس کے ٹکڑے پر لگا کر آگ پر رکھا تو وہ آگ کی گرمی سے سیاہ ہو گیا۔ جب نکالا تو سیاہی ٹکڑے بن کر گر گئی اور وہ ٹکڑا خالص سونے کا تھا۔ اب وہ کامیاب ہوگئے اور قرآن شریف پر یقین زیادہ کامل ہو گیا۔ پندرہ صد روپے قرضہ تھا، ادا کیا۔ مکانات وغیرہ بنوائے بہت سی ضروریات مہیا کیں اور مالدار ہو گئے۔ جب وہ ٹکڑا ہڑتال کا ختم ہو گیا تو کام بھی ختم ہو گیا۔ اس کے بعد کئی بار اسی طرح ہڑتال کو توے پر رکھ رکھ کر اُسی بُوٹی کا پانی ڈالتے تھے مگر ذرا اثر نہیں ہوا۔ ہڑتال اسی طرح قائم رہی۔ وہ بوٹی موہڑہ شریف میں ٹھیکیدار آزاد خان کے مکان کے نزدیک بکثرت موجود تھی۔ پھر اسی سودا میں ان کی عمر تمام ہوگئی۔

    مقالیدُ الامور:

    اس سے ثابت ہوا کہ تمام اشیاء و اموراتِ تکوین مالک کے قبضہ میں ہیں اور ہر چیز کی خاصیت اور عمل اس کے اشارہ پر منحصر ہے۔ اور جو شخص قرآن شریف کے مالک کی طرف متوجہ ہو اس کو قرآن شریف کے وہ اسرار منکشف ہوتے ہیں جو "مقالید الامور" ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ہر شخص کو علم ہے کہ گورنمنٹ کے خزانہ میں لکھوکھہا بلکہ کروڑہا روپے پڑے ہوئے ہیں اور سب روپے لوگوں کے لئے جمع کرائے گئے ہیں گورنمنٹ خود ان کو نہیں کھاتی۔ اس امر کو معلوم کر کے کوئی شخص خزانہ کے نزدیک جا کر خزانہ کو سجدہ کرتا رہے یا ہاتھ جوڑ جوڑ کر مانگتا رہے تو خزانچی اس کو ایک پیسہ نہیں دے سکتا۔ اگر وہی شخص افسرِ خزانہ کے پاس جائے اور وہ طریقہ معلوم کرے جس سے روپیہ نکل سکتا ہے تو اس دستور پر عمل درآمد کر کے افسرِ خزانہ سے دستخط کرا کر خزانہ کے نزدیک جائے تو فوراً اس کو لکھوکھہا اور کروڑہا روپیہ مل سکتا ہے۔ عوام الناس کے سمجھنے کے لئے یہ مثالیں دی جاتی ہیں کہ ان کی سمجھ میں اصلی معاملہ آجائے۔

    تفھیمِ قرآن مجید اور اولوالباب:

    اب کم از کم یہ تو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ قرآن شریف دنیا کی ہر قسم کی نعمتوں سے پُر ہے۔ تمام اقسام کی مصیبتوں کے رفع کرنے کا ذریعہ ہے اور تمام مقاصد حاصل کرنے کا سبب ہے مگر اس مدعا کو حاصل کرنے کے لئے ایسے شخص کی ضرورت ہے جس کا سینہ رسولِ خدا ﷺ کا صحیح غلام ہو کر نسبتِ رسولیﷺ اور ضیائے ربانی کے انوار سے منور ہو چکا ہو اور قرآن شریف کے معارف و اسرار اس پر منکشف ہو چکے ہوں اور درجۂ تکوین کی عزت حاصل کر چکا ہو۔ اس کی رہبری اور ارشاد و تربیت سے وہ دستور اور طریقے معلوم ہو سکتے ہیں جن سے تمام دینی اور دنیاوی جزوی و کلّی امورات طے ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ صورت عمل میں نہ آئے تو اس مدعا کے حاصل ہونے کی امید فضول ہے۔ بعض کا یہ خیال ہے کہ قرآن شریف کو اور اس کے ترجمہ کو پڑھ کر ہم سب ضرورت پوری کر سکتے ہیں پھر کسی مرشد و رہبر کی کیا ضرورت ہے؟ مگر یہ خیال غلط ہے۔ اس لئے کہ سوالات کے زبدے کتابیں عام فہم اردو زبان میں موجود ہیں اور یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص ان کتابوں کو دیکھ کر حساب دان یا اقلیدس کا عالم ہو سکے جب تک کہ اس کے گُر اور اسرار کوئی استاد سمجھانے والا نہ ہو۔ انگریزی علماء قرآن شریف کو بلحاظِ ادبیت کے اچھی طرح سمجھتے ہیں بلکہ ایام جاہلیت کے ہزاروں اشعار ان کو زبانی یاد ہوتے ہیں اور علمِ لغات میں کامل استاد ہونے کے باوجود قرآن کے معارف و اسرار کو ان کا علم نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے سمجھنے اور سمجھانے والے "اولوالالباب" ہی ہیں جن کو خدا نے فراست اور بصیرتِ نوری عطا فرمائی ہے اور ان ہی کی تعلیم و تربیت اور مجالس میں یہ دولت حاصل ہو سکتی ہے ورنہ ممکن نہیں ہے۔

    بہردستے نباید داد دست:

    اگر کوئی شخص اپنی نا سمجھی کی وجہ سے کسی نااہل اور صوفی نما یا مسلم نما شخص کے پاس جا کر اس کی غلط تعلیم اور غلط تربیت میں پھنس کر قرآن شریف پر عمل جاری کرے تو اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے کوئی شخص غلط اور قانون کے خلاف طریقہ پر خزانہ سے روپیہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے لئے خزانہ کا دروازہ نہیں کھل سکتا بلکہ حوالات اور جیل کا دروازہ کھل جاتا ہے اور اس کی تمام زندگی غلط ہو جاتی ہے۔ اس لئے یہ عقدہ کہ کون شخص ولی ہے اور کس کی تعلیم پر صحیح راستہ کی کامیابی ہو سکتی ہے یہ بھی نہایت مشکل ہے۔ اس عقدہ کا حل صرف صحیح ارادت اور قرآن شریف کے معیار سے ہی معلوم ہو سکتا ہے کہ کس شخص کے ذریعہ اور کس شخص کی تقلید سے یہ مدارج طے ہو سکتے ہیں۔

    حضرت مولانا رومؒ نے فرمایا ہے۔

    اے بسا ابلیس آدم روئے ہست

    پس بہر دستے نباید داد دست

    الغرض تغیراتِ زمانہ نے لوگوں کے قوائے ذہنیہ کو اس قدر مسخ کر دیا کہ وہ برعکس نہند نام زنگی کافور کے مصداق ہو گئے ہیں اور ہر اس چیز کو جو رضائے الٰہی اور وصولِ حق کا ذریعہ تھی اسے ذریعۂ وصولِ "ماسوا اللہ" و خواہشاتِ نفس بنانے میں مشغول ہیں۔ عوام کی ذہنیت تو "صاحب الغرض مجنون" کے اصول پر خود ہی بے ٹھکانہ اور متزلزل ہے تو وہ بصیرت اور فراست جس سے غلط اور صحیح یعنی بندۂ نفس و بندۂ خدا کی تمیز ہو سکے کہاں سے لائی جائے؟ اس لئے کہ جو شخص حقیقی طور پر خدا کی ذات کا عاشق ہے اور اس کے قرب و لقا کا خواہاں ہے اس کے لئے تو مشکل نہیں کیونکہ جس طرح پیاسے کو پانی کی شناخت ہو جاتی ہے اسی طرح طالبِ حق کا ضمیر اس کی خود رہنمائی کرتا ہے اور سچے رہنما اور غلط صوفی نما لوگوں میں تمیز آسان ہو جاتی ہے۔ البتہ عوام النّاس کیلئے یہ حالت نہ ہونے کی وجہ سے ضرور دشواری ہے۔ ہاں اگر ان کو کسی قدر عقل ہے تو یہی معیار کافی ہے کہ دستور العمل رسولیﷺ سے اور عبادت، اذکار، افکار و اشغال کی تعلیم سے توجہ "ماسواءاللہ" پر پیدا کی جاتی ہے تو یہ صورت گمراہی ہے اور وہ شخص ابلیس بصورتِ آدم ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ اس کی تفصیل اور تشریح اپنی خداداد عقل کے ساتھ سمجھنا مناسب ہے۔

    ۔۔۔جاری ہے ۔۔۔

    Sunday, August 15, 2010 at 11:19
    138 مشاہدات
  • موضوع طریقت

    آجکل تصوف اور طریقت کے معاملہ میں بہت سے ابہام پائے جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل وعدہ کیا تھا کہ انشاءاللہ ماہ رمضان کے دوران اعلٰی حضرت پیر نظیر احمد  کے فرامین اور ارشادات کی روشنی میں طریقت اور دیگر معاملات بیان کروں گا۔ الحمدللہ کہ آج اس سلسلہ کی پہلی قسط پیش کررہا ہوں۔ یہ ایک طویل خطبہ ہے جو اعلٰی حضرت نے  سنہ1955 میں سالانہ عرس شریف کے لئے مرتب فرمایا تھا۔ طوالت کے پیش نظر اسے مختلف اقساط میں پیش کیا جائے گا (انشاء اللہ)۔

    مسئلہ تجدّد امثال:

    اصول حکمیہ کی رو سے وہ تغیرات جو دنیا میں ادیان و مذاہب پر آتے ہیں یا جو حالات مخلوق پر آتے ہیں یہ لوازمِ دوراں و خصوصیاتِ وقت ہیں اس لئے کہ عالم خود متغیر ہے۔ اس کے اجزاء بھی متغیر ہیں بلکہ عالم کا ہر جزو ہر فرد کے اجزاء بجائے خود تغیر پذیر ہیں۔ اسی حقیقت پر مسئلہ تجدّد امثال قائم ہے۔ تغیر کلی سے جو قباحت اور فسادات مخلوق میں رونما ہوتے ہیں ادیان و احکامِ الٰہی ان کی اصلاح کے لئے نازل ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ تمنا یا خیال کہ ہمیشہ کسی دین یا کسی مذہب یا کسی اصول کی ایک ہی حالت قائم رہے غلط ہے اور ناممکن ہے۔ اس حقیقت کی تفصیل بہت طویل ہے جس کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں اور غیر ضروری بھی ہے۔ اس تحریر میں صرف اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ کلی تغیر عالم کے زیر اثر جو تغیرات جزوی اشیاء اور موجودات پر آتے ہیں اس سے حقائقِ اشیاء و کیفیات حال بدلتے ہیں اس کی تکمیل کا زمانہ ہزار برس کے قریب ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے حالات و کیفیاتِ مخلوق میں اس قدر انقلاب پیدا ہوتا ہے کہ جو دین ان کی اصلاح کی غرض سے لایا گیا تھا وہ خود مسخ ہو کر بے سود ہوجاتا تھا بلکہ مدعا کے برعکس ہو جاتا تھا۔

    اسی بنا پر عادتِ الٰہی کا اظہار اس طرح ہوتا رہا کہ ہر ہزار سال کے بعد ایک رسول نئی کتابِ آسمانی کے ساتھ دنیا میں مبعوث کیا جاتا تھا تاکہ اس قباحت کا ازالہ کرے اور اس وقت کے اخلاقی امراض کا علاج کرکے لوگوں کو حقیقت پر متوجہ کرے اور "العلاج بالضد" کے اصول پر اس زیادتی اور قباحتِ وقتی کو اس کے برعکس احکام کے ذریعہ اس کی تردید کرکے حقیقت پر مجتمع کرے۔ چنانچہ جب دنیا میں توحیدِ الٰہی اور اسلام کی تعلیم کے ساتھ ضرورتِ وقت کی بنا پر تاہّل کا حکم دیا گیا تو کثرتِ ازواج بھی عبادت میں داخل ہو ا مگر مرورِ ایام اور رفتارِ زمانہ نے وہ حالات پیدا کئے کہ ہر متقی اور با خدا شخص کے تقدس کا معیار ہی کثرتِ ازدواج ہو گیا اور تغیر حالات پر توحید اور عبادت کے اصول بھی مسخ ہوگئے۔ اب "العلاج بالضد" کے اصول پر مالک الملک نے ایک پیغمبر (حضرت عیسٰی روح اللہ علیہ السلام) دنیا میں مبعوث کئے جو کہ رہبان تھے نہ ان کا باپ، نہ تجارت، نہ معاش کا ذریعہ، نہ شادی۔ ایک دم لوگوں پر تعجب کی ایک ضرب لگی کہ کیا ایسا آدمی بھی پیغمبر ہو سکتا ہے جو شادی بھی نہ کرے اور گھر اور ضروریات بھی نہیں رکھتا؟ لیکن سب قوم نے پُرزور  مخالفت کے بعد حقیقتِ غالبہ کو تسلیم کیا اور لوگوں کے خیال بدل گئے، حالات بدل گئے اور کاروائی پہلے دستور کے بالکل برعکس ہوگئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر شخص حضرت عیسٰیؑ کی مثال بن رہا تھا۔ ہر شخص رہبانِ کامل بننے کی آرزو میں مصروف تھا اور سلسلہ کامیابی کی حد کو پہنچ کر حد سے متجاوز ہوتا گیا اور تغیر زمانہ کے اثرات کے ماتحت وہ مدعا جو تاہّل کی زیادتی کو مسدود کرنے کی غرض سے تھا وہ چیز اس قدر مقصودِ بالذات ہو کر اختیار کی گئی کہ ہر خاص و عام رہبان ہی بن رہا تھا۔ بعض اس دستور پر یہاں تک پہنچے کہ بہت اونچے ستون پتھروں اور اینٹوں کے بنا کر ان پر پاکیزگی سے جا کر بیٹھ گئے اور تمام عمر اسی شغل میں اسی جگہ گزر گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہی ستون پرستش گاہِ عوام ہو گئے اور اسی طریق پر تمام احکام و عبادات بھی حد سے زیادہ متغیر ہو گئے جن میں شیطانی حکومت جاری ہو گئی۔

    بعثتِ رسول اللہ ﷺ:

    اب رفتارِ زمانہ کا تغیر اسی اصول پر اس حد تک جا پہنچا کہ مالک نے حضور سرورِکائنات ﷺ کو ایک مکمل کتاب قرآن شریف دے کر دنیا میں بھیجا تاکہ دنیا کو اس رہبانیت سے واپس کرکے اہلِ دنیا کو اعتدال پر لا کر ایسی کتاب سکھائیں کہ وہ اصولِ زندگی زمانہ کے تغیرات سے بدل نہ سکیں اور وہی زندگی، وہی ضابطہ احکامِ الٰہی ہمیشہ جاری رہے جو کہ لوگوں کے جملہ اخلاقی امراض اور تمام قباحات کا دائمی علاج ہو۔ یعنی تغیراتِ عالم کی خصوصیات ہونے کی وجہ سے دنیا میں اپنے اپنے وقت پر نمودار ہوتے رہنے کا جو دستور قدیمی ہے اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہونی تو ناممکن ہے مگر لوگوں کے خیالات اور اعمال اور قوائے ذہنی کے اندر جو خرابیاں پیدا ہو کر اس وقت کا دین مسخ کر دیتی تھیں جن پر ہمیشہ نئے رسول نئے احکام بارگاہِ الٰہی سے لا کر لوگوں کی اصلاح کرتے تھے۔ جن کو بعض قبول کرتے تھے اور بعض مزاحمت کرتے کرتے فنا اور نابود کر دیے جاتے تھے۔ دراصل وہ پیغمبرؑ اور وہ احکام اس وقت کی اصلاح کے لئے مخصوص تھے، اس وجہ سے دوسرے زمانہ کے لئے دوسرے احکام کا نزول لازمی ہوتا تھا۔

    نزولِ قرآن شریف:

    اب اس قرآن شریف کے نزول کے بعد یہ ضرورت ختم ہوگئی۔ اس لئے کہ یہ قرآن شریف ایک ایسا اعلٰی اور ایسا مکمل پروگرام صلاحیت کا لے کر آیا کہ زمانہ کی ابتداء سے زمانہ کے اختتام تک کے واقعات اور قباحات و اخلاقی امراض جو پیدا ہونے ممکن ہیں ان سب کے علاج اور اصلاح پر یہ قرآن حکیم مشتمل ہے۔ اس موقع پر ذی فہم انسان کو خود بخود یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ تمام واقعات و قباحات و اصلاحاتِ زمانہِ ماضی کے تذکرے بھی اس قرآن شریف کے جزو ہیں اور قیامِ قیامت تک مستقل زمانہ کے آنے والے مصائب و قباحات، ممکن نقائض و امراضِ اخلاقی کی تشریح بھی اس کے جزو ہیں اور وہ علوم و معارف جو آغازِ عالمِ دنیا سے روحانی پیشواؤں کے منصب کی بنیاد تھے وہ بھی اس قرآن حکیم کے جزو ہیں اور وہ واقعاتِ عالم اور حوادثاتِ عالم و تغیراتِ زمانہ کے آثار جن کا اس قرآن حکیم کے نزول کے وقت تصور بھی نا ممکن تھا اور دنیا میں کوئی ذریعہ موجود نہ تھا کہ ان کا علم ہو سکے ان کی تشریح اور وضاحت بھی اس قرآن مبین میں موجود ہے اور جن کا اپنے وقت اور اپنے زمانہ پر اظہار ہوتا جا رہا ہے۔ ہر چیز کے اظہار کے بعد اس کی شہادت قرآن شریف میں دیکھی جاتی ہے جیسے یہ ایک پودا زمین سے پیدا ہو اور اس کے چند پتے ہوں تو کیمیا گر دیکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ اس کی یہ تاثیر ہے اور یہ بہت بڑا درخت ہوگا اور اس کے یہ فوائد ہوں گے۔ اب اگر ایک ایسی کتاب مل جائے جس میں کہ اس درخت کے جوان اور مکمل ہونے اور تمام پتے لگنے اور پھول اور پھولوں کی ماہیت اور اس میں پھل لگنے اور پختہ ہونے کے اور اس کے دیگر فوائد بھی درج ہوں اور اس درخت کے منافی حیات و نقائص اور امراض کی کیفیت بھی درج ہو اور اس کا علاج بھی درج ہو اور اس کی کیفیت کی تشریح کے ساتھ اس کا مکمل فوٹو موجود ہو۔ شکل اور تشریح سے اس قدر علم ہو کہ کوئی چیز باقی نہ رہے۔ اگر وہ کتاب ہاتھ آجائے تو اس درخت کا پروگرام من و عن اس میں درج شدہ دیکھ کر اور وہ واقعات جو وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہے ہیں ان کو دیکھ کر اور کتاب میں اس کی تصدیق دیکھ کر ہر انسان کو اس کا یقین پیدا ہو جاتا ہے یہ کتاب اس درخت کے متعلق کامل ہے۔ کوئی کسی طرح ایک ذرہ یا حبہ بھر بھی اس سے باہر نہیں۔ اس لئے اب اس کی موجودگی میں دوسری تشریح یا کتاب کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ممکن ہے۔ دوسری کتاب اور تشریح کی اسی وقت ضرورت ہو سکتی تھی کہ اس کتاب میں کمی اور نقص ہو یا کمی اور نقص اس میں تسلیم کر لیا جائے۔ اندریں حقیقت واقعہ یہ ثابت ہوا کہ جس وجود اور جس ہستی کے ذریعہ یہ چیز دنیا میں لائی گئی وہ مکمل تھی اور اس کے بعد اسے نہ کسی علم کی ضرورت ہے اور نہ دوسرے کتاب لانے والے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ حضور پاک ﷺ آخری پیغمبر اور خاتم النبین ہیں اور یہ قرآن شریف دنیا کے اختتام تک اور قیامِ قیامت تک کے لئے مکمل علاج ہے اسی لئے ارشاد ہوا:

    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلاَمَ دِينًا ؕ (المائدہ:۳)

    "آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا"

    نہایت اجمال و اختصار کے ساتھ تمثیلاً توجہ دلائی جاتی ہے کہ قرآن شریف جس وقت نازل ہوا اس وقت کے لوگوں میں اس وقت کی ضرورت جہاد تھی اور امیدِ فتح اور اسلام کی حقیقت کی وضاحت کی ضرورت تھی اس لئے ان علمائے راسخین کے اذہان میں اس کے متعلق تشریح آتی اور ان واقعات کے تعینِ علمی ہو کر عملی تصدیق ہوتی گئی اور لوگوں میں حقیقی ایمان کی تکمیل ہوئی۔ اسی طرح دنیا میں وہ اشیاء جو ازروئے علومِ طبیعیات ظہور پذیر ہوئیں وہ نہایت عجیب اور غیر متوقع تھیں۔ عقل اور علم کے خلاف تھیں جس پر کہ علومِ سائنس و کیمسٹری و فلاسفہ وغیرہ مشتمل ہیں مگر جب قرآن شریف کو دیکھا گیا تو وہ حالات اور موجودات جو اپنے وقت پر ظاہر ہوئے کئی سو سال پہلے سے قرآن شریف میں ان کی تشریح و علمی وجود موجود تھے۔ علٰی ھٰذا القیاس۔ جب ہوائی جہاز آئے اور آسمان کی طرف سے مہلک بم گرائے اور زہریلی گیس کا وقت آیا تو یہ حالات اور واقعات جو اپنے اپنے اوقات پر رونما ہو رہے ہیں ان کی موجودگی میں ان کی تشریح قرآن شریف میں دیکھ کر یہ ثابت ہو تا ہے کہ یہ اشیاء بھی قرآن شریف کی اطلاعات کی جزو ہیں۔ البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ جب تک کسی چیز کا دنیا میں وجود موجود نہ ہو جائے اور اس کے متعلق ذہن میں کوئی اس کا علم یا تصور بھی نہ ہو سکے تو اس کا سمجھنا ناممکن ہے۔ مگر جب وہ چیز سامنے آجائے تو اسی کا ذکر قرآن شریف میں بخوبی سمجھ آسکتا ہے جیسے کہ ارشادِ حق ہے:

    وَلاَ حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ  (الانعام: ۵۹)

    "زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں اور نہ ہی کوئی تر اور خشک چیز ہے جس کا بیان کتاب مبین میں نہ ہو"

    ۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔

    Saturday, August 14, 2010 at 05:05
    166 مشاہدات
  • آفت یا سازش؟

    پاکستان آجکل سیلاب کی زد میں ہے۔ لوگ دھڑا دھڑ ڈوبے جارہے ہیں اور صاحبان اقتدار ٹپکتی رالوں کے ساتھ کشکول سامنے رکھے منتظر ہیں کہ عوام کے نام پر ملنے والی بھیک سے اپنے شکم نارجہنم سے مزید بھریں۔ عوام مر رہے ہیں اور ابھی شاید مزید مریں گے (استغفراللہ) لیکن جب سب بحال ہوگا تو ووٹ زرداری، شریف، چوہدری اور بھائی کو ہی دیں گے۔ اکثر لوگ جذباتی ہوکر پاکستان امداد بھیجنے کی بات کرتے ہیں۔ میں توسوچ بچار کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ پاکستان کو امداد دینا حرام ہے اور ناجائز ہے خواہے آفت کیسی ہی بڑی کیوں نہ ہو (ویسے بھی پاکستان میں آنے والی ہر آفت دنیا کی ہر آفت سے بڑی ہی ہوتی ہے)۔  اس استدلال کی میرے پاس اپنی وجوہات ہیں لیکن اگر آپ میں سے کوئی بھی ان وجوہات کا رد کرسکے یا میرے سوالات کا شافی جواب دے سکے تو مجھے اپنے مؤقف سے رجوع کرنے میں کوئی عار نہیں ہوگا۔

    1۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں جب ایک پل میں آپ اپنے گھر میں بیٹھے دنیا کا کوئی بھی کونہ کھنگال سکتے ہیں یہ کیسے ممکن ہوا کہ پہاڑوں پر ریکارڈ بارش ہورہی تھی لیکن کوئی یہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ بارش کا یہ پانی جب ہزاروں برس سے مقرر کردہ راستوں سے گزرے گا تو سیلاب آئے گا اور اردگرد کی آبادیاں بہہ جائیں گی؟

    2۔ میرا اگلا سوال یہ ہے کہ اس وقت جب پاکستان میں صرف موبائل فون کے اتنے استعمال کنندگان ہیں کہ غیر جانبدار جائزوں کے مطابق سن 2014 میں پاکستان میں موبائل فون کے صارفین کی تعداد چودہ کروڑ کو پہنچ جائے گی، کیا سیلاب کا پانی آواز سے بھی تیز رفتار سے حرکت کر رہا تھا کہ اس کے راستے میں آنے والے لوگوں کو کسی قسم کی پیشگی اطلاع فراہم نہ کی گئی اور حالت یہ ہوئی کہ لوگ راتوں کو اپنے گھروں میں سوئے ہوئےڈوب گئے؟

    3۔ میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں بجائے اس سب کچھ کی ذمہ داری لینے کے، پاکستان کے "محبوب" صدر پاکستانی عوام کے پیسے پر غیر ملکی دورے پر ذلیل ہونے چلے گئے جس کا اکلوتا مقصد اپنے سپوت کو عالمی رہنماؤں سے روشناس کروانا تھا ۔ کیا پاکستان کی عوام میں سے کسی نے ان سے اس کا حساب مانگنے کی جرات کی یا کہیں عوام نے کوئی ایسی منظم تحریک ہی چلائی جس سے ان کے اس قدم کی مذمت ہوسکے؟

    4۔ میرا اگلا سوال یہ ہے کہ ملکی گندم کے ذخائر کیوں تباہ ہوجانے دئیے گئے؟ ایسا کرنا کیوں ناگزیر تھا اور پندرہ کروڑ افرادی قوت والے ملک میں ایسا کیوں نہ ہوسکا کہ پہلے سے اندازہ لگا کر ان ذخائر کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا؟

    5۔ میرا سوال یہ ہے کہ ملک کے بیراج اور ڈیم جب سالوں سے مرمت کے متقاضی تھے تو کیونکر ان کی مرمت نہ کی گئی اور جب پانی آیا تو ان بوسیدہ بیراجوں اور ڈیموں کو بچانے کے لئے آبادیوں کو ڈبو دیا گیا؟ ان ڈیموں کی مرمت "رہنماؤں" کے بیرونی دوروں سے اتنی کم اہمیت کیوں سمجھی گئی جن پر بے حساب زرمبادلہ خرچ کیا جاتا ہے اور مقصد جن کا بظاہر "مشرقی یورپین" دوستوں سے ملنا ہوتا ہے؟

    6۔ پندرہ کروڑ کے اس ملک میں جہاں اگر ہر بندہ دن کا ایک روپیہ ٹیکس دے تو سال بھر میں چون ارب پچھتر کروڑ روپے بنتے ہیں جو آج کے حساب سے پینسٹھ کروڑ ڈالر کے مساوی ہیں، وہاں ہر چھوٹی بڑی بات پر صاحبان اقتدار جن کے اپنے ذاتی اکاؤنٹوں میں اربوں ڈالر موجود رہتے ہیں، کشکول تھام کر صدائیں لگانا شروع کیوں کردیتے ہیں؟ 

    7۔ میرا سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کی کوتاہی سے یہ سب تباہی ہوئی کیا ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ہے؟

    8۔ میرا سوال یہ بھی ہے کہ ملک کے بے غیرت اعظم سے جب سیلاب کا سوال کیا گیا تو ان کا جواب یہ کیوں تھا کہ "عالمی رسپانس" بہت اچھا ہے؟ کیا اس تباہی میں ان کی آس صرف "بیرونی رسپانس" ہی تھا؟

    ان تمام سوالات کی روشنی میں میرا استدلال یہ ہے کہ یہ تباہی جان بوجھ کر پاکستان پر ڈالی گئی ہے تاکہ بیرونی ممالک سے امداد کے نام پر مزید رقوم بٹور کر ذاتی خزانوں میں پیسے بھرے جائیں۔ قحط اور دوسری آفات سے ملنے والی آمدن اس پر سوا ہوگی۔ اور اس سب کچھ کا دردناک پہلو یہ ہے کہ جن لوگوں پر یہ آفت آئی ہے وہ بھی کل کو انہی لوگوں کا حساب کرنے کی بجائے انہی کوووٹ دیں گے اور پھر اپنے سر کا تاج بنائیں گے۔ اس استدلال کی روشنی میں میرا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کو کسی بھی قسم کی امداد دینا عوام اور حکومت کی بے حسی اور ثانی الذکر کی نااہلی اور بے غیرتی کو بڑھاوا دینا ہے اور اس لئے حرام ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی دلیل ہے جو اس مؤقف کو رد کرتی ہے تو میں ہمہ تن گوش ہوں۔

    Friday, August 13, 2010 at 12:17
    190 مشاہدات
  • رمضان شریف

    اہل اسلام کو ماہ صیام کی آمدمبارک۔ الحمدللہ کہ اس ذات کریم نے صرف اپنی رحمت سے اس ماہ مبارک کی ساعتیں نصیب فرمائیں۔ یہ ماہ مبارک اس بارش کی طرح ہے جو دکھوں سے تپتے صحرا کو چند لمحوں میں اللہ کے فضل سے مسرتوں اور شادمانیوں سے سیراب کردے۔ اس ماہ مقدس کا ایک ایک پل قیمتی ہے اور ہر پل کوشش یہ ہونی چاہئے کہ زبان اور قلب اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں۔ زمانہ نبویﷺ سے ہی اہل ایمان کو مختلف اذکار کی تعلیم دی جاتی رہی ہے تاکہ مسلمان "و الذکراسم ربک بکرۃ واصیلا" کے مصداق ہمہ وقت اپنے رحیم و کریم مالک کی یاد میں مشغول و مصروف رہیں۔  سُنن نبویﷺ کی پیروی میں سیدی و مرشدی حضور پیر ہارون الرشید صاحب مد ظلہُ تعالٰی نے ماہ رمضان کی بابرکت ساعتوں کے لئے اوراد شریف مرتب فرمائے ہیں تاکہ اہل اسلام اس ماہ مبارک کے ہر لمحہ سے کما حقہُ مستفید ہوسکیں۔  کوشش رہنی چاہئے کہ اس ماہ مقدس میں نماز اور دیگر عبادات کے علاوہ بچ رہنے والا وقت ان اوراد کے ذکر میں گزرے تاکہ مالک الملک کی رضا  حاصل ہو انشاء اللہ۔

    تاریخ اوراد شریف
    یکم تا پانچ رمضان المبارک بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
    چھ تا دس رمضان المبارک

    اَللٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدَنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ اَصحَابِہٖ صَلَوٰۃً تَکُونُ لَنَا اَمَانًا مِّن کُلِّ خَوفً (یا کوئی اور درود شریف)

    گیارہ تا پندرہ رمضان المبارک لَا اِلٰہَ اِلّاَ أَنتَ سُبحَانَکَ إِنِّی کُنتُ مِنَ الظَّالِمِینَ۝
    سولہ تا بیس رمضان المبارک اَستَغفِرُاللّٰہَ العَظِیمَ الَّذِی لَا اِلٰہَ اِلّاَ ھُوَالحَیُّ القَیُّومُ وَاَتُوبُ اِلَیہِ
    بیس تا آخر رمضان المبارک قُل ھُوَاللٰٓہُ اَحَدُ۝ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۝ لَم یَلِدُ۝ وَ لَم یُولَدُ۝ وَ لَم یَکُن لَّہٗ کُفُوًا اَحَدُ۝
    Wednesday, August 11, 2010 at 23:17
    121 مشاہدات
  • کیہہ جاناں میں کون

    منیر بھائی نے اپنے بلاگ پر ایک تحریر میں تصوف کے موضوع پر بات کی تھی۔

    بلھے شاہ کا کلام تھا جو پڑھا گیا تھا۔ جس بند پر اعتراض ہوا اس کے معنی اہل نظر کے لئے کچھ اور تھے اوروں کے لئے کچھ اور۔ تصوف کے بارے میں بات کرنے میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ سُنی سُنائی پر یقین کئے جاتے ہیں۔ جن احباب کو کچھ ذاتی تجربہ ہوتا بھی ہے تو ان میں سے بھی اکثر نقالوں کے عمل کو اصل کے رد کی دلیل سمجھتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی معاملات میں اس رویہ کو نامعقولیت گردانا جائے گا دینی معاملات میں یہ روئیے معمولی ہیں۔ آج کی پڑھی لکھی نسل نے تو علم دین بھی انگریز کی "مذہب پر تحقیق" سے حاصل کیا ہے سو تصوف کے بارے میں بھی وہی درست مانا جاتا ہے جو کسی صاحب کی تحریر سے سند پائے۔ جہاں تک بات رہی اہل تصوف کی، ان کے روزمرہ کے مشاغل و معمولات میں اس بات کی گنجائش کم ہوتی ہے کہ کج بحثیوں میں وقت ضائع کریں اور ویسے بھی پھول کی موجودی کی سب سے بڑی دلیل اس کی خوشبو ہی ہوتی ہے۔ آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ معلومات کی فراوانی ہے۔ غلط یا صحیح اس سے سروکار نہیں لیکن ایک سیلاب ہے جو اُمڈا پڑتا ہے۔ اس سب میں سے سچ کو کھنگالنا بہت مشکل ہے اورتصوف کو توہمیشہ سے ہی "تعلیم یافتہ" اور "مقتدر" طبقات کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرا پڑا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو برس کے بعد بھی تصوف ایک حقیقت ہے اور دلوں میں اتر جانےکی تاثیر کا حامل۔

    تصوف کی حقیقت کیا ہے، اس پر لوگ بہت کتابیں لکھتے ہیں لیکن اسی طرح جیسے میں انجنیئرنگ کی ڈگری رکھتے ہوئے علم طب پر ایک "مقالہ" لکھ ڈالوں۔ تصوف کیا ہے یہ تو کوئی وہ ہی جانے جو اس راہ کا مسافر ہو۔ جو صاحبان حال ہیں انہوں نے تو بات بتانے کی بہت کوشش کی لیکن بات کھُل کر ہی نہیں دیتی۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو روزمرہ میں رواج تو پا جاتی ہیں لیکن ان پر غور کرنے کی مہلت و فرصت نہیں ملتی۔ اقبال کا ایک شعر دوبارہ عرض کرتا ہوں

    کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

    یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

    ہم میں سے شائد ہی کوئی ہو جس نےجواب شکوہ کا یہ شعر پڑھا نہ ہو اور اسے سکول کالج کے کسی مضمون میں استعمال نہ کیا ہو۔ لیکن مقصد کیونکہ صرف نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے سو کبھی فرصت ہی نہیں ملتی کے اس کے معانی کو تلاشا جائےوگرنہ بات تو سامنے دھری ہے۔ مصرعہ اولٰی میں شرط ہے اور مصرعہ ثانی میں انعام۔ شرط کیا ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ سے مکمل وفا کی جائے۔ اطاعت اور حُب کامل ہو اسطرح کہ اپنا، جان، مال، رشتے ناتے، کوئی چیز نبی کریمﷺ سے زیادہ محبوب نہ ہو اور یہ نسبت زبانی نہ ہو بلکہ عملی ہو۔ حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی فرماتے ہیں کہ پیر کامل وہ کہ جس کی ایک سُنت بھی قضا نہ ہو۔ یہ شرط ہے مقرب بارگاہ ہونے کی اور اسی راہ پر چلنے کا نام ہے طریقت۔ جب انسان کی اطاعت نبی کریمﷺ سے اس قدر کامل ہوجائے کہ حُب نبیﷺ پر ہر چیز قربان ہو تو پھر بارگاہ الٰہی سے انعام عطا ہوتا ہے کہ "یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں"۔ اس مصرعہ پر دوبارہ غور کیجئے اور اس انعام کی ہمہ جہتی کا اندازہ کیجئے اور اس انعام کا وعدہ سچا ہے ۔

    نماز ہم آپ بھی پڑھتے ہیں، نماز حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی پڑھتے تھے۔ ہمیں مچھر کاٹ جائے تو یہ بھول جاتا ہے کہ کتنی رکعات باقی ہیں اور ان کا تیر کسی طرح نہ نکل سکا تو حکم ہوا کہ جب نماز میں سجدے میں جائیں تو نکال لیا جائے۔ تصوف یا طریقت کا مقصد ابوبکر و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نماز پیدا کرنا ہے ان حضرات کی ظاہری نہیں، باطنی متابعت سے۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ جب مجھے عشق کی نماز اور فرض کی نماز میں فرق پتہ چلا تو میں نے چالیس برس کی نماز قضا پڑھی۔ زکوٰۃ دینا فرض ہے لیکن جب حضرت بایزید بسطامی سے حضرت امام شافعی کے شاگرد نے زکوٰۃ کے متعلق استفسار کیا تو فرمایا"زکوٰۃ دینا حرام ہے"۔ مزید کُرید پر فرمایا  "اللہ کی مخلوق بھوک سے مرتی رہے اور تم سارا سال اتنا مال ذخیرہ کئے رکھو کہ اس پر زکوٰۃ فرض ہوجائے؟ " لیکن یہ باتیں ان اونچے مقامات والوں کے لئے ہیں جن کے یہ حوصلے ہیں۔ ہم آپ، اگر سیدھے سیدھے دین پر عمل ہی کرلیں، پانچ وقت ٹھونگے ہی لگا لیں تو اللہ کا بہت فضل ہےکہ گدھے پر ہاتھی کا بوجھ نہیں لادا جاتا۔

    اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ تصوف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں کہاں تھا؟ اس کا جواب بھی سامنے دھرا ہے۔ تصوف نام ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیروی کرتےہوئے حُب نبیﷺ میں وہ درجہ کمال حاصل کرنے کا ہے جو انہیں حاصل تھا۔ اب صحابہ کرام کے دور میں تصوف کھوجنے کی کوشش کرنا کج بحثی ہی کہلا سکتی ہے۔  بہت سے معاملات ہیں جن کے متعلق سوال کئے جاتے ہیں اور ان کے جوابات دئیے جانے چاہئیں۔ اللہ درجات بلند فرمائے اعلٰی حضرت پیر نظیر احمد صاحب  کے کہ جویان حق کے لئے  باتیں کھول کر بیان فرما گئے۔ انشاء اللہ ماہ رمضان میں کوشش رہے گی کہ اعلٰی حضرت کے فرامین کو بلاگ پر پیش کر سکوں۔ انشاء اللہ ان کے مطالعہ سے اذہان میں تصوف کے بارے میں عموماً اور دین کے بارے میں خصوصاَ جو شکوک و سوالات ہیں ان کا ازالہ اور حل ملے گا۔

    نوٹ:

    گزشتہ چند ماہ بلاگ سے غیر معمولی غیرحاضری رہی۔ پہلے بچیاں پاکستان تھیں تو ان کی جُدائی تھی پھر جب واپس آئیں تو ایک ماہ کے لئے تمام گھر والوں کو اپنے ساتھ مشی گن لے آیا۔ ایک ماہ پھر ان کے سوا کسی چیز پر توجہ نہ دی اور پھر ایک ماہ سے زائد کام کا زور کافی رہا۔ اللہ کریم جزا دے شگفتہ بہنا اور اسماء بہنا کو کہ فکرمندی سے احوال پُرسی کرتی رہیں۔ انشاءاللہ اب کوشش رہے گی کہ بلاگ پر حاضری باقاعدہ رہے۔

    Thursday, July 29, 2010 at 17:33
    178 مشاہدات

TOP