Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • کچھ باتیں ہلکی پُھلکی

    آج آپ سے کچھ سچے واقعات بیان کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر اور مریض کے درمیان کچھ ایسا مکالمہ ہوا

    ڈاکٹر: کیسے آنا ہوا؟

    مریض: سر میں درد

    ڈاکٹر: کب سے؟

    مریض: بچپن سے

    ڈاکٹر: تو پھر آج کیا خاص وجہ ہوئی؟

    مریض: قے

    ڈاکٹر: کس وقت؟

    مریض: جب میں پانچ برس کا تھا۔

    ڈاکٹر: تو آج آنے کی وجہ کیا ہوئی؟

    مریض: پیٹ میں درد

    ڈاکٹر: کب شروع ہوا یہ درد؟

    مریض: جب میں سات برس کا تھا۔

    ڈاکٹر: تو آج درد کی شدت زیادہ ہے؟

    مریض: نہیں وہ تو ٹھیک ہوگیا تھا جب میں نو برس کا ہوا۔

    ڈاکٹر (جھلا کر): تو پھر آج کیا مسئلہ ہے جس کے لئے آپ ہسپتال آئے ہیں؟

    مریض: آپ جلدی کیجئے میں نے دو بجے کی بس پکڑنا ہے۔

    اس مرض کو شیزوفیرینیا کہتے ہیں جس میں مریض باتوں میں ربط تلاش نہیں کرپاتا۔ ہماری قوم بھی شائد اسی مرض میں مبتلا ہے۔

    اب ایک اور منظر کی سیر کرواتے ہیں آپ کو۔

    بحث کا میدان گرم تھا۔ صاحب خانہ اپنے دوستوں کے ساتھ دھواں دھار بحث میں مشغول تھے۔ ملکی و غیر ملکی حالات پر تبصرے جاری تھے۔ دلائل اور جوابی دلائل پیش کئے جارہے تھے۔ اسی گرما گرمی میں صاحب خانہ نے ایک مثالی نقطہ نظر پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بحث میں شریک بزرگ ترین ہستی نے موقع غنیمت جان کر قریب سے گزرتی خاتون خانہ کو آواز دی اور گویا ہوئے، "یہ تمہارا میاں ایسی بے وقوفی کی بات کہتا ہے۔ تمہی بتاؤ ایسی  مثالی بات بھی کہیں قابل عمل ہوتی ہے بھلا؟ اگر اسے خود یہ کر کے دکھانا پڑے تو  یہ بھی نہ کرپائے ایسا۔" خاتون خانہ  گویا ہوئیں "میرے میاں کا دماغ اُلٹا لگا ہوا ہے لیکن اگر انہیں یہ یقین ہو کہ جو یہ کہہ رہے ہیں وہ اصول اور انصاف کے مطابق ہے تو پھر یہ وہ کام کر گزریں گے کسی بھی نتیجہ سے بے پرواہ ہو کر۔" میاں کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس تبصرے پر خوش ہوں کہ کُڑھیں؟ آپ کا کیا خیال ہے؟

    Monday, February 8, 2010 at 14:14
    43 مشاہدات
  • پردیسی

    پردیسی ۔۔۔ ایک بندہ جو پرائے دیس چلا جائے۔ سب محبتوں، سب ناتوں، سب باتوں کو اپنے پیچھے چھوڑ کر۔ اپنی مرضی سے، اپنےپیاروں سے، اپنے یاروں سے دور بن باس لے لے ایک ایسی سرزمین پر جہاں وہ تمام عمر ایک اجنبی رہے۔ لمحہ لمحہ جہاں اسے دیس کی یاد ستائے، اس کے دل کو کچوکے دے لیکن وہ اسیرِ بے قفس پھڑپھڑا تو سکے مگر اُڑ نہ سکے۔ عجب زندگی ہے پردیسی کی بھی۔ جہاں رہتا ہے وہاں جی نہیں سکتا اور جہاں جیتا ہے وہاں رہ نہیں پاتا۔ دو بیڑیوں کے مسافر کی طرح تمام عمر خواہشات کے توازن میں گزر جاتی ہے اور وقت آخر یہ فیصلہ بھی نہیں کرپاتا کہ سود ملا کہ زیاں۔

    دھن بہت ظالم چیز ہے دوستو۔ جُدا کردیتا ہے بندے کو ماں باپ سے، بھائی بہن سے، یاروں غمگساروں سے۔ انسان کی تمام عمر کی متاع تو یہی رشتے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دوستانے جو کچی عمر کے ہوں وہی پائیدار ہوتے ہیں۔ پردیسی تو وہ بدنصیب ہوتا ہے جو ایک مالی کی طرح تمام عمر پیار محبت کے ان بوُٹوں کو سینچ کر بڑا کرتا ہے اور جب ان کی چھاؤں میں بیٹھنے کا وقت آتا ہے تو ہاتھ جھاڑ کسی اور دیس کی طرف چل نکلتا ہے جہاں نہ کوئی یار نہ غمگسار۔ پھر اگر پردیسی سیانا ہے تو پرانے رشتوں، پرانے ساتھوں کویکسر بھول کر نئے رشتے، نئے ساتھی بناتا ہے وگرنہ دھوبی کا کُتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔ ایسوں کی بدقسمتی ہوتی ہے کہ جب وہ دیس چھوڑتے ہیں تو ان کا دماغ ایک تصویر کھینچ لیتا ہے جس میں وہ تمام یادیں تمام باتیں، تمام منظر قید کرلیتا ہے۔ ماں بہنوں کا رونا، باپ، بھائیوں کے چہروں پر چھائی اُداسی، یاروں کی آنکھوں کی نمی۔ اس لمحہ موجود میں پوشیدہ تمام رشتے، تمام چاہتیں اس کے حافظے میں نقش ہوجاتی ہیں اور پھر تمام عمر وہ اس تصویر میں دوبارہ سے رنگ بھرنے کو بھاگتا رہتا ہے۔

    پردیسی جب کبھی اُداس ہوتا ہے، زندگی کی دوڑ میں تھک جاتا ہے تو دل میں موجود اس تصویر کو دیکھ لیتا ہے۔ ماں باپ کی محبتیں، بھائی بہنوں کی چاہتیں، دوستوں کا خلوص، سب کچھ اسے پھر سے ہشاش بشاش کردیتا ہے۔ اجنبیوں کے ہجوم میں گھرا وہ ایک جزیرہ تخلیق کرلیتا ہے جہاں سکون ہوتا ہے، اپنے ہوتے ہیں۔۔۔ وہ اپنے جنہیں وہ کسی مجبوری، کسی خواہش کے نام پر چھوڑ آیا تھا۔ پردیس میں گزارا ایک ایک پل وہ اس انتظار میں کاٹتا ہے کہ کب وہ دوبارہ اس تصویر میں داخل ہوگا جو اس کی رگ جاں میں سجی ہے۔کب پھر ان محبتوں، ان رشتوں کے درمیان ہوگا جن کی خوشبو اس کی یادوں کو معطر رکھتی ہے۔ یہاں تک بھی بات گوارا تھی کہ اسے ایک آسرا میسر ہے زندگی بیتانے کو۔ ایک سرہانہ حاصل ہے سر رکھ کر سو جانے کو لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی اور وہ دن آجاتا ہے جس کےا نتظار میں پردیسی نے مہ و سال گزارے ہوتے ہیں۔ وصل کا دن۔ اپنے یاروں سے، اپنے پیاروں سے ملنے کا دن۔

    نجانے ایسا کیوں ہے کہ جس چیز کا تمام عمر انتظار کرتے رہو وہ کبھی ملتی ہی نہیں اور اگر مل جائے تو ویسی نہیں ملتی جیسی خواہش کی تھی۔ بلوچی داستان ہے کہ ایک لڑکے نے ایک نوبیاہتا دلہن کو دیکھا اور اس کے حسن پر مر مٹا۔ تمام عمر اس کے ہجر میں اسے یاد کرکے آہیں بھرتا رہا۔ جوانی بڑھاپے میں ڈھلی لیکن دل میں محبت اسی طرح جوان رہی۔ وہ لڑکی بھی سہاگن سے بیوہ ہوئی تو اہل علاقہ نے سوچا کہ عمر بھر کے ہجر کو وصل میں بدل دیا جائے۔ فریقین کو تجویز دی گئی تو دونوں نے بخوشی قبول کر لیا کہ صاحب کو جہاں عمر بھر کی چاہت سے وصل کی خوشی تھی خاتون کو اس بات پر ناز و فخر تھا کہ کسی نے تمام عمر ان کے عشق میں گزاری ہے۔ شب وصل جب دولہا نے گھونگھٹ اٹھایا تو اپنے سامنے ایک بُڑھیا کو دیکھ کر چیخ اُٹھا "تم کون ہو؟" بُڑھیا نے کہا "وہ جس کےپیار میں تم نے تمام عمر گزار دی۔" عاشق نے سر انکار میں ہلایا اور خیمے سے باہر نکل گیا کہ اس کا پیار تو اس لمحہ میں قید تھا جب اس نے پہلی بار اپنی محبوبہ کو دیکھا تھا۔ جانو یہی حال پردیسی کا ہوتا ہے۔

    جب دیس واپس آتا ہے تو معلوم پڑتا ہے کہ وہ تصویر جسے وہ سنبھالے پھرتا تھا، کب کی اُجڑ گئی۔ وہ چاہتا ہے کہ سب کچھ ویسا ہو جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا لیکن گزرے ہوئے مہ وسال میں لوگوں نے اس کے بغیر جینا سیکھ لیا ہوتا ہے۔ زندگی کے ہمہ وقت آگے بڑھتے سفر نے وہ خلا پُر کردیا ہوتا ہے جو وہ چھوڑ کر گیا تھا اور اس نئی زندگی میں وہ ایک چاہی جانے والی تصویر تو ہے،ایک خوشگوارآواز تو ہے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔  اور اس میں کسی کا دوش بھی نہیں کہ جب وہ کسی بھی وجہ سے ان چاہتوں کو، ان رشتوں کوچھوڑ کر گیا تھا تو اس نے یہ سب کچھ قبولا تھا لیکن بہت مشکل ہے اپنے کئے کا الزام اپنے سر لینا۔ سو پردیسی بپھر جاتا ہے۔ دنیا کی بے ثباتی کی، اپنوں کی بے مروتی کی، خلوص کی ناپائیداری کی باتیں کرتا ہے۔ جتنی شدت سے محبتوں کو یاد کرتا تھا، اتنی ہی شدت سے نفرتوں کی آبیاری کرتا ہے۔ سب سے بے زاری کا اعلان کرتے ہوئے بھول جاتا ہے کہ دوری کی طرف پہلا قدم تو اُسی نے اُٹھایا تھا۔ اگر وہ ایک آسودہ مستقبل کے سراب کے پیچھے ایک چاہتوں بھرے جہان سے دیس نکالا نہ لیتا تو آج بھی اس تصویر میں موجود ہوتا جس میں بھرے رنگ وہ دوبارہ دیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن ایسا اکثر نہیں سوچتا پردیسی۔ مایوسی اور غصے میں بھرا وہ اس جہان کو چھوڑ کر دوسرےجہان کو اپنانے کی دُھن میں لگ جاتا ہے۔ ہر رشتہ، ہر ناتا توڑ کر پردیس کو دیس سمجھنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور پھر جب عمر کی نقدی ختم ہونے لگتی ہے تو  وہی تصویر تمام عمر کے سود وزیاں کا حساب کرنے کو اس کے سامنے آکھڑی ہوتی ہے اپنے تمام تر رنگوں اور حشرسامانیوں سمیت۔۔۔۔۔ ۔اسی لئے تو حضرت سلطان باہوؒ نے کہا تھا

    شالا کوئی پردیسی نہ تھیوے ککھ جنہاں تھیں بھارے ہوُ

    Wednesday, January 27, 2010 at 11:41
    201 مشاہدات
  • عہد فراموش کردہ

    اگر آج سوال کیا جائے کہ متحدہ ہندوستان کا پہلا بین الاقوامی اعزاز یافتہ ایتھلیٹ کون تھا تو ہم میں سے اکثر کو اس کا جواب ہی معلوم نہ ہوگا۔ اگر پوچھا جائے کہ 1947 تک برصغیر ہندوپاک کا سب سے مقبول کھیل کونسا تھا تو نئی نسل کے اکثر لوگ چُپ سادھ لیں گے۔ اگر سوال ہو کہ برصغیر میں دو شعبہ جات ایسے رہے جن میں مسلمان اپنے دور زوال میں بھی سب پر حاوی رہے۔ ایک شعر و ادب اور دوسرا کونسا تھا؟؟؟ تو ٹامک ٹوئیوں کی خیر نہیں۔ ایک عہد،  ایک تاریخ کس طرح دیکھتے ہی دیکھتے فراموش کردی جاتی ہے موجودہ موضوع بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ چند دہائیوں کے اندر ایک عظیم الشان روایت، ایک لاثانی فن کس طرح گور کنارے جاپہنچا، کس طرح مقبول عامہ کے منصب سے فراموش کردہ کی تاریکیوں میں جاگرا یہ سب ماجرا چند برسوں کی بات ہے۔

    بات ہو رہی ہے فن پہلوانی کی جو تین صدیوں تک بلاشرکت غیرے برصغیر پاک و ہند کا مقبول ترین کھیل رہا۔ ان تین صدیوں میں واقفان فن نے اسے بام عروج تک پہنچا دیا۔ استاد نورالدین قطب پہلوانی سے لیکر منظور حسین بھولو پہلوان تک ایک طویل فہرست ہے فنکاروں کی جنہوں  نے اپنے خون جگر سے اس فن کی آبیاری کی اور ہر دور میں بلاامتیاز رنگ و نسل اقوام عالم کے شہ زوروں کو نہ صرف للکارا بلکہ پچھاڑا۔ بوٹا پہلوان لاہوری دیودل، غلام پہلوان رستم دوراں، گاما پہلوان رستم زماں ، امام بخش رستم ہند، منظور حسین بھولو،  زبیر جھارا۔۔ ان تمام پہلوانوں نے اپنے دور کے نامور فاتحین کو زیر کیا اور اپنے فن کی برتری کا جھنڈا گاڑا۔ ملکہ وکٹوریہ کا دربار ہو کہ کسی دورافتادہ دیہہ کا میلہ، اس فن کے شائقین ہر جگہ موجود تھے۔ پہلوانی صرف طاقت اور داؤ ہی نہیں بلکہ بلند مکارم اخلاق کی تعلیم و ترویج اور پاسداری کا فریضہ بھی سرانجام دیتی تھی کہ فن پہلوانی میں سب سے زیادہ اہمیت طاقت یا داؤ کی نہیں ہوتی تھی بلکہ سب سے پہلی چیز جو استاد اپنے شاگرد کو تعلیم کرتا تھا وہ عمدہ مکارم تھی۔ فضولیات سے پرہیز و اجتناب شرط اول تھی اور لنگوٹ کا پکا ہونا سب سے اہم۔ اخلاق سے گری ہوئی حرکت قابل دست اندازی پہلواناں سمجھی جاتی تھی۔ ایک پہلوان تمام علاقے کی عزت و آبرو کا محافظ سمجھا جاتا تھا اور وہ ایسا بن کر بھی دکھاتے تھے۔ اوائل بیسویں صدی کا واقع ہے کہ لاہور کے مشہور پہلوان خلیفہ غلام محی الدین کا نوجوان صاحبزادہ "منڈوا" دیکھ آیا۔ خلیفہ صاحب موصوف نے پہلوانی کے گرز اور ورزش کا سامان گھر سے اُٹھا کر باہر پھینک دیا کہ اب پہلوانی اس گھر سے کوچ کر گئی۔ ایک پہلوان کو صرف طاقت ہی نہیں عمدہ مکارم بھی اپنانے ہوتے تھے وگرنہ وہ پہلوان نہیں "بدمعاش" کے نام سے جانا جاتا تھا۔

    عمومی نظریہ کے برعکس فن پہلوانی میں داؤ کو طاقت پر فوقیت حاصل ہے۔ "داؤ پر آیا پہاڑ بھی رائی" پہلوانی کی ایک عام اصطلاح ہے۔ پہلوانی دیوار کو اندھی طاقت سے گرانے کا نہیں حریف کے کمزور مقام پر مناسب موقع پر بھرپور وار کرنے کا نام ہے۔ فن پہلوانی میں کم و بیش تین سو ساٹھ داؤ ہیں جن میں سے ہر داؤ کے کئی انداز ہیں۔ فن پہلوانی میں حریف کو مار مار کر اس کا بھرکس نکالنانہیں بلکہ چت کردینا مقصود ہوتا تھا۔ سرکاری بندوبستی علاقہ جات میں جس پہلوان کےکاندھے زمین پر لگ جاتے وہ چت سمجھا جاتا۔ ریاستی قوانین میں البتہ چت کرنے کے لئے تمام کمر کا زمین پر لگنا ضروری ہوتا تھا۔ تمام داؤ اور تمام ورزشوں کا مطمع یہی انجام ہوتا تھا کہ حریف کو چت کردیا جائے۔ یہ اندھا دھند لاتیں گھونسے چلانا تو بازاری چلن ہے جو فری سٹائل کے نام پر مروج ہے، فن پہلوانی میں اس کی کوئی گنجائش نہ تھی۔

    جسمانی طاقت کے لئے جو ورزشیں مقرر تھیں ان میں بیک وقت طاقت اور سٹیمنا بڑھانے پر زور دیا جاتا تھا اور ایک عضو کے لئے کئی قسم کی ورزشیں مخصوص تھیں۔ پہلوانوں کے لئے خصوصی خوراک مقرر ہوتی تھی جو ان کے پٹھوں اور ہڈیوں کو مطلوبہ توانائی مہیا کرتی تھی۔ حیرت انگیز طور پر اٹھارہویں صدی  کے پہلوان کی خوراک بھی انہی اجزاء پر مشتمل ہوتی تھی جو آج کے بین الاقوامی ایتھلیٹوں کی خوراک کا جزو ہیں۔ خوراک میں زیادہ زور لحمیات (Protein) پر دیا جاتا تھا اور ان کے ساتھ مناسب مقدار میں چکنائی اور تازہ پھل شامل خوراک ہوتے تھے۔  چکنائی کے زیادہ استعمال کی صورت میں لازم تھا کہ اتنی مقدار میں حرارے استعمال کئے جائیں۔ خلیفہ غلام محی الدین جن کا اوپر ذکر کیا ان کی عادت تھی کہ ہر روز صبح ایک سیر سرسوں کا تیل پیا کرتے تھے۔ اس تیل کو جزو بدن بنانے کے لئے انہیں ہر روز بادشاہی مسجد کا مینار ایک سو دفعہ بھاگ کر چڑھنا اور اترنا ہوتا تھا۔ معمول کی باقی ورزش اس کے علاوہ تھی۔ ورزش کا ایک اہم جزو "زور" کرنا ہوتا تھا جس میں پہلوان اپنے شاگردوں کو نہ صرف نئے داؤ سکھاتے تھے بلکہ خود ان کی مشق بھی کرتے تھے۔ "زور کروانے" کا عملی مطلب یہ ہے کہ پہلوان کی تمام تر طاقت کو زائل کردینا۔بڑے پہلوان زور کرنے کے اس عمل کے دوران تیس سے پچاس پہلوانوں کو "زور "کروایا کرتے تھے۔ کئی ایسے بھی تھے جنہیں اس کے بعد بھی رہٹ وغیرہ چلا کر اپنی طاقت کو زائل کرنا ہوتا تھا۔ ایک نام گوجرانوالہ کے رحیم بخش سلطانی پہلوان کا ہے کہ معمول کی ورزش اور زوروں کے بعد وہ رات کو رہٹ چلا کر لوگوں کے کھیتوں کو پانی دیتے تھے۔ اس سب کا مقصد ہوتا تھا کہ جسمانی طاقت اور سٹیمنا میں ترقی ہوتی رہے اور جمود طاری نہ ہو۔

    اس تمام مشقت و ریاضت کا نتیجہ تھا کہ پہلوان اس دور کا سب سے قیمتی اثاثہ سمجھے جاتے تھے۔ راجواڑے ان پہلوانوں کو ملازمتیں دیتے اور انہیں سہولیات مہیا کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی جستجو کرتے۔ پہلوانی جاہلوں کا نہیں بلکہ نفیس لوگوں کا پیشہ تھا۔ والیان ریاست کے درباروں میں  نشست و برخاست ایک اچھے پہلوان کا معمول ہوتا تھا۔ یہ روایت پاکستان میں منظور حسین بھولو تک موجود رہی جن کے صدر پاکستان سے ذاتی تعلقات ہوتے تھے اور صدر پاکستان کے اصرار پر ہی انہوں نے ناصر بھولو اور زبیر جھارا کو فن پہلوانی کی تعلیم کے لئے وقف کیا۔ درباری وابستگی سے قطع نظر ایک پہلوان ہر ریاست میں قابل قدر سمجھا جاتا جیسے ہیرا کسی کا بھی ہو اس کی قدر ہر کوئی کرتا ہے۔ میڈیا سے پاک اس دور میں بھی پہلوان عوامی پسندیدگی کے اس درجہ پر فائز تھے جسے سلیبریٹی کہا جاتا ہے اور لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے پروانہ وار ٹوٹ پڑتے تھے۔ کئی پہلوان تو ایسے تھے جو لوک داستان کے مرتبے پر فائز ہوئے کلو پہلوان ستارہ ہند، گونگا پہلوان رستم ہند، کالیا پہلوان جلالپوری، قادر بخش بچہ پہلوان ملتانی، صدیقا پہلوان گلگو ایسے ہی چند نام ہیں۔

    بدقسمتی سےتقسیم ہند کے بعد راجواڑوں کی موت کے ساتھ فن پہلوانی بھی زوال کی جانب گامزن ہوگیا۔ ہندو پاک کی سرکاروں نے جو حشر باقی شعبہ جات کے ساتھ کیا وہی حال پہلوانی کا ہوا۔ پہلوانی ایک جز وقتی شوق نہیں کل وقتی پیشہ ہے اور ویسی ہی یکسوئی اور ارتکاز مانگتی ہے۔ ایک پہلوان ایک فرد نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ بیس سے ساٹھ دوسرے افراد ہوتے ہیں جو ایک پورا نظام(اکھاڑہ) بناتے ہیں۔ اس سب کچھ کے لئے پیسہ چاہئے ہوتا ہے جو انفرادی حیثیت میں ممکن نہیں ہوتا۔ حکومتوں کو اپنا پیٹ بھرنے سے فرصت نہ تھی پہلوانی کی طرف توجہ کون کرتا؟ دور کیوں جائیں؟؟ گاما پہلوان رستم زماں جو غیر منقسم ہندوستان کے پہلے بین الاقوامی اعزاز یافتہ ایتھلیٹ تھے، ریاست پٹیالہ میں جنہیں جاگیریں اور باغات دئیے گئے تھے، پاکستان میں اپنے آخری ایام میں قریباً کسمپرسی کے عالم میں زندہ رہے۔ نہ جاگیریں ملیں اور نہ باغات۔ بھولو برادران جن کی راجےاور نوابان ناز برداریاں کرتے تھے، پاکستان میں بیت الخلا کے ٹھیکے لے کر رشتہ جسم و جاں چلانے پر موجود تھے۔ ملک کے باقی حصوں میں تو حال اس سے بھی پتلا تھا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ فن پہلوانی ہماری یادداشتوں سے بھی محو ہوچکا ہے۔ چند ایک ٹمٹماتے ہوئے چراغ موجود ہیں جو اس شاندار عہد کی یادگار ہیں لیکن عوامی اور حکومتی بے حسی انہیں گُل کیا چاہتی ہے۔ جس ملک میں کرکٹ ایسے فضول کھیل پر اربوں لُٹائے جاتے ہیں وہاں پہلوانی ایسی صحت مند سرگرمی کے لئے کوئی جگہ نہیں، کوئی سپانسر نہیں، کوئی وظیفہ نہیں۔ صد حیف۔

    Wednesday, January 20, 2010 at 10:04
    157 مشاہدات
  • ہیوسٹن کا پہلا دن

    IMG_4548-2جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں عرض کیا تھا، ہیوسٹن میں قیام کا پہلا روز ہم نے اس کے عجائب و تتلی گھر کی نذر کیا۔ عجائب گھر سے نکلے تو کچھ عرصہ اندرون شہر، جسے یہاں ڈاؤن ٹاؤن (Downtown) کہتے ہیں، میں موٹر گشت کیا۔  موٹر گشت اس لئے کہا کہ اس دوران ہم میں سے کسی نے بھی گاڑی سے باہر نکلنے کی ہمت نہ کی۔ وجہ ظاہر ہے کہ سردی ہی تھی۔ ویسے بھی  شام کے سُنسان دھندلکے میں  شیشے کی خالی عمارتوں کو دیکھنے کے لئے جان کو داؤ پر لگانا عقلمندی نہیں معلوم پڑتی تھی۔ واپس ہوٹل کی طرف آتے ہوئے کافی کے نودریافت شدہ چسکے کے لئے سٹاربکس (Starbucks)  رُکے۔ وہاں نور کی اماں نے لوگوں کا ایک اژدہام قریب موجود گیلیریا مال (Galleria Mall) جاتے دیکھا۔ ہمارا ہوٹل بھی مال کے پہلو میں واقع تھا اور خاتون خانہ کو یہ بات کافی ہتک آمیز لگی کہ ایک مال کے قریب ہوتے ہوئے بھی ہم اسے شرف بازیابی سے محروم رکھیں۔IMG_4564 اگلے روز کا ارادہ کیونکہ چڑیا گھر دیکھنے کا تھا سو ایک بہانہ یہ بھی کام آیا کہ بچیوں کے لئے کچھ گرم کپڑے دیکھ لئے جائیں۔ ہوٹل کی پارکنگ میں گاڑی لگا کر بچیوں کو سٹرولر میں باندھا اور دوڑ لگا دی مال کی جانب۔ یہاں دوڑ کا لفظ محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً استعمال کیا ہے کہ سردی اتنی تھی کہ دو تین سو فٹ دور مال جانے کے لئے بھی دوڑ کر جانا بہتر لگا۔ مال کے اندرداخل ہوئے تو جیسے ایک جہان آباد تھا۔ ہر طرف لوگ ایسے گھوم رہے تھے کہ مانو چیزیں مفت بٹ رہی ہوں۔ سب سے نیچے والی منزل پر اندرون خانہ آئس سکیٹنگ کا اکھاڑہ سا بنا ہوا تھا جس میں لڑکوں لڑکیوں کا ایک ہجوم آئس سکیٹنگ کی مشق کر رہا تھا۔ نور کوIMG_4566 بالخصوص یہ منظر بہت پسند آیا اور ان کی فرمائشی فہرست میں ایک اورچیز کا اضافہ ہوگیا۔ قریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ مال میں گھومنے کے بعد بچیوں کے لئے کپڑا تو کوئی پسندنہ آیا، نور کی اماں کو البتہ مال بذات خود بہت پسند آیا لیکن تمام تر خواہش کے باوجود سارا مال گھوم کر نہ دیکھ سکے کہ پہلے عجائب گھراور پھر اب مال میں گھومنے کے بعد بچیاں اور ان کی اماں کچھ تھک سی گئی تھیں۔ فیصلہ ہوا کہ کچھ پیٹ پوجا کے بعد اب آرام کرلیا جائے۔ ہوٹل سے گاڑی نکالی اور رات کے کھانے کے لئے ہم ایک ایرانی ریستوران میں جلوہ افروز ہوئے۔ کھانے میں کیونکہ مرغ اور گوشت کے تکے تھے اس لئے کھانے کی اپنی صفائی تو قابل قبول تھی دوسرے معاملات میں البتہ حال وہی تھا جو کسی بھی دیسی جگہ کا ہوتا ہے۔ مسلمان کو ویسے بھی آجکل جنت میں جانے کے اتنے شارٹ کٹ میسر ہیں کہ صفائی کے آدھے نمبر لینے کی ضرورت ہی نہیں۔IMG_4573 کھانا کھاتے ہوئے بیگم نے وہیں ایک اخبار میں کسی حلوائی کی دوکان کا اشتہار دیکھ لیا جس میں "لاہور سے آئے مستند حلوائی" کا ذکر تھا۔ بس پھر کیا تھا ۔۔اللہ دے اور بندہ لے۔۔۔ مچل گئیں کہ برفی کھائے بہت مدت ہوئی ہے۔ بہت سمجھایا کہ نیک بخت یہ دیسی اشتہار اور دیسی اخبار ہے۔ اس میں سچ کا تناسب وہی ہے جو ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے لیکن تریا ہٹ بھی کوئی چیز ہے آخر۔انجام کار گاڑی گھمائی اور جا پہنچے اس حلوائی کی دوکان کے سامنے۔ اب ہم نے کہا کہ جائیے اور اپنی پسند کی برفی لے آئیے۔  ناز و ادا میں لپٹا جواب آیا "ناں۔۔۔۔ باہر بہت ٹھنڈ ہے۔ آپ ہی جاکر لادیں۔۔۔۔ پلیزززز" اللہ کا شکر ہے کہ بیگمات ان اداؤں کا استعمال شاذ ہی کرتی ہیں وگرنہ بینکوں کا وجود نہ ہوتا۔ شوہر بچارہ گھائل ہوا تو مزید بحث کی گنجائش ہی نہ تھی۔IMG_4578 اس چوہے کی مانند جو اپنی محبوبہ کی ادا پر قربان ہونے کو باگڑ بلے کی مونچھیں اکھاڑنے چل نکلے، ہم ٹھٹراتی سردی میں مردانہ وار (وار انگلش کا نہیں ہے) باہر نکلے اور دوکان کے اندر جا دھمکے۔  وہاں موجود خاتون کو ایک پاؤنڈ برفی کا کہا تو  انہوں نے تین چار مختلف قسم کے رنگوں کی چارچیزیں ڈال کر ہمیں تھما دیں۔ ہم نے یگانہ بے خودی میں پیسے ادا کئے اور گاڑی میں آکر بیگم کو مٹھائی بصد شوق تھما دی۔ پہلا لقمہ چکھتے ہی سوال آیا "یہ آپ کیا لے آئے ہیں؟" ۔۔۔ چوہا یہ سُنتے ہیں یکدم شوہر بن گیا (اگر دونوں میں کوئی فرق ہے تو) اور منمنایا "میں نے تو کہا تھا۔۔۔۔" باقی کا راستہ بیگم مٹھائی والوں کو کوستی ہوئیں ہمیں اپنے ہاتھوں انتہائی پیار سے مٹھائی کھلاتی رہیں۔ ہوٹل واپس آکر ایک چھوٹا سا فوٹو سیشن کیا خدیجہ اور نور کے ساتھ جس کے چند نمونے آپ نے  اوپر دیکھے ہیں۔ گجر رات کے بارہ بجا چکا تھا جب ہم اس سب کچھ سے فارغ ہوئے اور پھر جیسا کہ رواج ہے، جس کے جدھر سینگ سمائے وہ ادھرپڑ کر سوگیا۔

    Monday, January 18, 2010 at 22:12
    127 مشاہدات
  • گرینڈ سلام

    پاکستان کی فوجی قیادت کی پہلی آزمائش 1962 میں ہوئی جب چین نے بھارت سے جنگ کے وقت رات کو جگا کر صدر ایوب خان کو مطلع کیا کہ اس وقت پاکستان کے پاس کشمیر حاصل کرنے کا موقع ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی کہ "جی حضوریے" ایوب خان کی کانپتی ٹانگیں اس فیصلہ کن ساعت کا بوجھ برداشت نہ کرسکیں اور قسمت نے پاکستان کو جو موقع عطا کیا تھا وہ ہاتھ سے نکل گیا۔ اس لمحہ کی بزدلی جب چھپانا ممکن نہ رہا تو غالباَ ایوب کی تحریک پر اسوقت کے پرنسپل سٹاف افسروں نے کشمیر پر قبضہ کے لئے منصوبہ بندی کا آغاز کیا۔ رن آف کچھ کی جھڑپ کے دوران پاکستان کی خوش قسمتی کہ اس کی فوج کے چند پیشہ ور افسر اس وقت درست جگہ پر متعین تھے سو اس جھڑپ میں کامیابی نے صدر ایوب کی کمزور ٹانگوں کو تھوڑی قوت دی اور اپنی ناپید خوداعتمادی کو توانا کرنے کے لئے انہوں نے یہ مفروضہ گھڑا کہ "ہندو بزدل قوم ہیں اور لڑائی نہیں لڑ سکتے"۔
    اس مفروضہ اور "اسلامی اخوت" کی بنیاد پر "آپریشن جبرالٹر" کے خدوخال مرتب کئے گئے۔ خیال یہ تھا کہ قریباَ چالیس ہزار پاکستانی "مجاہدین" اور کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوں گے اور کشمیری مسلمانوں کی مکمل حمایت کے ساتھ بھارتی افواج کا ناک میں‌دم کر دیں گے اور کیونکہ "ہندو لڑ نہیں سکتا" اس لئے بھارت مجبور ہوجائے گا کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے مذاکرات کی میز پر آئے اور کشمیر پاکستان کے حوالے کردے (کچھ سُنا سُنا سا محسوس ہوتا ہے نا یہ سب؟ اس پر بعد میں بات کریں گے انشاء اللہ)

    اگست سن انیس سو پینسٹھ میں‌یہ آپریشن شروع ہوا لیکن چار اضلاع کے سوا باقی تمام مقبوضہ کشمیر میں ہمارے کشمیری بھائیوں نےAkhnur پاکستانی فوجیوں‌کی مخبری کر کے سینکڑوں (ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں سینکڑوں) روپے کمائے۔ نتیجتاَ بھارتی فوج نے سیز فائر لائن کے پار زبردست حملہ کیا اور حاجی پیر پاس کی اہم چوکی پاکستان سے چھین لی۔ آپریشن جبرالٹر نہ صرف ناکام ہو چکا تھا بلکہ بھارت پاکستان کے اندر (معمولی ہی سہی) پیش قدمی کرنے میں بھی کامیاب ہو چُکا تھا۔ اس موقعہ پر پاکستان کی فوج نے اپنے جیتے ہونے کا ثبوت پیش کیا اور آپریشن گرینڈ سلام شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد یہ تھا کہ اکھنور کو بقیہ بھارت سے کاٹ کر کشمیر میں اس کی فوج کا رابطہ باقی ملک سے کاٹ دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے پوری رازداری کے ساتھ ٹینک اور توپیں‌ملحقہ علاقے میں پہنچائی گئیں اور پہلی ستمبر انیس سو پینسٹھ کو آپریشن گرینڈ سلام کا آغاز ہوا۔

    بھارت کی طرف سے اس علاقہ کے دفاع کی ذمہ داری ابتدائی طور پر 191 بریگیڈ کی تھی جس کے زیر کمان چار انفنٹری (پیادہ) بٹالین تھیں۔ آپریشن جبرالٹر کے بعد ایک رسالہ (ٹینک) سکواڈرن (14 ٹینک) بھی اس بریگیڈ کے زیر کمان دے دیا گیا تھا۔ بھارتی منصوبہ سازوں کے خیال میں پاکستانی حملہ کا زیادہ امکان نوشہرہ۔جھنگر محور پر تھا اور اسی وجہ سے "چھمب – جوڑیاں"‌محور پر ان کا دفاع زیادہ مضبوط نہ تھا۔ آپریشن جبرالٹر کے بعد بھارتی منصوبہ سازوں نے چھمب جوڑیاں سیکٹر کی حفاظت کی ذمہ داری کے لئے ایک ڈویژن تعینات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لئے بھارتیوں نے ایک نیا ڈویژن "دس ڈویژن" کھڑا کیا جو گرینڈ سلام کے آغاز کے وقت بنگلور میں اپنی تشکیل کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ دس ڈویژن کو پندرہ ستمبر تک 191 بریگیڈ اور 80 بریگیڈ کی کمان سنبھالنی تھی۔ اٹھائیس اگست تک ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر اکھنور پہنچ چکا تھا لیکن یکم ستمبر تک اس نے اپنا مواصلاتی جال نہیں بچھایا تھا اور اس کی موجودی علامتی تھی۔ اس ڈویژن کے پاس صرف چودہ ٹینک تھے جو پھیلا کر ٹروپس (تین ٹینک) کی صورت میں تعینات کئے گئے تھے اور ان کے مابین کافی فاصلہ تھا۔ یہ ٹینک بھی AMX 13 قبیل کے ہلکے ٹینک تھے.

    اس کے مقابلے میں پاکستان کی طرف سے گرینڈ سلام کی ذمہ داری بارہ ڈویژن کی تھی جس کا ہیڈ کوارٹر مری میں ہے اور اس کی کمان میجر جرنل اختر حسین ملک کے ہاتھ تھی۔ اس ڈویژن کی بنیادی ذمہ داری کشمیر کے محاذ پر پاکستانی سرحدوں کا دفاع تھی اور اس کے مقابل تین بھارتی ڈویژن اور دو خودمختار Independant بریگیڈ تعینات تھے۔ آپریشن گرینڈ سلام کے لئے اختر حسین ملک کو دو ٹینک رجمنٹ، ایک خودمختار آرٹلری بریگیڈ جو چار کور کا حصہ تھا، ایک اور آرٹلری بریگیڈ جو سات ڈویژن کا حصہ تھا، 10 انفینٹری بریگیڈ جو سات ڈویژن کا حصہ تھا، ایک بریگیڈ آزاد کشمیر رائفلز کا اور 102 بریگیڈ جو ان کے اپنے ڈویژن کا حصہ تھا، دیئے گئے۔ اٹھائیس اگست کی شام تک اختر حسین ملک کھاریاں پہنچ چکے تھے جہاں‌سے انہوں نے گرینڈ سلام کی قیادت کرنا تھی۔ پاکستان کا منصوبہ یہ تھا کہ دو انفنٹری بریگیڈ سے جن میں سے ہر ایک کو ایک ٹینک رجمنٹ کی مدد حاصل ہوگی، پہلے چھمب پر قبضہ کیا جائے اور اس کے بعد اکھنور پر قبضہ کیا جائے۔ چھمب پر قبضہ کے لئے آزاد کشمیر رائفلز کے بریگیڈ کو ذمہ داری سونپی گئی اور اکھنور پر قبضہ کی ذمہ داری دس بریگیڈ کو دی گئی۔ اکھنور پر قبضہ کے بعد 102 بریگیڈ نے آگے بڑھ کر اکھنور – جھنگر محور پر پاکستانی 25 بریگیڈ سے ملاپ کرنا تھا اور آخری مرحلہ کے طور پر راجوری پر قبضہ کرنا تھا جسے 1948 میں ایک بھارتی ٹینک سکواڈرن نے پاکستان سے چھین لیا تھا۔

    عمومی طور پر جب جنگوں کی تاریخ لکھی جاتی ہے تو اپنی تعداد کو گھٹا کر اور دشمن کی تعداد کو بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں یہ بیماری کچھ زیادہ ہے شائد۔ اوپر بیان کئے گئے اعداد و شمار سے آپکو کچھ اندازہ تو ہوگیا ہوگا لیکن چھمب جوڑیاں سیکٹر میں دونوں فوجوں کی تعداد کا موازنہ کچھ ایسا تھا۔

     

    پاکستان

    بھارت

    پیادہ فوج
    8.25 بٹالین
    4 بٹالین
    رسالہ
    6 سکواڈرن
    1 سکواڈرن
    توپخانہ
    18 بیٹریاں
    3.5 بیٹریاں

    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مجموعی طور پر پاکستان کی عددی طاقت بہرحال بھارت سے بہت کم تھی لیکن اس آپریشن کے لئے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا وہ بہت موزوں تھا اور اس حملہ کے لئے انتہائی رازداری کے ساتھ ٹینک اور دوسرا اسلحہ ملک کے دوسرے حصوں سے اس سیکٹر میں پہنچایا گیا تھا تاکہ دشمن پر فیصلہ کن عددی برتری حاصل کی جاسکے۔ ٹینکوں کے معاملہ میں بالخصوص پاکستان کو فیصلہ کن عددی اور معیاری برتری حاصل تھی کہ بھارتی ٹینکوں کے مقابلے میں پاکستان کے پاس امریکی ساختہ پیٹن ٹینک تھے جن کی مار اور کارکردگی بھارتی ٹینکوں سے بہت بہتر تھی۔ گویا تدبیراتی لحاظ سے یہ ایک انتہائی شاندار منصوبہ تھا جس میں بھرپور قوت کے ساتھ دشمن کے دفاعی حصار کے کمزور حصہ پر حملہ کرکے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا۔

    یکم ستمبر کی صبح ساڑھے تین بجے پاکستانی توپخانہ نے انتہائی شدید بمباری سے گرینڈ سلام کا آغاز کیا۔ روایت طور پر توپوں کی تنصیب اس طرح کی جاتی ہے کہ سب سے آگے فیلڈ گنز، پھر میڈیم گنز اور سب سے پیچھے ہیوی گنز لگائی جاتی ہیں۔ اس طرح بھاری اور درمیانہ توپخانہ کی حفاظت بھی بہتر ہوتی ہے اور فائر کو ایک جگہ پر مرتکز کرنا بھی ممکن ہوتا ہے۔ گرینڈ سلام کے لئے آرٹلری کے انچارج بریگیڈیئر امجد نے یہ ترتیب بدل کر درمیانہ اور بھاری توپخانہ فلیڈ گنز سے آگے متعین کردیا تاکہ آپریشن کے دوران توپخانہ کا فائر بوقت ضرورت ہر جگہ مہیا ہو سکے اور بڑی توپوں کو منتقل کرنے میں وقت ضائع نہ ہو۔ فوجی تکنیک کے لحاظ سے یہ ایک "ماسٹر پیس" تھا۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی ظالمانہ بمباری کے بعد یکم ستمبر کی صبح پانچ بجے پاکستانی پیادہ فوج اور ٹینکوں نے باقاعدہ حملہ کا آغاز کیا۔ پاکستانی ٹینک رجمنٹس جنہیں سکواڈرنز میں بانٹ دیا گیا تھا، کا آغاز اچھا نہ تھا اور گیارہ کیویلری کو بھارتی بیس لانسرز کے چھ ٹینکوں نے جنوب کی طرف سے روکا اور شمال کی طرف سے پیش قدمی کرتی ہوئی تیرہ لانسرز کو بھارتی بیس لانسرز کے ایک ٹروپ (تین ٹینک) اور ٹینک شکن توپوں‌کے انتہائی خوبصورت دفاع نے پیش قدمی سے باز رکھا۔ اس دن کی پہلی حماقت پاکستانی 102 بریگیڈ کے کمانڈر کی طرف سے ہوئی جب اس نے جنرل اختر ملک کی واضح ہدایات کے برعکس ایک معمولی اہمیت کے قصبہ برجیال پر قبضہ کرنے میں پورا دن لگا دیا جبکہ جرنل ملک کی واضح ہدایات تھیں کہ اس قصبہ کے پہلو سے نکل جایا جائے۔ تین بجے دوپہر کو آدھے 102 بریگیڈ اور تیرہ لانسرز کے ایک سکواڈرن نے برجیال پر قبضہ مکمل کر لیا۔ 102 بریگیڈ کے کمانڈر کے اس ایڈونچر کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستانی افواج طے کردہ منصوبہ کے مطابق یکم ستمبر کو دریائے توی کے پار نہیں جا سکیں۔ 102 بریگیڈ کے اپنی طاقت کو بکھیرنے کا نقصان یہ ہوا کہ توپخانہ کو بھی مختلف مقامات پر بکھرا ہوا فائر دینا پڑا اور اس کی تمام تر قوت ایک مقام پر مرتکز کرکے دشمن کی صفوں میں شگاف نہیں ڈالا جا سکا۔ پاکستانی 102 بریگیڈ کمانڈر کی حماقت کے باوجود اس روز شام تک بھارتی 191 بریگیڈ اپنی آخری سانسوں‌پر تھا اور اس کی اکلوتی فیلڈ رجمنٹ 161 فیلڈ رجمنٹ اپنی توپیں چھوڑ کر پسپا ہوچُکی تھی اور یکم ستمبر کی شام تک تیرہ لانسرز دریائے توی کے کنارے پہنچ چکی تھی لیکن اس نے اسے عبور کرنے کی کوشش نہ کی۔

    ادھر بھارتی دس ڈویژن نے 191 بریگیڈ کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجودہ پوزیشن چھوڑ کر اکھنور کا دفاع مضبوط بنائیں اور اکھنور کے دفاع پر مامور 41 پہاڑی بریگیڈ کو حکم دیا گیا کہ وہ جلد از جلد جوڑیاں-تروٹی محور پر جگہ سنبھال لیں۔ دو ستمبر 1965 کی صبح آٹھ بجے تک چھمب بھی پاکستانی افواج کے قبضہ میں آچکا تھا۔ اور پھر وہ ہوا جس کا ماتم آج بھی کیا جاتا ہے۔ گیارہ بجے صبح کمانڈ ان چیف جنرل موسٰی نے آپریشن کی کمانڈ جنرل اختر حسین ملک سے لے کر ایوب خان کے چہیتے جنرل یحیی خان کو سونپ دی تاکہ اکھنور کی فتح کا سہرا ایک "ناپسندیدہ" افسر کی بجائے ایک "چہیتے‌افسر" کے سر پر سجے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ کی اس "جنگی" چال نے دشمن کو بھی حیران کر دیا اور بھارتی فوجی مورخ لکھتا ہے کہ "اس مشکل کے وقت ایک عجیب بات ہوئی۔ دشمن ہماری مدد کو آیا اور ہمیں چوبیس گھنٹے دے دئے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے"۔ جنرل یحییٰ نے کمانڈ سنبھالنے کے بعد آرام سے اپنے ماتحتوں کا اجلاس اڑھائی بجے دوپہر طلب کیا اور رات کو دریائے توی پار کرنے کے احکامات دئے۔ بھارتی 191 بریگیڈ‌ پچھلی رات ہی وہ علاقہ خالی کر چکا تھا سو رات ساڑھے نو بجے تک دس بریگیڈ اور تیرہ لانسرز نے دریا کے دوسرے کنارے پر قبضہ کرلیا یعنی پورے ایک دن سے بھی بعد۔ تین ستمبر کی صبح یحیی خان نے دس بریگیڈ کو اس روز رات تک جوڑیاں پر قبضہ کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت تک بھارتی 41 پہاڑی بریگیڈ مناسب انداز سے مورچہ زن ہو چُکا تھا اور دفاع کے لئے تیار تھا۔ اس وقت بھی بھارتی تیاری اس قدر نہیں تھی کہ وہ ایک مرتکز پاکستانی حملے کو روک سکے لیکن بھارتی جگہ کے عوض وقت خرید رہے تھے تاکہ وہ ایک متبادل محاذ کھول کر پاکستانی دباؤ کو کم کر سکیں۔

    اسی اثنا میں بھارت نے بیس لانسرز کے دو سکواڈرن کے سوا باقی تمام یونٹ کو پٹھانکوٹ سے منتقل کرکے 41 بریگیڈ کی زیر کمان دے دیا۔ پاکستانی 10 بریگیڈ نے دو اطراف سے حملہ کا آغاز کیا۔ دوبٹالین پیادہ فوج اور ایک ٹینک سکواڈرن نے چھمب – اکھنور محور پر شمالی جانب سے حملہ کا آغاز کیا اور ایک بٹالین پیادہ فوج اور ایک سکواڈرن ٹینک نے جنوبی جانب سے نواں ہمیرپور کی طرف سے حملے سے آغاز کیا تاکہ دریائے توی کے شمالی کنارے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے دشمن کو اس کے عقب سے جالیں۔ ایک بجے دوپہر حملہ شروع ہوا اور علاقہ میں برساتی نالوں کی کثرت کی وجہ سے پیش قدمی کی رفتار سُست تھی۔ قریباَ پانچ بجے شام تیرہ لانسرز بھارتی دفاعی چوکیوں پر حملہ آور ہوئی جبکہ شام چھ بجے جنوبی حصۃ نواں ہمیر پور پہنچ گیا۔ اس وقت بھارتی اکھنور کے دفاع کے لئے اپنا تیسرا بریگیڈ (28 بریگیڈ) بھی میدان میں لے آئے اور اسے انہوں‌نے اکھنور سے قریباَ چار میل مغرب میں تعینات کر دیا۔ چار ستمبر کی صبح یحیی نے چھ بریگیڈ کو دریائے توی کے کنارے 102 بریگیڈ کی جگہ لینے کااور 102 بریگیڈ کو آگے آکر اکھنور پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ اسی روز ساڑھے گیارہ بجھے دس بریگیڈ نے بھارتی 41 بریگیڈ پر حملے کا آغاز کیا۔ تیرہ لانسرز نے بھارتی چوکیوں کے عقب میں جانے کی بہت کوشش کی لیکن ان کوششوں کو بھارتی بیس لانسرز کے دو ٹینک ٹروپس نے زیادہ کامیاب نہیں ہونے دیا اور دن کی روشنی کے اختتام تک تیرہ لانسرز معمولی پیش قدمی ہی کرسکی تھی۔ بھارتی منصوبہ سازوں کو اس وقت تک علم ہو چُکا تھا کہ وہ 41 بریگیڈ کی موجودہ پوزیشن زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکیں گے اور چار اور پانچ ستمبر کی درمیانی رات انہوں نے 41 بریگیڈ‌کو اکھنور واپس بلا کر اس کے دفاع کی ذمہ داری دے دی۔ پانچ ستمبر کی صبح 102 بریگیڈ بھی اکھنور کے نواح میں پہنچ گیا اور تیرہ لانسرز بھارتی 28 بریگیڈ پر حملہ آور ہوئی جو اکھنور سے صرف چار میل کی دوری پر مورچہ زن تھا۔ تمام دن کے شدید لڑائی کے بعد اکھنور پر قبضہ ابھی باقی تھا جب چھ ستمبر کی صبح نے سب کچھ بدل دیا۔
    کشمیر کو بیسویں صدی میں آزاد نہیں ہونا تھا۔

    بشکریہ :

    میجر جنرل شوکت رضا Pakistan Army War 1965

    میجر (ریٹائرڈ) آغا ہمایوں امین History of Pakistan Army from 1757 to 1977

    Friday, January 15, 2010 at 13:32
    213 مشاہدات
  • پہلا عجائب گھر

    IMG_4228IMG_4233جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں عرض کیا تھا، دو جنوری 2010 کی صبح کا سب سے اہم مسئلہ نور کی اماں کی چوڑیوں کی بازیابی تھا۔ جب ہوٹل والوں نے ان کی چوڑیوں کی بحفاظت موجودی کی تصدیق کی تو مانئے کہ پورے گھر نے سکون کا سانس لیا۔ حتٰی کہ نور کی اماں نے دودھ کے ڈبے کے ساتھ نور کے کھیلنے کا بھی چنداں بُرا نہیں مانا۔ ان کی اس نیم رضامندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم دونوں باپ بیٹی نے ایک چھوٹا سا فوٹو سیشن کرڈالا جس میں تمام وقت میں کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح ہمہ وقت متحرک نور کو کیمرے کے فریم میں قید کرسکوں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ گفتگو بھی جاری رہی کہ اب ہیوسٹن میں کیا کِیا جائے؟ اب کے برس جب ٹھنڈی ہواؤں نے امریکی جنوب کا رُخ کیا تو یکایک ہیوسٹن میں ہمارے گھومنے کی جگہیں بہت محدود ہوگئیں۔ انٹرنیٹ پر کھوجا تو معلوم پڑا کہ ہیوسٹن کا عجائب گھر دیکھنے کی چیز ہے۔

    اگرچہ طبعاً مجھے عجائب گھر بہت اچھے لگتے ہیں لیکن اپنے قریباً نوسالہ قیام امریکہ کے دوران کہیں ذہن میں یہ بات ہمیشہ موجود رہی کہ امریکیوں کی تاریخ اتنی قدیم نہیں کہ ان کے عجائب گھروں میں جاکر وقت اور پیسے ضائع کئےجائیں۔ بھلا دو سو برس قدیم عمارات و نوادر بھی کوئی نوادر ہوئے؟ اتنی پُرانی عمارات و نوادر سے تو ہمارا مُلک بھرا پڑا ہے اگرچہ ہم نہایت محنت سے کوشش کررہے ہیں کہ یہ تمام ہونق سی عمارات گرا کر وہاں حسین و جمیل نئے ڈیزائن کے پلازے کھڑے کئے جائیں۔  اس پر مستزاد یہ کہ یہاں ہر چیز کا عجائب گھر ہے۔ موسیقی کا، کیمرے سے لی گئی تصاویر کا، کسی ایک پُرانے گھر کے فرنیچر کا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں مجھ ایسا بندہ تو اُکتا کر ہی عجائب گھر جانے سے باغی ہوجاتا ہے کہ ایک کام کی چیز دیکھنے کے لئے پچاس جگہ خجل خوار ہوا جائے۔ نور کی اماں نے زندگی میں کوئی عجائب گھر نہیں دیکھا تھا اور اپنے اس ریکارڈ کو توڑنے کا ان کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ لیکن ہیوسٹن کے عجائب گھر میں دو چیزیں ایسی تھیں جن کی وجہ سے وہاں جانا ایک اچھا منصوبہ معلوم پڑا۔ ایک تو یہ کہ وہاں ڈاینوسار کے ڈھانچے موجود تھے جو ہم نور کی اماں کو دکھانا چاہتے تھے کہ موصوفہ یہ مانتی ہی نہ تھیں کہ وہ اس قدر عظیم الجثہ تھے جتنا ہم انہیں بتاتے ہیں۔ اور دوجا یہ کہ وہاں ایک تتلیوں کا باغ تھا۔ سو ایک روائتی عجائب گھر کے تصور سے ہٹ کر بھی کچھ کرنے کو تھا بچوں کے لئے۔ ایک اور وجہ بھی بعد میں دریافت ہوئی جس کے بعد نور کی اماں کو ناصرف یہ عجائب گھر بہت پسند آیا بلکہ مستقبل میں عجائب گھر دیکھنے کی بھی اجازت مل گئی لیکن اس پر کچھ بعد میں۔

    ٹی ریکسناشتہ اور لنچ ایک ساتھ کھانے کے بعد ہم روانہ ہوئے عجائب گھر کی طرف۔ ہیوسٹن کا عجائب گھر وہاں کے میڈیکل سٹی کے قریب ہے جو کہ دنیا میں کہیں بھی ہسپتالوں کا سب سے بڑا ارتکاز ہے۔ گاڑی پارکنگ میں لگا کر ہم نے بچوں کی انگلی پکڑی اور میوزیم کے اندر چلے۔  ٹکٹ وغیرہ خریدے اور داخل ہوئے عجائب گھر کے پہلے ہال میں جہاں ہمارا استقبال ایک ٹی ریکس نے کیا جوانتہائی شرافت سے ایک ہیڈروسارس کے پہلو میں کھڑا ہمیں سبق دے رہا تھا کہ شیر اور بکری کیسے ایک ساتھ مِل جُل کر رہ سکتے ہیں۔ اور سچ مانئے تو ہم بھی اس بات کے قائل ہوگئے کہ شیر اور بکری پرامن بقائے باہمی کے اصول پر ایک دوسرے کے پہلو میں خوش آباد رہ سکتے ہیں اگر دونوں "فاسلائزڈ" ہوں۔ NoorKhadeejha1نور اور خدیجہ کو بھی گھیر گھار کر ہم ٹی ریکس کے قریب لائے کہ ایک تصویر ان کی لی جائے ٹی ریکس کے ساتھ جیسا اسماء بہنا نے تجویز کیا تھا۔  لیکن مصیبت یہ کہ ٹی ریکس کمبخت اتنا بڑا تھا کہ بچوں کو فریم میں لیتے تو ٹی ریکس باہر نکل جاتا اور اگر ٹی ریکس کو فریم میں لیتے تو بچے نظر ہی نہیں پڑتے تھے۔ سو ایک تصویر کھینچی جس کے متعلق آپ کو ہماری زبان پر ہی اعتبار کرنا ہوگا کہ یہ ٹی ریکس کے پہلو میں لی گئی تھی۔ اور جی نہیں، تصویر میں نظر آنے والا ہاتھ ہرگز ٹی ریکس کا نہیں ہے کہ اگر آپ نے بھول کر بھی ایسی سوچا تو ہمارا حشر اس ہیڈروسارس جیسا ہوگا جو زندہ حالت میں ایک ٹی ریکس کے قریب آجائے۔ 8-)   لیکن اس نمائش کا حاصل وہ جملہ تھا جو بیگم نے ڈائنو سار کے ڈھانچے دیکھنے کے بعد ادا کیا کہ "یہ اتنے بڑے تو نہیں ہوتے تھے۔" ہم نے سٹپٹا کر کہا کہ میں اس ٹی ریکس کی پنڈلی کے برابر بھی نہیں ہوں اور یہ سب سے قوی الجثہ حیوان نہ تھا اپنے دور کا بلکہ کافی اوسط جسامت کا حامل تھا، تو موصوفہ گویا ہوئیں " آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر میرا تصور ان کے متعلق زیادہ دیو قامت تھا۔"لطیفہ یا دہشت؟ اس کے بعد مزید بحث کی گنجائش ہی نہ تھی۔ اس عجائب گھر میں ایک ندرت یہ تھی کہ جہاں کاسٹ کئے ہوئے ڈھانچے موجود تھے وہیں کچھ تصوراتی سی تصاویر بنا کر بھی ڈائنو سار کے باہمی رشتوں کو واضح کیا تھا ۔ انہی میں سے ایک منظر میں دو ڈائنو سار ایک اُڑنے والے ڈائنو سار سے یا تو زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے یا اس کے سُنائے ہوئے کسی لطیفے پر ہنس رہے تھے۔ ہمیں تو سمجھ نہیں آئی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟  عجائب گھر میں کچھ "باقاعدہ" فاسلز بھی رکھے ہوئے تھے جن میں سے اکثریت سمندری جانداروں کی تھی۔ زمانہ قریب کے جانداروں میں سے میمتھ (Mammoth) اور اس دور کے چند دیگر جانداروں کے ڈھانچے بھی نمائش میں موجود تھے۔ نیچے ہی ایک پنڈولم بھی جھول رہا تھا جو نجانے کب سے اسی طرح جھولے جارہا تھا۔ اس کے اردگرد ایک بڑے سے دائرے میں لکڑی کے بلاک دھرے تھے۔ پنڈولم کی حرکت شائد زمین کی محوری گردش سے مطابق تھی کہ ان میں سے چند بلاک نیچے گرے ہوئے تھے لیکن ہم جتنا بھی عرصہ عجائب گھر میں موجود رہے پنڈولم نے کوئی بلاک نیچے نہیں گرایا اور ایک ہی خط میں متواتر حرکت کئے گیا۔

    جی ہاں یہ سمندری گھونگا ہےسمندری گھونگا ڈائنوسار سے فارغ ہوکر پہلی منزل پر چڑھے تو وہاں رنگا رنگ سمندری اور زمینی حیات کے نمونے موجود تھے جن میں سے ہمیں سب سے زیادہ یہ گھونگھے پسند آئے جن کے رنگوں اور شکلوں میں تنوع ان کے خالق کی قدرت کا مُنہ بولتا ثبوت تھے۔ اس ہال کا ایک حصہ ان گھونگھوں کی نمائش کے لئے مخصوص تھاتو دوسرے حصہ میں امریکہ اور افریقہ کی مختلف جنگلی حیات کے حنوط شدہ نمونے موجود تھے۔ کیونکہ ہمارا ارادہ اگلے روز چڑیا گھر جاکر زندہ حیوانات کو دیکھنا تھا سو ہمیں حنوط شدہ جانوروں میں کچھ اتنی زیادہ دلچسپی نہ تھی اگرچہ فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ بہت خوبصورتی سے کیا تھا بالخصوص حنوط شدہ جانوروں کی مدد سے دو شیروں کا ایک زیبرے کو شکار کرنے کا منظر بہت خوب تھا۔

    پاکستان کا زمردجانوروں سے فارغ ہوئے تو ایک اور حصہ قیمتی پتھروں کی نمائش کے لئے محفوظ تھا اور ہماری پارٹی میں شریک ایک فرد کو اس مخصوص حصہ میں انتہائی کشش محسوس ہوئی۔ بچیاں کیونکہ ابھی چھوٹی ہیں سو اس اندھیرے سے علاقے میں انہوں نے اپنی بے چینی کا اظہار شروع کردیا۔ کچھ عمل اس میں شائد تھکاوٹ کا بھی تھا۔ شوہر نامدار اور والد گرامی ہونے کے ناطے ہمارے ذمہ گاڑی سے سٹرولر لانا ٹھہرا۔ سٹرولر لانے کے بعد بچیوں کو اس میں مقید کیا اور تسلی سے پتھروں کو دیکھنا شروع کیا۔  سب سے زیادہ خوشی تو اس عجائب گھر میں پاکستان سے لائے گئے پتھروں کو دیکھ کر ہوئی جن میں سے ایک تو نمائش کی انتہائی ابتداء میں اپنے جلوے بکھیر رہا تھا۔  ہم نے کوشش تو کی کہ کسی طرحپاکستانی پتھر کے مزید نمونے ان پتھروں کے حسن کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرسکیں لیکن ہمیں اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔ ایک اور بات ہمارے مشاہدہ میں آئی کہ پاکستان میں پایا جانے والا پتھر حیرت انگیز طور پر برازیل کے پتھر سے مماثل تھا اور دونوں کی شفافیت اور رنگ ناقابل امتیاز تھے۔ کچھ پتھروں میں تو ایسے نقش و نگار بنے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی اور چند ایک ایسے شیشے کی مانند شفاف کہ انسان سوچنے پر مجبور ہوجائے۔ خالق کائنات کی صناعی کی نشانیاں اس زمین میں کس قدر تواتر سے بکھری پڑی ہیں ان کا اندازہ ان پتھروں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ آپ بھی دیکھئے ان میں سے چند نمونے۔

    شیشے کی مانند شفاف پتھر یہ دلفریب نقش و نگار ایک پتھر میں گُندھے ہوئے  جزائر مڈغاسکر سے لایا ہوا پتھر 

    IMG_4408پتھروں کے علاوہ اس حصہ میں زیورات بھی موجود تھے جن میں سے چند اٹھارہویں صدی کے زار روس کے عہد کے تھے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔ ان نوادرات کے علاوہ ہیوسٹن کے صرافوں کے بنے ہوئے جڑاؤ زیورات بھی اس نمائش کا حصہ تھے۔ ان زیورات میں ہمیں تو کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن خاتون خانہ نے بہرحال انہیں یکساں ذوق و شوق سے ملاحظہ کیا۔ اس تمام عمل کے دوران خدیجہ تو سو چُکی تھیں نور البتہ ہمیشہ کی طرح چاک و چوبند تھی اگرچہ اس حصہ سے مکمل بیزاری کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً کررہی تھیں۔ انہیں بہلانے کو ہم انہیں بار بار یہ یاد دہانی کرواتے رہے کہ ابھی تتلیاں دیکھنے چلیں گے۔ِ

    خدیجہ تھک کر سو گئی تھیں قیمتی پتھروں کے علاقے سے فارغ ہوئے توحسب وعدہ چلے تتلیوں کی نمائش والے حصہ میں۔ خدیجہ اس وقت تک تھکاوٹ کا شکار ہو کر دُنیا و مافیہا سے بے خبر سو چُکی تھیں۔ جب نمائش کے دروازے پر پہنچے تو وہاں موجود خاتون نے مطلع کیا کہ اندر سٹرولر لے کر جانا منع ہے۔ نور کی اماں نے تجویز کیا کہ وہ پہلے نمائش دیکھ آتی ہیں اور میں اور نور بعد میں اندر چلے جائیں کہ اگر خدیجہ کو سوتے ہوئے بیدار کیا جاتا تو پھر تمام نمائش کے خالی ہونے کا خطرہ تھا۔IMG_4475 بات معقول تھی لہٰذا بیگم تتلیوں کے دیس گئیں اور ہم کوشش کرنے لگے نور اور خدیجہ کو کیمرے کی آنکھ میں پکڑنے کی۔ خدیجہ تو سور ہی تھیں سو ان کی تصویر اتارنا اتنا مشکل نہ تھا لیکن نور کو جیسے ہی معلوم پڑا کہ ہم ان کی تصویر بنانا چاہتے ہیں، انہوں نے اسے ایک کھیل بنا لیا۔ اس کھیل کے دوران بہت سے "بلائنڈ شاٹ" لئے گئے جن میں نور کی طرف کیمرے کا مُنہ کرکےاندھا دُھند بٹن دبا دیا گیا تھا۔ ایسا ہی ایک شاٹ یہ تھا جس میں نور کیمرے سے بچنے کی کوشش میں ہمارے ہی پیچھے جا چھُپی تھیں اور ہمارا کمال اس میں صرف یہ تھا کہ کاندھے کے اوپر کیمرا کرکے "کلک"۔ :-D

    ایک اور تتلیبیگم توقع سے جلد تتلیاں دیکھ کر فارغ ہوگئیں۔ ان کے آنے پر ہم نے سوتی ہوئی خدیجہ کو سٹرولر سمیت ان کے سپرد کیا اور دونوں باپ بیٹی چلے تتلیاں دیکھنے کہ پکڑنے کی مناہی تھی۔ اندر ایک گرین ہاؤس نما ماحول میں ڈھیروں رنگوں کی تتلیاں ہر طرف اُڑتی پھر رہی تھیں اور ہر عمر کے بچے ان کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ نور نے بھی حسب توفیق اس بھاگ دوڑ میں حصہ لیا اوراس دوران ہم نے کچھ تتلیوں کے رنگ اپنے کیمرے میں بھرے۔ کچھ عرصہ بعد خدیجہ اور اس کی اماں بھی ہمارے ساتھ آموجود ہوئیں۔ شام کے سائے ڈھل رہے تھے جب نگرانوں کے اعلان کیا کہ اب نمائش کا وقت ختم ہورہاہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی میوزیم میں ہمارے پہلے دن کا اختتام ہوا اور حسین یادوں اور تصاویر کے ساتھ ہم واپس ہوٹل  روانہ ہوئے۔

    IMG_4510IMG_4518

    Monday, January 11, 2010 at 11:16
    206 مشاہدات
  • سالِ نو

    2009 بھی اپنے سے پہلے گزرنے والے اربوں سالوں کی طرح بالآخر قصہ پارینہ بن گیا۔ عجب المیہ ہے کہ جب قلم ایک برس لکھنے کا عادی ہوتا ہے تو وہ برس اپنی آخری سانسوں پر ہوتا ہے۔ زندگی کا یہ سفر اتنی تیزی سے تمام ہورہا ہے کہ مہ و سال کا شمار رکھنا ہی مشکل ہے۔ سال دن اور دن لمحے بن کر گزر رہے ہیں۔ عمر کی نقدی ہر سانس کے ساتھ نہ صرف کم ہورہی ہے بلکہ اس کی قدر بھی گھٹتی جارہی ہے جیسے سٹاک مارکیٹ کریش کرجانے پر کرنسی کی قدر گھٹ جاتی ہے۔اس تمام افراتفری میں جب 2009 کا آخری دن آیا تو ہم اپنے گھر میں اکیلے دُکیلے معہ اہلیہ و دختران موجود تھے۔

    "کھا جاؤں گا" معہ اہلیہ (بھابھی) پاکستان سدھارے تھے، ایک دوست گھرانہ شکاگو اور دوجا ورجینیا پدھار چُکا تھا۔خدیجہ موبل میں کام سے آجکل فراغت ہے سو یکا یک سوچ آئی کہ کیوں سال کا آخر گھر میں بند گزارا جائے؟ سو فیصلہ کیا کہ ایک سفر پر نکلتے ہیں۔  ارادہ بنا کہ دو روز موبِل الاباما (Mobile, Alabama) اور نیو آرلینز لوئیزی آنا (New Orleans, Louisiana) میں گزارتے ہیں اور سالِ نو کا استقبال وہیں کرکے تیسرے روز واپس آجائیں گے۔ فٹافٹ تیاری پکڑی اور اکتیس دسمبر کی سہ پہر قریباً تین بجے سفرپر روانہ ہوگئے۔ رات قریباً ساڑھے گیارہ بجے موبل پہنچے تو لوگ سالِ نو کے استقبال کی تیاریوں میں   مشغول تھے۔ ہم بچوں کو سُلا کر خود بھی بستر پر سو گئے کہ اس برس امریکہ کے جنوبی حصے بھینور موبل میں غیر معمولی طور پرسخت سردی کی لپیٹ میں ہیں اور ساحلی علاقے جہاں درجہ حرار تیس ڈگری سنٹی گریڈ کے آس پاس رہا کرتا تھا، وہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد کے اریب قریب پایا جاتا ہے۔  ہم کیونکہ فلوریڈا میں رہتے ہیں سو ٹھنڈ کے لئے کبھی تیاری کی ہی نہیں اور نہ ہی کبھی بچوں کے لئے گرم کپڑے لئے۔ سو ایک طرح سے بے سروسامانی کا ہی عالم تھا اور ایسے میں باہر جاکر آتش بازی دیکھنا اپنی جان پر ظلم ہی محسوس ہوا۔صبح اُٹھے تو باہر کے حالات کچھ ایسے سازگار معلوم نہ ہوئے کہ بچوں کے ساتھ باہر نکلا جاتا۔  موبل نے ہمیں ویسے بھی کوئی زیادہ متاثر نہیں کیا  تھا  اس پر مستزاد یہ کہ وہاں حلال کھانا دستیاب نہیں تھا اور سفر میں ہمیں تو ویسے بھی بھوک بہت لگتی ہے۔۔سو فیصلہ یہ ہوا کہ بجائے یہاں دن برباد کرنے کے ہیوسٹن چلا جائے جو امریکہ کا چوتھا بڑا شہر ہے اور جہاں پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد آبادہے اور موبل سے قریباً پانچ سو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ناشتہ کے بعد بچوں کو گاڑی  میں بٹھایا اور سوئے ہیوسٹن روانہ ہوئے۔ تمام دن خیریت سے گزرا اور جب قریباً چھ گھنٹے کے سفر کے بعد مغرب کی نماز کے لئے ٹھہرے تو نور کی اماں پر یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ وہ اپنی سونے کی چودہ چوڑیاں موبل کے ہوٹل میں بھول آئی ہیں۔ اس انکشاف پر ان کی جو حالت ہوئی  اس کا اندازہ خواتین کو بخوبی ہوگا۔  ان کا فوری فیصلہ تو یہ تھا کہ فوراً یہ دورہ منسوخ کرکے گھر واپس چلا جائے۔ انہیں سمجھایا کہ سب اللہ کی سپرد ہے اور اگر خدانخواستہ چوڑیاں کھو گئی ہیں تو گھر واپس جانے سے مل تو نہیں جائیں گی۔ ہوٹل والوں کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ صفائی والیاں تو کب کی گھر جاچُکیں اور اب صبح ان کی آمد پر ہی چوڑیوں کی بابت کچھ معلوم ہو سکے گا۔ باقی کا سفر جیسے تیسے کٹا اور امید و بیم کےاس  عالم میں رات کوئی نو بجے کا عمل تھا جب ہم ہیوسٹن پہنچے۔ ہیوسٹن میں ماشاء اللہ پاکستانی بہت ہیں اور نتیجہ اس کا یہ کہ پاکستانی کھانا پاکستانی ماحول میں وافر دستیاب ہے۔ پاکستانی کھانے سے ہماری مراد ہے گندا اور پُرانا کھانا اور پاکستانی ماحول سے مراد ہے صفائی سے ہر ممکن بُعد۔ ہم لوگ اپنی عادات میں کسقدر محکم ہیں یہ چیز بھی شائد اسی کا اظہاریہ ہے۔ بیگم کو ایسا کھانا اور ایسی جگہ کھانے سے مناہی ہےسو کچھ دیر تو پریشانی ہوئی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ایک دو ریستوران ایسے موجود تھے جن کے متعلق لوگوں کے تاثرات اچھے تھے۔ ایسے ہی ایک حلال چائینیز ریستوران  سے رات کا کھانا کھایا اور ہوٹل آکر بیگم کو دلاسہ دیتے ہوئے ہم تو سو گئے۔ بیگم نے وہ رات البتہ حسب توقع کانٹوں پر گُزاری۔

    اگلی صُبح اُٹھے تو بیگم کا اصرار تھا کہ علی الصبح ہوٹل والوں کو فون کیا جائے۔ ان کی بے قراری دیکھتے ہوئے فون کیا تو جواب ملا کہ صفائی والیاں نو بجے کے قریب آتی ہیں ۔ وقت گزاری کے لئے بچوں کو ناشتہ کروانے لے گئے۔اس تمام دوران بیگم کی نظریں جیسے گھڑی سے چپک گئی تھیں اور گھڑی کی سوئیاں تھیں کہ ہلنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ خیر خدا خدا کرکے نو بجے تو پھر ہوٹل کو فون ملایا تو ان کا جواب تھا کہ اس وقت تمام عملہ میٹنگ میں ہے۔ پندرہ بیس منٹ  انتظار کے بعد پھر فون کیا تو جواب ملا کہ میٹنگ تو ابھی جاری ہے لیکن آپ کی چوڑیاں بحفاظت موجود ہیں جب چاہیں آکر لے لیں۔ الحمد للہ۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس خبر کے بعد کم از کم اس ہوٹل میں سب سے زیادہ پرمسرت جوڑا کون تھا۔ بیگم کو اپنی چوڑیاں ملنے کی خوشی تھی اور ہمیں اس بات کی کہ ان کے چہرے پر رونق واپس آئی۔ اللہ نے پریشانی سے نجات دی تو فیصلہ یہ ہوا کہ ایک دن میوزیم اور ایک دن چڑیا گھر کی سیر کی  جائے اور پھر نیو آرلینز روانگی پکڑی جائے۔ کھانے کے لئے ایک جگہ کا انتخاب ہوا جو ہیوسٹن سے باہر ایک دوسرے شہر میں تھی اور اپنی تعارفی تصویر سے صاف ستھری لگ رہی تھی۔ قریباً دس بارہ میل گاڑی چلا کر وہاں پہنچے تو اس شہر اور ریستوران دونوں کو بہت صاف ستھرا اور خوبصورت پایا۔  دوپہر کا کھانا جی بھر کر کھایا اور پھر ہیوسٹن کے Museum of Natural Sciences کو روانہ ہوئے۔ وہاں کیا کٕیا اور کیا دیکھا اس کی روداد اگلی قسط میں انشاء اللہ۔

    اس قسط کا اختتام کرنے سے پہلے میں آپ سب بہن بھائیوں کو بالخصوص اسماء بہنا کو دل کی گہرائیوں سے نئے سال کی مبارک دینا چاہوں گا۔ اسماء بہنا کی تخصیص اس لئے کہ سفر کے دوران ان کی تہنیت کا جواب نہ دے سکا تھا۔ اللہ کرے یہ سال آپ سب کے لئے اور آپ کے پیاروں کے لئے ڈھیروں مسرتیں اور شادمانیاں لائے۔ آمین۔

    Wednesday, January 6, 2010 at 16:09
    239 مشاہدات
  • ماں، بیوی، بیٹی اور بہن

    اپنی پچھلی پوسٹ میں ایک معاشرتی رویہ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا جو "جدیدیت" کے نام پر ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ رہا ہے۔ نتیجہ حسب توقع رہا اور اندرون و بیرون خانہ سے زبردست گولہ باری شروع ہوگئی۔ بہت پیاری بہنوں نےا پنے اعتراضات و سوالات اٹھائے اور مناسب یہی لگا کہ بجائے اس کے کہ جوابات تبصروں کی مد میں داخل دفتر کئے جائیں ایک الگ پوسٹ میں مفصل بات کی جائے۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک وضاحت ضروری ہے کہ اس پوسٹ کا مخاطب ہرگز ایک یا دو اشخاص نہیں بلکہ میرا مقصد ایک معاشرتی رویہ پر بات کرنا ہے۔ میری پیاری بہنوں نے اگرچہ یہ سوالات اٹھائے ہیں لیکن یہ سوالات صرف ان کے ہی نہیں بلکہ بہت سوں کے دلوں میں مچل رہے ہیں اور میرے جوابات کا مقصد انہیں گھائل کرنا نہیں بلکہ اپنا نکتہ نظر بیان کرنا ہے۔

    دنیا کا دستور ہے کہ کسی بھی چیز یا تخلیق کی غایت جاننا ہو تو اس کا مینوئل یا ہدایت نامہ پڑھا جاتا ہے کہ اس کی غرض تخلیق کیا ہے؟ اس سے کیا کام لینا ہے اور کیسے کام لینا ہے؟ یقینی طور پر جب انسان کی بات آتی ہے تو بھی پہلے اس کے مینوئل کو پڑھا جانا چاہئے۔ یہ ہدایت نامہ کتب سماوی کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔ قرآن میں اللہ تعالٰی نے جن و انس کی تخلیق کی وجہ بیان فرمائی "و ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون" کہ "ہم نے جنوں اور انسانوں اس کے سوا کسی اور مقصد سے پیدا نہیں کیا کہ وہ ہماری عبدیت کریں"۔ قرآن اور دیگر کتب سماوی ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان (Homo Sapien) تھے۔ آدم اکیلے پیدا کئے گئے اور رہنے کو انہیں جنت کا ٹھکانہ دیا گیا۔ پھر وہاں انہوں نے تنہائی محسوس کی تو اللہ نے آدم کے پہلو سے حوا کو پیدا کیا کہ ان کا دل بہلائیں۔ سو عورت کی تخلیق اس لئے ہوئی کہ وہ اپنے خاوند کے لئے راحت و آرام کا سامان بنے۔  اب تخلیق کے بعد کی بات کرتے ہیں۔ معاشرتی زندگی میں عورت کی کفالت اس کے باپ اور پھر اس کے خاوند کی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام عورت کو وراثت کا حق دیتا ہے۔ حق مہر عورت کا حق ہے جو وہ مقرر کرسکتی ہے اور اس کا ادا کرنا خاوند پر لازم ہے۔ تعلیم حاصل کرنا عورت پر بھی اتنا ہی لازم ہے جتنا مرد پر اور یہ اس کا حق ہے۔  مرد کی کمائی میں عورت کا حصہ ہے لیکن عورت کی کمائی میں مرد کا کوئی حصہ نہیں ہاں مگر جتنا وہ خوشی سے چاہے۔ اولاد کا نان نفقہ فراہم کرنا مرد کی ذمہ داری ہے عورت کی نہیں اگرچہ عورت مرد سے زیادہ مالدار ہی کیوں نہ ہو۔ عورت اپنے مرد کی کمائی سے اپنے جائز اخراجات کے لئے بغیر پوچھے بھی رقم لے سکتی ہے، مرد ایسا نہیں کرسکتا۔ علیحدگی کی صورت میں بچوں کی کفالت ان کے باپ کے ذمہ ہے۔ عورت دوسری شادی کرنے کے لئے وقت مقررہ کے بعد آزاد ہے اور شرع اسے اپنے پچھلے خاوند کے بچوں کے معاملے میں کسی چیز کا مکلف نہیں کرتی ماسوا وراثت کے۔شادی کا فیصلہ عورت کا ذاتی فیصلہ ہے شرع کسی کو بھی اس معاملہ میں اس پر حکم مقرر نہیں کرتی۔ شادی کو برقرار رکھنا بھی عورت کی اپنی مرضی پر ہے اور وہ جب چاہے خلع لینے کے لئے آزاد ہے۔

    ان تمام حقوق کے بعد شریعت عورت کو صرف دو باتوں کا مکلف کرتی ہے۔ اول یہ کہ وہ اللہ کی عبدیت کرے اور دوم یہ کہ وہ اپنے خاوند کے لئے راحت اور سکون کا باعث بنے اور اس کی کامل تابعداری کرے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بہترین بیوی وہ ہے جس کا خاوند دن بھر کا تھکا گھر داخل ہو اور اپنی بیوی پر نظر پڑتے ہی اس کی تمام دن کی تکان دور ہوجائے۔ ایک اور جگہ خاوند کی غیر موجودی میں اس کی دولت اور عزت کی حفاظت کرنے والی بیبیوں کی تعریف فرمائی گئی۔ اسلام کیونکہ دین فطرت ہے اس لئے ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ گھر کے یونٹ کی اسلام میں بہت اہمیت ہے کہ یہی تربیت گاہ ہے معاشرہ کی۔ اللہ نے مرد کو اس یونٹ کا سربراہ بنایا  کہ جیسے دو خدا نہیں ہوسکتے ویسے ہی کسی بھی انتظامی یونٹ کے دو سربراہ نہیں ہوسکتے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح فرما دیا کہ مردوں سے ان کی رعیت (بیوی اور بچوں) کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت کو اگر خاوند کی زیادتی کو برداشت کرنے کی ترغیب دی گئی وہیں سرور کائنات نے خطبہ حجتہ الوداع میں مردوں کو ان کی عورتوں کے متعلق ذمہ داری سے مکرر آگاہ کیا۔ عورت اور مرد کو قرآن نے ایک دوسرے کا لباس قرار دیا کہ ایک دوسرے کو ڈھانکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایسا سمجھئے کہ ایک کی کمی کو دوسرا پورا کرتا ہے۔

    پھر "نئی روشنی" آنے کے بعد ہمارے معاشرے میں جو "غلط العام" روئیے فروغ پاگئے ان میں سے ایک یہ رویہ یہ بھی ہے کہ عورت اور مرد زندگی کے ہر شعبے میں ایک دوسرے کے برابر ہیں کیونکہ دونوں انسان ہیں اور دونوں کو اللہ نے عقل دی ہے۔ بات کچھ درست لگتی ہے ہے لیکن غلط ہے۔وجہ اس کی یہ کہ یقیناً انسان ہونے کے ناتے عورت اور مرد دونوں شعور رکھتے ہیں، سمجھ رکھتے ہیں لیکن کیا اس کا مطلب ہے کہ دونوں کی ذمہ داریاں بھی ایک سی ہونی چاہئیں؟ ایک مثال سے بات کو واضح کرتے ہیں۔ موٹر کار اور ٹریکٹر دونوں آٹوموبائل ہیں۔ دونوں میں انجن ہوتا ہے، ایک سٹیرنگ ہوتا ہے، کلچ، بریک غرضیکہ تمام پرزے قریباً یکساں ہوتے ہیں۔ تو کیا یہ بات قرین از عقل ہے کہ ہم ٹریکٹر کو لاہور سے کراچی کے سفر پر استعمال کریں اور موٹر کار کو کھیتوں میں ہل چلانے کے لئے؟ ایک اوسط ذہنیت رکھنے والا انسان بھی یہ کہے گاکہ ایسا کرنا بے وقوفی ہے۔ وجہ؟ کیونکہ اگرچہ دونوں مشینیں ایک سے اصول اور ایک سے پرزوں سے بنی ہیں، ان کی غایت مختلف ہے۔ ایک کی غایت ہے کہ وہ فاصلہ جلد طے کرے اور ایسا کرنے کے دوران اپنے مسافروں کو ہر ممکن آرام اور آسائش سے رکھے۔ دوسرے کی غایت ہے کہ وہ زمین کا سینہ دور تک چیرے اور اس میں ہل چلا کر اسے نرم کرے تاکہ اس میں بویا جانے والا بیج زیادہ پھل لائے۔ یہی فرق ہے عورت اور مرد میں۔ ایک کا کام ہے کہ وہ دنیاوی زندگی کا سامان مہیا کرے، باہر خجل خوار ہو، محنت کرے اور دوسری کا کام ہے کہ وہ گھر کو اپنی محبت سے نکھارے، سنوارے، اپنے ساتھی کی محنت کی کمائی کی حفاظت کرے۔ اپنے بچوں کی ذہنی نشونما پر دھیان دے اور گھر کو مثل فردوس بنائے۔

    ہوا یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں "اونچا کام" اور "نیچا کام" کی ایک بیماری سرائت کرچکی ہے۔ کچھ کام نیچ ہیں اور کچھ کام اونچے۔ اگرچہ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اگر نیچ کام کرنے والے اپنا کام کرنے سے انکار کردیں تو "اونچا کام" کرنے والے کیا کریں گے؟ بات صرف اتنی ہے کہ ہم کیونکہ تن آسانی کا شکار قوم ہیں سو اگر ہم سے اگر کوئی چھوٹا موٹا کام سرزد ہوجاتا ہے تو اپنے کئے پر اترانے کے لئے ہمیں تلاش ہوتی ہے کچھ لوگوں کی جنہیں اپنے سے کمتر ثابت کرکے ہم اپنی برتری کا جھنڈا گاڑ سکیں۔ اوروں کے سر پر پاؤں رکھنے کی یہی بیماری ہے جس نے ہمیں موجودہ حال کو پہنچایا ہے۔ دراصل انگریز جب ہندوستان میں آیا تو اسے ایسے لوگوں کی ضرورت تھی جو انگریزی میں بات کرسکیں لیکن عقل و شعور سے عاری ہوں، اپنی روایات اور اس ملک کے عوام کو فضول اور نیچ اور انگریزوں کی نقالی کرنے کو اپنی معراج سمجھیں تاکہ انگریز کم سے کم افرادی قوت کے ساتھ اس ملک پر حکومت کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک نظام تعلیم ترتیب دیا۔ پھر جب انگریز چلا گیا، تو جو طبقہ اس ملک پر حاکم ہوا وہ یہی طبقہ تھا اور اسی اہلیت کا حامل تھا جس مقصد کے لئے اس کی نشونما کی گئی تھی۔ سو انگریز کو گئے ساٹھ سے اوپر برس گزرے لیکن ہم آج بھی اسی "سانچہ" کو استعمال کرکےدھڑا دھڑ "تعلیم یافتہ"  تیار کررہے ہیں جو انگریز جاتے وقت پھینک گیا تھا۔ یہ تمام "کلون" (clones) ہمارے ایک محترم انکل جی کے الفاظ میں "مروجہ تعلیم" سے تو پوری طرح مسلح ہیں لیکن "تربیت" سے کلی طور پر محروم۔

    اشفاق احمد صاحب مرحوم نے ایک دفعہ کہا تھا کہ پاکستان کو جتنا نقصان پہنچایا ہے پڑھے لکھوں نے پہنچایا ہے۔ کسی ان پڑھ نے آج تک پاکستان کو نقصان نہیں پہنچایا۔ حقیقت ان الفاظ کے ظاہر میں نہیں بلکہ بہت اندر چھپی ہوئی ہے لیکن احباب ظاہر پر ہی تیر و تفنگ داغ دیتے ہیں۔ اب میری ایک پیاری بہن نے گرہستی کرنے والی ماں کو "نکمی" ماؤں سے تشبیہہ دی اور کہا کہ ان کے بچے "پڑھی لکھی" ماؤں کے بچوں کی نسبت زیادہ خراب ہوتے ہیں بلکہ پورے معاشرہ کے بگاڑ کی ذمہ داری انہی پر ڈال دی۔ میں زیادہ تو نہیں البتہ کم از کم دو "نکمی" ماؤں کو جانتا ہوں۔ ایک کے پانچ بیٹے تھے اور دوسری کے تین۔ چٹی ان پڑھ ان ماؤں نے تمام عمر اپنے گھروں کو سنبھالنے میں گزار دی۔ جب تک ان کا وجود تھا، ان کے گھروں میں سے جیسے رحمت کی برسات ہوا کرتی تھی۔ سردیوں کی راتوں میں دیر گئے جب ایک کے بیٹے نے گھر واپس آنا تو اس ماں نے اسی سے زیادہ برس کی عمر میں گرم بستر سے اٹھ کر اپنے "بچے" کے لئے دودھ گرم کرنا اور اس کے بستر کے قریب آکر اسے دینا کہ "بچہ دودھ پی لے" اور یہ بچہ پچپن برس سے اوپر کا تھا اور تین بچوں کا والد تھا۔ دوسری کو خطرہ تھا کہ اس کی چھوٹی بیٹی کا بڑا بیٹا اپنی لاابالی طبیعت کی وجہ سے ایف ایس سی میں اچھے نمبر نہیں لے سکے گا۔ اس نے دن رات دعا مانگا کرنی "اللہ میرا ۔۔۔۔۔ یونیورسٹی (انجنیئرنگ) چلا جائے۔" ان "نکمی" عورتوں میں سے ایک میری دادی اور دوسری  نانی تھیں۔ میں الحمدللہ ابھی تک کسی ایسے واقعے سے ناواقف ہوں جب ان دو نکمی ماؤں کی اولاد نے معاشرے کے کسی بگاڑ کو اچھا کہا یا سمجھا ہو یا اپنی اولاد کو اس کی ترغیب دی ہو۔ اگر آپ پاکستانی معاشرے کی تنزلی کی رفتار کو دیکھیں تو ترقی معکوس کا یہ سفر ستر کی دہائی کے اواخر سے شروع ہوا اور پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ تیز تر ہوتا چلا گیا۔ اس دور میں پروان چڑھنے والی موجودہ "تعلیم یافتہ" پود  کی اکثریت "نکمی" ماؤں کی نہیں بلکہ "پڑھی لکھی" ماؤں کی اولاد ہے سو بگاڑ کا ذمہ دار "نکمی ماں" کو گرداننا غلط ہوگا۔ اگر مزید کرید کرنا ہو تو پاکستان کے کسی بھی شہر کی "ترقی یافتہ" آبادی میں پلنے والے بچوں اور کسی دیہہ کی "نکمی ماں" کے تربیت یافتہ بچوں کے اخلاق و کردار، اقدار و نظریات زندگی کا موازنہ کر لیجئے گا۔

    شائد یہ مفروضہ آپ کے ذہن میں آئے کہ میں بچیوں کے اور عورتوں کے تعلیم حاصل کرنے کے خلاف ہوں۔ اس لئے یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جب سرکار ﷺ نے فرمادیا کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے تو پھر کیسے کوئی بھی اس کے خلاف سوچ سکتا ہے؟ میں تو اس سوچ کے خلاف ہوں جس کے تحت علم کا حصول صرف حصول روزگار کے لئے ہے۔ اگر آپ کا علم آپ کو چند ٹکے کما کر نہیں دے سکتا تو آپ نے علم گنوا دیا۔ ضائع کردیا۔ یہ سوچ میرے تئیں سطحی ہی نہیں قابل مذمت بھی ہے۔ علم کا مقصد تو ہے کہ انسان آگاہی حاصل کرے خالق کی اور اس کی مخلوق کی۔ جو علم بلند مکارم اخلاق کی تعلیم نہ کرسکے وہ تو آزار ہے، ایک مصیبت ہے ۔ میں تو اس سوچ کے خلاف ہوں جس کے تحت ایک گھر کو بنانا، سنوارنا، ایک پوری نسل کی درست تربیت کرنا فضول کام ہے۔ اس روئیے کے خلاف ہوں جہاں بچے ماں کی ممتا سے دور آیاؤں کی گود  میں پڑھتے ہیں۔ ان آیاؤں کی گود میں جن کی اکثریت اگرچہ "تعلیم یافتہ" گھروں میں کام کرتی ہے لیکن وہ اور ان کی اولاد تمام عمر "جاہل" ہی رہتی ہے۔  جہاں کام پر جانے کے لئے یا بازار جانے کے لئےتو بناؤ سنگھار کیا جاتا ہے اور جب شام کو شوہر گھر تھکا ہارا واپس آتا ہے تو بیوی سر پر رومال باندھے اُترے چہرے سے اس کا استقبال کرتی ہے۔ جہاں شوہر کے لئے وجہ سکون ہونا یا ہونے کی کوشش کرنا ایک سعی فضول ہے، ان پڑھوں کا کام ہے۔ جہاں گھر سے پہلے اپنا کیریئر آتا ہےیا اپنا آرام آتا ہے۔ جہاں بچوں کا ہونا اور ان کی تربیت ایک ثانوی چیز ہے جن میں سے پہلی کو آخر وقت تک ٹالا جانا چاہئے اور دوسری کے لئے سمجھا جاتا ہے کہ کتابیں پڑھنے یا پڑھانے سے آجائے گی اور استادوں یا استانیوں کی ذمہ داری ہے جو ہم ایسے ہی "پڑھے لکھے" ہیں۔ ایسی سوچ سے میرا اختلاف ہے جہاں کار اور ٹریکٹر دونوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک جیسا کام کریں گے۔

    تعلیم تو  ایک زیور ہے، ایک سنگھار ہے مرد و زن کا۔ بدقسمتی سے ہم میں سے اکثریت نے تعلیم بس رواجاً حاصل کی ہے اور الفاظ کو رٹا مارا صرف نمبر لینے کے لئے۔ تعلیم کی روح تک پہنچنا نہ ہمارا مقصد تھا اور نہ ہمیں سکھایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بجائے اس کے کہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی اپنے گھر کو زیادہ سگھڑاپے سے چلاتی، اپنے بچوں کی زیادہ بہتر نشونما کرتی اور ایک متوازن و خوبصورت معاشرے کی بنیاد کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرتی، ہماری تعلیم یافتہ خواتین نے اپنی تعلیم کو مردوں سے مسابقت کا ہتھیار جانا۔ تعلیم کو روپیہ اور روپیہ کو گھر میں حکمرانی کرنے کی خواہش کا آلہ بنانے کی ٹھانی۔میں اس کی کیوں مانوں؟ میرا علم اس جتنا یا اس سے سوا ہے۔ میں بھی کماتی ہوں۔ میرا بھی اس گھر کے معاملات میں اتنا ہی حق ہے۔ وغیرہ وغیرہ  سو ہمارے  گھریلو سسٹم اور معاشرے کی بنیادیں ہل گئیں۔ مجھے آپا (بانو قدسیہ) کے اس نظریہ سے کامل اتفاق ہے کہ رشتے اور محبتیں احتیاج میں پروان چڑھتے ہیں۔ اور جب ان احتیاجوں سے آزادی اختیار کرلی جائے تو رشتے اور محبتیں معدوم ہوجاتی ہیں۔ سکول سے گھر آکر ماں سے روٹی مانگنا۔ بخار میں آدھی رات ماں کو پکارنا۔ اپنے دل کا حال بیوی سے بیان کرنا اس امید پر کہ وہ اپنی مسکراہٹ بھری تسلی سے درد دور کردے گی۔ یہ اعتماد کہ اگر میں باہر محنت کررہا ہوں تو میرے بچے ایک پڑھی لکھی، وفا شعار بیوی کے سپرد ہیں جو ان کی تربیت بطریق احسن کررہی ہے۔ روزاپنے خاوند سے پوچھنا "آج کیا پکائیں؟" یہ سب ایسی احتیاجیں ہیں جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔ رشتوں میں رنگ اور جان ڈالتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری پڑھی لکھی بچی ان سب سے بیزار ہے بلکہ وہ بھی مغربی عورت کی نقالی میں "آزادی" اور "برابری" کے پیچھے بھاگ پڑی یہ جانے بغیر کہ جن معاشروں کی وہ نقالی کر رہی ہے وہاں کیا حال ہے؟ اور اس کا نتیجہ ہماری موجودہ جوان نسل کی ابتر حالت میں ہمارے سامنے آرہا ہے۔ آخر کو یہ جتنی مادہ پرستی آج ہمارے معاشرہ میں موجود ہے یہ ہمارے گھروں سے ہی تو پھوٹی ہے کہیں باہر سے تو نہیں اُگی ۔

    ناچیز اس بات کےہرگز خلاف نہیں کہ عورت گھر سے باہر کام کرے اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں اپنی اہلیت کے مطابق کردار اداکرے ۔میرا اختلاف اس بات سے ہے کہ عورت یا معاشرہ صرف گھر سے باہر کام کرنے کو وجہ عزت سمجھے اور گھر داری کو وجہ ذلت سمجھا جائے۔ جب یہ سمجھا جائے کہ گھر کو سنوارنا، اولاد کی پرورش میں محنت کرنا ایک فضول کام ہے، وقت کا ضیاع ہے، گلے میں پڑا ایسا ڈھول ہے جس سے جلد از جلد پیچھا چھڑا لینا چاہئے۔ میرے تئیں ایک عورت کی پہلی ذمہ داری اس کے خاوند کی خوشنودی اور اپنے بچوں کی صحیح تربیت ہے اور اسے پہلے ان سے بطریق احسن عہدہ برا ہونا چاہئے کہ اس کے بغیر ایک پرسکون اور پرخلوص معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے۔ پھر اگر وقت اضافی ہے، تو حسب توفیق گھر سے باہر بھی ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ اس کے لئے قوانین بھی بننے چاہئیں کہ خواتین بجائے آٹھ گھنٹے کام کرنے کے ایک، دو یا تین گھنٹے کام کرسکیں ۔جیسے ایک استانی ہے تو اس کے لئے لازم نہ ہو کہ وہ پانچ یا آٹھ گھنٹے کام کرے بلکہ ایک دن میں ایک دو پیریڈ پڑھائے اور گھر چلی جائے اور بجائے اس کے کہ ایک مضمون صرف ایک ہی استانی کے ذمہ ہو، تین چار خواتین بانٹ کر مختلف جماعتوں کو ایک مضمون پڑھائیں۔ اسی طریق پر دیگر شعبہ جات کے لئے بھی قوانین اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ جو خواتین  اپنے گھر کی واحد کفیل ہوں ان کے لئے متبادل قوانین بنائے جاسکتے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ نہ تعلیم حاصل کرنا بُری بات ہے اور نہ کام کرنا۔ اگر بُرائی ہے تو اعتدال کھونے میں، غلط ترجیحات کو اختیار کرنے میں اور ناپید مسابقت کے حصول کی کوشش میں۔ ایک معاشرہ اسی وقت صحت مند رہ سکتا ہے جب اس کے تمام افراد اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ اس کے لئے ایک انجن کی مثال دی جاسکتی ہے کہ وہی انجن درست کام کرتا ہے جس کے پسٹن، کیم، کرینک، والو، پیچ سب اپنے اپنے مقام پر لگے ہوں اور اپنا کام سرانجام دے رہے ہوں۔ اب اگر پسٹن سے کیم کا، پیچ سے والو کا اور کرینک سے پسٹن کا کام لینے کی سوچی جائے تو انجن گیا کام سے۔ یہی حال معاشرے کا ہے۔

    Tuesday, December 29, 2009 at 23:22
    272 مشاہدات
  • آرڈی اور ہم

    ایک بہت لائق احترام بہنا نے اپنے بلاگ پر لکھی ایک تحریر کو اس کے انجام تک پہنچاتے ہوئے اپنی بیٹی کے لئے کہا کہ "اسے محض ایک ذمہ دار عوت نہیں ذمہ دار انسان بننا ہے جو اپنے ماحول کی بہتری کے لئے اپنی قدرتی صلاحیتوں کو استعمال کر سکے۔ جسے اسے دینے میں خدائے پاک نے کسی بخل سے کام نہیں لیا۔" ان الفاظ نے میرے اندر کچھ ہلچل سی مچا دی اور میں نے ان سے استفسار کیا کہ "ایسا لگا جیسے آپ کہہ رہی ہیں کہ عورت انسان نہیں یا شائد یہ کہ عورت ہونا کچھ کمتر بات ہے۔" اس پر ان کا جواب تھا  "خرم صاحب، لگتا ہے آپ بہت دنوں سے پاکستانی معاشرے سے بہت ظاہری سی ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ بات عام طور پہ سمجھی اور کہی جاتی ہے کہ اصل میں عورتوں کی سرگرمیاں بہت محدود ہوتی ہیں اور انہیں ان پہ ہی توجہ دینا چاہئیے۔ میں نے اس پہ ہی اشارہ کیا ہے۔اور کوئ بات نہیں۔" ان کی اس بات نے میرے ذہن میں کئی سوال پیدا کئے لیکن ان سے پہلے چلتے ہیں کچھ کڑیاں کھوجتے ہیں ماضی کی۔

    1992 ۔ 1993Ardipithecus_kadabba_fossils کی بات ہے، تحقیق کاروں کو ایتھوپیا کے آفار نشیب میں ایک قدیم مخلوق کے آثار ملے۔ کھوپڑی ، جبڑا، دانت اور بازو کی ہڈیاں  ملا کر یہ قریباً سترہ ہڈیاں تھیں۔ 1994 میں مزید ہڈیاں دریافت ہونے پر اس مخلوق کے 45 فی صد ڈھانچے کی تشکیل ممکن ہوئی۔ ابتدائی طور پر تو خیال تھا کہ یہ آسٹریلوپیتھیکس نما جاندار کی باقیات ہیں جو موجودہ نسل انسانی کا حیاتیاتی جد ہے لیکن پھر بعد میں اسے ایک نئے حیوان کے طور پر پہچان دی گئی اور اسے آرڈی پیتھیکس کا نام دیا گیا۔ 1999 سے 2003 کے درمیان  اس قبیل کے نو مزید جانداروں کی باقیات دریافت کی گئیں جو تینتالیس لاکھ بیس ہزار برس سے لیکر پینتالیس لاکھ دس ہزار برس قدیم تھے۔ تین سو سے ساڑھے تین سو مکعب سینٹی میٹر دماغ کا حامل یہ جاندار آسٹریلوپیتھیکس سے بھی قبل اس کرہ زمین پر موجود تھا اور انسان کے ارتقائی عمل کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس کے دانتوں کے معائنہ سے یہ معلوم ہوا کہ عام بندروں اور لنگوروں کے برعکس یہ جانور ہمہ خور (Omnivore) تھا جیسا کہ انسان ہے۔ موجود بندروں کے برعکس نر اور مادہ کے نوکیلے دانتوں میں بھی قابل ذکر فرق نہ تھا جو اچنبھے کی بات ہے کہ نر بندر اپنے نوکیلے دانتوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اس ہتھیار کا سب سے عمومی استعمال ماداؤں کی رفاقت حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ دانتوں کی اس مختلف بناوٹ سے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ انسانوں اور بندروں کے مشترکہ حیاتیاتی اجداد میں باہمی لڑائی جھگڑا بہت کم ہوا کرتا تھا جو کہ بندروں کی موجودہ عادات سے یکسر مختلف ہے۔

    آرڈی پیتھیکس بہرحال انسانوں اور موجودہ بندروں کے مشترک حیاتیاتی جد سے بعد کی مخلوق ہے اور نسل انسانی کے ارتقاء کی ایک کڑی ہے۔ آرڈی پیتھیکس کے پاؤں جہاں درختوں پر پھدکنے کی بجائے زمین پر چلنے میں زیادہ ممد تھےوہیں نر اور مادہ کے درمیان دانتوں کی ساخت میں قابل ذکر فرق کا نہ ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ ان کی آبادی میں طویل المدت جوڑے بنا کر رہنے کا چلن تھا۔ جس بات نے سائنسدانوں کو حیران کیا وہ آرڈی کی زمین پر سیدھا چلنے کی اہلیت تھی۔ آرڈی پیتھیکس کے دانتوں کی ساخت اور اس کے زمین پر سیدھا چلنے کی اہلیت سے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک بڑے دماغ کی نشو نما سے پہلے ہی وہ ایک پیچیدہ معاشرتی نظام کی ابتداء کرچکے تھے اور اس سب کچھ میں سیدھا چلنے کا بہت عمل تھا۔

    انسان ہونے کے ناتے دو پاؤں پر سیدھا کھڑا ہوکر چلنا ہمارے لئے معمول کی بات ہے لیکن حیاتیاتی دنیا میں یہ ایک عجوبہ سے کم نہیں۔ دو ٹانگوں پر چلنا ایک انتہائی غیر مستحکم طریقہ ہے جبکہ اس کے برعکس چار ٹانگوں پر چلنا ایک انتہائی مستحکم طریقہ ہے جس میں آپ کا توازن کھونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ پھر دو ٹانگوں پر چلنے کی وجہ سے انسان نہ تو دوسرے جانوروں سے تیز بھاگ سکتا ہے اور نہ زیادہ لمبے فاصلے پیدل طے کرسکتا ہے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ وہ مخلوق جس نے لاکھوں برس قبل چار ٹانگوں پر چلنے کے مستحکم طریقے کو چھوڑ کر دو ٹانگوں پر چلنے کے غیر مستحکم طریقے کو اپنایا، آج اس زمین پر حکومت کر رہی ہے جبکہ اسی کے جن حیاتیاتی بھائی بندوں نے چار پاؤں پر چلنے کو ترجیح دی ان میں سے اکثر اسی کے ہاتھوں معدومیت کے خطرے کا سامنا کررہے ہیں؟

    سائنسدان اس سوال کا جواب ایک انتہائی بنیادی حیاتیاتی رویہ میں تلاش کرتے ہیں۔ قدرت نے ہر جاندار میں اپنی نسل کو بڑھانے کے جذبہ کو درجہ اولٰی میں رکھا ہے۔ حیاتیاتی مشاہدات اس نتیجے کی طرف غمازی کرتے ہیں کہ ہر جاندار اپنی تمام عمر اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ایک صحت مند نئی نسل اس دنیا میں چھوڑ کر جائے اور اس کے لئے تمام جانداروں میں بقول ڈارون فطری چناؤ کا نظام قائم ہے جس کے تحت وہ اپنی آئندہ نسل کے لئے ایسی جین چُنتے ہیں جن کی بقا کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی لئے عمومی طور پر نر جانوروں کو ماداؤں کے حصول کے لئے سخت مقابلہ کرنا پڑتا ہے جس کے دوران ان میں سے اکثر ہلاک بھی ہوجاتے ہیں لیکن اس سب سے فطرت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ صرف سب سے صحت مند جین ہی نئی نسل کو منتقل ہوں۔ اس تمام مار دھاڑ کے بعد اکثر جانوروں میں اپنی اولاد کو اچھا آغاز فراہم کرنے کی سعی ملاپ کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے۔ ملاپ کے بعد نر اپنی راہ لیتا ہے اور مادہ اپنی۔

    جب انسان کے ارتقائی اجداد نے دو پاؤں پر چلنا شروع کیا تو ایک زبردست تبدیلی پیدا ہوئی۔ دو ٹانگوں پر چلنا اگرچہ دشوار تھا لیکن اس عمل سے ان کے دو ہاتھ فارغ ہوگئے۔ ان دو ہاتھوں نے انہیں اس قابل کیا کہ وہ اپنی اولاد کی پرورش اور نگہداشت کا فرض بانٹ سکتے تھے۔ آپ سوچیں گے وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ اب جوڑے کا ایک فرد خوراک کے حصول کے لئے جاسکتا تھا اور خوراک ملنے پر نہ صرف اپنا پیٹ بھر سکتا تھا بلکہ اپنے ساتھی اور بچے کے لئے وہ خوراک ہاتھوں میں اٹھا کر بھی لاسکتا تھا۔ اس بنیادی تغیر کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ نر اور مادہ صرف ملاپ کے لئے ہی نہیں بلکہ اولاد کی پرورش و نگہداشت تک ایک ساتھ رہنے لگے اور اسی بنیاد پر انہوں نے ایک پیچیدہ معاشرتی نظام کی بنیاد ڈالی۔ جب دو ٹانگوں پر چلنے نے انہیں ذمہ داریاں بانٹنے میں مدد دی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی نئی نسل نے ارتقائی منازل زیادہ سرعت سے طے کیں کہ اب ایک نوزائدہ بچہ زیادہ دیر تک اپنے والدین کی حفاظت میں رہتا تھا اور اس وجہ سے اس کی دماغی نشو نما کے مواقع زیادہ تھے۔

    سائنس اب اس بات کو مانتی ہے کہ انسانی ارتقاء اورایک پیچیدہ معاشرتی نظام کی نشونما میں اس بنیادی رویہ کا بہت بڑا عمل دخل تھا کہ انسان کے حیاتیاتی اجداد نے اپنی ذمہ داریاں بانٹیں اور جب جوڑے کا ایک فرد خاندان کے لئے وسائل فراہم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا تو دوسرے کے ذمہ ان کی اولاد کی پرورش اور دیکھ بھال ہوئی اور اس طرح وہ اس قابل ہوئے کہ جسمانی طور پر کمتر ہونے کے باوجود ان کی اولاد کے پاس دنیا میں زندہ رہنے کے مواقع باقی مخلوقات کی نسبت بہتر تھے۔ لیکن اب شائد وقت بدل گیا ہے۔ بہت بدل گیا ہے۔ اب انسان شائد اس سمجھ سے بھی دور ہوتا جا رہا ہے جو آرڈی کے پاس تھی۔  اب اولاد کی پرورش ایک بائی پراڈکٹ ہے۔ ایک ڈھول جو گلے میں پڑے تو بجانا ہی پڑتا ہے۔ ایک ایسا کام جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب ہر کوئی ہر کام کرنا چاہتا ہے اور کوئی بھی اپنا کام نہیں کرنا چاہتا۔ اولاد کی پرورش وقت کا ضیاع ہے، اہلیت کا ضیاع ہے۔ ایک ماں ہونا۔ صرف ماں ہونا تو مانو ایک گالی ہے۔ کہ لوجی تمام عمر کچھ  نہیں کیا؟؟ بچے پیدا کرنا بھی کوئی کمال ہے؟؟ سب کرتے ہیں اور پال بھی لیتے ہیں۔انسان کو اپنا کیریئر بنانا چاہئے۔ رہے بچے تو وہ پہلے تو دس بارہ برس ہونے ہی نہیں چاہئیں کہ یہی وقت ہوتا ہے کیرئیر بنانے کا۔ پھر جب ہو گئے تو کچھ عرصہ آیاؤں کے سپرد، پھر دو برس کے ہوئے تو سکول والوں کے سپرد اور بس۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ پل بھی جائیں گے، پڑھ بھی جائیں گے اور سیکھ بھی جائیں گے جو دنیا کا رواج ہے۔ ویسے بھی یہ سب انہی کے لئے تو ہے۔ ہم نے کونسا ساتھ لے جانا ہے؟ اور ویسے بھی بندہ محتاج نہیں ہوتا جب خود کماتا ہے۔ رُعب رہتا ہے سسرال میں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔  اور جہاں اتنی ساری "میں میں اور صرف میں" ہو وہاں تو کوئی بھی پرخلوص رشتہ پروان نہیں چڑھ سکتا چہ جائکہ ماں ایسا رشتہ جو تمام رشتوں میں سب سے مقدس کہ خالق نے جب مخلوق سے اپنی محبت کی مثا ل دینا چاہی تو ماں کی محبت کو پیمانہ بنایا۔

    شائد نپولین نے کہا تھا کہ "تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا"۔ اب جہاں عورت ہونا، ماں ہونا، صرف ماں ہونا ہی ایک طعنہ ہو،ایک رکاوٹ ہو، ایک مجبوری ہو وہاں اچھی قوم کہاں سے اُگے گی بھلا؟

    Monday, December 28, 2009 at 18:02
    213 مشاہدات
  • شریک گروہ عام نہیں

    بہت عرصے سے ایک موضوع پر لکھنا چاہ رہا تھا۔ عمومی طور پر کچھ باتیں اس طرح رواج پا جاتی ہیں کہ غلط ہونے کے باوجود درست گردانی جاتی ہیں۔ لغت میں اسے غلط العام کہا جاتا ہے۔ عمومی جب غلط العام کی بات کی جاتی ہے تو چند الفاظ یا محاورات کی ترکیب و معانی پر ہی توجہ مرکوز رہتی ہے۔ لیکن غلط العام صرف الفاظ ہی نہیں روئیے بھی ہوا کرتے ہیں۔ ایسے روئیے جو غلط ہیں لیکن دیکھا دیکھی یا سُنی سُنائی کی بنیاد پر رواج پاگئے اور اب ان کے خلاف بات کرنا بھی عجب گردانا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک روئیے پر آج بات کرتے ہیں لیکن بات آگے بڑھانے سے پہلے کچھ اوراق پلٹتے ہیں تاریخ کے۔

    یہ سرزمین جسے ہم پاکستان کہتے ہیں، 14 اگست 1947 سے پہلے معلوم تاریخ میں اسے ہندوستان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسلام اگرچہ یہاں محمد بن قاسم کی فتوحات کے سبب آچُکا تھا لیکن ایک غالب عرصہ تک اس کی اشاعت صرف ان علاقوں تک ہی محدود رہی جومحمد بن قاسم نے فتح کئے تھے۔ یہ صورتحال اس وقت تک قائم رہی جب محمود غزنوی نے ہندوستان پر اپنے حملوں کا آغاز کیا۔ آج کے برعکس اس دور کا ہندوستان ایک مالدار ملک تھا جس کی عملداری ایک وقت میں کابل سے بنگال تک تھی۔ محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملوں کی وجوہات خالصتاً معاشی اور سیاسی کہی جاسکتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے ہندوستان میں زمینی راستے سے بھی مسلمانوں کی آمدورفت شروع ہوئی۔  شروع میں تو محمود ہر حملے کے بعد اپنی سپاہ اور مال غنیمت کے ساتھ واپس چلا جاتا لیکن  پھر اس نے لاہور کے صوبہ کو براہ راست اپنی مملکت میں شامل کرکے ایاز کو اس کا صوبیدار مقرر کردیا تھا۔ اس سیاسی تبدیلی کے باوجود ہندوستان کی اکثریت آبادی غیر مسلم تھی ۔ حکمرانوں کی  توجہ عموماً امور سلطنت پر ہوا کرتی ہے اوروہ اسی میں مشغول تھے۔

    یہ وہ وقت تھا جب مسلم صوفیاء نے ہندوستان کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ یہ لوگ بعد از تکمیل تربیت اپنے مرشد کے حکم پر اس ملک میں آتے، جس جگہ کا حکم ہوتا وہاں ڈیرہ لگاتے اور اللہ کی یاد شروع کردیتے۔ یہ بزرگ کیونکہ اسوہ رسول کریمﷺ پر مکمل عمل پیرا ہوتے تھے سو اس اسوہ حسنہ کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر ان کے اردگرد بسنے والے ان کی طرف مائل ہوتے۔ پھر یہ بزرگ آہستہ آہستہ ان لوگوں کو دین اسلام کی تعلیم دینا شروع کرتے اور لوگ مسلمان ہوجاتے۔ اس عظیم کام میں ان بزرگوں کا ہتھیار صرف یہ اسوہ رسولی ﷺہوتا تھا۔ جب کسی بزرگ کا وقت آخر آتا تو اپنے شاگردوں میں سے جسے اس کا اہل سمجھتے، اسے منصب تعلیم و ارشاد سونپ کر رُخصت ہوجاتے اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا۔ خلق خدا  کے لئے یہ بزرگ ایک لائٹ ہاؤس کا کام دیتے تھے۔ لائٹ ہاؤس جو گھٹا ٹوپ اندھیروں میں جلتا رہتا ہے اور راستہ دکھاتا ہے۔  جسے دیکھ کر مسافر کی تھکن دور ہوجاتی ہے  اور اسے اطمینان ہوجاتا ہے کہ وہ راستہ بھٹکا نہیں۔ اسلام کی تبلیغ میں ان بزرگوں نے اپنوں اور غیروں کی مخالفتیں سہیں۔ تنگیاں برداشت کیں گھر بار چھوڑے لیکن اپنا توکل اللہ کی ذات پر رکھا اور اللہ کے ہو کر رہے۔  یہ بزرگ ہندوستان میں دین کی تعلیم اور اس کے فروغ کا ذریعہ ہی نہ تھے بلکہ اس کے عوام میں بلند مکارم اخلاق کی بلا تخصیص مذہب پرچار کرنے والے بھی تھے۔ آج بھی پاکستان کی تمام اکائیوں میں پایا جانے والا کلاسیکی ادب انہی بزرگوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جس میں معرفت حق کے ساتھ ساتھ بلندی اخلاق کے اسباق موجود ہیں۔

    انگریز جب ہندوستان میں وارد ہوئے تو جانتے تھے کہ انہیں اصل خطرہ مسلمانوں سے ہے۔ اس خطرہ کا سد باب کرنے کے لئے انہوں نے مسلمانوں کے عقیدہ کی جڑ پر وار کرنے کی سوچی۔ جیسے بیروں کو پگڑیاں پہنا کر گوروں کو برترسمجھنے کا رواج ڈالا، جیسے انگریزی کو ایک برتر زبان سمجھانے کا ڈول ڈالا اسی طرح انہوں نے مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کرنے کے لئے دو رُخی پالیسی کا اجرا کیا۔ اس کے ایک پہلو کے طور پر تو انہوں نے مذہب کو بالکل ہی لایعنی قرار دینا شروع کیا لیکن یہ طریقہ زیادہ کارگر نہ تھا کہ ہندوستان کے لوگ اپنی جذباتی فطرت کی بنا پر اپنے اپنے مذاہب سے زیادہ قریب تھے۔ اس حقیقت کا ادراک ہونے پر انگریزوں نے دوسری چال چلی اور مسلمانوں کو ان کے مذہبی مراکز سے دور کرنا شروع کیا۔ اس مقصد کے لئے جہاں عقلیت کا سہارا لیا گیا وہیں یہ بھی اہتمام کیا گیا کہ موجود مذہبی نظام کو تحقیر کا باعث بنایا جائے اور لوگوں کو ان اصحاب سے دور کیا جائے جن کی بدولت اسلام اس سرزمین پر آیا۔ اس کے لئے  جہاں انہوں نے ایسے "علماء" کی امداد کرنا شروع کی جن کا علم الفاظ تک محدود تھا وہیں انہوں نے ان لوگوں کی سرپرستی کی جن کے اجداد میں سے کوئی بزرگ دین گزرا تھا لیکن خود ان لوگوں کا عمل دین پر نہ تھا۔ ان لوگوں کو جاگیروں سے نوازا گیا ، ان کے مدارس کے لئے چندے دئیے گئے اور دیگر مراعات دی گئیں۔ انہیں عالم اور پیر مشہور کیا گیا اوروقت آنے پر مرزا غلام احمد جیسے بندے سے اعلان نبوت بھی کروایا گیا تاکہ مسلمانوں میں انتشار پیدا ہو۔ اس ساری تنظیم کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ان لوگوں سے دور کردیا جائے جن کے کردار میں حکومتیں بدل ڈالنے کی طاقت ہے۔ 

    جو اللہ والے تھے وہ اس سب سے لاتعلق اپنے کام میں مشغول رہے لیکن انگریز کا وار اتنا رائگاں بھی نہ گیا۔  عقلیت والوں نے  جھوٹے اور نمائشی پیروں اور علماء کو دیکھ کر اپنی لادینیت کی تصدیق کی۔ جو علمائے ظاہر تھے وہ چونکہ صاحبان حال و قال نہ تھے سو اپنی دکان چمکانے کے لئے انہوں نے پیروں اور مشائخ کو نشانہ بنایا  تاکہ لوگ ان کی طرف مائل ہوں ۔ ان لوگوں نے ایسی کھیپ تیار کی جنہیں احادیث اور آیاتِ قرآنی تو ازبر تھیں لیکن ان پر عمل سے عاری اور اپنے "علم" کے نشہ میں چُور تھے۔ ڈبہ پیر چو نکہ سرکاری اثر و رسوخ رکھتے تھے سو عوام الناس بھی ان کی طرف مائل ہوئے کہ پیر صاحب کو "نذرانہ" دیا اور پھنسے ہوئے کام نکل گئے۔ اللہ کے ساتھ تعلق داری کی بھی آس رہی کہ پیر سے وابستگی کو ہی کافی سمجھا گیا۔ جب وقت آیا تو سب نے دیکھا کہ تمام علمائے ظاہر اور ڈبہ پیر ایک طرف تھے اور اللہ والے ایک طرف اور پھر اللہ نے ہمیشہ کی طرح اپنے بندوں کو سرفراز کیا اور پاکستان قائم ہوا۔

    قیام پاکستان کے بعد انگریز تو چلا گیا لیکن اپنے لگائے ہوئے بُوٹے چھوڑ گیا جو آہستہ آہستہ تناور درخت بن گئے۔ ظاہر والوں کے پاس کیونکہ صرف الفاظ تھے سو عقلی بنیادوں پر ان الفاظ کی ایسی ایسی توجیہات نکالی گئیں کہ حشر برپا ہوگیا۔ زور چونکہ اپنے علم کی برتری منوانے پر تھا سو آج دین کی ایسی تشریحات میدان میں ہیں کہ مسلمان کا جینا حرام، اس کا مرنا حرام، اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا ہنسنا حرام، اس کا رونا حرام نظر آتا ہے۔ مسلمان کا صرف ایک کام ہے کہ تلوار، تیر، بندوق، بم، جو ہاتھ لگے اٹھائے اور کشتوں کے پشتے لگا دے۔ اس پر طرہ یہ کہ انگریزوں نے ایسا ہی ایک بُؤٹا مشرق وسطٰی میں بھی لگایا تھا۔ تیل کی ریل پیل ہوئی تو وارے نیارے ہوگئے ۔ سو اب فنڈ آتے ہیں، "مجاہد" آتے ہیں، "مبلغ" آتے ہیں، "فتاوٰی" آتے ہیں،  "تفسیریں آتی ہیں. “تراجم" آتے ہیں، لمبے کرتے پاجامے آتے ہیں اور قوم "اسلام کے رنگ" میں رنگی جارہی ہے چٹاخ پٹاخ۔ دوسری طرف ڈبہ پیروں نے سیاسی اور دیگر شعبدہ بازیاں شروع کیں اور ان کے ثمرات دونوں ہاتھوں سے سمیٹے۔ مخدوم صاحب وزیر ہیں، مشیر ہیں اور عیش میں ہیں۔ میڈیا میں، سیاسی میدان میں، اقتدار میں کیونکہ یہی دو طبقے غالب ہیں سو عوام بھی ان کو ہی دین کا روپ بہروپ سمجھ کر پیچھے چل رہی ہے۔

    نتیجہ یہ کہ مدارس اور مساجد کھمبیوں کی طرح اُگ رہے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر دن رات گلا پھاڑ رہے ہیں۔ حلق کی تہوں سے الفاظ برآمد کئے جارہے ہیں، خوش الحان قراتیں ہورہی ہیں، داڑھیوں کی لمبائیاں، مونچھوں کی ساخت، آستینوں کی بناوٹ وغیرہا پر تحقیق کی جارہی ہے،  ٹی وی، ریڈیو، اخبار،جرائد پر وعظ و تلقین کے بازار گرم ہیں اور معاشرہ  ہے کہ دن بہ دن بگڑتا چلا جارہا ہے۔ لوگ عجب کافر ہیں کہ نہ خوش الحان قراتوں سے متاثر ہوتے ہیں نہ دھواں دھار خطبات سے اور نہ "ملک مقدس" سے آئے ہوئے فتاوٰی سے۔ سو اب حل یہ تجویز ہوا کہ "یہ قوم ڈنڈے کے بغیر سدھرنے کی نہیں" سو سیاسی اور غیر سیاسی طریقے سے تمام کوششیں کی جارہی ہیں کہ پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کیا جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کو "مسلمان" کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے "مجاہدین" تیار و درآمد کئے جارہے ہیں کہ اس ملک میں "اسلام" کا نفاذ ہوسکے اور ان کی بھرپور سیاسی و اخلاقی مدد کی جارہی ہے۔ یہ کبھی سوچا ہی نہیں کہ آخر کیوں اتنے وسائل کے باوجود یہ تمام لوگ اپنی بات بلکہ درست یہ کہنا ہوگا کہ اللہ اور رسولﷺ کی بات اس مسلم اکثریت والی عوام تک نہیں پہنچا پا رہے؟ وجہ تو صاف ظاہر ہے کہ بات کرنے والے، تبلیغ کرنے والے، وعظ کرنے والےسب  وہ ہیں جن کے اپنے ہاتھوں میں گُڑ ہے اور وہ اوروں کو گُڑ کھانے سے روکنا چاہتے ہیں لیکن  یہ بات کہے کون؟ رہےعوام تو ان کو یہی باور کروایا جارہا ہے کہ جو وہ فرما رہے ہیں یہی "اصل اسلام" ہے اور ان کے خلاف بات کرنے والا یا تو مرزائی ہے، یا "منافق" اور دونوں صورتوں میں واجب القتل۔

    ان حالت میں آپ کسی کو بتائیے کہ میرے پیر صاحب ہیں تو آپ کو سر سے پیر تک ایسے دیکھا جائے گا جیسے آپ کے سر پر یکایک ایک دو نہیں پورے بارہ سینگ اُگ آئے ہیں۔ اور پھر آپ کو ایک شان بے اعتنائی  سے طبقہ حمقاء میں داخل کردیا جائے گا۔ آپ نے کہیں حوالہ دیا کہ "ہمارے پیر صاحب نے یہ فرمایا تھا" تو آپ کو شخصیت پرستی کا شکار قرار دے کر آپ کی بات کو سُنے بغیر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائےگا۔ کہا جائے اگر کہ "پیر تو ایک اُستاد ہے، ایک عالم ہے جو باعمل ہے۔ جسے دیکھ کر آپ کو اللہ یاد آئے۔ جو راہ ہدایت پر آپ کی راہنمائی کرے۔ جسے دیکھ کر آپ کو اسوہ رسول ﷺ کا عملی نمونہ نظر آئے اور اس سے وابستگی اس لئے ہے کہ دین کی روح پر عمل کیا جائے" تو کہا جاتا ہے "اجی ایسے لوگ اب کہاں؟ پہلوں میں ہوا کرتے تھے" عرض کی جائے "آپ نے کبھی کھوجا؟" تو جواب ملتا ہے "ہمیں معلوم ہے پیروں کے آستانوں پر کیا ہوتا ہے؟"  کہا جائے کہ "ڈبہ پیروں کی بات نہ کیجئے عطائیوں کی کثرت ہو تو آپ تمام ڈاکٹروں کو عطائی نہیں گردانتے بلکہ سچے ڈاکٹر کی تلاش مزید شدت سے کرتے ہیں۔" تو پینترا بدل کر کہتے ہیں "پیروں کے ماننے والے تو جی یہ کرتے ہیں اور وہ کرتےہیں وغیرہ وغیرہ"۔ عرض کی جائے کہ "پیر تو ایک اُستاد ہے اور اس کے پاس آنے والے سب مانند شاگرد۔ دنیا کے کسی بھی مکتب میں تمام شاگرد ایک ہی معیار کے نہیں ہوتے۔ پیروں کا کام کیونکہ لوگوں کواپنے سے توڑنا نہیں بلکہ انہیں آہستہ آہستہ راہ پر لانا ہوتا ہے کہ مخلوق مالک سے ملے تو سرخرو ہو۔سو ڈنڈا لیکر ہر ایک پر دین کا "کامل" نفاذ نہیں کرتے بلکہ ان کی غلطیوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کی بہتری میں کوشاں رہتے ہیں" تو پھر فرماتے ہیں "ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور فلاں صاحب کی تفسیر پڑھ رکھی ہے اور حدیث کی کتب بھی پڑھتے ہیں۔" عرض کی جائے کہ "دنیاوی علوم کے لئے تو آپ نے مکتب کا راستہ پکڑا، اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور دین کے معاملہ میں چند کتابیں پڑھ لینا  اور انہیں پڑھ کر جو غلط سلط اپنے جی میں آیا وہی کافی ہے؟" تو جواب آتا ہے "وہ بات اور ہے۔ اللہ نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے۔" عرض کی جائے کہ "پھر قرآن کے ساتھ نبی ﷺ کو کیوں مبعوث فرمایا گیا؟ صرف قرآن کیوں نہ کعبہ کی چھت پر نازل کردیا  گیا؟" تو فرماتے ہیں "تاکہ لوگوں کو قرآن پر عمل کرکے دکھائیں اور یہ خزانہ ہمارے پاس حدیث کی شکل میں موجود ہے" کہا جائے "احادیث بھی تو صرف الفاظ ہیں۔ اگر قرآن کی تشریح کے لئے صاحب قرآن کی ضرورت تھی تو احادیث کے علم کے لئے کسی ایسے کی ضرورت کیوں نہ ہے جو احادیث و قرآن دونوں پر عمل کرکے دکھائے؟" جواب آتا ہے "ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔" عرض کی جائے "گویا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا علم کامل ہے اور آپ کے خیال میں ایسے شخص کا ہونا ناممکن ہے جس کا علم اور عمل آپ سے بہتر ہو کہ اسے دیکھ کر، اسے سُن کر آپ اپنی اصلاح کرسکیں؟" اس کے بعد یا تو ایک تیوری چڑھا کر "جی ہاں" کہہ کر مُنہ پھیر لیا جائے گا وگرنہ خاکسار کی زندگی کی تمام معلوم خامیوں کا پوسٹ مارٹم شروع ہوجائے گا۔

    مسئلہ یہ ہے کہ اگر صرف الفاظ اور بات کا بتا دینا ہی کافی ہوتا تو اللہ کریم ہر کتب سماوی کے لئے فرشتوں کی ایک جماعت بھیجتا جو لوگوں کو وہ کتاب دیتی، لوگ اسے پڑھتے اور اچھے مسلمان بن جاتے۔ یقیناً ایسے نہیں ہوا۔ مشئیت ایزدی تھی کہ کتاب کے ساتھ ایک عملی نمونہ بھیجا جائے جو اس کتاب پر عمل کرکے لوگوں کو دکھائے۔ انسان الفاظ سے نہیں ان میں چھپے خلوص سے اور ان پر کئے گئے عمل سے متاثر ہوتا ہے۔ صدر زرداری دن رات رشوت کی مذمت میں بیان دیں کوئی بات تک نہیں سُنے گا۔ اس کے برعکس ایک غریب چپڑاسی جس نے تمام عمر رشوت نہ لی ہو، کم از کم اس کی موجودی میں ہی لوگ رشوت لینے سے احتراز کریں گے۔ یہی فرق ہے علم اور عمل کا۔ یہی فرق تھا کہ اولیاء اور صوفیاء لمبے چوڑے وعظ نہیں کرتے تھے، تبلیغ کی جماعتیں نہیں بھیجتے تھے پھر بھی لوگ آتے  اور ان کے کردار و گفتار سے متاثرہوکر ان کا دین اپنا لیتے۔ ان کا روپ انہیں اس قدر بھاتا کہ صدیوں سے قائم اجداد کے طریق کو چھوڑ دیتے بنا کسی دھمکی بنا کسی مجبوری کے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اپنی کتاب "غنیتہ الطالبین" میں فرماتے ہیں کہ "پیر کامل وہ جس کی ایک سُنت بھی قضا نہ ہو۔" یہی اصحاب ہیں جنہیں پیر کہا جاتا ہے اور یہی اصحاب پیر کہلوانے کے لائق ہیں۔ آج کا انسان، آج کا مسلمان، آج کا معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے ان اشخاص سے جن کا عمل اسوہ رسولیﷺ پر ہو ، جو اس کڑی شرط پر پورا اُترتے ہیں۔ انہیں تلاشنا چاہئے، ان سے وابستگی رکھنا چاہئے کہ وہ ہمیں اسوہ رسولیﷺ پرچلنے کا طریقہ بتائیں، رہنمائی کریں، ہمت دیں، حوصلہ دیں کہ صرف الفاظ کافی نہیں ہوتے، کبھی نہیں ہوتے۔

    Thursday, December 24, 2009 at 10:49
    163 مشاہدات

TOP