Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • گھر کیسا لگا ہے؟

    برسوں کی صحرا نوردی کے بعد آج انشاء اللہ واپس پاکستان کی طرف روانگی ہے۔ کچھ معلوم نہیں کہ اگلے دو ہفتے جو پاکستان میں گزارنے کا ارادہ ہے کیسے گزریں گے۔ آپ تمام بزرگوں، بہنوں اور بھائیوں سے دُعاؤں کی درخواست ہے۔غیر حاضریوں کا حساب انشاء اللہ واپسی پر۔

    Wednesday, November 9, 2011 at 04:59
    309 مشاہدات
  • الجھن

    مجھ سے بہت پہلے کسی بدیس بسنے والے نے کہا تھا کہ پاکستان سے آنے والی خبروں میں دو خرابیاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ اکثر بُری ہوتی ہیں اور دوجا یہ کہ اکثر سچ ہوتی ہیں۔  یہی کشمکش ہمیں بھی درپیش ہے۔ تین برس پہلے ہم نے تمام پاکستانی چینل بند کروا دئیے اور تب سے الحمد للہ بلڈ پریشر بالکل ٹھیک رہتا ہے۔ایک برس سے زائد ہوا میں نے خبریں پڑھنے سے بھی توبہ کرلی اور زندگی میں خوشیوں کا تناسب الحمدللہ بڑھ گیا۔ اس تمام احتیاط کے باجود بھی کوئی نہ کوئی خبر ایسی ہوتی ہے کہ تمام رکاوٹیں توڑتی ہوئی ہم تک پہنچ ہی جاتی ہے۔ اور پھر عموماً یہ ہوتا ہے کہ جتنی بُری خبر ہوتی ہے، اتنی ہی شدید لڑائی ہمارے گھر میں ہوتی ہے کہ ہم دونوں میاں بیوی جذباتی ہیں اور غصہ نکالنے کو ایک دوجے کے سوا اور کوئی نہیں ملتا۔ عمومی طور پر یہی دیکھا ہے کہ جن باتوں پر ہمارا پارہ آسمان سے باتیں کر رہا ہوتا ہے، "سچے پاکستانی" اس بات کو اہم سمجھتے ہی نہیں۔ اب یہ کل کی خبر کہ بندے آئے، جہاز تباہ کئے، ہم نے سب کچھ گھیرے میں لیا اور پھر بھی دو بندے فرار ہوگئے۔ ہمارے گھر کا سکون اس واقعہ نے درہم برہم کر دیا۔ خیر ہمیشہ کی طرح دس پندرہ منٹ بعد حالات معمول پر آگئے لیکن میں سنجیدگی سے کسی ایسی گیدڑ سنگھی کی تلاش میں ہوں کہ یہ واقعات درپیش آنا کلیتاً مفقود ہوجائیں۔ شیکسپئر کے کردار کے دامن پر لگے خون کے داغ کی طرح  پاکستان سے یہ احمقانہ محبت جو سوائے دکھ کے کچھ اور نہیں دیتی، کس طرح اسے دل سے نکال پھینکیں؟ کوئی تجویز، کوئی حل اس مشکل کا آپ ہی بتائیے؟

    478 مشاہدات
  • گر شعور رکھو تو

    نجانے کیوں عنیقہ بہنا کے بلاگ پر میرا تبصرہ نہیں  قبولا جاتا۔ ان کی گزشتہ دو تحاریر پر تبصرہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ پھر سوچا کہ دل کی جو بات کہنا ہے وہ اپنے بلاگ پر ہی کہہ دیتا ہوں۔

    ہم پاکستانی بھی عجب قوم ہیں۔ حماقت کو جذباتیت کا نام دیتے ہیں۔  جو لوگ امریکی حکومت کے رحجانات سے واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کو اپنے ایک شہری کی زندگی بچانے کے لئے اگر تمام دنیا کو ملیا میٹ کرنا پڑے تو اس کی حکومت اور معاشرہ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ دنیا کے تمام ممالک کا جاسوس اگر پکڑا جائے تو وہ اس سے لاتعلقی کا اعلان کردیتے ہیں ماسوائے امریکہ کے کہ ان کے لئے سب سے زیادہ اہم چیز امریکی عوام کی زندگی، خوشی اور خوشحالی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے واقعہ میں بھی یہی سوچ پہلے دن سے حاوی تھی۔ کم از کم میرے دل و دماغ میں کوئی شک نہ تھا کہ امریکہ کو چاہے جو کچھ کرنا پڑے وہ ریمنڈ کو پاکستان میں گلنے اور مرنے نہیں دے گا۔ بات صرف اتنی تھی کہ سودا کس بات پر ہوتا ہے۔ اور سودا کرنے والوں نے بہت اچھا سودا کیا۔ بیس کروڑ روپے اور تین امریکی فیملی ویزے۔

    میں تو سوچتا ہوں کہ اگر بارہ مئی کو مرنے والے، کراچی کے لسانی فسادات میں مرنے والے، سیالکوٹ میں مرنے والے دو بھائی اور ان جیسے سینکڑوں غریب جو وطن عزیز میں اپنی غربت کے ہاتھوں مار دیئے جاتے ہیں وہ بھی ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں مرے ہوتے تو ان کے ورثاء کو کچھ تو مل جاتا۔ جو کچھ ہوا، اس سے کچھ بہتر کیا جاسکتا تھا ان مرنے والوں کے لواحقین کے لئے؟ ریمنڈ کی جان لے کر کیا مل جانا تھا انہیں؟ وہی دھکے اس معاشرہ کے؟ دس روز بعد رونے کو کاندھا بھی نہیں ملنا تھا کسی کا۔ اب کم از کم زندگی کو آرام سے گزارنے کی کوئی سبیل تو پیدا ہوئی ۔ جس ملک میں سڑکوں پر دنیا میں سب سے زیادہ لوگ حادثات میں مرتے ہیں وہاں ایک بندہ کا کچلا جانا تو ویسے بھی کوئی خبر نہیں اور جہاں آئے دن درجنوں لوگ بم دھماکوں میں مرتے ہیں وہاں دو بندوں کا مارے جانا کیسا اچھنبا۔ ان تین کے ورثاء کے ہاتھ پیسہ آنے پر اور ان کے امریکی پاسپورٹ لینے پر کیوں ہر "پاکستانی" کو دُکھ ہورہا ہے؟ سمجھائیے ذرا؟  ریمنڈ ڈیوس کی جان لینے کے لئے بیتاب خواتین و حضرات پہلے ان ہزاروں کی موت کے ساتھ تو انصاف کرلیں جو ہر برس لاقانونیت کی کسی ایک یا دوجی شکل کا شکار ہوکر پاکستانیوں کے ہاتھوں زندگی ہار جاتے ہیں؟ جس ملک میں غریب وکیل اور امیر جج کو خریدتا ہو، وہاں انصاف کی دُہائی ایک زوردار تھپڑ کی صورت میں لوٹانی چاہئے۔ آخر پاکستانیوں کو انصاف صرف امریکہ اور بھارت کے لئے ہی کیوں یاد آتا ہے؟ مزے کی بات ہے کہ آئے روز جو نا انصافیاں ہوتی ہیں انہیں تو ہم معمول سمجھ کر پی جاتے ہیں اور جب انصاف ہوا تو پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔ ایسا کیوں؟ شائد خالص دودھ کی طرح انصاف بھی ہمارے نازک ہاضموں کے بس سے باہر ہے۔

    ایک بات سمجھاؤں؟ جس روز پاکستان اپنے شہریوں کے لئے اس قدر بے قرار ہوگا جیسے امریکہ جیسی سپر پاور ریمنڈ ڈیوس کے لئے ہوئی ہے، اس روز پاکستان بھی ایک عالمی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ یہ فرق ہے امریکہ میں اور پاکستان میں اور یہی ایک سبق ہے اس سارے قصہ میں۔ لیکن سمجھے گا کون؟

    Friday, March 18, 2011 at 11:16
    581 مشاہدات
  • نور محمد خرم بھٹی

    کچھ بہن بھائیوں کے علم میں ہوگا کہ اللہ کریم نے اپنی رحمت سے ہمیں الحمدللہ ایک پیارے سے بیٹے سے نوازا ہے۔ اس کا نام "نور محمد خرم بھٹی" تجویز ہوا۔ ذیل میں نور محمد کی چند تصاویر آپ سب کی پیش خدمت ہیں۔

    دُعا ہے کہ اللہ کریم اسے نور محمد بنائے اور اپنے حبیبﷺ کا عشق عطا فرمائے ۔ آمین۔

    Saturday, February 26, 2011 at 23:15
    702 مشاہدات
  • حقیقت کیا؟

    گزشتہ تحریر میں سابق گورنر پنجاب کے قتل پر پائی جانے والی عوامی اور "عامی" خوشی اور اس کی اصل پر  بات کی تھی۔  آج حسب وعدہ کوشش کروں گا کہ اس تمام تماشے کے متعلق اپنا خیال بیان کروں۔ بات بیان کرنے سے پہلے ایک چھوٹی سی بات بتاتا ہوں آپ کو۔ سن زو (Sun Tzu) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "Art of War" میں لکھا ہے کہ لڑائی کا بنیادی اصول ہے کہ دشمن پر وار  اس جگہ کرو جہاں اسے حملہ کی بالکل توقع نہ ہو۔ پیشہ ور فوجی اس اصول کو استعمال  کرنا بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔

    موجودہ واقعہ سے پہلے ایک خبر لگی تھی اخباروں میں۔ پاکستان نے سی آئی اے کے پاکستان میں سربراہ کو ملک بدری کا حکم دے دیا تھا۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ایک غیر معمولی قدم تھا اور اس کی وجہ وہ واقعہ بنا جب امریکی عدالت میں آئی ایس آئی کے سربراہ کو ممبئی حملوں میں براہ راست نامزد کیا گیا۔ اگرچہ جوابی کاروائی کے طور پر امریکی عدالت میں ہی امریکی وزیر دفاع کو ایک ڈرون حملے کے معاملہ میں فریق بنوا دیا گیا لیکن شائد اس سب کاروائی کے دوران کچھ کالا  ضرور تھا۔ مجھے یہ امکان بہت شدت سے محسوس ہورہا ہے کہ امریکی حکومت کے ان اقدامات میں پاکستانی حکومت بھی ملوث تھی اور یہ سب اس ایجنڈے کا حصہ تھا جس کے تحت پاکستانی فوج کو بتدریج سیاسی حکومت کے ماتحت لانا مقصود ہے۔ اگرچہ یہ ایک بالکل درست منطق ہے اور ایسا یقیناً ہونا چاہئے لیکن ایسا کرنے کی سوچ اور ہمت پاکستان کے اپنے اندر سے اُٹھنی چاہئے ناکہ امریکہ کی شہہ پر۔ بہرطور میرے قیاس کے مطابق اس معاملہ میں فوج اور صدر کے درمیان موجود اختلافات مزید شدت اختیار کرگئے۔ اپنی شاطرانہ چالوں کی شُہرت کی بنا پر شائد سلمان تاثیر بھی اس کھیل کا اہم حصہ رہے ہوں اور میرے خیال میں ان کا قتل اسی کھیل کا ایک کامیاب داؤ ہے۔

    ہر صاحب غور جانتا ہے کہ گورنر، صدر اور ایسے اہم سرکاری عہدیداران کے سیکیورٹی گارڈز کا چناؤ بہت احتیاط سے اور چھان پھٹک کے بعد کیا جاتا ہے۔ ان کی مذہبی، سیاسی اور جذباتی وفاداریاں پورے طور پرکھی جاتی ہیں۔ اور ایسا بالکل نہیں ہوسکتاکہ ایک گارڈ کسی کو قتل کرنے کا عندیہ ظاہر کرے اور اس کے ساتھیوں میں سے کوئی تمام دن اس کی رپورٹ نہ کرے اور پھر وہ گارڈ ایک پورا میگزین گولیاں چلائے پھر دوسرامیگزین بدلے اور ساتھ کھڑے گارڈ چُپ چاپ دیکھتے رہیں۔ اُسے مارنا تو درکنار کوئی اسے روکے بھی نہیں، اُسے دھکا بھی نہ دے۔ ایسا ہونا عام حالت میں بالکل بھی ممکن نہیں تاوقتیکہ تمام کاروائی ایک منصوبہ کا حصہ ہو جس میں ہر کسی نے اپنا کردار ادا کیا۔ گورنر پنجاب حکومتی پارٹی کے صدر کے بعد سب سے اہم عہدیدار تھے (وزیر اعظم کو تو عمومی طور پر فوج کا بندہ سمجھا جاتا ہے)۔ ان کی موت سے غالباً "مرد آہن" کو اشارہ دیا گیا ہے ان کے ممکنہ انجام کا۔ اور کیا زبردست اشارہ ہے۔ ان کی پارٹی کا دوسرا بڑا عہدیدار موت کی نیند سُلا دیا جاتا ہے سرعام اور پارٹی بشمول صدر مملکت کے اس قدر بے بس ہے کہ اس کے جنازے تک میں شرکت نہیں کرپاتی، برسراقتدارہوتے ہوئے بھی ملزم کو سزا تک نہیں دلوا سکتی۔ اس شکست کا حکومت وقت کو بھرپور انداز میں احساس کروا دیا گیا ہے ۔شائد اسی وجہ سے صدر پاکستان آجکل روپوش ہیں (شائد ملک سے ہی باہر جا چُکے ہوں)۔ آنے والے دنوں میں حالات بتائیں گے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا لیکن دو باتیں بالکل واضح ہیں۔

    1۔ سلمان تاثیر کی موت کی وجوہات مذہبی نہیں سیاسی ہیں اور ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔

    2۔ اس کھیل میں فوج نے حکومت کو فی الحال پچھاڑ دیا ہے۔

    زرداری  اور امریکہ کے پاس فی الحال اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یا تو فوج کی شرائط پر سودا بازی کریں وگرنہ بساط کے لپیٹنے کو تیار ہوجائیں۔ فی الحال دکھائی تو یہ دیتا ہے کہ زرداری فوج سے مصالحت کی کوشش کررہے ہیں لیکن اگر امریکہ کا داؤ چل گیا تو وہ زرداری کو فوج کے مخالف لاکر مروا بھی سکتا ہے۔ کیا زرداری اس قدر احمق ہے؟ وقت ہی اس کا جواب دے گا۔

    Tuesday, January 11, 2011 at 16:10
    799 مشاہدات
  • کنویں کا کُتا

    گورنر پنجاب کی موت بہت سے لوگوں کے لئے خوشی کا پیغام لائی ہے۔ خوشی کا پیغام اس لئے کہ بہت سوں نے اس واقعے کے بعد اپنے آپ کو بقلم خود "پکا اور سچا" مسلمان قرار دے دیا۔ یہ پاکستانی لوگوں کی مسلمانی بھی عجیب ہے جی۔ بندے کھڑکائے بغیر اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ سچ، ایمانداری، انصاف، رواداری، اخوت، محبت وغیرہ سے ان کی مسلمانی کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کی مسلمانی قائم ہے نفرت، گروہ بندی، تشدد، عدم برداشت،  ظلم اور قتل و غارت پر۔ ایک بندے نے نجانے کیوں ایک بندے کو قتل کیا اور ڈھکوسلا اختیار کیا "توہین رسالت" کا۔ اس کے بعد یہ قوم جو بدعنوانی میں دنیا بھر میں ممتاز ہے، جہاں پاؤں دھرتے ہی ہر دو نمبر کام کی مذمت کے جواب میں آپ کا پالا اس دلیل سے پڑتا ہے "یہ پاکستان ہے " وہاں "عشق رسولﷺ" کی برسات ہوگئی۔ اور ہر طرف مینڈک ٹرانے لگے "قاتل شاباش، قادری زندہ باد" وغیرہ وغیرہ۔ یاروں نے جانا کہ اب اگر اس  کارخیر کی حمایت نہ کی تو ایمان کی خیر نہیں۔ سو ہر ایک اپنےشعور میں چھپے چور کو مزید چھپانے کے لئے بڑھ چڑھ کر شوروغوغا مچانے بیٹھ گیا کہ کہیں اس کے دل پر ہی چھاپہ نہ پڑ جائے ضمیر کا۔ ایسے میں اگر کسی نے قانون اور انصاف کی بات بھی کی تو پہلے ذاتی اور سماجی طعنوں سے اور پھر "یہ پاکستان ہے" جیسی دلیلوں سےاس کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش ضرور کی۔

    میرا جی چاہتا ہے کہ کسی روز ایک کھُلی کچہری کی جائے اور اس میں تمام قوم کی "مسلمانی" کا پول کھولا جائے۔ جس رحمت اللعالمین ﷺ سے محبت کے ڈھونگ رچائے جا رہے ہیں پوچھا جائے کہ ان سے محبت کے دعویداروں میں سے کتنے ہیں جو ملاوٹ نہیں کرتے؟ جھوٹ نہیں بولتے؟ ریاکاری نہیں کرتے؟ رشوت لینے اور دینے کے کاروبار میں ملوث  نہیں ہیں؟ غیبت کے عادی نہیں؟ سچی گواہی دینے سے نہیں ڈرتے خواہ ان کے اپنے عزیزوں رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو؟ حقدار کو اس کا حق دیتے ہیں اپنی اولاد اور والدین سے لیکر اپنے ملازموں تک؟ امانت لوٹاتے ہیں ان کو جو اس کے اہل ہوں (اس میں ووٹ کی امانت بھی شامل ہے)؟ دوسرے مسلمانوں کے جان اور مال ان  کے شرسے محفوظ ہیں؟ ذخیرہ اندوزی نہیں کرتے؟ عہد پورا کرتے ہیں؟ سُنی سُنائی کو بغیر تحقیق آگے نہیں پھیلاتے؟ اور پھر دیکھا جائے کہ "مؤمنین" کے اس جم غفیر میں سے کتنے ہیں جو اس ابتدائی امتحان میں سے ہی کامیاب ہوتے ہیں؟ کرتوت یہ اور دعوٰی حُب رسول ﷺ کا؟ اور دعوٰی بھی ایسا کہ جو کسی کی جان لینے سے کم پر راضی ہی نہیں۔ یعنی جان لینا تو ایک ایسا کام ہے جوزبان کو فضول ہلنے سے  روکے رکھنے سےبھی زیادہ آسان ہے؟ شارٹ کٹ مسلمانی۔۔۔ اقبال نے کہا تھا کہ "لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا" اب زمانہ ترقی کر گیا ہے۔ جنت میں داخلہ کے بھی گیس پیپرز آگئے ہیں، خلاصے آگئے ہیں اور بس سب سمجھتے ہیں کہ داخلہ پکا۔ سوال جواب کے بغیر۔ جو چاہے کرو، جس کا جی چاہے گلا کاٹو بس یہ خیال رکھو کہ "توہین رسالت ﷺ" کے لئے کسی کا قتل کردو یا کم از کم اس کی حمایت میں ایک جوشیلی تقریر کردو اور سوالنامہ چاہے جیسے بھی بھرا ہو، آپ کا جنت میں داخلہ پکا۔

    ان احمقوں کو کون سمجھائے کہ ان کوتکوں سے آپ دُنیا کے کسی گھٹیا ترین امتحان میں کامیاب نہیں ہوسکتے زندگی کا امتحان تو دور کی بات ہے۔ایک بات بتاؤں آپ کو؟ اگر پاکستان میں رہنے والے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اتنی ہی محبت کرنے والے ہوتے نا جتنا کہ انہیں مغالطہ ہے تو دنیا کے ہر ملک میں داخلہ پر ہرے پاسپورٹ والوں کی الگ قطار نہ ہوتی۔ دنیا کی اقوام آپ سے کاروبار کرنے سے گھبراتی نہیں کہ بیس نمبر مال بھیج کر ایک نمبر کے پیسے وصول کرلیں گے آپ۔ اور سب سے بڑھ کر بات یہ کہ آپ کے بچوں کو خالص دودھ، خالص ہوا اور کم از کم اپنے ماں باپ کا پیار ہی خالص ملتا۔ آپ کا نظام تعلیم گفتار کے نہیں کردار کے غازی پیدا کرتا اور معاشرتی مساوات پاکستان کے ہر کوچہ ہر قریہ میں نظر آتی اور آپ کے یہاں عیسائیوں کے پانی پینے کے لئے الگ گلاس نہ ہوتے کہ شرع میں ایسی کوئی قید نہیں۔ آپ کے یہاں آئے دن لوگ دھڑا دھڑ پھٹ نہ رہے ہوتے اور آپ خودکش بمباروں کی حمایت میں "ڈرون حملوں" کی بودی اور احمقانہ دلیل نہ لاتے بلکہ آپ کا نظام اس قدر طاقتور ہوتا کہ کسی کو ڈرون حملوں کی نہ ضرورت ہوتی اور نہ جرات۔ آپ لوگ اپنی ہر بے عملی کا جواز اس بودی دلیل میں نہ ڈھونڈتے کہ "جی یہ پاکستان ہے" اور نہ آپ کا پسندیدہ جملہ یہ ہوتا "سب غیر ملکی سازش ہے"۔ آپ کا معاشرہ اس قدر ظلم پرور نہ ہوتا جہاں گھر کی چاردیواری سے لیکر ریاست کے ایوانوں تک "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کا چانکیائی قانون پوری شدت کے ساتھ لاگو ہے۔

    بالفرض ۔۔۔ بالفرض اگر سلمان تاثیر نے توہین رسالت بھی کی تھی تو قانون موجود تھا۔ وہی قانون جس کی بزعم خود حفاظت میں سلمان تاثیر کو جان سے مارا گیا۔ چودہ کروڑ مؤمنین میں سے کسی نے اس کے خلاف پرچہ کیوں نہیں کٹوایا؟ کیا آپ کا انصاف طاقتور کے لئے اور ہے اور غریب کے لئے اور؟  اور اگر چودہ کروڑ مؤمنین کے اس ملک میں انصاف کا یہ عالم ہے کہ توہین رسالت ﷺ کے جس قانون کی خاطر مرنے مارنے کی باتیں کی جارہی ہیں، اس کا نفاذ بھی آپ بلا تخصیص رنگ و نسل اور حیثیت و رتبہ یقینی نہیں بنا سکتے تو پھر لعنت ہے حُب رسول ﷺ کے اس دعوٰی پر جو ان تمام چوری کھانے والے مجنوؤں کی زبان پر ہے۔ ایسے میں سلمان تاثیر ایسے آپ ایک کروڑ قتل بھی کرڈالیں تو آپ کی مسلمانی کو کوئی فائدہ نہ ہوگا کہ کنویں میں سے جب تک کُتا نہ نکالا جائے، چاہے جتنے مرضی ڈول پانی نکال دو، پانی ناپاک ہی رہتا ہے ۔اور پاکستانیوں کی مسلمانی کے کنویں کا  کُتا "منافقت" ہے۔

    Sunday, January 9, 2011 at 11:33
    863 مشاہدات
  • ایک وعدہ

    عیدالاضحٰی پر شگفتہ بہنا سے وعدہ کیا تھا کہ انشاء اللہ بچیوں کی عید کی تصاویر پیش خدمت کروں گا۔ اس عید قربان پر بھی حسب روایت عوام دو حصوں میں منقسم تھی۔ امت کی کثیر تعداد سعودی عرب کے ساتھ عید منانےپر مصر تھی اور ایک خاصی کم سی اقلیت مقامی روئیت کے مطابق۔ شہر کے جس حصہ میں ہماری رہائش ہے وہاں تمام مساجد نے سعودی عرب کے ساتھ عید منانے کا اعلان کردیا تھا۔ ہم بقول چند احباب کے دریا کے مخالف بہاؤ پر تیرنے کے شیدا ہیں سو عید ہمیشہ کی طرح مقامی روئیت کے حساب سے ہی منائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس روز ہمارے ارداگرد لوگ چھٹی کرکے عید منا رہے تھے، ہم کام کررہے تھے اور جس روز ہم نے عید اور اس کی چھٹی منائی، احباب اپنے کام کاج میں مصروف تھے۔ اس صورتحال میں یہ سوال آن پیدا ہوا کہ اب عید کا دن کیسے گزارا جائے اور کس کے گھر کو رونق بخشی جائے؟ جیسے کہ بیان کیا کہ احباب تو دفتروں میں کام کاج میں مصروف تھے سو ملا کی دوڑ مسجد تک کے مصداق ہم نے چڑیا کے "گھر" کو رونق بخشنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ میں ایک قانون یہ بھی ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد بارہ گھنٹے تک سرد خانے میں رکھا جاتا ہے اور پھر اس کا گوشت کاٹ کر بیچا جاتا ہے (ہو سکتا ہے اس میں کچھ مبالغہ بھی ہو لیکن ہمیں کم از کم یہی بتایا گیا ہے)۔ سو پہلے تو عید کا کھانا ایک ریستوران میں کھایا اور پھر چلے چڑیا گھر کی طرف۔ چڑیا گھر اگرچہ چھوٹا سا تھا لیکن وہاں جانا بہت خوشگوار تجربہ ثابت ہوا۔ بچیوں نے بھی بہت مزا کیا۔ اسی دوران تصاویر بھی کھینچیں جن میں سے چند آپکی پیش خدمت ہیں۔

    Sisters 2

    Noor 3

    Khadeejah 2

    Noor 2

    Khadeejah 1

    Wednesday, November 24, 2010 at 18:34
    595 مشاہدات
  • اللہ آپ پر رحم فرمائے

    نور اور خدیجہ کے نانا، نانی اس برس الحمدللہ حج پر گئے تھے۔ وہاں سے واپسی پر انہوں نے ایک بات بتائی کہ اس دوران جب کسی غیر ملک کے حاجی سے تعارف ہوتا اور انہیں پتہ چلتا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں تو اکثریت کا فوری ردعمل ہوتا تھا "اللہ آپ لوگوں پر رحم فرمائے"

    Tuesday, November 23, 2010 at 20:19
    553 مشاہدات
  • عرس کی حقیقت

    تصوف کی دُنیا میں عرس کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہر برس، ایک مقام پر جو عموماً کسی بزرگ کا آستانہ ہوتا ہے، وہاں پر معتقدین جمع ہوتے ہیں اور  چند ایام وہاں گزارتے ہیں۔ موجودہ زمانے کا المیہ یہ ہے کہ جیسے آجکل کے مسلمانوں نے روزہ، نماز، حج و قرآن وغیرہ کی اصل غایت بدل دی ہے اور محض رسمی صورت رہ گئی ہے ویسے ہی عرس کا موضوع بھی بدل گیا ہے۔ عرس کا اصلی موضوع یہ تھا کہ نورانی حقیقت کو حاصل کیا جائے۔ اس کی بجائے عموماً اکثر عرس خرافات کا نمونہ بن گئے ہیں۔ ناچ گانے اور دوسری خرافات ان عرائس کا ضروری حصہ ہوگئی ہیں اور عرس کا اصلی مدعا مفقود ہوگیا ہے۔ ذیل کی سطور میں کوشش کی جائے گی کہ اعلٰی حضرت پیر نظیر احمد اور مرشدی پیر ہارون الرشید صاحب مد ظلہُ تعالٰی کے فرامین و تعلیمات کی روشنی میں عرس کے مقصد اور اہمیت کو واضح کیا جاسکے۔  انشاء اللہ

    لفظ عرس مادہ ہے جس سے دوسرے الفاظ مثل عروس، عروسہ، عرائس وغیرہ مشتقات ہیں۔ عرس کی اصلیت یہ ہے کہ طوفان نوحؑ کے وقت جب مکہ معظمہ یعنی بیت اللہ شریف کی جگہ بیت المعمور آباد تھا، بہت سے فرشتے بحکم الٰہی بیت المعمور کے پاس جمع ہوگئے اور پھر اس کو چوتھے فلک پر لے گئے اور بیت اللہ شریف کی جگہ ایک ٹیلہ مرتفع رہ گیا۔ بعدہُ ہر سال حج مبارک کے ایام میں فرشتے اس جگہ پر جمع ہوجاتے تھے۔ اسی اجتماع کی صورتِ جامعہ کو عرس کہا جاتا ہے اور موجودہ عرس کی اصلیت وہاں سے ہے ۔ حضرت ابراہیمؑ نے سالانہ عرس شریف قائم فرمایا یعنی حج کا انتظام کیا۔ اس سنت کو حضور پاکﷺ نے جاری رکھا اور بزرگان عظام نے بھی اس سنت کو جاری رکھا۔ اب جیسے چار رکعت نماز باجماعت ہو رہی ہو اور ایک شخص اگر آخری رکعت میں بھی شمولیت کرے تو اس کی ساری نماز باجماعت ہوجاتی ہے ایسے ہی حقیقی عرسوں میں شمولیت اصل میں اصلی عرس ابراہیمی کی شمولیت ہے۔ اسی لئے مدعا یہ ہے کہ وہی کیفیت حالیہ پیدا ہو جو ابراہیم علیہ السلام پر طاری ہوئی تھی۔

    عرس میں چند چیزوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے

    1۔ اجتماع مسجد میں نہ ہو

    2۔ واعظ متقی اور پرہیزگار ہوں

    3۔ اشعار خلاف شرع نہ ہوں

    4۔ عورتیں مردوں سے الگ رہیں

    5۔ لوگوں کو اطاعت الی اللہ اور اطاعت الی الرسول کی طرف بلایا جائے

    6۔ نمود و ریاء اور علو نفس کے لئے مجلس کا انعقاد نہ ہو بلکہ نیت تعلیم و تبلیغ میں صرف خوشنودی اللہ تعالٰی ہو

    7۔ وعظ سُننے کے لئے تمام لوگ باوضو متوجہ ہو کر بیٹھیں اور بغور سُنیں

    اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ہر فعل کا انحصار اس کے ارادہ ، نیت اور خیال پر ہے۔ اگر وہ خیال صحیح ہے تو وہ عمل بھی صحیح ہے جیسے ایک آدمی قتل کرتا ہے تو وہ کافر ہوجاتا ہے مگر ایک قتل ایسا بھی ہے کہ اگر نہ کرے تو کافر ہوجاتا ہے اور اس کے سارے اعمال ساقط ہوجاتے ہیں (جہاد بالسیف میں قتل)۔ تو معلوم ہوا کہ اگرچہ ظاہری صورت یکساں ہے مگر خیال کے فرق کی وجہ سے عمل میں بھی فرق ہوگیا۔ اسی طرح عرس شریف کا معاملہ ہے۔ اگر عرس شریف اس خیال سے منعقد کیا جائے کہ لوگ جمع کئے جائیں تاکہ آمدنی کی صورت ہوجائے، اپنا نام و نمود ہو اور تعلیم دین کا انتظام نہ کیا جائے بلکہ کھیل تماشے کا انتظام ہو اور اس میں شمولیت کرنے والے بھی صحیح تعلیم حاصل کرنے کے لئے نہ آئیں تو ایسا عرس حرام ہے اور اس میں شمولیت ناجائز ہے۔

    اسی طرح اگر عرس شریف میں اس خیال سے آیا جائے کہ چلو میلہ دیکھیں گے، تماشا ہوگا، لطف اندوز ہوں گے تو ایسی حاضری بھی فضول ہے۔ اگر عرس شریف اس لئے منعقد کیا جائے کہ اپنے تعلق والوں کو دینِ الٰہی کی تعلیم دی جائے اور بزرگان کے یہ ایام خصوصی انوار کے ایام ہوتے ہیں اور حاضر ہونے والے بھی اسی تعلیم کے حاصل کرنے کے لئے آئیں تو ایسا عرس فرض بلکہ فرض الفرائض ہے اور اس میں شمولیت موجب صد برکات ہے۔ جیسے ایک گھر میں بچی پیدا ہوتی ہے، وہ جوان ہوتی ہے، اس کی تربیت اور آسائش کے سامان ہوتے ہیں، والدین اور برادران موجود ہوتے ہیں اور پھر اس کی شادی ہوتی ہے، اسے گھر سے خزانہ دیا جاتا ہے۔ پھر جتنی بار بھی وہ اپنے میکے (اصلی گھر) آتی ہے تو اسے خزانہ دیا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے جب مریدین اپنے گھر یعنی مقام عرس پر حاضر ہوتے ہیں اور انہیں اصلی نعمتِ روحانی سے حصہ دیا جاتا ہے۔ ایسے ہی مواقع پر ولی اللہ اور شیخ طریقت اپنے ارادت مندوں کو روحانی تربیت اور طریقت کا سبق دیتے ہیں اور جس کو مالک چاہتا ہے خداوند کریم کی بارگاہ تک پہنچا دیتے ہیں اور یہی عرس شریف کی اصل حقیقت ہے۔

    حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے فرشتے مقرر ہیں۔ جب وہ زمین پر دورہ کرتے ہیں تو مجالسِ ذکر و تعلیم تلاش کرتے ہیں۔ جب وہ مجلسِ علم میں حاضر ہوتے ہیں تو نزدیک والے فرشتے دور والوں کو بلاتے ہیں کہ "آؤ ہم جس چیز کی طلب میں تھے وہ یہاں ہے" تو چُپکے سے وہ فرشتے بیٹھ جاتے ہیں۔ جب مجلس ذکر ختم ہوجاتی ہے تو خداوند تعالٰی کے حضور عرض کرتے ہیں کہ ہم نے زمین میں جگہ مجلس ذکر دیکھی۔ اللہ تعالٰی باوجود عالم الغیب ہونے کے فرماتا ہے اور پوچھتا ہے کہ "میرے بندے کس چیز کا تذکرہ کررہے تھے؟" فرشتے عرض کرتے ہیں کہ آپ کی یاد اور آپ کے محبوبﷺ کا تذکرہ کررہے تھے۔ خداوند کریم پوچھتا ہے "کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟" فرشتے عرض کرتے ہیں کہ باری تعالٰی انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا تو خدا تعالٰی فرماتا ہے " اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو پھر کیا کیفیت ہوتی؟" اس پر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس صورت میں تو وہ مجنونانہ ذکر کرتے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اے فرشتو گواہ رہو کہ میں نے ان سب کو بخش دیا۔ اس پر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہم نے اس مجلس میں فلاں جگہ فلاں آدمی دیکھا تھا جو اپنی غرض اور کام سے آیا تھا اور اس کی نیت وعظ سُننے کی نہ تھی۔ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ میں نے اسے بھی بخش دیا کیونکہ ان کے پاس بیٹھنے والا بدبخت نہیں رہ سکتا اور نہ ان سے تعلق والا ناکام ہوتا ہے۔

    ایک کپڑا جو میلا ہوگیا ہو اسے صاف کرنا پڑتا ہے اور برتن جس میں صاف اور گندی چیزیں ڈالتے رہیں وہ بھی گندہ ہوجاتا ہے۔ اب اسے صاف کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اسے خالی کیا جائے اور اچھی طرح صفائی کی جائے۔ اسی طرح صاف آئینہ گرد پڑنے سے مکدر ہوجاتا ہے۔ ضروری ہے کہ اسے بھی صاف کیا جائے۔ جب میلے کپڑے کو صاف کرنا مقصود ہوتا ہے تو اسے وہاں لے جاتے ہیں جہاں اسے صاف کیا جائے یعنی دھوبی وغیرہ صاف کرتے ہیں وہ خودبخود صاف نہیں ہوجاتا۔ اسی طرح دنیا کے معاملات میں پھنس کر بہ تقاضائے بشریت ہم میں گناہوں کی کدورت آجاتی ہے۔ ضرورت ہے کہ روزانہ اس کی صفائی کی صورت کی جائے ورنہ کچھ وقفوں کے بعد کم از کم سال میں ایک دو بار و ضروری ہونی چاہئے۔ اس لئے عرس قائم کیا جاتا ہے کہ چند روز دنیاوی معاملات سے الگ ہوکر مالک الملک کی یاد میں بسر کئے جائیں، اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگی جائے اور آئندہ کے لئے اپنی رفتار زندگی صحیح کرکے اپنے مالک کی غلامی میں بسر کی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ میلے کپڑے پر صابن بھی لگایا جارہا ہو اور ساتھ ہی مٹی اور غلاظت میں بھی لتھڑا جارہا ہو کیونکہ ایسی صورت میں وہ کپڑا کبھی صاف نہیں رہ سکتا۔  حدیث شریف میں ہے کہ چالیس سے زیادہ مسلمان لوگ اگر ایک جگہ جمع ہوکر بخلوص نیت خداوند کریم کے دربار میں دست بدعا ہوں تو اللہ تعالٰی ان کی دُعا کو مستجاب فرماتا ہے۔ عرس کا مقصد یہی ہے کہ  نسبت رکھنے والے احباب جمع ہو کر اللہ کی یاد کریں اور اس سے اجتماعی طور پر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اورحاصل کردہ تعلیم کی بنیاد پر آئندہ کے لئے اپنی رفتار زندگی درست  کریں۔اس طرح یہ ریفریشر کورس کی حیثیت رکھتا ہے۔

    Saturday, November 13, 2010 at 11:25
    644 مشاہدات
  • حقیقتِ سلوک

    ۔۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

    واضح ہو کہ یہ تمام تحریر ابتداء سے اَخیر تک راہِ طریقت کے نشانات ہیں۔ اگر ان کے متعلق تشریح کی جائے تو کئی کتابیں تیار ہوسکتی ہیں۔ یہ صرف اس لئے لکھا گیا کہ لوگوں کو اصلی طریقت کا موضوع معلوم ہوجائے اور "اسلام، ایمان اور نتائج ایمان" کو سمجھ کر اپنا مطمع نظر درست کرسکیں۔

    اب اکثر لوگ ایسے بھی موجود ہیں جو باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے اس حقیقت مذکورہ کے خلاف اور ایک علٰیحدہ چیز کو طریقت اور سلوک سمجھتے ہیں بلکہ بعض سالک اور صوفی نما لوگوں نے اور علماء نے اسی مغالطے کے اندر کتابیں بھی لکھی ہیں اور حقیقت سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اقسام بنائی ہیں کہ طریقت، شریعت، معرفت، حقیقت کی علٰیحدہ علٰیحدہ تفصیلات قائم کرلی ہیں۔ نہ صرف جہّال ہی بلکہ خاص طبقہ کے لوگ بھی اس غلطی میں شامل ہوگئے، خاص لوگوں کی کتابوں میں یہ بات ثابت ہے مگر ایک حقیقت آگاہ شخص کی نگاہ ان فروعات اور خودساختہ، خود کاشتہ شے سے گزر کر اصلیت پر ضرور پہنچ سکتی ہے۔ خواص نیک لوگوں کی ذہنی اور کشفی غلطی یا فروعی تصورات سے غلط لوگوں نے ایک ایسا برعکس اور غلط پہلو اختیار کرلیا ہے کہ وہ شریعت اور طریقت کو علٰیحدہ علٰیحدہ اور دو متضاد، دو مخالف چیزیں قرار دیتے ہیں اور شیطان سے ان لوگوں کو اس حد تک امداد ملی کہ راستہ ہی شریعت اور دستور العمل رسولیﷺ کے خلاف قائم کردیا گیا اور مدعیانِ معرفت و طریقت کے ایسے وجود پیدا ہوگئے کہ اہلِ دین اور علماء کو تو ایک لغو، بیہودہ اور بے معنی سمجھنے لگے اور اہلِ علم اور علماء کو لغو سمجھ لینے سے خود دین اور اسلام کو بھی لغو سمجھنا شروع کیا جیسا کہ اس مضمون کی ابتداء میں مسئلہ تجدد امثال کے قانون پر تغیر کلی کا مسئلہ لکھا گیا۔ یہ تمام تغیراتِ ذہنی، عملی اور علمی اس تغیرِ کلّی کے اصول کے نتائج ہیں۔ جو چیز خدا سے ملانے والی خدا ور رسولﷺ نے عطا کی وہ خدا اور رسولﷺ سے علٰیحدہ اور مخالف کرنے کا سبب ہوگئی۔ جس طرح کہ اُسی حضرت ابراہیمؑ کی اولاد نے کعبۃ اللہ میں تین سو ساٹھ بُت لا کر رکھ دیئے تھے جن حضرت ابراہیمؑ نے بتوں کو نابود کرنے کے لئے خدا کی طرف سے یہ مقام بنایا تھا۔ الغرض اب اکثر لوگ ایسے ہیں جو عبادت بھی اور علم بھی طمعِ نفسانی کے لئے اختیار کرتے ہیں۔ بہ بیس تفاوت راہ از کجا ست تا یکجا

    ضرورتِ شیخ:

    واضح ہو کہ تمام طریقت کا ہر مرحلہ، ہرکام سوائے رہبر اور مرشد کے اور پیر طریقت کی پیروی کے ہرگز ممکن نہیں۔ ایک رسیدہ باخدا انسان جو نائبِ رسولﷺ ہو اور وہ انسان کو اس سبیل کی رہنمائی کرسکتا ہو۔ اس کے لئے حکم ہوا

    وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ     (لقمان:15)

    "اور اس کی راہ چلو جو میری طرف رجوع لایا"

    اس امر کے دلائل پیش کرنے یا اس بحث کو ثابت کرنا تحصیل حاصل ہے۔ تعلیمِ طریقت، سبیلِ معرفت خود ہی حقیقی رہبر کی مقتضی ہیں۔

    حقیقی رہبر کی پہچان:

    اب سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ ایک سادہ اور ناتجربہ کار انسان سینکڑوں غلط اور مجازی پیروں سے حقیقی رہبر کو کس طرح پہچان سکتا ہے؟ اس لئے کسی قدر یہ معاملہ واضح کیا جانا ضروری ہے۔ اوّل تو پہچان کا اصول یہ ہے کہ اگر واقعی طالبِ حق ہے تو اس کی صداقتِ خواہش اور تمنا خود ہی کافی معیار ہے اس لئے کہ ایک پیاسے شخص کو پانی کی شرائط اور بحث کرنا غیرضروری ہے تاہم قرآن شریف نے اس مشکل کو بھی اس طرح حل کردیا ہے کہ نائبِ رسول اور ولی اللہ وہ شخص ہے جس کی زندگی تین امور کی کاربند ہو۔

    وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى  (النجم:3)

    "اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتا"

    عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ    (التوبۃ: 128)

    "اس پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے، تمہاری بھلائی کا نہایت چاہنے والا اور ایمان والوں پر نہایت شفیق، مہربان ہے"

    اس بیان سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ مذکورہ بالا دونوں صفات میں حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفٰےﷺ کی پیروی اور متابعت میں چنداں کوتاہی اور کمی نہ ہو(خرم)

    تیسری شرط نیابتِ رسولی پرکھنے کی یہ ہے کہ وہ

    تَخَلَّقُو بِاَخلاَقِ اللہِ    (الحدیث)

    "اپنے اخلاق کو اخلاقِ الٰہی سے موصوف کرو"

    کا عامل ہو۔ حضور سرورِ کائناتﷺ نے اس پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سوا ل کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ولی وہ شخص ہے جس کے پاس بیٹھنے سے خدا یاد آئے یعنی حُبِّ دُنیا کی جگہ دل میں خدا کی محبت داخل ہولیکن اگر یہ حقیقت نمایاں نہ ہو تو ایسے شخص کو خدا کا ولی نہیں بلکہ شیرِ قاتل سمجھ کر اس سے بھاگنا چاہئے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔

    حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں سب مشکلات سے بڑھ کر مشکل یہ ہے کہ خدا سے ملانے والا رہبر ملے اور اگر یہ مل گیا تو دنیا و مافیہا کی دولتیں اس کے آگے ہیچ ہیں۔ اس رہبر کا ملنا ہی عین کامیابی ہے۔ مالک الملک نے ارشاد فرمایا ہے:

    مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا   (الکھف:17)

    "جس کو اللہ ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو اللہ ہدایت نہ دے اس کے لئے کوئی ولی اور مرشد نہیں"

    اس سے ثابت ہوا کہ جس کو اپنی بارگاہ میں بلانا ہوتا ہے اسی کو مرشد عطا کرتے ہیں۔ اس موقع پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طریقت میں باخدا رہبر نسبتِ رسولیﷺ کی تعلیم و تربیت علمی و عملی اور تبدیلیِ خیالات اور ذہنیت کی درستی اور اصلاح مقصود ہے۔ یہ خیال غلط ہے کہ برگزیدہ خدا ولی اللہ کی قبر پر جاکر بیٹھ جانے سے منازل طے ہوجائیں۔ اگر یہ ہوسکتا تو حضرت رسولِ کریمﷺ خود حضرت ابراہیمؑ کی قبر پر گوشہ نشین ہوتے، غارِ حرا میں جاکر مراقب نہ ہوتے۔ اور اگر قبر سے  ہی ہدایت ممکن ہوتی تو بس قبر ہی کافی تھی کسی پیغمبر کے مبعوث کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ زیارتِ بزرگان ترقئ محبت و یادِ بزرگان اور ان کی زندگی یاد کرکے ان سے اپنے اعمال کی مطابقت کرنا بہتر اور مفید ہے لیکن جہّال کی طرح زیارتوں کا طواف کرنا یا اُن سے سوال کرنا غلطی ہے اور ممنوع ہے۔ البتہ ان کی روح کے طفیل خدا سے سوال جائز ہے۔

    ۔۔۔تمت بالخیر۔۔۔

    Thursday, September 9, 2010 at 09:24
    707 مشاہدات
TOP